گجرات کے چار سرکاری کالجز

سرکاری تعلیمی اداروں کے ساتھ حکومت جو کر رہی ہے وہ تو سب کے سامنے ہے لیکن اساتذہ کمیونٹی کے سیاسی نمائندے جو سیاست کرتے کرتے اچانک پینٹ کوٹ پہن کر بیوروکریسی میں شامل ہو جاتے ہیں وہ اپنی سیاسی اور سرکاری حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے الٹے سیدھے پرپوزل بنا کر حکومت کو ارسال کرتے رہتے ہیں تاکہ اپنے خوش رہیں، حکومت الجھی رہے اور سرکاری گاڑی چلتی رہے۔ اس صورت حال کا سب سے زیادہ نقصان گجرات

Read more

دیوان غالب کا منظوم انگریزی ترجمہ

تقریباً پندرہ بیس برس پہلے مجھے اسیر عابد کا کیا ہوا ”دیوان غالب“ کا پنجابی ترجمہ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ اس ترجمے کے پیش لفظ میں احمد ندیم قاسمی لکھتے ہیں ”میں سوچتا تھا کہ اسیر عابد نے غالب کے مثلاً اس شعر کے ساتھ کیا سلوک کیا ہو گا۔“ دل نہیں ورنہ دکھاتا تجھ کو داغوں کی بہار/ اس چراغاں کا کروں کیا، کار فرما جل گیا۔ احمد ندیم قاسمی لکھتے ہیں۔ ”اگر غالب زندہ ہوتا تو یہ ترجمہ

Read more

عفرا بخاری اور سنگ سیاہ کے افسانے

دسمبر کی چھٹیوں سے غالباً ایک یا دو دن پہلے زمیندار کالج گجرات کی پارکنگ میں میری ملاقات احمد عطا سے ہوئی۔ احمد عطا نے ایک کتاب مجھے دیتے ہوئے کہا کہ یہ ان کے دوست عامر فراز کی والدہ کا افسانوی مجموعہ ”سنگ سیاہ“ ہے۔ سرورق پر کتاب کے نام کے نیچے بنی تین تصویروں کو میں نے بغور دیکھتے ہوئے کہا کتاب کے نام کی مناسبت سے ٹائٹل پر سیاہ پس منظر میں بنے یہ تین نسائی چہرے

Read more

اکرم کنجاہی کی کتب :غزل کہانی اور شعور سے لاشعور تک

”مجھے دل سے یقین ہے کہ میں لکھنے کے لیے پیدا ہوئی تھی۔ مجھے یقین ہے کہ میں لکھ کر اپنی زندگی کا مقصد پورا کر رہی ہوں۔ میرے کتبے پر یہ الفاظ قابل تعریف ہوں گے ۔ ”وہ لکھنے کے لیے زندہ تھی“ ۔ مارگریٹ منکس کی طرح شاید ہر لکھنے والے کی کم از کم یہ خواہش ضرور ہوتی ہے کہ اس کے بعد کہیں نہ کہیں یہ تذکرہ ضرور ہوتا رہے کہ وہ لکھنے کے لیے زندہ

Read more

تعلیمی بورڈز کے نتائج اور طلبہ کا مذاق

انٹر اور میٹرک کے امتحانی طریق کار اور رزلٹ نے حکومت کے پالیسی سازوں کی اہلیت کو عیاں کر دیا ہے۔ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ کووڈ کی گمبھیر صورت حال کے باوجود، ان طلبہ نے کتاب اور نصاب کا ساتھ نہیں چھوڑا جن کے پیش نظر ہمیشہ کوئی واضح مقصد ہوتا ہے۔ موجودہ حالات میں ہمیشہ کی طرح وہی طلبہ نمبر لینے میں کامیاب ہوئے ہیں جو اپنی پڑھائی کے معاملات میں نہ صرف سنجیدہ تھے بلکہ

