غیرت کے نام پر قتل کا مقدمہ

غیرت کے نام پر قتل کی واردات آئے روز ہمارے ملک میں ہو رہی ہیں۔ اس طرح کی واردات میں تیزی سوشل میڈیا کے فروغ کے بعد زیادہ آئی ہے۔ غیرت کیا چیز ہے، غیرت کا تعلق کس بیانیے سے ہے، غیرت کے جذبے میں شدت کب پیدا ہوتی ہے۔ غیرت سے پاکستانی سماج کیا مراد لیتا ہے، غیرت لفظ کی نفسیات کیا ہے۔ غیرت لفظ کی تحلیل نفسی کیسے کی جاتی ہے۔ پدر سماج، غیرت کے تصور کو کس

Read more

جون ایلیا کی شاعری کا منظر نامہ

اُردو زبان میں ہر دور میں مشہور شعرا کی شخصیت کا طلسم رہا ہے۔ اٹھارہویں صدی میں قلی قطب شاہ کے کلام کا ڈنکا بجتا تھا۔ انیسویں صدی میں میرؔ، غالبؔ اور آتشؔ و ناسخؔ کا چرچا رہا۔ بیسویں صدی میں فیضؔ و اقباؔل اور ناصرؔ و فرازؔ وغیرہ کی شہرت رہی۔ بیسویں صدی کے اواخر میں اور اکیسویں صدی کے آغاز سے ایک نام تیزی سے اُبھر کر سامنے آیا جس نے دیکھتے ہی دیکھتے اُردو زبان بولنے، سمجھنے

Read more

فرحت عباس کو شاعروں سے کیا مسئلہ ہے؟

فرحت عباس شاہ اُردو شاعری میں جانا پہچانا نام ہے۔ بطور شاعر انھیں عرصے سے اپنی شاعر برادری سے کچھ تحفظات رہے ہیں، جن پر گاہے گاہے تحریر و تقریر میں ان کی رائے سوشل میڈیا پر سامنے آتی رہتی ہے۔ سوشل میڈیا کی آمد سے جہاں رابطوں میں سہولت کی گنجائش پیدا ہوئی ہے، وہاں ایک قباحت یہ در آئی ہے کہ جسے نہیں سننا چاہتے، اُسے زبردستی سنوایا جا رہا ہے، جسے نہیں پڑھنا چاہیے اُس کی تحاریر

Read more

فریحہ نقوی کی غزل کا مختصر جائزہ

برس ہا برس سے اُردو غزل کا سفر ہنوز جاری ہے۔ اُردو غزل کی صنف اپنے اندر ایسے لطیف پیرائے رکھتی ہے کہ انسان چاہ کر بھی اِس صنف سے خود کو بے نیاز نہیں کر سکتا۔ کسی نہ کسی موڑ، گام، لمحے اور کیفیت میں انسان کا من چاہتا ہے کہ اُس کے لب خود بہ خود پھڑک اُٹھیں اور کوئی مصرع موزوں ہو جائے یا کسی کا موزوں کیا ہوا مصرع زبان تلک آ جائے تاکہ دل کی

Read more

جونؔ ایلیا کو کس بات کا غصہ ہے؟

مری ہر بات بے اثر ہی رہی نقص ہے کچھ مرے بیان میں کیا اُردو شاعری میں جعفر ؔزٹلی سے شروع ہونے والا مزاحمتی سلسلہ کئی ادوار کا سفر طے کر کے مرزا غالبؔ تک پہنچا۔ غالب ؔ نے رہی سہی کسر نکال دی، غالبؔ کے بعد جونؔ ایلیا کی باری آتی ہے جس نے اُردو غزل کو سراپا مزاحمت کا استعارہ بنا ڈالا۔ جون ؔایلیا کے ہاں کوئی ایسا موضوع چُھوٹ نہیں گیا جس پر جونؔ نے اپنی رائے

Read more

طلاق: بالکل نہیں

اِن دنوں کورٹ جانا روز کا معمول تھا۔ بعض دفعہ ایک دن میں چھے کیس لگے ہوتے تھے۔ سارا دن کیسز کی پیشی میں بر وقت حاضری کو یقینی بنانے میں گزر جاتا تھا۔ عدالتی کیس میں حاضری کا عمل اس قدر اہم ہے کہ ذرا سی دیر ہونے سے ریڈر صاحب غیر حاضری لگا دیتے تھے۔ کیسز کی آئے روز تاریخ پڑنے سے میں خاصا پریشان تھا۔ ملازمت رِسک پر تھی جبکہ بے عزتی کا گراف انتہائی اونچے لیول

Read more

کنبہ پروری کی روایت اور خونی رشتوں کی سفاکی

بزرگوں کی رعونت آمیز عدالت میں گہری خاموشی چھائی تھی، کسی میں ہمت نہ تھی کہ زبان کھول سکے، سبھی ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے تھے، میں بَولا بَولا کر ایک ایک چہرے کو تک رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ یہ چہرے جنھیں میں نے خونِ جگر سے سینچا ہے، آج میرے حق میں گواہی دینے اور میری بے گناہی کو ثابت کرنے کے خلاف یکجا ہو کر کس طرح میری رُسوائی کا سامان کر رہے ہیں۔

