ایران کے شمال سے جنوب کی طرف کا سفر – اصفہان


muhammad taqi kuldan

تخت جمشید کے سحر سے ہم نکل نہیں سکے، لیکن ہمیں آگے سفر جاری رکھنا تھا۔ چنانچہ ہم 10 جولائی 2023 شیراز سے، تخت جمشید اور وہاں سے اصفہان کی جانب چل پڑے۔ سب سے پہلے سعادت شہر، وہاں سے قادر آباد، صفا شہر سے ہوتے ہوئے، سورمق، شورجستان، یہاں سے صوبہ فارس ختم ہوجاتا ہے۔ اب ہم صوبہ اصفہان میں داخل ہوئے۔ صوبہ اصفہان کا پہلا شہر بہارستان ہے، وہاں سے رضا شہر پہنچے۔ رضا شہر میں ایک ریستوران میں دوپہر کا کھانا کھایا۔ ایران کے ریستوران نہایت ہی صاف ستھرے ہوتے ہیں۔ ایرانی کھا نوں میں مصالحوں کا استعمال برائے نام ہوتا ہے۔ ہم چونکہ مصالحے دار پکوان کے عادی ہیں، ہمیں ایرانی کھانا کھانے میں دشواری ہوتی ہے۔ رضا شہر سے ہوتے ہوئے اصفہان شہر میں داخل ہوئے۔ تخت جمشید سے اصفہان تک پہنچنے میں چھ گھنٹے لگے۔ شیراز سے اصفہان تک شاہرائیں شاندار اور دوطرفہ ہیں۔

اصفہان کی مضافات میں مختلف قسم کی فیکٹریوں کی بھرمار ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ ایران کی زیادہ تر صنعتیں اصفہان میں ہیں، غلط نہ ہو گا۔ ایران کے تمام بڑے شہروں میں اصفہان کا تیسرا نمبر ہے۔ تہران پہلے نمبر پر ، مشہد دوسرے نمبر پر ہے۔ اصفہان، تہران کے جنوب میں 340 کلو میٹر پر واقع ہے۔ یہ شہر اپنے عروج کے زمانے میں، اصفہان نصف جہان کہلاتا تھا۔ یہ شہر اسلامی طرز تعمیر کے لئے معروف ہے۔ یہ شہر دست کاری کے لئے بھی جانا جاتا ہے ۔ ایران کے سب سے بہترین قالین شہر اصفہان میں آپ کو ملیں گے۔ اصفہان کے نواحی گاؤں اور قصبات سبزہ کی وجہ سے بہت ہی خوبصورت ہیں۔

عصر کا وقت ہے، اس وقت اصفہان کے مضافات گوہرستان میں ایک فارم ہاؤس میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ اس پورے علاقہ کو لنجان کہتے ہیں۔ اس میں 170 چھوٹے چھوٹے روستا ہیں۔ یہاں چاول کی کاشت بکثرت ہوتی ہے۔ اور لنجان کی چاول پورے علاقے میں مشہور ہے۔

آج کا پورا دن اصفہان میں گزرا۔ اصفہان اپنی سبزہ، باغات، اور خاصکر اس کی مضافات میں باغات اور چاول کے لئے مشہور ہے۔

کل جیسے ہی ہم لوگ اصفہان میں آئے، یہاں پر ہم حاجی اسماعیل کے نامی ایک بزنس مین کے مہمان ہیں۔ حاجی اسماعیل، کافی عرصے سے بریس میں مچھلی کی کاروبار کرتے ہیں۔ ان کی کاروبار بہت سے علاقوں میں پھیلا ہواہے۔ رات کو ان کی فارم ہاؤس میں ہمارا قیام تھا۔ ان کا فارم فروٹ کے درختوں سے بھرا ہوا ہے۔ اس باغ میں ناشپاتی، آلو بخارہ، انگور وغیرہ کے درخت لگے ہوئے تھے۔ باغ میں رہائش کے لئے ایک بڑا ریسٹ ہاؤس بنا ہوا تھا۔ رات کو ہمارے ضیافت کے لئے ایک بھیڑ کو ذبح کیا گیا۔ ایران میں لوگ بکری کے بجائے بھیڑ کھانا زیادہ پسند کرتے ہیں۔

ایران میں آپ کسی کے بھی مہمان ہوں وہ پورے وقت مختلف قسم کے پھل آپ کے سامنے لاتے رہتے ہیں۔

جس فارم ہاؤس میں ہم ٹھہرے ہوئے ہیں، اس کے ارد گرد چاول کے کھیت ہیں۔ اور چاول کی مہک ہر طرف سے آ رہی ہے۔

آج صبح ناشتے کے بعد ہم اصفہان کی مشہور جگہ چہل ستون پر گئے۔ اس کے بعد ہم حاجی اسماعیل کے گھر گئے۔ حاجی صاحب کے گھر میں ہمیں بیسمنٹ میں ٹھہرا گیا۔ بیسمنٹ بہت ہی خوبصورت تھا۔ ان کا نواسہ مہرداد چھوٹا سا بچہ تھا۔ لیکن انہوں نے ہماری بہت خدمت کی۔ شام کے وقت حاجی اسماعیل کے بیٹے امیت ہمیں پل خواجو دکھانے لے گیا۔ خواجو پل 1650 میں شاہ عباس دوئم نے بنایا۔ اس پل کی لمبائی 133 میٹر، چوڑائی 12 میٹر اور اس میں پلر کی تعداد 31 ہے۔ اور یہ پل بنانے میں چھ سال کا عرصہ لگا۔

