قبائلی بچی
اپنے جسم اور جان کا اکٹھ برقرار رکھنے کے لئے زبیدہ ایڑیاں رگڑ رہی تھی اور اچانک انکل ماجد کے گھر گولیاں چلنے کی آواز آنے لگی۔ علی نے دیوار کے اس پار جھانکنے کی کوشش کی۔ ادھر سے انکل مجاہد کے بڑے لڑکے نے اپنے چھوٹے بھائی کے پیدا ہونے کی خوشخبری دی۔
دوسری جانب شیرو اپنی بیوی کو شہر کے دائی کے پاس لے جانے کے لئے قرضہ مانگنے وڈیرے کے پاس گیا ہوا تھا۔ کچھ دیر بعد زبیدہ اپنی درد بھری سانسیں بچی میں ڈال کر روحانی طور پر پرواز کر گئی تھی۔ شیرو کے واپسی تک گھر میں کہرام مچ گیا تھا۔ قرضے میں ملے پیسوں سے کفن دفن کا بندوبست ہو گیا۔ کچھ دن بعد ماجد نے اپنے بچے کی منگنی شیرو کی نوزائیدہ بچی کی ساتھ کردی۔ کیونکہ وہ شیرو کے غم کو خوشی میں بدلنا چاہتا تھا۔ ایک چھوٹا سا پروگرام بھی ارینج کر لیا۔
تین سال کے بعد ساجد سکول جانے لگا تو بانو گھر سے باہر بیٹھ کر ساجد کو دیکھتی تھی۔ ایک دو دفعہ اسکول جانے کی ضد بھی کی مگر شیرو کی غربت اور غیرت نے ان کو جانے نہیں دیا۔ وہ ہر صبح اٹھ کر پوچھتی کہ ان کی اماں کدھر گئی۔ جب ایک دن علی نے تمام باتیں بتا دیں تو وہ شیرو کے پاس آ پہنچی۔ اور اپنی معصومانہ خواہش ظاہر کی کہ میں ڈاکٹر بنوں گی اور ڈاکٹر بن کر دوسروں کی والدہ کو ان سے جدا نہیں ہونے دوں گی۔ مگر شیرو محلے والوں کے ڈر اور اپنی غربت کی وجہ سے سکول نہیں بھیج سکتا تھا۔ مزید قریب کے کسی محلے میں لڑکیوں کا سکول بھی نہیں تھا۔ شہر جانے کے پیسے اور ہمت نہیں تھی۔ مگر اب کچھ عرصہ گزرنے کے بعد کام سے فارغ ہو کر گھر آتا تو اس کی شادی کی باتیں کرنے لگ جاتا تھا۔ کیونکہ اب بانو چودہ سال کی ہو چکی تھی۔ اور ساجد کو بھی سکول چھوڑے دو سال گزر گئے تھے۔ اب وہ وڈیرے کے یہاں بنی حکومتی ہسپتال کے باہر گارڈ کی ڈیوٹی کرتا تھا۔ جو وڈیرے کی سیاسی نمائش کے علاوہ بند رہتا اور شام کو بندوق اپنے ساتھ گھر لے کر آ جاتا تھا۔
حکومت نے اس کی تنخواہ کچھ ہزار مقرر کی تھی مگر ملتا شاباشی اور شوشہ کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا۔ اگلے ہفتے بانو اور ساجد کی شادی ہوگی۔ سال بعد بانو اسی بستر پر لیٹی درد سے آہیں بھر رہی تھی۔ ساجد وڈیرہ کے ساتھ شکار کھیلنے دوسرے گاؤں نکل گیا تھا۔ اور دو راتیں تکلیف میں گزارنے کے بعد بانو بھی اپنی اماں سے جا ملی تھی۔ اب شیرو روز صبح اٹھ کر بانو کی باتیں یاد کرتا کہ کاش میں ان کو ڈاکٹر بناتا تو مجھے اتنی تکلیف نہ اٹھانی پڑتی۔
یہ بانو ڈیرہ بگٹی کی رہائشی تھی۔ جس کی باقی بہنیں آج بھی اس کرب سے گزر رہی ہیں۔ اس سال کے پندرہ دنوں میں دس اموات ہوئی ہیں۔ سال میں ستر سے زائد خواتین زچگی کی وجہ سے لقمہ اجل بن رہی ہیں۔ حکومتی سطح پر کوئی اقدام نہیں اٹھایا جا رہا ہے۔ اور اس وقت بائیس ہزار بچیاں اسکولوں سے باہر ہیں۔ ایک طرف پدرانہ سوچ اور دوسری طرف حکومت بلوچستان کی ناقص کارکردگی نے ان خواتین کی زندگی کو اجیرن بنا کر رکھ دیا ہے۔ ہر انسان دوست تنظیم اور حکومت بلوچستان سے دست بستہ گزارش ہے کہ ان بے زبان انسانوں کی نسل کشی کو بند کرنے کی کوشش کریں۔ ان کے اسکول بحال کریں ان کو علاج معالجے کی سہولیات دیں تاکہ یہ بھی اس ملک و قوم کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔
آپ کے دور میں اور ایسا سماں دیکھیے ناں
کھا رہی ہے مرے پھولوں کو خزاں دیکھیے ناں


