اسلام میں خدا کا تصور: الاشعری


اب تک میں نے بعض اہم شخصیات کے بارے میں گفتگو کی ہے جو، بشمول مذہب، دنیا کے تمام معاملات میں عقل کی برتری پر یقین رکھتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ خدا کی فطرت، اس کے وجود اور اس کی صفات کو فلسفیانہ دلائل سے سمجھا جا سکتا ہے۔ وہ ابتدائی اسلامی تاریخ میں عقلیت پسندی کے حامی تھے جنہوں نے یونانی فلسفیوں، بالخصوص ارسطو، سے استفادہ کیا۔

الکندی، الفارابی اور ابن سینا کے بعد اسلامی تاریخ کے اگلے بڑے فلسفی الغزالی تھے جو اسلامی فکری تاریخ کی سب سے متنازعہ شخصیت ہیں۔ ایک طرف تو انہیں اسلامی تاریخ کے بہترین فلسفیوں میں شمار کیا جا تا ہے اور دوسری طرف ان پر الزام لگایا جاتا ہے کہ انھوں نے تنہا ہی اسلام کی فلسفیانہ تحریک کو ختم کر دیا۔

تاہم میری رائے میں سنی اسلام کی فکری تاریخ پر سب سے طویل سایہ ابو الحسن اشعری نے ڈالا جو بصرہ میں 873 عیسوی میں پیدا ہوئے اور 936 عیسوی میں بغداد میں فوت ہوئے۔ اشعری عقائد کو جانے بغیر الغزالی کو مکمل طور پر سمجھنا مشکل ہے۔ الاشعری کا اثر موجودہ دور تک قائم ہے جب کہ الکندی اور ابن سینا جیسے لوگوں کی قیادت میں چلنے والی فلسفیانہ تحریک بارہویں صدی کے آخر تک عالم اسلام میں ختم ہو گئی۔ اسلامی سنہری دور کے فلسفی تاہم عیسائی یورپ میں نشاۃ ثانیہ کا ذریعہ بنے اور وہ آج تک مغربی روایات میں قابل احترام شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ اس کے بارے میں مزید بعد کے مضمون میں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ الاشعری اور الفارابی ہم عصر تھے اور ہو سکتا ہے کہ وہ ایک ہی وقت میں بغداد میں رہے ہوں۔ تاہم، انہوں نے خدا کی فطرت کے بارے میں دو انتہائی مختلف نظریات کی نمائندگی کی، ایک (الاشعری) یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ خدا کی براہ راست مداخلت کے بغیر اس دنیا میں کچھ بھی نہیں ہوتا، اور دوسرے (الفارابی) یہ اعلان کرتے ہیں کہ خدا بعید ہے اور اس کا انسانی زندگی میں براہ راست کوئی رول نہیں ہے۔ اسلامی معاشرے کی تاریخ کے اوائل میں امن اور باہمی احترام کے ماحول میں اس طرح کے متنوع نظریات کا یہ بقائے باہمی، روشن خیالی کی ایک درخشاں مثال ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ وہ وقت تھا جب سچائی کی حقیقی تلاش جاری تھی اور ہر ایک کو اپنے اپنے نتائج پر پہنچنے کا پورا حق حاصل تھا، یہ ایک ایسا ماحول تھا جس کا آج کے تنگ نظر معاشرے میں تصور کرنا محال ہے۔

الاشعری اور ان کے پیروکاروں کے مطابق، خدا اپنی مخلوقات کے تمام اعمال پر مکمل اختیار رکھتا ہے۔ ہر چیز اللہ کی مرضی کے مطابق چلتی ہے۔ انہوں نے ایک نیا فلسفیانہ فریم ورک تیار کیا جس کی بنیاد اس تصور پر رکھی گئی تھی کہ یہ ماننا غلط ہے کہ کائنات اور اس میں موجود ہر چیز فطرت کے قوانین کے مطابق چل رہی ہے۔ ان کے نزدیک اس دنیا میں ہونے والے ہر واقعے کی ابتدا اللہ کی مرضی سے ہوتی ہے اور کوئی چیز بھی اس کی واضح شمولیت کے بغیر حرکت میں نہیں آ سکتی۔

اس فلسفے کی بنیادی باتوں کا مرکز ایٹم اور حادثات کے تصورات تھے۔ جب کسی بھی چیز کو چھوٹے اور پھر مزید چھوٹے حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے، تو ہم آخر کار ایک ایسے مقام پر پہنچ جاتے ہیں جہاں مزید تقسیم ممکن نہیں ہوتی۔ یہ چھوٹے ترین حصے، جنہیں ایٹم کہا جاتا ہے، مزید تقسیم نہیں ہو سکتے۔ تمام اشیاء مادے کی ان چھوٹی اکائیوں سے بنی ہیں۔ ایٹموں کی یہ تفصیل ڈیموکریٹس کے ایٹمی تصور سے ملتی جلتی ہے۔ ڈیموکریٹس سقراط سے پہلے کے یونانی دور کے ایک فلسفی تھے۔ جب ان ایٹموں کو ایک خاص انداز میں ملایا جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی چیز کچھ خاص صفات حاصل کر لیتی ہے۔ ان صفات کو حادثات کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، ایٹموں کی کوئی ساخت، رنگ یا شکل نہیں، لیکن جب یہ ایٹم یکجا ہوتے ہیں، تو وہ حادثات کے ذریعے ایسی خصوصیات حاصل کرتے ہیں۔

