بری عورت کا انقلاب


کبھی کبھی ارد گرد اس قدر شور ہوتا ہے کہ سر بھنبھنانے لگتا ہے۔ کان سائیں سائیں کرنے لگتے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے دماغ ماوف ہونے کو ہے۔ بس ایک آواز اور آئی تو صور اسرافیل پھونکا جائے گا۔ قیامت کا وقت ہو گا۔ یہ دنیا اپنے منطقی انجام کو پہنچے گی۔ وہ دن آ جائے گا جس کا وعدہ تمام الہامی کتابوں میں لکھ رکھا ہے۔ ایک زوردار دھماکہ ہو گا۔ اور اس کے بعد بس موت کا سکوت ہو گا۔ ایک ایسی خاموشی ہو گی جو ہر آواز پر حاوی ہو گی۔

مسئلہ یہ ہے کہ جس شور کا گلہ آپ سے کیے دیتے ہیں وہ ہم اور ہم جیسی کچھ عورتوں کے سوا کسی کو سنائی نہیں دیتا۔ ہمیں آپ کی استہزائیہ مسکراہٹ بھی دکھائی دے رہی ہے کہ بی بی کیا بہکی بہکی باتیں کر رہی ہو۔ لیکن وہ کیا ہے نا کہ ناقص العقل ہیں۔ ہم سے کسی بھی دانش کی توقع رکھنا تو آپ ہی کی منطق کو للکارے گا۔ لہذا ایک چپ اور سو سکھ۔

معاف کیجئے گا کہ تمہید کی عادت جانے کا نام ہی نہیں لیتی۔ شاید یہ بھی اس معاشرے میں عورت ہونے کا خاصہ ہے۔ سیدھی بات کرتے ہوئے ایک بے نام سا خوف رہتا ہے۔ آتی ہوں اس شور کی طرف جس کا سن سن کر آپ کے بھی کانوں سے دھواں اٹھنے لگا ہے۔ یہ شور ہے ایک ایسی تحریر کا جو ہم اپنی تحقیق کی غرض سے پڑھنے کو بیٹھے تھے۔ لیکن شومئی قسمت، وہ تو ہمیں ہی کاٹ کھانے کو دوڑی۔ اب آپ پھر ہنسیں گے کہ ایک کتاب کیونکر چلانے لگی۔ تو قبلہ، ہنستے رہئے۔ ہماری بلا سے۔

اس کتاب میں ذکر ہے ایک ’اچھی عورت‘ کے بیانیے کا۔ امریکی کتاب ہے اور ہمیں یقین کامل ہے کہ آپ کو اس کے نام سے چنداں دلچسپی نہیں۔ بائی دا وے، ہونی بھی نہیں چاہیے۔ ہم آتے ہیں مدعے کی طرف۔ بچپن سے ہمیں سکھایا بتایا گیا کہ ایک اچھی عورت کے کیا فرائض ہیں۔ حقوق کا صیغہ خالی رکھا گیا کہ ایک اچھی عورت کا اس علت سے کیا لینا دینا۔ تمام اسباق یہی باور کرواتے رہے کہ کیسے خود کو نادیدہ بنانا ہے۔

اچھی لڑکیاں سلیقے سے خود کو سمیٹ کر بیٹھتی ہیں۔ گھر کے کام کاج میں امی کا ہاتھ بٹاتی ہیں۔ چھوٹے بہن بھائیوں کا خیال کرتی ہیں۔ سفید چکن کے کرتے پر کوئی داغ نہیں آنے دیتیں۔ یہ سب کرنے کے بعد کلاس میں فرسٹ آتی ہیں۔ گھر والوں اور اساتذہ کی آنکھ کا تارا ہوتی ہیں۔ یونیورسٹی میں روز وقت پر پہنچتی ہیں۔ وہاں بھی رنگ برنگے پھولوں والے جھنڈے گاڑتی ہیں۔ ظاہری بات ہے رشتوں کی ریل پیل کیوں نہ لگے؟ ان کے بنے خستہ سموسے ہونے والی سسرال کا دل جیت لیتے ہیں اور یوں یہ گریجوایٹ ہوتے ہی بیاہی جاتی ہیں۔ بری کے جوڑوں کو جہیز پر مقدم رکھتی ہیں۔ سسرال کے رنگ میں یوں رنگ جاتی ہیں جیسے خود امپورٹڈ شفون کا دوپٹہ ہوں اور سسرال رنگریز کی لوہے کی کڑاہی میں ابلتا سرخ رنگ ہو۔ شادی کے پہلے سال ہی ایک چاند سا بیٹا گود میں لے آتی ہیں۔

