بھاگ چلو، بھاگ چلو


سر یہاں سے دیکھیں، کیا شاندار نظارہ ہے۔ آپ بس کھڑکی کھولیں اور تازہ ہوا کا مزہ لیں۔ طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک کائنات کی جلوہ گری آپ کی نگاہوں کے سامنے محو رقصاں دکھائی دے گی۔ آپ بس فارم بھر دیجیے۔ رقم کی ادائیگی کا طریقہ کار نہایت آسان ہے اور ماہنامہ اقساط پر مشتمل ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ آپ تنخواہ دار ہیں، آپ کے مالی وسائل محدود ہیں۔ ہمارے پاس ہر طرح کے گاہک آتے ہیں، ہمارے پاس زیادہ تر سرمایہ کاری کرنے والے گروپس آتے ہیں۔

ہم ان کی کھال نہایت سلیقے سے اتار لیتے ہیں اور اتنا منافع کما لیتے ہیں کہ آپ جیسے ضرورت مند مستحقین سے مناسب منافع لے کر بھی ہمارا رزق نکل آتا ہے۔ آپ کو یہ فلیٹ پسند ہے تو نیچے چلتے ہیں، چائے آپ کا انتظار کر رہی ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ میں کیا بولوں، کیا کہوں اور کس طرح اس صاحب کو بتاؤں کہ ایک کروڑ پچاسی لاکھ کا بمشکل ایک مرلہ کا سنگل بیڈ فلیٹ خریدنے کی میں سکت نہیں رکھتا۔ اس فلیٹ میں سامان بھی خود لا کر رکھنا ہے اور چھے قسم کے بل ہر ماہ ادا کرنے ہیں۔

ہر سال تزئین و آرائش اور مرمت کی مد میں دس فیصد اضافی رقم بھی دینی ہے۔ فلیٹ کرایہ پر دینے کی صورت میں کمپنی کو علیحدہ سے کمیشن بھی دینا ہو گا۔ میں اپنی ماہنامہ تنخواہ کو ہر طرح سے ضرب و تقسیم کے عمل سے گزار کر یہ فیصلہ نہیں کر پا رہا تھا کہ آیا میں اس فلیٹ کو چالیس فیصد ڈاؤن پیمنٹ کے ساتھ تین سال کی آسان اقساط میں خرید سکتا ہوں کہ نہیں۔ چائے کے گھونٹ حلق سے زہر بن کر اتر رہے تھے، زندگی میں کبھی اتنی تلخ، کڑوی اور بدمزہ چائے نہیں پی تھی۔

چائے بہت اچھی تھی، چائے میں احساس محرومی کی کڑواہٹ، تشنہ خوابوں کی تلخی اور مثالی طرز زیست کی بدمزگی شامل ہونے سے اس کا ذائقہ بگڑ گیا تھا۔ میں نے جھوٹ موٹ ایک فرضی قصہ سنا یا اور اجازت لے کر ریسورس پرسن کے آفس سے نکل کر سیدھا گھر کی راہ لی۔ راستے میں یہ سوچتا رہا کہ میرے مقامی آبادی والے گھر میں اور سڑک پار فلیٹ میں کس چیز کا فرق ہے۔ یہ فرق مجھ پر اچھی طرح واضح ہے، اس فرق کو میں اچھی طرح سمجھتا ہوں، فرق یہ ہے کہ اس فرق کو میں قبول کرنے سے قاصر ہوں۔

میرا جی چاہتا ہے کہ میں ایک ہاؤسنگ سوسائٹی میں رہوں، جہاں کوئی پوچھنے، ٹوکنے، روکنے اور معاملات زیست کی انجام دہی میں حائل ہونے والا نہ ہو۔ کیا میں یہ چاہتا ہوں کہ مجھے قبرستان نما ایریا میں فلیٹ مل جائے؟ نہیں، میں یہ نہیں چاہتا۔ میں یہ چاہتا ہوں کہ میں جہاں رہوں، وہاں مجھے کوئی نہ جانتا ہو، کوئی مجھ سے آنے اور جانے کے بارے میں سوال نہ کرے، کوئی مجھ پر نظر نہ رکھے، کوئی میرے احوال سے واقف نہ ہو، کسی کو میرے کاروبار اور معاملات سے شناسائی نہ ہو، کوئی میری ذاتی زندگی اور نجی مصروفیتوں کے بارے میں کرید نہ کرے۔