Read more

اِکلوتی بیٹی کے نام خط

ملتان روڈ لاہور 17۔ جون 2024 السلام علیکم! میری پیاری بیٹی، ایمن زہرا پہلا خط ہے جو تمہیں لکھ رہا ہوں، کیا لکھوں؟ عجب کیفیت ہے، الفاظ ساتھ نہیں دے رہے، خیالات کی روانی کا سلسلہ درہم برہم ہے، یوں لگتا ہے جیسے سوچنے اور لکھنے کا عمل باہم گتھم گتھا ہے، جو کہنا چاہتا ہوں، بیان کرنے سے قاصر ہوں۔ کہا جاتا ہے سچ کا سامنا کرنا بہت مشکل ہوتا ہے، جھوٹا آدمی سچائی کا دعویٰ تو کرتا ہے

Read more

ایکس وائف کے نام آخری خط

یکم جون 2024 السلام علیکم! محترمہ بیگم صاحبہ! اُمید ہے، مزاج بَہ خیر ہوں گے، آپ گاہے گاہے بیٹی کی تصاویر بھیجتی رہتی ہیں، اچھا لگتا ہے، جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے، ہم بوڑھے اور بیٹی جوان ہوتی جا رہی ہے۔ یہ عمر کا معاملہ بھی عجب ہے، انسان دیکھتے دیکھتے بوڑھا ہوجاتا ہے، بچپن، جوان اور، بڑھاپا بھی مزے کی کیفیات ہیں، بچپن میں سب کچھ چھین لینے کا من چاہتا ہے، جوانی میں سب نثار کر دینے

Read more

عجب آزاد مرد تھا: ڈاکٹر اجمل نیازی

کسی فن کار، ادیب اور شاعر کو ایسا شخص میسر آ جائے جو اس کے جملہ فن کو دُنیا کے سامنے لے آئے، یہ کسی فنکار، ادیب اور شاعر کی خوش نصیبی ہو گی، ہزاروں فن کار، اُدبا اور شعرا دُنیا میں آئے، اپنے فن کا لوہا منوایا اور رخصت ہو گئے، چند خوش نصیب ایسے ہیں جنھیں تحقیق کی غرض سے کہیے یا محبت و اِلتفات کی نگاہ سے کسی نے مُقفل الماریوں سے باہر نکالا اور ازسرِنو دُنیا

Read more

پدرسری سماج میں عورت کا نسائی تصور

میں نے ایک لاکھ بھیج دیا ہے، آپ کی پوسٹ ڈاکٹرل فیلو شپ کی فیس ادا ہو جائے گی، میسج پڑھ کر آنکھیں نم ہو گئیں، میں سوچنے لگا کہ ایک لڑکی جس سے میرا تعلق کچھ دیر قبل امتحانی ڈیوٹی کے دوران استوار ہوا ہے، وہ میری ضرورت کو مہنگائی کے دور میں یوں پورا کرے گی، یہ امر میرے لیے واقعی حیران کن تھا۔ میں یہ سمجھنے سے قاصر تھا کہ اگر کوئی مجھ سے سلام خیریت کے

Read more

دیہات میں قید تعلیم یافتہ خواتین کی حالت ِ زار

پنچایت دونوں طرف سے چیخ چاخ کر تھک گئی، وہ بولتی رہی اور کسی نے اُس کی بات پر توجہ نہ دی، حسبِ معمول آج بھی عورت کو بھری پنچایت میں ہرا دیا گیا۔ اسے یہ کہا گیا کہ عورت کی کمائی میں برکت نہیں ہوتی، تم گھر سے نکل کر بے عزت ہو جاؤ گی، ہماری غیرت یہ گوارا نہیں کرتی کہ ہمارے خاندان کی بہو گھر سے نکل کر شہر جائے اور ملازمت کرے، ہم یہ نہیں برداشت

Read more

ملک کو درپیش مسائل کے حل کی ممکنہ تجاویز

ملک کی موجودہ صورتحال پر دن رات ہر جگہ بات ہو رہی ہے جسے لایعنی خیال کرتے ہوئے حکومت کے ایوان میں بیٹھے افراد اپنی مرضی سے کام کر رہے ہیں تاہم یہ ضرور ہے کہ عوام کی رائے کا احترام کیا جاتا ہے، اچھی بات کو سراہا جاتا ہے اور اختلافی آرا کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ حکومت میں آنے والی سیاسی جماعتوں میں جن افراد کو بطور سرکاری افسران کام کرنے کا موقع ملتا ہے، ان کی

Read more

سید سرفراز اے شاہ کا متصوفانہ ڈسکورس

پاکستان میں صوفیانہ طرزِ زندگی، جس کی تشریح اور وضاحت صوفیا نے اپنے تئیں مختلف انداز میں کی ہے جس سے تصوف کی تفہیم میں ابہام اور بگاڑ پیدا ہوا ہے۔ پنجاب میں بہت سے ایسے مزارات ہیں جہاں لوگ مانتے ہیں کہ سنتوں کو دفن کیا جاتا ہے، تاہم یہ غیر یقینی ہے کہ یہ تاثر سچ ہے یا ذاتی فائدے کے لیے اسے پیش کیا جاتا ہے۔ یہ روایت صحرا میں ایک خفیہ قبر سے شروع ہوئی جس

Read more

گداگروں کے بادشاہ کی گداگری

دروازہ زور سے کھٹکھٹایا اور میں بیزاری سے اٹھ کر دروازے کی طرف گیا، دروازہ کا ایک پٹ کھول کر باہر دیکھا تو ایک خاتون مانگنے والی سامنے تھی۔ اللہ کے نام پر کچھ دے دو ، میرے بچے سحری سے بھوکے ہیں، میں اس پر چنگھاڑتا ہوا گویا ہوا : کیا تمہیں پتہ ہے میں کس حالت میں بیٹھا تھا اور تم نے زور زور سے دروازہ کھٹکھٹا کر میرا موڈ خراب کر دیا۔ گداگر خاتون کہنے لگی :

