پت جھڑکا موسم


پت جھڑ کے موسم میں درختوں کے پتے زرد ہو کر گرنے لگتے ہیں اور یہ عجیب اداسیوں کا سماں ہوتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ٹنڈ منڈ درخت اپنی بربادیوں پر نوحہ کناں ہوں۔ پنکھ پکھیرو ٹھکانے بدل لیتے ہیں اور گلشن میں کوئل کی صدا نہ پپیہے کی پی کہاں۔ ہر طرف خزاؤں کے ڈیرے اور بسیرے۔ ایک سیاسی جماعت کے لیے پت جھڑ کا موسم 9 مئی سے شروع ہوا جو تاحال جاری ہے۔ اس کی گھنی شاخوں میں چہچہانے والے پنچھی ایک ایک کر کے پھر ہو گئے اور اب صورت حال یہ کہ

اپنے بے خواب کواڑوں کو مقفل کرلو
اب یہاں کوئی نہیں، کوئی نہیں آئے گا

کسی نے آئی پی پی بنالی اور کوئی پارلیمنٹیرین کا لاحقہ لگا کر خوش ہو گیا۔ وہ شخص جو کبھی نرگسیت کی اوج ثریا پہ مقیم تھا آج جیل کی کال کوٹھری میں اپنی بربادیوں پر ماتم کناں۔ کوئی کہتا ہے کہ وہ رو پڑا تو کوئی کہتا ہے کہ اس کی کوٹھری سے سسکیوں کی آوازیں آتی ہیں۔

وہ جو کہتا تھا کچھ نہیں ہوتا
اب وہ روتا ہے چپ نہیں ہوتا

وہ یقیناً اپنے ساڑھے تین سالہ دورحکومت کو یاد تو کرتا ہو گا جب وہ فرعون وقت تھا اور اس کے پنجۂ ستم سے کوئی سیاسی جماعت محفوظ نہیں تھی۔ وہ دوسروں کے اے سی اترواتا اترواتا خود ورزشی سائیکل کا محتاج ہو گیا۔ جب محترمہ کلثوم نواز بستر مرگ پر تھیں تو قیدی میاں نواز شریف نے جیلر کو بار بار کہا کہ ان کا دل گھبرا رہا ہے، اہلیہ کی خیریت معلوم کرنے کے لیے لندن میں صرف 2 منٹ کی کال کرنے کا موقع دے دو ۔ تب جیلر نے کہا کہ وزیراعظم عمران خاں کی اجازت نہیں۔

2 گھنٹے بعد ہی محترمہ کلثوم نواز کی رحلت کی خبر آ گئی۔ آج میاں صاحب تو اپنے گھر میں ہیں لیکن عمران خاں لندن میں اپنے بیٹوں سے بات کرنے کو ترس رہا ہے۔ ویسے اپنے دورحکومت میں اسے کبھی اپنے بیٹوں سے ملنے کا خیال تک نہیں آیا۔ شنید ہے کہ بشریٰ بیگم نے جانے سے منع کر رکھا تھا۔ یہ مکافات عمل ہے، کوئی سمجھے یا نہ سمجھے۔

اس کی بربادیوں کی داستاں تو اس وقت ہی رقم ہونا شروع ہو گئی تھی جب اس نے اپنے محسن جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کو آنکھیں دکھانا شروع کیں اور باجوہ صاحب پیچھے ہٹنا شروع ہوئے لیکن جنرل فیض حمید اس کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا رہا کیونکہ اسے اگلا چیف آف آرمی سٹاف بنانے کا لالچ دیا گیا تھا۔ اس علیم و خبیر اور بہتر منصوبہ ساز کا منصوبہ کچھ اور تھا۔ 10 اپریل 2022 ء کو عمران خاں سے سب کچھ چھن گیا لیکن پھر بھی وہ شیطانی منصوبے بناتا رہا۔

اس نے سائفر کا ڈرامہ کیا لیکن جب یہ ڈرامہ ناکام ہوا تو حکومت چھن جانے کا منصوبہ ساز جنرل قمرجاوید باجوہ کو ٹھہرا دیا۔ تب بھی اس کی شدید ترین خواہش تھی کہ جنرل سید عاصم منیر کسی بھی صورت میں چیف آف آرمی سٹاف نہ بننے پائیں۔ پھر جب سید عاصم منیر چیف آف آرمی سٹاف مقرر ہوئے تو جنرل فیض حمید نے مستعفی ہونے میں ہی عافیت سمجھی۔ اس وقت بھی اسے چیف جسٹس (ر) عمرعطا بندیال سمیت سپریم کورٹ کے ہم خیال گروپ کی بھرپور حمایت حاصل تھی۔