میں اس طرح کا ماحول کیوں چاہتا ہوں؟ یہ مجھے خود بھی معلوم نہیں ہے، بس میں یہ چاہتا ہوں کہ مجھے وہ سب کچھ مل جائے جو تمہارے پاس ہے، جو اس کے پاس ہے، جو فلاں کے پاس ہے۔ مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ تم نے، اس نے اور فلاں نے یہ سب کب، کیسے اور کس طرح حاصل کیا ہے۔ میں یہ چاہتا ہوں، جو آپ کے پاس ہے، جو اس کے پاس ہے اور فلاں کے پاس ہے، وہ میرے پاس بھی ہونا چاہیے۔ جس طرح آپ نے، اس نے اور فلاں نے حاصل کیا ہے، میں بھی اسی طرح حاصل کرنا چاہتا ہوں۔

یہ میری ضد نہیں ہے، بہ حیثیت پاکستانی یہ میرا مطالبہ ہے، یہ میرا بنیادی حق ہے اور میں اپنے حق کے لیے آواز اٹھا رہا ہوں۔ آپ کو میری باتیں بے کار، فضول، لایعنی اور حقیقت کے برعکس معلوم ہو رہی ہیں۔ مجھے یہ ادراک ہے کہ میں لایعنی اور پاگل پنے کی باتیں کر رہا ہوں۔ آپ اس روئیے کو حسد، لالچ، طمع اور حرص سے منسوب کر سکتے ہیں۔ یہ حسد، لالچ، طمع اور حرص نہیں ہے۔ مجھے کوئی صاحب یہ بتلا دے کہ اس دیس میں بڑے بڑے محل بنانے والوں نے یہ محل کیسے بنائے ہیں؟

کوئی مجھے یہ بتا دے کہ اربوں اور کھربوں کے کاروبار کیسے چلتے رہتے ہیں؟ کوئی مجھے یہ بتا دے کہ خون پیسنے کی کمائی سے ہر جمعہ مدینہ میں کیسے حاضری ہو سکتی ہے؟ کوئی مجھے یہ بتا دے کہ خیرات سے روزانہ ہزاروں لوگوں کو مفت کھانا کیسے کھلایا جاتا ہے۔ میں یہ چاہتا ہوں کہ میں بھی اربوں کھربوں والا کاروبار کروں، میں بھی کروڑوں روپے کی خیرات سے مفت کھانے کے دستر خوان لگواؤں۔ ہر سال اپنی فیملی کو ورلڈ ٹوور پر لے کر جاؤں۔

دنیا جہان کی نعمتیں، آسائشیں، سہولتیں اور انعامات زیست مجھے میسر ہوں۔ میں اسی ملک کا باشندہ ہوں، اسی ملک کی آب و ہوا میں پیدا ہوا ہوں اور اسی ملک کی مٹی سے میرا وجود خلق ہوا ہے۔ میں تمام تر کوشش اور دن رات کی محنت شاقہ سے ایک فلیٹ خریدنے کی سکت نہیں رکھتا اور یہ چند افراد پورا ملک خرید کر بیٹھے ہیں۔ ایک انسان، ہزاروں انسانوں کو کیسے خرید سکتا ہے؟ انسان اتنی آسانی سے کیسے فروخت ہو جاتے ہیں؟ انسانوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح خریدنے اور بیچنے والا کس بھیڑ کا بچہ ہے اور کس بکری کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔

پاکستان جتنا میرا ملک ہے، اتنا سب کا ہے۔ پاکستان میں موجود جو کچھ ہے وہ سب پاکستانیوں کا ہے۔ یہ کیا بات ہوئی کہ چند افراد گوشت لے جائیں اور مجھے کھال کا ایک بال ملے۔ اصول تو یہ ہے کہ سب کی کمائی سب میں برابر بٹنی چاہیے۔ ایک شخص عمر بھر کی کمائی سے ایک مرلہ کا گھر بناتا ہے اور ایک شخص پانچ کینال کا بنگلہ بنا لیتا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے، کہیں کوئی گڑ بڑ ضرور ہے، دال میں کچھ کالا ہے یا پوری دال کالی ہے۔ برابری اور عدم برابری کا یہ تضاد کس نے پیدا کیا ہے؟

گورا، کالا، ادنی، اعلیٰ، عربی، عجمی برابر کر دینے کا دعویٰ کرنے والی شخصیت ﷺ نے تو سب کو برابر جانا تھا۔ کسی میں کوئی امتیاز ہرگز روا، نہ رکھا تھا۔ اسی دعوے دار کے ماننے والے آج اپنے لیے کچھ اور چاہتے ہیں اور میرے لیے کچھ اور۔ یہ کیا بکواس ہے، یہ کیا تماشا ہے، یہ کیا قصہ ہے، یہ کیسا انصاف ہے، یہ اندھا انصاف ہے، یہ اندھے لوگ ہیں، یہ اندھیر نگری ہے، یہاں سے نکل جانا چاہیے۔ یہاں سے بھاگ جانا چاہیے۔ بھاگ چلو، بھاگ چلو۔

Facebook Comments HS