Read more

رام لیلا کے رومانس کا سیاسی سوانگ

الیکشن 2024 ہو چکے ہیں، الیکشن کے نتائج کی شفافیت پوری دنیا دیکھ چکی اور اس پر کھل کر رونا دھونا اور شور شرابا بھی ہو چکا۔ مسلم لیگ نواز شریف اور پاکستان پیپلز پارٹی مل کر وفاق میں حکومت بنا چکی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف بن گئے ہیں جبکہ صدر پاکستان آصف علی زرداری صاحب بن چکے۔ پنجاب کی حکومت مسلم لیگ نواز شریف کو ملی، سندھ کی حکومت پاکستان پیپلز پارٹی کو ملی جبکہ خیبر پختون خوا

Read more

الیکشن میں پریذائڈنگ آفیسرز کی حالت زار

08 فروری کا دن گزر چکا، حواس ابھی پوری طرح بحال نہیں ہوئے، یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پیچھے سے کوئی دھکا دے گا اور میں سامنے والے پر جا کر گروں گا اور پولیس والا آ کر گریبان پکڑے گا اور کہے گا کہ پیچھے لائن میں جاؤں اور میں رو پڑوں گا کہ نہیں، نہیں مجھے یہی رہنے دو ، پانچ گھنٹے خوار ہونے کے بعد باری آئی ہے اور آگے نہیں معلوم کہ کیا گزرے گی قطرے

Read more

باپ کے نام کھلا خط

چوہنگ، ملتان روڈ، لاہور 04۔ فروری 2024 السلام علیکم! پیارے ابا جان! میں خیریت سے ہوں، امید ہے آپ بھی خیریت سے ہوں گے۔ آپ سے بات کرنے کا من چاہتا ہے، برس ہا برس گزر گئے، آپ سے بے تکلف ہو کر بات نہیں کر پایا ہوں۔ آپ سے ملاقات تو ہوتی ہے لیکن اڑتیس برس گزر جانے کے باوجود یہ ملاقات خیریت و عافیت سے آ گے نہیں بڑھی۔ جب میں سات آٹھ برس کا تھا اور آپ

Read more

الیکشن 2024: ٹریننگ سے توقعات تک

”میڈیم آپ ہمیں کنفیوز کر رہی ہیں۔ یہ اس طرح نہیں ہوتا بلکہ یوں ہوتا ہے۔“ ”آپ خاموش بیٹھے رہیں، میں بہتر جانتی ہوں اور یہ بھی جانتی ہوں کہ کس طرح فارم 45 اور فارم 46 کو فل کرنا ہے“۔ دوست شرمندہ ہو کر بیٹھ گیا اور میری طرف دیکھ کر کہنے لگا: ”یار! یہ کیا بدتمیزی ہے؟“ میں نے کن انکھیوں سے صورت حال کو مصلحتاً نظر انداز کر نے کا مشورہ دیا۔ وہ غصے میں جل بھن

Read more

ایکس وائف کے نام کھلا خط

ایکس وائف کے نام کھلا خط ملتان روڑ لاہور 23۔ جنوری 2024 عزیز من، جان ایمن! السلام علیکم! میں خیریت سے ہوں، امید ہے آپ بھی خیریت سے ہوں گی۔ آپ سے رسم و راہ جدا کیے ایک زمانہ بیت چکا، اس کے باوجود ذہن و روح میں آپ کی موجودگی کا احساس رقصاں ہے۔ گزشتہ برس سے ہنوز سال کے اواخر تک آپ سے جدا ہو جانے کی جملہ واردات خود ساختہ جبری مشقت کے کوہ گراں تلے دبی

Read more

بھاگ چلو، بھاگ چلو

سر یہاں سے دیکھیں، کیا شاندار نظارہ ہے۔ آپ بس کھڑکی کھولیں اور تازہ ہوا کا مزہ لیں۔ طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک کائنات کی جلوہ گری آپ کی نگاہوں کے سامنے محو رقصاں دکھائی دے گی۔ آپ بس فارم بھر دیجیے۔ رقم کی ادائیگی کا طریقہ کار نہایت آسان ہے اور ماہنامہ اقساط پر مشتمل ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ آپ تنخواہ دار ہیں، آپ کے مالی وسائل محدود ہیں۔ ہمارے پاس ہر طرح کے گاہک آتے ہیں،

Read more

خواجہ سرا، والدین اور ریاست

کھانا کھانے کے بعد ہم دوست چائے پینے کی غرض سے ایک دیسی ڈھابہ ڈھونڈ رہے تھے جہاں بیٹھ کر چائے پی جا سکے۔ چائے کا اصل مزہ دیسی ڈھابہ میں ہے۔ تلاش بسیار کے بعد ہمیں ایک ڈھابہ مل گیا۔ سیاسی و مذہبی گفتگو تو ہم ہوٹل میں کھانا کھاتے ہوئے کر چکے تھے۔ چائے کے انتظار میں ہلکے پھلکے مزاحیہ لطیفوں کا تبادلہ ہونے لگا۔ اتفاقاً ایک خواجہ سرا کا ادھر سے گزر ہوا۔ دوست نے اسے آواز