Read more

شیخ عبدالرشید کی کتاب مرقع گجرات پر تبصرہ

لکھنا آسان نہیں، اور لکھے ہوئے کو سنبھالنا؟ یہ اور بھی مشکل کام ہے۔ لیکن اس کے باوجود لکھا جا رہا ہے اور کتابی صورت میں محفوظ بھی ہو رہا ہے۔ ہم کیوں لکھتے ہیں اور پھر کیوں چاہتے ہیں کہ ہمارا لکھا ہوا محفوظ رہے۔ اس سوال کے کئی جوابات ہو سکتے ہیں۔ لیکن بہت سے جوابات میں سے کم از کم ایک جواب مصنف کی اس فطری خواہش میں مضمر ہے کہ وہ اپنی تحریر میں ہمیشہ کے

Read more

اج آکھاں وارث شاہ نوں

گجرات شہر کی تقریباً پانچ لاکھ کی آبادی ہے لیکن افسوس ناک بات یہ ہے کہ اتنی بڑی شہری آبادی میں طالبات کے لیے کوئی بھی علیحدہ سرکاری کالج نہیں۔ اس حوالے سے گجرات سٹی کی طالبات کو سستی اور معیاری تعلیم کے بنیادی حق سے حکومت پنجاب نے ایک عرصے سے محروم رکھا ہوا ہے۔ 2005 سے پہلے دو کالجز گورنمنٹ مرغزار کالج برائے خواتین اور گورنمنٹ فاطمہ جناح کالج برائے خواتین فوارہ چوک، گجرات۔ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب

Read more

گجرات شہر میں خواتین کے سرکاری کالجز کا المیہ

گجرات سٹی کے چار کالجز ( مرغزار کالونی کالج، فوارہ چوک کالج، سرسید کالج اور سائنس کالج جی ٹی روڈ ) جو 2005 سے پہلے پنجاب ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ ( ایچ۔ ای۔ ڈی ) کے زیر انتظام تھے اور جہاں پنجاب گورنمنٹ کا ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ سٹاف کام کر رہا تھا۔ ان اداروں کو 2005 میں سٹاف سمیت یونیورسٹی آف گجرات کی تحویل میں دے دیا گیا۔ کیونکہ اس وقت تک یو۔ او۔ جی گجرات کا اپنا کوئی کیمپس نہیں

Read more

چناب سے موٹروے تک

آج کے ترقی یافتہ دور میں جب سوہنی مہینوال کے قصے کو پڑھا جاتا ہے تو یوں لگتا ہے جیسے شاہجہانی عہد، کل کی طرح آج بھی عورت اور مرد کے تعلق کے درمیان اپنی تمام تر فرسودگی کے ساتھ اپنے مقام پر ساکت کھڑا ہے۔ بلکہ پہلے کی نسبت سماجی تنزل نے اسے اب جرم کا گہوارہ بنا دیا ہے۔ سوہنی کی داستان کئی سوالات اور قیاسات ذہن میں ابھارتی ہے۔ مثلاً کیا واقعی اس وقت کی عورت بہادر

Read more

جنسیت : پیسہ نہیں تو بندوق ورنہ خواب ہیں ناں

جنسی درندگی کا معاملہ کچھ عجیب الجھا ہوا ہے۔ جہاں مذہبی جنونیت نہیں ان لبرل معاشروں میں بھی یہ سب موجود ہے۔ ہاں قانون یا مجموعی معاشرتی صورت حال کی وجہ سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ قدرے کم ہے۔ معاملہ صرف یہی سمجھ آ رہا ہے کہ، سب کچھ کرو لیکن باہمی رضا مندی سے۔ باہمی رضا مندی ہی جدید انسان کے مہذب ہونے کی علامت ہے۔ لیکن ہم کیا کریں ہمارے سامنے باہمی رضا مندی کے مقام پر گناہ اور سزا کا تصور ہے۔ اس لیے شب خون مار لیتے ہیں۔ بعد میں رب کو راضی کر لیں گے۔

ہم سب کا ایک اور مسئلہ بھی درپیش ہے، مردانہ معاشرے کا رعب۔ کسی جگہ ایک بڑی عمدہ بات پڑھی کہ ہم نے عورت کو باحیا بنانے کے چکر میں مرد کو بے حیا بنا دیا۔ اور مرد ; یہ نہیں، وہ چاہیے۔ مرضی سے نہیں، تو طاقت سے۔ اس پورے معاملے پر دن رات کھپنے والے وہ لوگ ہیں جو ایسے واقعات کو ہوتا دیکھ کر گھر جا کر سو جاتے ہیں اور صبح خبر پڑھ کر سوشل میڈیا پر شور مچاتے ہیں۔

