بیوروکریسی کا قانونی استثنا باقیات جہالت
ابتدائی تاریخ انسانی ہی سے بادشاہ اور حکمران خود کو خدا کے اوتار کہلاتے اور مطلق العنانیت کے مزے لوٹتے رہے۔ بعد میں مسلمان حکمران بھی ایسی روش جاری رکھے تھے اور خود کو ظل الٰہی کہنے میں فخر محسوس کرتے اور کہلواتے رہے تھے۔ اب خیر سے علماء کرام، پیران اور شیوخ عظام خود کو نبی کریم کے وارث ہی کہلاتے ہیں۔ ان سب کے پیچھے ایک ہی نیت اور منشاء چلا آ رہا ہے اور وہ یہ کہ خود کا عام انسانوں سے افضل، اکرم، معصوم از خطا اور قادر مطلق ظاہر کر کے من مانی کرتے رہیں۔
آج اکیسویں صدی میں بھی بہت سے ممالک میں بادشاہ اور ملکائیں اپنے تمام تر شاہی مراعات اور استحقاق کے سمیت موجود ہیں۔ کہیں اصل بادشاہت اور کہیں نمائشی اور تاریخی یادگار طور پر۔ جیسے جاپان، ملائشیا۔ برطانیہ۔ تھائی لینڈ۔ عرب۔ خلیج اور دیگر تقریباً ہر بر اعظم کے ممالک۔ یہ سب بادشاہ آج کے اس جدید دور میں بھی غیر حقیقی اور غیر انسانی مخصوص مراعات سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ جن میں سب سے عام، مشترکہ اور چھوٹی رعایت قانون سے استثنا ہے۔ اس کے پیچھے یہی نیت کار فرما ہے کہ جن کے یہ پرتو ہیں وہ غلطی کر ہی نہیں سکتے اس لیے یہ بھی ہر غلطی، جھوٹ اور دیگر۔ منفی خواص سے مبریٰ ہی ہیں۔ اس وجہ سے ان کے یہ پرتو بھی ان کی طرح پاک، صاف اور ہر غلطی سے دور ہی نہیں مبریٰ ہی ہیں۔ اور اسی طرح یہ کہاوت ایجاد یا مشہور کرائی گئی کہ
King can do no wrong
یعنی بادشاہ غلطی نہیں کر سکتا۔
اس طرح بادشاہوں کو اگر الوہی صفت نہیں تو فرشتوں کی صفت دے دی گئی۔ جو بذات خود اس آفاقی کہاوت کی یکسر نفی کرتی ہے کہ ”انسان خطا کا پتلا ہے“
ایسے خصوصی حیثیت، رتبوں اور مراعات کا جس منفی اور ذاتی مفاد کے لیے استعمال کیا گیا ہے، تاریخ کی کتب اس سے بھری پڑی ہیں۔ اور بالآخر تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق دنیا بھر میں زمان و مکان کے فرق کے ساتھ ایسے ایسے انقلابات بشمول خونی انقلابات برپا ہوئے کہ نہ تاج رہا نہ تخت۔ اور بادشاہی نظام دھڑام سے گرتے گرتے زمین بوس ہو گیا۔ اور آج بھی کچھ اکا دکا بادشاہتیں جو موجود ہیں ان کو تھوڑی بہت نکیل ڈالنے کے باوجود نفرت اور بغاوت کی ہنڈیاں ابل رہی ہیں اور پھٹنے کو ہیں۔
عموماً کسی مطلق العنان بادشاہ نے یہ تخت سے خود چھوڑا ہے نہ ہی خود سے تاج اتارا ہے۔ بلکہ ایسا کرنے کے لیے لاکھوں ستم رسیدہ عوام نے بے مثال جانی، مالی اور دیگر قربانیاں دی ہیں۔ اور یہی عوام تحاریک اور قوت بعد میں جمہوری شکل اختیار کر کے اب تک کے سب سے قابل قبول اور محبوب نظام جمہوریت کی شکل میں موجود ہے۔ لیکن ایسا سب کچھ ہونے اور کرنے کے باوجود جمہوریت خواہ پارلیمانی طرز کی ہو یا کہ پارلیمانی طرز کی، اس۔ میں بھی وہی پرانی روش اختیار کرتے ہوئے صدر کو جو ملک کا آئینی سربراہ ہوتا ہے صدارتی دفتری امور نپٹانے کی حد تک کم از کم سول اور کرمنل قانونی محاسبے سے استثنا دیا گیا ہے۔ لیکن آج کل کچھ ایسے حالات اور واقعات بالخصوص اور بشمول پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں رونماء ہوئے ہیں کہ اب یہ سوال سر اٹھانے لگا ہے کہ کیا ایسی استثنا مزید جاری رہنی چاہیے؟
چونکہ ریاست کا آئینی سربراہ بادشاہ یا صدر مملکت ہی ہوتا ہے۔ اس لیے وہ ہی ریاستی امور کو چلانے کے لیے ملازمین کی تعیناتی کرتا ہے۔ جس کے لیے وہ اپنے اختیارات مختلف اداروں اور افراد کو تفویض کرتے ہیں۔ ایسے ادارے یا افراد بھی جو کوئی بھی تعیناتی کرتے ہیں ایسا ضرور لکھتے ہیں کہ ایسی تعیناتی صدر (یا بادشاہ) کی مرضی اور اجازت سے عمل میں لائی جا رہی ہے۔ اسی ہی وجہ سے ایسے سرکاری ملازمین کو ”نوکر شاہی یا بیوروکریسی“ کہا جاتا ہے۔
کاروبار مملکت چلانے کے لیے قوانین کی عملداری ناگزیر ہے اس لیے موجود قوانین کے ساتھ ساتھ حالات اور ضرورت کے مطابق نئے قوانین کا نفاذ بھی ضروری ہوتا ہے۔ جو مسلسل پوری کی جاتی رہی ہے۔ لیکن قانون پرانے ہوں یا نئے اس میں ایک شق ضرور ہوتی ہے۔ یعنی کہ ”جو بھی مجاز بندہ اس قانون کے تحت نیک نیتی سے اختیارات استعمال کرے گا اس کا کسی قسم کا محاسبہ نہیں ہو گا“ ۔ یعنی صاحب مجاز کو بھی صدر کی طرح استثنا حاصل ہوتا ہے۔
گو کہ صدر کے خلاف مواخذہ کی تحریک کی کارروائی ممکن بنائی گئی ہے لیکن قانونی موشگافیوں کی وجہ سے ناممکن ہی لگتا ہے۔ جبکہ نوکر شاہی کے خلاف ایسی کوئی مخصوص داد رسی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ جبکہ دلوں اور نیتوں کا بھید اللہ تو ہی جانتا ہے۔ اس لیے ان ہی کے کالی کرتوتوں کی وجہ سے خیر سے ملک کی کورٹ کچہریوں، تھانوں، ہسپتالوں، مردہ خانوں وغیرہ کی رونقوں میں روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے۔ بلکہ پارلیمانی اور محلاتی سازشیں بھی ان ہی کی بدولت جلا حاصل کرتی ہیں۔ اس جدید۔ مہذب اور انسانی عظمت کے دور میں King do no wrong اور احتساب سے استثنا کے اصول اور قوانین جو دور جہالت کے باقیات ہیں کے لیے کوئی جگہ ہونا ہی نہیں چاہیے۔