Read more

کتابوں کی اشاعت کا مسئلہ

گزشتہ دنوں مجھے ایک کتاب کی اشد ضرورت تھی۔ ایک مقالہ لکھنا تھا جس کے لیے اس کتاب کو اساسی نسخہ کی حیثیت سے منتخب کرنا تھا۔ اس کتاب کے مصنف پچاس برس پہلے دنیا سے گزر چکے تھے۔ اس کتاب کو دسیوں پبلشرز نے شائع کر رکھا تھا مگر مجھے اصل نسخہ چاہیے تھا جس میں مصنف کی طرف سے پبلشر کو جملہ حقوق بحق اشاعت کی رضا مندی کا خط بھی شامل تصنیف تحریر ہوتا۔ یہ نسخہ باوجود

Read more

تفہیم اقبال، ولایت اور اقبال شناسی

یہ سوال ایک عرصہ سے میرے ذہن میں کلبلا رہا ہے۔ علامہ اقبال کو کیوں پڑھا جائے؟ علامہ اقبال کو پڑھنے کی جہاں سیکڑوں وجوہات ہیں، وہاں علامہ اقبال کو نہ پڑھنے کی بیسیوں وجوہات بھی موجود ہیں۔ علامہ اقبال کی شاعری کا ماخذ ”خودی“ بتایا جاتا ہے۔ علامہ اقبال نے شاعری کو ایک مخصوص صورتحال کے اظہار کے لیے بطور وسیلہ استعمال کیا تھا۔ جب یہ مقصد کب کا پورا ہو چکا تو علامہ اقبال کو اب کیوں پڑھا

Read more

تحقیقی مضمون نگاری: مبادیات و رسمیات

2016 کی بات ہے جب اس ادارہ میں ایم فل کے مقالہ کے مواد کے سلسلے میں جانا ہوا۔ میں نے بی۔ اے اور ایم اے پنجاب یونی ورسٹی سے کیا ہے۔ یہ دونوں امتحانات نجی حیثیت سے پاس کیے ہیں۔ ایم اے (اردو) کے بعد تدریس کے شعبہ کو مستقل اختیار کر لیا۔ اوائل میں اردو ادبیات کے استاد ہونے کی خوشی اپنی جگہ تھی۔ تاہم اس مضمون کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں تھی۔ ملازمت کے انتہائی معقول

Read more

دادا جی والا پاکستان

ریڈیو کو ریشمی غلاف سے ڈھانپ کر چوراہے کی نیم پر کھونٹی سے لٹکا رکھا تھا۔ سبھی گاؤں والے اس کے ارد گرد جمع تھے۔ آج کی خبر بہت اہم تھی۔ آدھا گاؤں اس خبر کو پیشگی بھانپ کر مال مویشی سمیت راتوں رات بھاگ چکا تھا۔ پندرہ بیس لوگ موجود تھے جو سہمے ہوئے تھے اور ہر لمحے نزدیک آتی موت کو محسوس کر رہے تھے۔ ان میں سے ایک میرے والد بھی تھے جن کی میں اکلوتی اولاد

Read more

ہمیں تو انگریزی لے ڈوبی

میرا کام ختم ہو چکا تھا۔ گھر جانے کی تیاری کر رہا تھا کہ سندھو صاحب یعنی محمد عمر سندھو نے میرا ہاتھ پکڑ کر پاس بٹھا لیا۔ کہنے لگے : چائے پیتے جاؤ۔ میں نے ایک کپ تمہارے لیے بچا رکھا ہے۔ میں نے کہا کہ اب تو گھر جانے کی تیاری ہے۔ آپ کسی اور دوست کو چائے سے مستفید کیجیے۔ کہنے لگے : تیاری تو آخرت کی ہوتی ہے میاں! جو تم یقیناً کر رہے ہو۔ میرے

Read more

پاکستان کے معاصر ادبی رجحانات: علاقائی زبانوں کے تناظر میں

پاکستان بھر سے اردو زبان و ادب سے متصل ادیب، شعرا اور ناقد و محقق ایک چھت تلے جمع تھے۔ اردو زبان کے ادبی مباحثے، سیمینار اور کانفرنسز کا سلسلہ تو گزشتہ دس برس سے تسلسل سے جاری ہے ؛البتہ پاکستان کی علاقائی زبانوں پنجابی، سرائیکی، بلوچی، پشتو، بلتی، ہندکو وغیرہ کے لیے بڑے پیمانے پر سیمینار منعقد کروانے کی روایت کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ اردو زبان کو یہ وقار حاصل ہے کہ اس میں لکھنے والا؛ دنیا بھر میں

Read more

پورن سائٹس اور والدین کی ذمہ داری

اس شجر ممنوعہ پر لکھنا جگر گردے کا کام ہے۔ برسوں سے یہ موضوع مجھے مہمیز کیے ہوئے ہے۔ متفرق موضوعات پر قلم فرسائی کے بعد آج نہ چاہتے ہوئے بھی اس موضوع پر نہ لکھنا مجھ سے ضبط نہیں ہوسکا۔ یہ موضوع ایسا ہے جس میں مذہبی نزاعات کا براہ راست دخل ناگزیر صورت اختیار کر جاتا ہے۔ مذہب، معاشرت اور سیاست؛ تین ایسے موضوعات ہیں، جن پر لکھنے کا مطلب؛ ہر ایرے غیرے کو اپنے خلاف کر لینا

Read more

وکالت، وکیل اور کمرہ عدالت کا تقدس

سر جھکائے دیوار کے ساتھ نا امیدی کا استعارہ بنے ؛بلاوے کے انتظار میں کھڑا تھا۔ ناظر عدالت کے آدمی نے بلند آواز میں میرا نام پکارا۔ دل دھڑک کر سکڑ سا گیا۔ کمرہ عدالت میں جج صاحب مرکزی کرسی پر ٹھاٹھ سے تشریف فرما تھے۔ جج صاحب کا رعب اور دبدبہ دیکھنے لائق تھا۔ میں شرماتے، لجاتے، کپکپاتے ملزم کی حیثیت سے پیش ہوا۔ جج صاحب نے پوچھا۔ آپ کا نام کیا ہے۔ آپ کے وکیل کدھر ہیں۔ آپ