اس نظریے کے مطابق، ہر چیز ایٹموں پر مشتمل ہوتی ہے لیکن اس چیز کا وجود ان ایٹموں کے مابین حادثات کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتا۔ خدا ہر ایٹم کو ایک خاص حادثے کے ذریعے دوسرے ایٹم کے ساتھ ملاتا ہے۔ مثال کے طور پر، جب میں حرکت کرتا ہوں تو میرے جسم کے ہر ایٹم کو حرکت کا ایک حادثہ پیش آتا ہے اور ہر حادثہ خدا کی طرف سے شروع ہوتا ہے۔ اس نظریے میں حرکت ایک مسلسل عمل نہیں ہے۔ یہ انفرادی چھوٹے قدموں پر مشتمل ہے جسے ہم محسوس نہیں کر سکتے۔ ہم جو دیکھتے ہیں وہ مجموعی نتیجہ ہے جو ایک مسلسل حرکت کے طور پر ظاہر ہوتا ہے۔ اس الہیات میں، وقت مسلسل نہیں ہے بلکہ لمحات کا مجموعہ ہے، ایک کے بعد ایک۔

الاشعری کے اس نظریے کے مطابق حادثات ایک لمحے سے دوسرے لمحے تک خود بخود نہیں ہو سکتے۔ انہیں خدا کی فعال مداخلت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اشیاء نئے حادثات کے نتیجے میں ایک لمحے سے دوسرے لمحے میں نمودار ہوتی ہیں۔ ان حادثات کا مکمل سبب خدا ہے جو ہر لمحے نئے حادثات پیدا کرنے کا موجب ہے۔ جب ایک لمحہ ختم ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اگلے لمحے ایک نیا حادثہ پیش کرتا ہے اور اس کے بعد ایک اور حادثہ ہوتا ہے۔ الاشعری کے مطابق، ایک لمحے سے دوسرے لمحے کے حادثات کے درمیان کوئی وجہ اور ربط نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کو اختیار ہے کہ اگلے لمحے کیا حادثہ پیش آئے۔ اس طور اسے تقدیر پر مکمل کنٹرول حاصل ہے۔

مثال کے طور پر جب گیند حرکت کرتی ہے تو گیند کے ایٹم جو کسی خاص مقام پر ایک خاص لمحے میں موجود ہوتے ہیں حرکت کے حادثے کے نتیجے میں ابتدائی مقام سے ایک خاص فاصلے پر دوبارہ پیدا ہوتے ہیں۔ یہ حادثات خدا کی طرف سے مقرر ہیں۔ فاصلہ گیند کی رفتار کا تعین کرتا ہے۔ عام طور پر کائنات ایک لمحے سے دوسرے لمحے آگے بڑھ رہی ہے۔ خدا کائنات کے تمام ایٹموں کو دوبارہ ترتیب دیتا ہے اور ان کے حادثوں کو پیدا کرتا ہے اور اگلے ہی لمحے ایک نئی دنیا بن جاتی ہے۔ جب میں پتھر کو دھکا دیتا ہوں اور پتھر ہلتا ​​ہے تو پتھر اس لیے نہیں ہلتا ​​کیونکہ میں نے اسے دھکا دیا تھا۔ یہ اس لیے ہلتا ہے کیونکہ خدا نے ایسا کیا۔

الاشعری کا فلسفہ الفارابی اور ابن سینا کے فلسفے سے بالکل متصادم ہے۔ الفارابی اور ابن سینا کے مطابق، خدا سادہ ہونے اور ساتوں آسمانوں سے باہر رہنے کی وجہ سے انسانوں اور دیگر چیزوں سے متعلق معاملات میں براہ راست مداخلت نہیں کرتا اور نہ کر سکتا ہے۔ دوسری طرف اشعری نے اس بات کی تردید کی کہ کوئی بھی چیز خود حرکت کر سکتی ہے، ہر حرکت خود خدا کی طرف سے مقرر ہے۔ لیکن اگر ایسا ہے، تو قوانین فطرت کی موجودگی ممکن نہیں۔

