کہا جاتا ہے کہ کسی زمانے میں سوہنی نے مہینوال کو ملنے کے لیے کچے گھڑے کے سہارے چناب پار کرنے کی کوشش کی اور دریا برد ہو گئی۔ مہینوال نے جب ڈوبتی سوہنی کی آواز سنی تو اس نے بھی دریا میں چھلانگ لگا دی۔ ”ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے“ استاد کا کہنا ہے کہ اگر سوہنی کے زمانے میں دریائے چناب پر پل ہوتا تو یہ عشق کچے گھڑے کے سر چڑھنے کی بجائے پولیس کے ہتھے چڑھتا۔ اور اس وقوعہ کی روحانیت و رومانویت کسی بے باک شاعر یا افسانہ نگار کے قلم سے ظہور پا کر ہمیشہ کے لیے بین ہوجاتی۔ ”رکھ لی مرے خدا نے مری بے کسی کی شرم“
اہالیان گجرات آج بھی ڈوبنے کی اس روایت کو بحسن و خوبی نبھا رہے ہیں۔ فرق بس اتنا ہے کہ اب بارش کے دنوں میں گجرات شہر ڈوبتا ہے اور باقی دنوں میں گجراتی۔ بہرکیف اب تغیرات زمانہ سے باشندگان گجرات اتنے با شعور ہوچکے ہیں کہ وہ دریائے چناب کی بجائے بحیرہ عرب یا بحر اوقیانوس میں چھلانگ لگانے کو ترجیع دیتے ہیں۔ ڈوب گئے تو مائی سوہنی کی روایت کے امین، اور نہ ڈوبے تو ریال، دینار، یورو اور ڈالر کے کاروبار سے امیر ترین۔
Read more