Read more

مسلمانوں کی مساجد کے جمعے بے اثر کیوں؟

مسلمانوں کی مساجد میں قیام پاکستان کے بعد سے ہنوز جمعہ کا درس ہو رہا ہے۔ درس کے اس تسلسل کو پچھتر برس گزر گئے۔ جمعہ کے اس درس میں علما کیا بیان کرتے ہیں۔ ریاست نے کبھی اس پر تحفظ یا آمادگی کا اظہار نہیں کیا۔ بیسویں صدی کے اواخر میں مساجد سے جس مذہبی تعصب اور انتہا پسندی کی روایت نے جنم لیا۔ آج اس روایت کی اولاد مساجد کے منبر پر قابض ہے۔ ایک کثیر تعداد ان

Read more

پاکستانی نوجوان ملک کیوں چھوڑ رہے ہیں؟

کافی دن سے میری بات نہیں ہوئی تھی۔ دو ماہ بعد اُس کا فون آیا۔ پتہ چلا کہ باہر جانے کی تیاری کر رہا ہے۔ میں نے حیران ہو کر پوچھا کہ میاں! باہر کیوں جانا ہے۔ امسال پی ایچ ڈی مکمل کی ہے۔ پاکستان کے صفِ اول کے نجی ایجوکیشن برانڈ میں پڑھا رہے ہو۔ تنخواہ بھی معقول ہے۔ باہر جا کر کیا کرو گے۔ اولاد جوان ہو رہی ہے۔ اب ذمہ داری کا وقت ہے اور تم دُم

Read more

علمی نثر کی روایت اور ڈاکٹر ناصر عباس نیئر

  تعلیم کی تحصیل کے بعد ملازمت کی فکر لاحق ہوتی ہے۔ پاکستان میں بنیادی تعلیم کی تحصیل ایک مسئلہ بن چکی۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے تو رانجھے کی طرح بیس پچیس برس بھینسیں چرانا پڑتی ہیں۔ اس کٹھن مشقت کے باوصف ہیرمانتی ہے اور نہ ہیر کے گھر والے۔ بھینیں بھی مہنگی ہو گئی ہیں اور ہیر کے نخرے بھی پہلے کی نسبت بڑھ گئے ہیں۔ رانجھا میاں کیا کریں۔ پڑھنا بھی ہے اور ملازمت بھی وائٹ کالر والی

Read more

فکر کا جنازہ ہے ذرا دھوم کے نکلے

میں نے آج تک پرنٹ اور الیکڑانک میڈیا پر جو کچھ ( کالم بلاگز، مضامین) لکھا ہے۔ اس سے دستبردار ہو رہا ہوں۔ میری تحاریر و تقاریر سے اگر کسی کے سیاسی، سماجی، مذہبی اور ذاتی جذبات اور اعتقادات مجروح ہوئے ہیں تو معذرت خواہ ہوں۔ میرا کسی سیاسی، سماجی، مذہبی اور ذاتی پارٹی سے تعلق نہیں ہے۔ میں نے جو کچھ لکھا ہے وہ نہ مجھے الہام ہوا ہے اور نہ ہی کسی نے مجھے اسے لکھنے اور بولنے

Read more

پاکستانی سماج استاد کی عزت کیوں نہیں کرتا؟

پاکستانی سماج استاد کی عزت کیوں نہیں کرتا؟ پاکستانی سماج میں استاد کی عزت کیوں نہیں ہے؟ یہ وہ سوال ہے جو ہر مکتبہ فکر سے برابر اٹھایا جا رہا ہے۔ 5۔ اکتوبر ہر سال یوم استاد کے طور پر دنیا بھر میں منایا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں استاد کی تکریم کے حوالے سے سیمینار اور محافل کا انتظام کیا جاتا ہے جہاں اساتذہ کی خدمات کا تحسین آمیز انداز میں نہ صرف اظہار کیا جاتا ہے بلکہ اساتذہ

Read more

پاکستانی سماج کا بنیادی مسئلہ کیا ہے؟

پاکستانی سماج کا بنیادی مسئلہ کیا ہے؟ اس موضوع پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ اس کے باوجود مزید بہت کچھ لکھنے کی ضرورت ہے۔ پاکستانی سماج میں ہر وہ مسئلہ موجود ہے جسے بنیادی مسئلہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ قاسم یعقوب نے نے نقاط شمارہ کا ایک خصوصی نمبر اس حوالے سے شایع کیا ہے جس میں بتیس کے قریب مسائل کا ذکر کیا ہے جسے پاکستانی سماج کے بنیادی مسائل کی حیثیت سے سامنے لایا گیا

Read more

غریب پاکستانیو! تمہاری کیا بات ہے

پاکستان کو بنے پچھتر برس ہو گئے ہیں۔ اس ملک کے قیام کے ساتھ ہی اسے غریب مہاجرین کا ایک لاتعداد ہجوم تحفے میں ملا تھا۔ بیس سے چالیس لاکھ کے درمیان ان غربا کے خاندانوں کو پورے ہندوستان سے ہجرت کرنا پڑی۔ یہ مہاجرین تقسیم سے پہلے مالدار اور صاحب حیثیت و جائیداد تھے۔ ملک تقسیم ہوا اور یہ لوگ بھی تقسیم ہوئے۔ ایک نعرہ تھا، ایک جوش تھا، ایک مقصد تھا، ایک خواب تھا۔ ملک بنانا ہے اور