بظاہر تو یوں لگتا ہے کہ یہ کائنات چند آفاقی قوانین کے تحت چل رہی ہے۔ یہ اشعریوں کے عقائد کے مطابق نہیں۔ تو پھر اشعریوں نے یہ کیسے سمجھا کہ دنیا فطرت کے بعض قوانین کے مطابق چل رہی ہے؟

اگرچہ الاشعری نیوٹن اور سائنسی انقلاب سے سات سو سال پہلے زندہ تھے لیکن مختلف شعبوں میں علمی قوانین کی سمجھ موجود تھی۔ سب سے نمایاں فلکیات تھی جہاں سمجھا جاتا تھا کہ سیارے، سورج اور چاند، زمین کے حوالے سے ایک متعین انداز میں حرکت کر رہے ہیں، اس حرکت کی کسی بھی سائنسی مظاہر کی طرح پیشن گوئی کی جا سکتی تھی۔ سورج ہمیشہ مشرق سے طلوع ہوتا ہے، کبھی مغرب سے نہیں۔ اس سب کو اشعری کے عقیدے سے کیسے ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے؟

اشعری کے عقیدہ کے مطابق، جن مظاہر کو ہم سائنسی قوانین کے طور پر دیکھتے ہیں وہ خدا کی عادت کا مظہر ہے۔ جب ہم ایک گیند کو چھوڑتے ہیں، تو وہ ہمیشہ زمین کی طرف حرکت کرتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا اس طرح کی حرکت کی اجازت دینے کی عادت میں ہے۔ تاہم اس عقیدے کے مطابق، اس کے برعکس رویے یعنی، ایک چھوڑی ہوئی گیند نیچے کی بجائے اوپر کی طرف حرکت کرے، اس امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ خدا بعض صورتوں میں ایسا کرنے کا فیصلہ کر سکتا ہے۔ یہ معجزات کی ممکنہ وضاحت بن جاتی ہے۔ اس نظریے میں معجزات ایسی مثالیں بن جاتے ہیں جہاں خدا اپنی عادت کو توڑتا ہے اور کوئی غیر معمولی کام کرتا ہے۔

معجزات کی عقلی نقطہ نظر میں اجازت نہیں ہے جہاں کائنات فطرت کے قوانین کے مطابق چل رہی ہے اور خدا ان قوانین میں مداخلت نہیں کرتا۔

اشعری عقیدہ کی ایک مشہور مثال دو سو سال بعد الغزالی نے دی۔ ان کے مطابق، جب آگ کا روئی سے واسطہ پڑتا ہے، تو روئی آگ کی تپش سے نہیں بلکہ خدا کی براہ راست مداخلت کی وجہ سے جلتی ہے۔ اشعری الہیات میں، الغزالی کے علاوہ، ایک اور اہم نام فخر الدین الرازی کا ہے، جو اسلامی تاریخ کا ایک درخشاں نام ہے۔ انھوں نے اشعری عقیدے کی ایسی بہت سی مثالیں پیش کی ہیں۔

ایک پریشان کن سوال جس نے ہمیشہ سے اشعری کے نظریے کے پیروکاروں کو پریشان کر رکھا ہے، یہ ہے کہ اگر تمام طاقت خدا کے پاس ہے اور وہ کائنات میں ہونے والی ہر حرکت کو کنٹرول کرتا ہے، تو پھر انسانوں سمیت تمام مخلوقات کو نہ کوئی آزادی ہے اور نہ ہی ان کی کوئی آزاد مرضی ہو سکتی ہے۔

یہ موقف ان فلسفیوں کے برعکس ہے جو یقین رکھتے تھے کہ خدا ساتویں آسمان سے دور ہے اور انسانی فیصلہ سازی میں اس کی براہ راست مداخلت موجود نہیں۔ ان کے مطابق انسانوں کو آزاد مرضی کی نعمت سے نوازا گیا ہے اور وہ اپنے اعمال کے ذمہ دار ہیں۔

جنت اور جہنم کا تصور تب جائز ہو سکتا ہے، جب انسان کو خود فیصلہ کرنے کا اختیار ہو۔ اس صورت میں جو لوگ اچھے کام کرتے ہیں اور خدا کے احکامات کو پورا کرتے ہیں وہ جنت میں جائیں گے اور جو خدا کی مرضی کے خلاف کام کریں گے وہ جہنم میں جائیں گے۔

اس طور، یہ واضح نہیں ہے کہ اشعری عقیدہ کے اندر، جہاں انسان عمل کرنے کے لیے آزاد نہیں ہیں، جنت اور جہنم کے تصور کو کیسے جائز قرار دیا جا سکتا ہے۔ جنت اور جہنم کا تصور اسی صورت میں معنی رکھتا ہے جب انسانوں کو ان کے اعمال کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے اور اس کے لیے عمل کی آزادی کی ضرورت ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ قرآن اشعری نظریے کی تائید کرتا ہے جیسا کہ درج ذیل آیات سے دیکھا جا سکتا ہے :
”ہم پر کچھ بھی نہیں پہنچ سکتا مگر وہی جو خدا نے ہمارے لیے مقدر کیا ہے“ (قرآن 9 : 51 ) ۔

