گجرات کے چار سرکاری کالجز


سرکاری تعلیمی اداروں کے ساتھ حکومت جو کر رہی ہے وہ تو سب کے سامنے ہے لیکن اساتذہ کمیونٹی کے سیاسی نمائندے جو سیاست کرتے کرتے اچانک پینٹ کوٹ پہن کر بیوروکریسی میں شامل ہو جاتے ہیں وہ اپنی سیاسی اور سرکاری حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے الٹے سیدھے پرپوزل بنا کر حکومت کو ارسال کرتے رہتے ہیں تاکہ اپنے خوش رہیں، حکومت الجھی رہے اور سرکاری گاڑی چلتی رہے۔ اس صورت حال کا سب سے زیادہ نقصان گجرات کے چار سرکاری کالجز کو ہو رہا ہے۔

مرغزار کالج خواتین گجرات۔ فوارہ چوک کالج گجرات۔ سر سید کالج برائے خواتین گجرات۔ اور سائنس کالج جی ٹی روڈ گجرات۔ سیشن ختم ہونے کو ہے اور وہاں سرکاری اساتذہ نام کو نہیں۔ ادھر ادھر سے ناتجربہ کار اساتذہ پکڑ کر انھیں اپنی مدد آپ کے اصول کے تحت تھوڑے بہت جرمانہ فنڈ سے پیسے دے کر کام چلایا جا رہا ہے۔ پرنسپل کیا کرے؟ طلبہ کدھر جائیں؟ اور اساتذہ کدھر سے آئیں؟ کہ جو repatriation process سے پہلے جہاں کے تھے اب وہ بھی ان نامساعد حالات میں واپس جانے کو تیار نہیں۔

پہلے سول سوسائٹی اور ان اساتذہ کی ڈیمانڈ یہ تھی کہ مذکورہ چاروں کالجز گجرات یونیورسٹی سے واپس پنجاب حکومت کے حوالے کر دیے جائیں اور اب یہ واپس ہوئے ہیں تو اب ان کا عذر یہ ہے کہ وہاں کام بہت ہے۔ اب ان کا کہنا ہے کہ repatriation process کے بعد ہمیں جہاں بھیجا گیا تھا ہم اب وہیں خوش ہیں۔ علمی اور اخلاقی سطح پر دیکھا جائے تو حکومت اور ان اساتذہ کا یہ رویہ وسیع تر قومی مفاد کے اعتبار اخلاقی سطح پر انتہائی کمزور ہے۔

کم ازکم ان اساتذہ کو سیشن مکمل کروانا چاہیے تھا۔ اس کے علاوہ یہ بھی ضروری ہے کہ جن اساتذہ کو ان کالجز میں انچارج پرنسپل بنایا گیا ہے وہ بھی اپنے رویے میں لچک پیدا کریں تاکہ ان کالجز کے نظام کو بہتر انداز میں چلایا جا سکے۔ اور اساتذہ با خوشی ان اداروں میں جا کر کام کر سکیں۔ بس ذاتی گروپ بندیوں سے اوپر اٹھ کر سوچنے کی ضرورت ہے۔

دوسری طرف جو یونیورسٹی کے اساتذہ ان کالجز کو چلانے کے لیے گجرات یونیورسٹی نے بھرتی کیے گئے تھے وہ یونیورسٹی جانے کے بعد وہاں بے توقیر ہو رہے ہیں کہ ان کے گریڈ یونیورسٹی کے اساتذہ کے برابر نہیں۔ مذکورہ اساتذہ میں سے یونیورسٹی میں کسی کو کلاس ملی ہے اور کسی کو کلیریکل جاب سونپ دی گئی ہے۔ ان اساتذہ کا اور مذکورہ کالجز کا مستقبل کیا ہو گا کسی کو کوئی خبر نہیں۔ جو اساتذہ گجرات یونیورسٹی کو واپس کر دیے گئے ہیں ان کی اکثریت ایم۔

فل اور انھیں پڑھاتے ہوئے بھی دس بارہ سال ہوچکے ہیں۔ ان کے لیے پروموشن کا دور دور کوئی نام و نشان نہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان اساتذہ کو بھی پنجاب حکومت کے حوالے کر دیا جاتا تاکہ موجودہ صورت حال میں مذکورہ کالجز میں اساتذہ کی کمی نہ ہوتی۔ یہ اساتذہ بڑے احسن انداز سے سسٹم چلا رہے تھے۔ لیکن سرخ فیتے کا کیا کیجیے کہ جو ہونے والے اہم کام نہیں ہونے دیتا۔ اب یونیورسٹی میں ان بچارے اساتذہ کے احوال یہ ہیں کہ جس کام کے لیے انھیں رکھا گیا تھا یعنی پڑھانا، وہ ان سے نہیں لیا جا رہا۔

سامنے نظر آنے والے ایسے استحصالی رویے جب تک درست نہیں ہوں گے تب تک یہی سوال اٹھتا رہے گا۔ کہ ہم ترقی کیوں نہیں کر رہے۔ اور اس سوال کا آخری جواب یہی ہو گا کہ علمی اور اخلاقی رویے درست کیے بغیر کوئی نظام نہ چل سکتا ہے اور نہ چلایا جا سکتا۔ سارے کام اپنی مدد آپ کے تحت نہیں چلائے جا سکتے کچھ بنیادی کام ریاست کی ذمہ داری بھی ہیں۔ اور سب جانتے ہیں کہ تعلیم ریاست کی اہم اور بنیادی ذمہ داری ہے۔

Facebook Comments HS