Read more

عمیر نجمی: جدید اُردو غزل کا مصور شاعر

اکیسویں صدی اس حوالے سے خوش قسمت ہے کہ اسے ایک سے بڑھ کر ایک عمدہ شاعر میسر آ رہا ہے۔ اکیسویں صدی کے آغاز سے اردو غزل کا بانکپن مضمحل ہونے کی بجائے مزید نکھرتا ہوا محسوس ہو رہا ہے۔ گلوبلائزیشن کی وجہ سے سوشل میڈیا نے اردو غزل کو مزید وسعت دی ہے۔ شاعر پہلے غزل کہتا تھا۔ دوست احباب کو سُناتا تھا۔ اس کے بعد بھول بھال جاتا تھا۔ زیادہ تعریف و تحسین کی خواہش ہوئی تو

Read more

سب جانتے ہیں!

اب یہ بحث ختم ہو جانی چاہیے کہ کسی کو کچھ علم نہیں ہے۔ سبھی جانتے ہیں۔ اس ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے اور کیوں ہو رہا ہے۔ میں گزشتہ چند ماہ سے تاریخ، تہذیب، سماجیات، سیاسیات، معاشیات اور تقابل مذاہبیات کے موضوعات پر غیر جانبدار سکالرز کو سن رہا ہوں۔ ان کی حوالہ جاتی کتب کو گاہے گاہے پڑھ رہا ہوں۔ انٹر نیٹ ایجاد کرنے والے انگریز کا بھلا ہو ؛جس نے ان حقائق کو سامنے والے

Read more

تہذیب حافی: جدید اُردو غزل کا باغبان

اردو زبان کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ ہر طرح کے حالات میں اس کے ارتقا کا عمل تسلسل سے جاری ہے۔ اردو زبان اپنے تخلیقی ادب کے حوالے سے دنیا بھر کی زبانوں میں اپنی ایک شناخت رکھتی ہے۔ یہ شناخت نثری ادب میں بہت نمایاں ہے جبکہ شعری اصناف میں اس کا انفرادی وصف نثر سے سبقت لیے ہوئے ہے۔ شعری اصناف میں صنف غزل کو جو مقام و مرتبہ اور پذیرائی میسر ہے وہ دیگر اصناف کو

Read more

خون کی ہولی، میرے نانا اور مسیحی بابا رحمو

سانحہ جڑانوالہ نے میرے ذہن میں بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے۔ بطور مسلمان میرا عقیدہ پختہ مسلمانوں والا ہی ہے۔ میرا گھرانا اہل سنت مسلک سے متصل ہے اور بچپن سے ہنوز اسلام کی توضیح کو بعینہ سمجھا اور اس پر عمل پیرا ہوں۔ ہمارا گھرانا زمیندار ہے۔ میرے دادا جان اور نانا جان گاؤں میں زمین داری کرتے تھے۔ ان کے پاس مسیحی برادری کے بیشتر افراد کام کاج کے سلسلے میں ہمہ وقت موجود رہتے تھے۔

Read more

مذہبی منافرت کو ہوا دینے والے پاکستانی نوجوان

مذہب ہر ذی شعور اور بے شعور انسان کو عزیز ترین ہوتا ہے۔ مذہب کے نام پر مر مٹنا اور جان نثار کرنا ہر مذہب کے ماننے والے کے لیے فخر کی بات ہے۔ فخر کا یہ ہلالِ امتیاز آج کل پاکستان میں رجسٹریشن کے لیے اوپن ہے۔ جو مذہب کے نام پر مرنا چاہتا ہے اور مر کر ہمیشہ کے لیے پاکستانی عوام میں شہید کا مرتبہ پانا چاہتا ہے وہ دنیا کے کسی بھی خطے میں ہو؛ پاکستان

Read more

اکیسویں صدی کا متعوب شاعر: اکرام عارفی

اردو غزل کی روایت میں کئی ایسے موڑ آئے جہاں اس کی گردن مارنے کی کوشش کی گئی۔ یہ کوشش کافی حد کامیاب بھی رہی؛ اس کے باوجود یہ صنف گزشتہ ہزار برس سے زندہ ہے اور سلامت ہے۔ اردو غزل میں جملہ موضوعات پر شعرا نے لکھا اور بہت خوب لکھا۔ اردو غزل کی یہ خوش نصیبی رہی کہ اس اوائل میں استاد شعرا میسر آئے جنھوں نے اس پرورش و پرداخت میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ اردو

Read more

ہڈ بیتی زیست کے تجرباتی تراشے

انسانی زندگی پر اسرار ہے۔ زندگی میں کئی ایسے واقعات انسان پر گزرتے ہیں جن کا مستقل اثر حواس پر غالب رہتا ہے۔ بعض دفعہ معمولی سی بات غیر معمولی حد تک شعور کو متاثر کر جاتی ہے اور مدت دراز تک اس بات کے بطن میں پنہاں پر اسراریت کو کرید کرید کر حقیقت کو آشکارا کرنے کی جستجو رہتی ہے۔ واصف علی واصف صاحب نے کہا تھا کہ پیغمبر کی بات باتوں کی پیغمبر ہوتی ہے۔ انسان جس