اس گروپ نے ”عشق عمران“ میں آئین تک کو ری رائٹ کر ڈالا۔ جب بندیالی دور ختم ہوا اور قاضی فائزعیسیٰ چیف جسٹس بنے تو نہ صرف بہت کچھ کھل کر سامنے آ گیا بلکہ اس دور کے غلط فیصلوں کو بھی سپریم کورٹ کے گٹر کی نظر کر دیا گیا۔ جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں متعدد درخواستیں آ چکی تھیں جنہیں جسٹس بندیال نے پرکاہ برابر حیثیت نہیں دی۔ ایک بنچ میں جسٹس بندیال نے جسٹس مظاہر نقوی کو بنچ کا حصہ بنایا اور ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ انہوں نے جسٹس نقوی کو بنچ کا حصہ اس لیے بنایا ہے کہ وہ کسی کو خاموش پیغام دینا چاہتے ہیں۔

اسی مظاہر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کا نسل میں کرپشن کا کیس چلا تو وہ کورٹ کا سامنا کرنے کی بجائے مستعفی ہو گئے تاکہ ان کی پنشن اور مراعات جاری رہیں۔ اللہ سلامت رکھے آئین و قانون کے محافظ قاضی فائزعیسیٰ کو ، جب تک وہ موجود ہیں مظاہر نقوی بھول جائے کہ وہ اپنی کرپشن کو ڈکار جائے گا۔ یہ فیصلہ کہ مستعفی ہونے والے جج کی پنشن اور مراعات جاری رہیں گی اور اس کے خلاف کوئی کیس نہیں ہو گا، جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منیب نے کیا تھا جس کے خلاف حکومت سپریم کورٹ میں جا چکی اس لیے یہ فیصلہ بھی ہوا میں اڑ جائے گا۔

جسٹس مظاہر نقوی کے بعد جسٹس اعجازالاحسن نے بھی عافیت اسی میں جانی کہ وہ مستعفی ہو کر گھر بیٹھ رہیں۔ اب صورت حال یہ ہے کہ ثاقب نثار، آصف سعید کھوسہ، عمرعطا بندیال اور مظاہر نقوی گھر بیٹھ چکے۔ عمران خاں کی آخری امید جسٹس اعجازالاحسن تھا جس کے بارے میں عمران خاں کے چاہنے والے یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ اکتوبر 2024 ء میں جب وہ سپریم کورٹ کا چیف جسٹس بن جائے گا تو سارے معاملات سیدھے ہوجائیں گے۔ اب یہ امید بھی گئی اس لیے ”اب اسے ڈھونڈ چراغ رخ زیبا کے کر “ ۔ اب قاضی صاحب کے بعد تقریباً پونے چار سال تک سید منصور علی شاہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ہوں گے جن کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ آئین و قانون کے دائرے سے باہر جھانکنا بھی پسند نہیں کرتے۔ انہوں نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ جن ججز نے آمروں کا ساتھ دیا ہے ان کی تصویریں سپریم کورٹ میں کیوں آویزاں ہیں؟

پاکستان کی تاریخ ججوں اور جرنیلوں کے گٹھ جوڑ کے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ میاں نواز شریف چونکہ اصولوں پر ڈٹ جانے والے شخص ہیں اسی لیے بار بار اقتدار سے نکالے بھی جاتے ہیں۔ پاناما کیس میں چن چن کر ایسے جسٹس اکٹھے کیے گئے جو میاں صاحب کے مخالفین میں شمار ہوتے تھے۔ انہی میں ایک شیخ عظمت سعید بھی تھے جو ریٹائرمنٹ کے بعد شوکت خانم کینسر ہسپتال کے گورننگ باڈی کے رکن بنے۔ ثاقب نثار کو دکھ تھا کہ اسے بروقت کنفرم کیوں نہیں کیا گیا۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کو زور آوروں نے بتایا کہ میاں نواز شریف اس کے چیف جسٹس بننے کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ جسٹس اعجازالاحسن کی میاں خاندان سے رنجش پرانی ہے۔ وہ ماڈل ٹاؤن میں میاں خاندان کے پڑوسی بھی ہیں۔ ان کے سگے بھائی اتفاق فاؤنڈری میں اعلیٰ عہدے پر فائز تھے۔ اتفاق گروپ کے سربراہ حسین نوازنے اعجازالاحسن کے بھائی کو نوکری سے نکالا۔ اعجازالاحسن نے یہ دکھ پال لیا۔ وہ تو جج ارشد ملک کو بار بار بلا کر کہتے تھے کہ میاں نواز شریف کو زیادہ سے زیادہ سزا دینی ہے۔

پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا کہ پاناما جے آئی ٹی میں ایم آئی اور آئی ایس آئی کے نمائندے شامل کیے گئے۔ یہ بھی تاریخ عدل کا انوکھا واقعہ تھا کہ جے آئی ٹی پر اعجازالاحسن کو نگران جج مقرر کیا گیا۔ بعد از خرابیٔ بسیار میاں خاندان تو تمام مقدمات میں سرخرو ہوا لیکن پاکستان کی تاریخ عدل کے ماتھے پر جو سیاہ داغ یہ ججز چھوڑ گئے وہ کبھی نہیں مٹے گا۔ ان ججز کا احتساب ضروری تاکہ قوم کو پتہ چل سکے کہ معیار عدل میں پاکستان 130 ویں نمبر پر کیوں ہے؟

Facebook Comments HS