”جو لوگ کفر پر اڑے رہیں، آپ ان کو خبردار کریں یا نہ کریں، ایک جیسا ہے، وہ کبھی ایمان نہیں لائیں گے، اللہ نے ان کے دلوں اور ان کے کانوں پر مہر لگا دی ہے، اور ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ہے، انہیں بہت بڑا عذاب ہو گا۔“ (قرآن 2 : 6۔ 7 ) ۔

”خدا جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے“ (قرآن 14 : 4 ) ۔

لیکن پھر ان آیات کو جنت اور جہنم کے تصور سے کس طرح ہم آہنگ کیا جائے؟

اشعری اس نازک سوال سے نبردآزما ہوتے ہیں اور کچھ مبہم انداز میں استدلال کرتے ہیں کہ انسانوں کو عمل کی کچھ آزادی اور سوچنے کی مکمل آزادی ہے۔ تاہم اعمال پیدا کرنے کا اختیار صرف اللہ کے پاس ہے، انسانوں کے پاس یہ اختیار نہیں ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ انسان خدا کی مرضی کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور وہ خدا کی طرف سے دی گئی آزادی اور اس کے انصاف کے تصور کو نہیں سمجھ سکتے۔

اشعری انداز فکر میں تقدیر اور تدبیر سے وابستہ سوالات آج بھی جواب طلب محسوس ہوتے ہیں۔

اشعریوں کے لیے، ہر وہ چیز جو خدا کرتا ہے منصفانہ ہے، اس کے باوجود کہ وہ انسانی سمجھ سے بالاتر ہو۔ اشعری نے اس بات کو ایک کہانی کی صورت میں بیان کیا ہے جسے الغزالی نے معمولی تبدیلی کے ساتھ دہرایا ہے۔ یہاں میں الغزالی کے الفاظ میں یہ کہانی پیش کرتا ہوں جو ان کی تحریروں میں دو جگہ موجود ہے۔

آئیے ہم تصور کریں کہ جنت میں ایک بچہ اور ایک بالغ موجود ہیں جو دونوں ہی سچے عقیدے کی حالت میں مر گئے تھے۔ جنت میں بالغ ہونے والے کا مقام بچے سے بلند ہے۔ بچہ خدا سے پوچھتا ہے، ”تم نے اس آدمی کو اونچا مقام کیوں دیا؟“ اور خُدا جواب دیتا ہے، ”اس نے اپنی لمبی عمر میں بہت سے اچھے کام کیے۔“ پھر بچہ کہتا ہے کہ تم نے مجھے اتنی جلدی کیوں مرنے دیا کہ میں نیکی کے کام کرنے سے روکا گیا؟ خدا جواب دیتا ہے، ”میں جانتا تھا کہ تم بڑے ہو کر گناہ گار ہو گے، اس لیے بہتر تھا کہ تم بچپن میں ہی مر جاؤ۔“ پھر جہنم کی گہرائیوں میں ملعونوں کی طرف سے ایک پکار اٹھتی ہے، ”اے رب، تو نے ہمیں گنہگار ہونے سے پہلے مرنے کیوں نہیں دیا؟“ ۔

الغزالی اس بارے میں مزید کہتے ہیں : ”خدا کے ناقابل فہم فیصلوں کو عقل کے ترازو سے نہیں تولا جا سکتا“ ۔

اشعری اور عقلیت پسندوں کے درمیان فرق کو مذکورہ بالا عبارت سے بہتر انداز میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔

اشعری سوچ کی کامیابی نے اسلام میں عقلی نقطہ نظر کا خاتمہ کیا۔ مسلم دنیا میں سائنسی فکر کے فروغ نہ پانے کی بنیادی وجہ اشعری عقیدہ کا غلبہ تھا۔ آج بھی زیادہ تر مسلمان اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اس کائنات میں کوئی سائنسی قوانین موجود نہیں ہیں، ہر چیز اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق چلتی ہے۔

اگلے مضامین میں، میں بیان کروں گا کہ کس طرح الغزالی نے فلسفیانہ سوچ کو اشعری نظریات سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی۔ اس کوشش نے ان کو اسلامی تاریخ کی انتہائی متنازعہ شخصیت بنا دیا۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر سہیل زبیری

ڈاکٹر سہیل زبیری ٹیکساس یونیورسٹی میں کوانٹم سائنس  کے Distinguished Professor ہیں اور اس ادارے میں کوانٹم آپٹکس کے شعبہ میں Munnerlyn-Heep Chair پر فائز ہیں۔

suhail-zubairy has 93 posts and counting.See all posts by suhail-zubairy