Read more

شادی: مشاہدات و تجربات کا گورکھ دھندہ

شادی ایک ایسا موضوع ہے جس پر بولنے کے لیے ہر شخص کے پاس گھنٹوں سیر حاصل بحث کا مواد موجود ہے، خواہ اس نے شادی کی ہے یا نہیں؛ اس سے غرض نہیں۔ شادی ایک عمومی موضوع ہے جسے مذہب اور سیاست کے بعد تیسری پوزیشن حاصل ہے۔ برصغیر میں صدیوں سے اس موضوع پر گفتگو ہوتی رہی ہے اور یہ سلسلہ ہنوز تسلسل سے جاری ہے۔ جہاں دو لوگ بیٹھ گئے۔ ہلکی پھلکی جگالی کے بعد بات گھوم

Read more

بیکار باتیں، کارآمد باتیں

آج کل وقت کی شدید کمی کا اندیشہ لاحق ہے۔ اس دنیا کے متعین وقت یعنی چوبیس گھنٹوں میں ایک سیکنڈ کی کمی نہیں ہوئی اس کے باوجود وقت میں کمی کا شدید اندیشہ احساس زیاں کی صورت حواس پر غالب رہتا ہے۔ یہ معمولی اور عام سا آوارہ خیال ہو سکتا ہے۔ اسے رد کیا جاسکتا ہے، اسے معمولی سمجھ کر نظر انداز کیا جاسکتا ہے لیکن اس کی حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ صبح اٹھنے سے

Read more

جلیل احمد: ایک جاگیر دار کی شخصیت کا تناظر

انسان اس دنیا میں آتا ہے، چلا جاتا ہے، بھولتے بھولتے بھول جاتا ہے۔ انسان کی اس آمد اور کوچ کا قصہ بھی عجیب ہے۔ پہلے انسان سے لے کر آج تک اور ابھی تک جانے کتنے انسان اس نظام حیات و ممات سے گزرے۔ کسی کو نہیں معلوم کہ انھیں یہاں کیوں بھیجا گیا اور پھر ان کی خواہش کے بر عکس دفعتاً انھیں واپس بلا لیا گیا۔ انسان نے ان جانے والے انسانوں کے بارے میں بہت کچھ

Read more

بندگیِ مطلق سے مقامِ قبولیت تک

جس طرح ایک میان میں دو تلواریں نہیں سما سکتی،اسی طرح ایک دل میں دو محبتیں نہیں سما سکتیں اور جہاں دُنیا کی محبت ہو وہاں رب تعالیٰ کیسے سما سکے گا اس لیے کہ دُنیا رب تعالیٰ کی نظر میں ایسے ہی ہے جیسے پیٹ بھرے کے لیے بچا ہوا کھانا کہ جسے فقط آنکھیں دیکھ تو سکتی ہیں لیکن اسے نگلنے کے لیے گنجائش نہیں ہوتی۔جہاں گنجائش نہیں رہتی وہاں خلا کیسے پیدا ہو سکتا ہے اور جہاں

Read more

معاشرہ، انسان، حیات اور اقدار

ابتدا میں انسان نے بالکل تنہائی کی زندگی بسر کی۔ وہ ہمیشہ دوسرے انسانوں سے اس لئے خائف رہتا تھا تا کہ کہیں کوئی دوسرا انسان اس کو نقصان نہ پہنچا دے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان ایک دوسرے کے عادی ہوتے گئے اور بالآخر ایک دوسرے کے ساتھ مل کر پر امن زندگی گزارنے لگے اور اسی طرح معاشرہ وجود میں آیا۔ انسان نے ہمیشہ خود کو قدرتی طاقتوں کے سامنے بے بس پایا اس لیے انسان

Read more

نئی زندگی کا مثالی تشخص

جو کہنا ہے، کہہ دیجیے آپ جو کہنا چاہتے ہیں، کہہ دیجیے۔ آپ جو لکھنا چاہتے ہیں، ضرور لکھیے۔ آپ جو بولنا چاہتے ہیں، بول دیجئے۔ آپ وہی کہیں گے جو حقیقت ہے، آپ وہی لکھیں گے جو لکھا جا چکا ہے، آپ وہی کریں، جو بولنا ہے، آپ وہی بولیں گے، جو حقیقت ہے۔ درحقیقت ہے۔ حقیقت اور بے حقیقت کا تعلق انسان کے روئیے اور سوچ پر دلالت کرتا ہے۔ بات کرنے، کہنے اور لکھنے کا ایک اسلوب،

Read more

مرد عورت (شکوک و شبہات کے تناظر میں)

عورت کو رب تعالیٰ نے خوبصورت اور پرکشش بنایا ہے۔ دین اسلام کی تعلیمات کے مطابق ؛ رب تعالیٰ نے جب انسان کا قلبوت بنایا تو اسے ہر طرح سے تراش سنوار کر فرشتوں کے سامنے پیش کیا؛ جس پر ایک طویل مکالمہ رب تعالیٰ اور فرشتوں کے درمیان قرآن میں منقول ہے۔ انسان یعنی مرد یعنی جد امجد ہمارا باپ ؛ہمارا پرکھ اور اس زمین کو انسانوں سے آباد کرنے والا پہلا انسان حضرت آدم ؑ ہے جس کے