Read more

موٹروے : درندوں نے انسانیت لوٹ لی

موٹر وے واقع پر کس کو قصور وار ٹھہرایا جائے۔ اس پولیس کو جس کا سربراہ یہ کہہ رہا ہے کہ خاتون کو رات بارہ بجے موٹر وے پر اکیلے نہیں آنا چاہیے تھا یا عورت کو جو رات بارہ بجے گاڑی کا پیٹرول چیک کیے بغیر بچوں کو لے کر براستہ موٹروے لاہور سے گوجرانوالہ جا رہی تھی؟

فرض کیا وہ بچوں کے ساتھ اپنی فیملی کے کسی مرد کے ساتھ ہوتی تو کیا خاتون وحشیانہ سلوک سے بچ جاتی۔ نہیں وہاں لاشوں کا ڈھیر بھی پولیس کو سنبھالنا پڑ جاتا۔ غلیظ نیت کو کیا پتا تھا کہ گاڑی کے اندر کون اور کتنے لوگ ہیں وہ تو بس اس غلاظت میں رنگے ہوئے تھے جو ہم سب کی اجتماعی زندگی میں رواں دواں ہے۔

Read more

گجرات شہر: کچے گھڑے سے رام پیاری محل تک

کہا جاتا ہے کہ کسی زمانے میں سوہنی نے مہینوال کو ملنے کے لیے کچے گھڑے کے سہارے چناب پار کرنے کی کوشش کی اور دریا برد ہو گئی۔ مہینوال نے جب ڈوبتی سوہنی کی آواز سنی تو اس نے بھی دریا میں چھلانگ لگا دی۔ ”ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے“ استاد کا کہنا ہے کہ اگر سوہنی کے زمانے میں دریائے چناب پر پل ہوتا تو یہ عشق کچے گھڑے کے سر چڑھنے کی بجائے پولیس کے ہتھے چڑھتا۔ اور اس وقوعہ کی روحانیت و رومانویت کسی بے باک شاعر یا افسانہ نگار کے قلم سے ظہور پا کر ہمیشہ کے لیے بین ہوجاتی۔ ”رکھ لی مرے خدا نے مری بے کسی کی شرم“

اہالیان گجرات آج بھی ڈوبنے کی اس روایت کو بحسن و خوبی نبھا رہے ہیں۔ فرق بس اتنا ہے کہ اب بارش کے دنوں میں گجرات شہر ڈوبتا ہے اور باقی دنوں میں گجراتی۔ بہرکیف اب تغیرات زمانہ سے باشندگان گجرات اتنے با شعور ہوچکے ہیں کہ وہ دریائے چناب کی بجائے بحیرہ عرب یا بحر اوقیانوس میں چھلانگ لگانے کو ترجیع دیتے ہیں۔ ڈوب گئے تو مائی سوہنی کی روایت کے امین، اور نہ ڈوبے تو ریال، دینار، یورو اور ڈالر کے کاروبار سے امیر ترین۔

Read more

آن لائن سارے مشروبات پیجیے

کرونائی لاک ڈاؤن کے دنوں میں کلاسز سے لے کر خرید و فروخت اور ڈیٹنگ کے معاملات سے لے کر ادبی سرگرمیوں تک، سب آن لائن ہوگئے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ان لوگوں نے بھی بالآخر خدا خدا کرکے انرائیڈ موبائل فون خرید لیے جو ابھی تک نوکیا 3310 قبیل کے موبائل سے آگے، سوشل میڈیا اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کو حرام قرار دیتے تھے۔ ایک دن، ایک دوست پروفیسر سے سرراہ ملاقات ہوئی، پوچھا ”آج کل کیا ہو رہا ہے؟“ کہنے لگے ”آداب آن لائن سے آگاہی“ ۔ ”کورس کا منتظم کون ہے“ ؟ فرمانے لگے ”چھوٹا صاحب زادہ“ ۔ اس مقام فکر پر علامہ کے اس مصرع کا یاد آنا فطری تھا ”جوانوں کو پیروں کا استاد کر“ ۔ کہتے ہیں، ملت لائن پر نہیں آتی۔ آ گئی ناں۔ ”جگنو کی روشنی ہے کاشانۂ چمن میں“ ۔ ۔ ۔