اس پل میں ایسے پتھر استعمال کیے گئے، جو پانی کی پریشر کو برداشت کر سکتے ہیں۔ اوپر سے دیکھنے میں یہ پل شاہین پرندے کی طرح ہے۔ اس پل کے دونوں طرف دو شیر کے مجسمے بنائے گئے ہیں۔ ایک کونے کے شیر کے پاس آپ کھڑے ہوتے ہیں، دوسرے شیر کے آنکھیں چمکتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ جب آپ پل کے دو ستونوں کو ایک خاص زاویہ سے دیکھیں گے تو آپ کو کوئی موم بتی جلتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ یہ پل انجنئیرنگ کا شاہکار ہے۔

ان ستونوں میں ایک مخصوص جگہ میت کے نہانے کی تھی۔ مرد میت کے لئے الگ جگہ اور عورت میت کے الگ جگہ مخصوص تھی، ان مردوں کو جب نہایا جاتا تھا تو ایک مخصوص جگہ پر لٹایا جاتا تھا۔ اور خاص جھروکے بنے ہوئے تھے، جہاں پر مردے کو نہلاتے ہوئے اس کے متعلقین دیکھتے تھے۔

اس پل کے نیچے کسی زمانے میں پورے سال پانی بہتا تھا۔ لیکن اب ایسا نہیں۔ کیونکہ ایرانی حکومت نے اوپر کی طرف بند باندھا ہے۔ ہم لوگ اس پل کو دیکھنے کے لئے شام کے چار بجے کے بعد گئے۔ پل پر لوگ بیٹھ کر آپس میں گپ مار رہے تھے۔

اس کے بعد ایک اور پل دیکھنے گئے۔ اس میں تیس ستون ہیں۔ اور خوب صورت طریقے سے بنایا گیا ہے۔ دوسرے پل دیکھتے وقت ہم نے پاکستان سے آئے ہوئے ایک گروہ سے ملاقات کی۔ وہ بھی ایران کی سیر کے لئے نکلے ہوئے تھے۔ جب دیار غیر میں کسی اپنے سے ملاقات ہو، اس کی اپنی چاشنی ہوتی ہے۔

اصفہان میں ایک زمانے میں کبوتر خانے بنائے جاتے تھے۔ ان میں کبوتر پالے جاتے تھے۔ ان کبوتر کی بیٹ کو بطور کھاد تربوز کے کھیتوں میں استعمال کیا جاتا تھا۔ یہ کبوتر خانے اب متروک ہوچکے ہیں۔ لیکن ان کی باقیات اصفہان میں اب بھی موجود ہیں۔

اصفہان کافی تعداد میں مسجدیں ہیں۔ یہ مسجدیں اور دیگر تعمیرات شاہ عباس کے زمانے کے ہیں۔ شاہ عباس کے زمانے میں اصفہان نے کافی ترقی کی۔ شاہ عباس کی حکومت 1587 عیسوی سے 1628 عیسوی تک تھی۔ اصفہان شہر سطح سمندر سے 1590 فٹ کی بلندی پر ہے۔ یہ شہر گرمیوں میں گرم اور سردیوں میں سرد ہوتا ہے۔ سردیوں میں ہر سال متعدد بار برف باری ہوتی ہے۔ اصفہان میں ہر طرف سبزہ ہی سبزہ ہے۔ پھلوں کے باغوں کی بہتات ہے۔ فروٹ سستا اور تازہ ہے۔ ایران کے مختلف شہروں سڑکوں پر جابجا گاڑیاں  اور ٹرک فروٹ سے لدے ہوئے ہوتے ہیں، اور لوگ گاڑی سے براہ راست فروٹ فروخت کر رہے ہوتے ہیں۔

مغرب کے نزدیک ہم حاجی صاحب کے فارم ہاؤس گئے۔ یہ ایک الگ فارم ہاؤس تھا۔ کل رات والے فارم ہاؤس سے تھوڑا سا بڑا تھا۔ اور اس کا ریسٹ ہاؤس بہتر انداز میں بنا تھا۔ اس میں فٹبال کے لئے چھوٹا گراؤنڈ، دو جھولے، ایک بڑا سا ہال اور ہال میں دو کمرے منسلک تھے۔ دو واش روم، اور پھل دار درخت، اور ان درختوں کے کناروں میں پکی اینٹیں لگی تھیں۔ اور ایک بہت بڑا سوئمنگ پول تھا۔ جس سے استخر کہتے ہیں۔

رات کو پر تکلف ضیافت تھی۔ ہمارے میزبانوں نے ہماری خدمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ رات گئے ہمارے میزبان اپنے گھروں میں چلے گئے۔ اور ہم نے موقع غنیمت جان کر اپنے ان دھلے کپڑے دھوئے۔ اور گھر کے باقی کام کر کے تھک ہار کر لیٹ گئے۔

Facebook Comments HS