Read more

پاکستانی نوجوان، والدین، ریاست اور بے روزگاری

جب سے ہوش سنبھالا ہے۔ یہی سنتے آئے ہیں کہ پاکستان میں نوجوانوں کی تعداد آبادی میں سب سے زیادہ ہے۔ بیس برس گزر گئے ہیں۔ یہ تعداد کم نہیں ہوئی بلکہ روز بروز اس میں اضافہ ہوتا سنتا رہتا ہوں۔ یہ اضافہ کس حوالے سے ہے اور ہر سال اس تعداد میں ایک مخصوص اضافہ کس طرح ہو رہا ہے اور اس اضافے کے مثبت ثمرات سامنے کیوں نہیں آرہے؟ یہ عمومی نوعیت کے سوالات ہیں جن کے جوابات

Read more

بندریا کے پاؤں جلنے لگے تو

بچپن؛ عمر کا ایسا دور ہے جب بچہ اچھے برے کی تمیز کا فرق نہیں کر پاتا۔ وہ ہر چیز کو زبان کے ذائقہ سے محسوس کرتا ہے اور ترش و میٹھا ہونے کا ردعمل ظاہر کرتا ہے۔ بچپن میں دادا ابا کی گود میں دبک کر گھنٹوں بلی کے بچے کی طرح پٹوسیاں مارنا بہت لگتا تھا۔ اماں آتیں اور کھینچ کر لے جاتی۔ ناظرہ قرآن کے لیے مدرسہ جانا بڑا تکلیف دہ عمل تھا۔ بہرحال یہ وقت بھی

Read more

پاکستانی سیاست، فوج اور عوام

پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال سے پاکستان کا تقریباً ہر شہری پریشان ہے اور مزید اس یہ پریشانی بڑھ رہی ہے۔ پاکستان 1947 کو آزاد ہوا۔ آزادی کے وقت میں پیدا نہیں ہوا تھا؛اس لیے مجھے نہیں معلوم کہ اس وقت کی سیاست کا رنگ کیا تھا اور تحریک پاکستان کے کارکنان نے تاریخ کے مطابق لاکھوں جان کی قربانیاں دے کر اس ملک کو کس بیانیے پر آزاد کروایا تھا۔ دو قومی نظریہ جسے قرآن سے ماخوذ بتا کر

Read more

”ہم“ کا نفسیاتی رویہ

لفظ ”ہم“ ایک ایسی محفوظ پناہ گاہ ہے جس میں ہر قسم کی لاپروائی، سستی، کاہلی، غفلت اور غیر ذمہ داری چھپ جاتی ہے۔ میں، آپ، یہ وہ، تم، تو، وہ، سب، اور اس طرح کے الفاظ میں ذمہ داری اور الزام عائد کرنے کی پوری گنجائش موجود ہے لیکن جب ایک انسان خود کو ”میں“ کہنے کی بجائے ”ہم“ کہہ کر بات کرتا ہے، رائے دیتا ہے تو سمجھ جائیے کہ یہ ایک غیر ذمہ دار اور لاپروا انسان

Read more

ہم کیا کر سکتے ہیں؟

یہ جملہ اپنے اندر وسیع معنی رکھتا ہے۔ پاکستانی سماج میں ہر دوسرا شخص یہی جملہ دہراتے ہوئے خود کو پتلی گلی سے نکالنے کی کوشش میں دکھائی دیتا ہے۔ ہم کیا کر سکتے ہیں؟ اس جملے میں لفظ ”ہم“ کا صیغہ جمع کا ہے واحد نہیں۔ اس کو یوں کہا جائے کہ ”میں کیا کر سکتا ہوں“ تب بات بنتی ہے اور بات آگے بڑھتی ہے۔ ”ہم“ اور ”میں“ میں معمولی فرق گرامر کا ہو سکتا ہے، معنی کا

Read more

اس ملک کا کیا بنے گا؟

پاکستان کی موجودہ صورتحال ایسی ہے کہ کچھ بھی برے سے برا تصور کیا جا سکتا ہے۔ سیاست میں ایک عجیب قسم کا تماشا برپا ہے۔ کسی کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی کہ کیا ہو رہا ہے، آگے مزید کیا ہونا ہے اور مزید ترین سے آگے کی کہانی کا تانا بانا کون بنے گا۔ ہر کوئی ہر کسی کے بارے میں ہر طرح کی رائے رکھے ہوئے ہے۔ اچھا آدمی اچھا ہی سوچتا ہے اور برا آدمی برائی

Read more

میاں بیوی والا عشق

شادی ایک سنجیدہ موضوع ہے۔ شادی کے حوالے سے صدیوں سے بحث رہی ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کے انتخاب کے لیے کن معیارات اور تقاضوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے باہم رشتہ استوار کریں۔ تقابل ادیان میں بھی اس رشتے کی اہمیت، قطعیت اور خوبصورتی کے بارے میں صراحت سے بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ دین اسلام اس حوالے سے سبقت لیے ہوئے ہے۔ پاکستانی سماج میں البتہ کچھ خرابیاں مرور وقت کے ساتھ در آئی ہیں جن

Read more

زیست کے متنوع پہلوؤں کا احاطہ کرتے اختصاریے، تجزیے

زندگی کو بھر پور مصروف رکھیں۔ کسی سے خوشیوں کی بھیک مت مانگیں۔ دنیا میں ہر کوئی ہر کسی کے لیے آزمائش ہے۔ یہاں رشتے، تعلق، جذبات، احساسات، محبت، نفرت الغرض تمام افعال و اقوال و معاملات دنیاوی اغراض و مقاصد کے تحت انجام دیے جاتے ہیں۔ عمر بھر خود کو کسی نہ کسی کام میں مصروف رکھیں۔ اپنے آپ میں مصروف رہیں۔ آپ کی مصروفیت ہی آپ کی زندگی کی صحت ہے۔ جس دن آپ نے دوسروں سے خوشیوں

Read more