یوں تو ان کی کہانی اولاد نرینہ پیدا ہونے کے بعد ختم نہیں ہوتی۔ لیکن وہ کیا ہے کہ آپ اور ہم ایک نعمت سے محروم ہیں۔ اور وہ ہے عمر خضر۔ کیا خیال ہے؟ آگے چلیں؟ جیسا کہ ہم دلوں کو حال جانتے ہیں۔ آپ کی خامشی کو اقرار جانیں گے۔

تو ہم کیا کہہ رہے تھے؟

اچھا ہاں، اچھی عورت کے ساتھ ہی ذکر آتا ہے بری عورت کا جو جہاں جی چاہے بیٹھتی ہے۔ جو جی چاہے کہتی ہے۔ اس خوف سے نہیں لرزتی کہ اس کی کھنکتی ہنسی کی آواز گھر کی چار دیواری سے باہر نہ جائے۔ اس کے کرتے پر چائے اور سموسے کی چٹنی کے داغ ہوتے ہیں۔ آفٹر آل، داغ تو اچھے ہوتے ہیں اس کو کہیں جھنڈے گاڑنے کا شوق نہیں ہوتا۔ شادی ہو نہ ہو یہ اپنی زندگی اپنے حساب سے جیتی ہے۔ اپنے دل کی بات کھل کر کرتی ہے۔ خود پر جی جان سے فریفتہ ہوتی ہے۔ معاشرے کی بندشوں کو توڑتی ہے۔ تمہید نہیں باندھتی۔ دل کی سنتی ہے۔ دل کی کہتی ہے۔ خوش رہتی ہے۔

ارے ہاں، یہ تھی نا پنچ لائن!

اس امریکی کتاب کی رو سے اچھی اور بری عورت میں ایک فرق ہے اور وہ ہے خوشی کا۔ اچھی عورت کا خمیر ریت رواج کی آبیاری ہے اور بری عورت کا ڈی این اے خوشی ہے۔ ہممم، تو یہ سارا فسانہ اس لیے گھڑا گیا تھا؟

جگ بیتیوں میں بیان ہوتا ہے کہ دنیا میں کئی قسم کی تحاریک نے جنم لیا۔ ہر کسی کا جی تھا کہ ایسا انقلاب لایا جائے جو قلب کو گرما دے، جو روح کو تڑپا دے وغیرہ وغیرہ۔ ان سب ہی کو لگتا تھا/ہے کہ مزاحمت کے سب استعارے ان ہی کے گھر میں پنپتے ہیں۔ خدا جانے کسی تحریک نے خوشی کو مزاحمت کیوں نہیں جانا۔ ہمارا جی چاہتا ہے کہ کوئی ایسی تحریک نکلے جو مزاحمت کی نئی زبان تشکیل دے۔ سب انقلابی یک زبان ایک ہی نعرہ لگائیں۔

’میرا دل، میری مرضی!‘
اس نعرے کے بعد تمام انقلابیوں کی ہنسی کے فوارے چھوٹیں۔ ایسی ہنسی گونجے جو ہر دیوار کو چیر کر رکھ دے۔

عزیزان من، ہماری یہ پیشگوئی کسی غار کی دیوار پر لکھ کر محفوظ کر لیجیے۔ خوشی کا یہ انقلاب بری عورتیں ہی لائیں گی۔ آج نہیں تو کل، کل نہیں تو پرسوں۔ لکھا جا چکا ہے اور لکھے کو کون ٹال سکا ہے۔

ارے واہ بھئی، معجزہ ہو گیا۔ ایک دم سے ہمارے کانوں کا شور بند ہو گیا ہے۔ کیا خیال ہے محفل برخاست کی جائے؟
جیسا کہ پہلے بھی عرض کیا تھا کہ ہم دلوں کا حال جانتے ہوئے آپ کی خامشی کو اقرار جانیں گے۔ چلتے ہیں۔ اپنا خیال رکھیے گا اور رستے میں کسی اجنبی سے کچھ لے کر مت کھائیے گا۔ اوکے بائے۔

Facebook Comments HS