Read more

لاہور بھی لاہور سے آگاہ نہیں ہے

عام لاہوری کو لاہور کا اتنا ہی پتا ہے جتنا اندھے کو کھیر کا۔ اگر آپ کسی لاہوری سے پوچھیں انارکلی کدھر ہے؟ عین ممکن ہے وہ کہے ”مغل اعظم“ میں۔ ”اس بازار میں“ ”پھجے“ کا اتا پتا معلوم کرنا چاہیں تو یہ بعید از قیاس نہیں کہ کوئی آپ کو میکڈونلڈ کا رستہ بتا کر خود پھچے کے ہوٹل میں جا بیٹھے۔ اسی طرح وہیں کھڑے کھڑے اگر کسی راہ چلتے سے یہ استفسار کریں کہ ”کہاں گئے ہیں

Read more

پانچواں سوار: زبان، ادب، نصاب اور ہم

”کلمہ پڑھ پنڈتا۔“ اور داؤ جی آہستہ سے بولے : ”کون سا؟“ رانو نے ان کے ننگے سر پر ایسا تھپڑ مارا کہ وہ گرتے گرتے بچے۔ ۔ ۔ ”سالے کلمے بھی کوئی پانچ سات ہیں۔“ ”کلمہ پڑھ چکے تو رانو نے اپنی لاٹھی ان کے ہاتھوں میں تھما کر کہا۔“ ”چل بکریاں تیرا انتظار کرتی ہیں۔“ اور ننگے سر داؤ جی بکریوں کے پیچھے پیچھے یوں چلے جیسے لمبے لمبے بالوں والا فریدا چل رہا ہو! ”اشفاق احمد کے

Read more

بے کار مباش، کچھ کیا کر

بیگم کو ہماری کورونائی فراغت ایک آنکھ نہیں بھاتی ایک دن کہنے لگیں ”یہ گھر میں جو آپ باولوں سا حلیہ بنائے ادھر ادھر گرتے پڑتے ہیں۔ کوئی کام وام کیا کیجیے“ ۔ ہم نے پوچھا مثلا۔ کہنے لگیں ”صبح اٹھ کر برتن دھو دیا کیجیے“ ۔ ”کیا!“ اچھا، اگر یہ ممکن نہیں تو کپڑے ادھیڑ کر ہی سی دیا کیجیے ”۔“ زوجہ! ہم خاندانی شاعر، ادیب ہیں، ایسے کام کرنا ہماری توہین ہے۔ ہاں البتہ دو تین پرانے مضامین

Read more

میڈم فرحت محبوب: دیا کس کا جلا، کس کا بجھا ہے؟

یہ اس موسم کی کیسی ہوا ہے کہ میڈم فرحت محبوب ( پرنسل مرغزار کالج، گجرات ) نے ابھی کچھ دن پہلے دو بہنوں اور بہنوئی کو الوداع کہا اور آج خود بھی اس جہانِ فانی کو خداحافظ کہہ گئیں؟ یقینا موت زندگی کے ایک نئے مرحلے کا آغاز ہے۔ لیکن پتا نہیں کیوں آج کل ایسی خبریں سن کر ایسا لگتا ہے کہ یہ مرحلہ مسافروں کے سامنے جلد آ رہا ہے۔ شاید پہلے مرحلے کی تگ و تاز

Read more

ڈاکٹر مظہر محمود شیرانی : سو گئے روشنی کے پہلو میں

درمیانہ قد، مسکراتا ہوا سانولا چہرہ، جسم قدرے بھاری، دبیز شیشوں والی عینک سے جھانکتی ہوئی روشن آنکھیں، عموما سفید شلوار قمیص میں ملبوس۔ پان چباتے ہوئے بڑے میٹھے لہجے میں۔ ”شاہ صاحب ہیں“؟ میں اکثر اثبات میں سر ہلاتا اور واپس آکر شاہ جی (نانا) کو بتاتا کہ او آئے نیں۔ وہ یہ نہ پوچھتے کہ کون۔ بس اتنا کہتے، اچھا اور ملنے چلے جاتے۔ میں موقع غنیمت جان کر کھیل کود میں مصروف ہو جاتا۔ شاہ جی واپس

Read more