پلان کیا تھا؟
"شریفوں اور زرداریوں نے ملک کا بیڑا غرق کر دیا ہے یہ مافیا ہیں بس اب بہت ہو گیا ملکی سیاست کو ان سے پاک کیا جائے”۔ پھر اس پلان پر تیزی کے ساتھ کام آگے بڑھایا گیا۔ پہلے نواز شریف اور اس کی بیٹی کو نا اہل کیا گیا پھر اس کے تین قریبی ساتھیوں کو نا اہل کیا گیا۔ اس کے بعد پے در پے ان کی جماعت کے لوگوں کو گرفتار کیا گیا وفاداریاں تبدیل کرائی گئی پارٹی کا نشان چھین لیا گیا بھائی کو گندے نالے کے کیس میں گرفتار کر لیا بھتیجے پر اربوں روپے کی کرپشن اور منی لانڈرنگ کے کیسز بنا دیے۔
بات یہاں تک ہی نہ رکی نواز شریف کی والدہ پر بھی کیس بنا دیا۔ ان کے بھتیجے یوسف عباس جس کا دور تک سیاست سے کوئی تعلق نہیں تھا اس پر بھی کیس بنا لیا۔ شہباز شریف کی بیوی، بیٹی اور داماد پر کیسز بنا دیے، ایک اخباری خبر پر احسن اقبال پر اربوں روپے کی کرپشن کا کیس بنا دیا گیا۔ بات پھر یہاں نہ رکی رانا ثنا اللہ پر سیدھی سیدھی 15 کلو ہیروئن ڈال دی۔ زرداریوں کی بات کریں تو جعلی اکاؤنٹس کیس کے نام پر آصف زرداری، فریال تالپور اور ان کے بیٹے بلاول بھٹو پر کیسز بنا دیے گئے، شرجیل میمن، سراج درانی سمیت پی پی کے کئی رہنماؤں پر کیسز بنے، آصف زرداری کے قریبی ساتھی انور مجید المعروف اومنی گروپ والوں کو بھی نہ بخشا، جس شخص کی خاطر یہ ساری محنت کی گئی ادارے کا خیال تھا یہی مسیحا ہے یہی ہماری شریفوں اور زرداریوں سے جان چھڑا سکتا ہے لیکن جب وہ اقتدار میں آیا تو ادارے کو پتہ چلا اسے تو سسٹم کی الف ب کا بھی علم نہیں ہے، اس کو تو چابی والے کھلونے کی طرح چلانا پڑ رہا ہے۔
جیسے تیسے کر کے اڑھائی سال اس کی کھٹارا گاڑی کو دھکا دیا پھر جب اس کی اپنی بیوی کے کرپشن کے قصے سامنے آنے شروع ہوئے تو ادارے کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی۔ جب مہاتما کو ان کی بیگم کے قصے بتائے گئے تو الٹا قصے بتانے والوں کے ہی گلے پڑ گیا۔ یہ تو ابھی شروعات تھی جیسے جیسے وقت گزرا عمران لورز کو تارے نظر آنے لگے۔ حزب اختلاف کا دباؤ بڑھنے لگا پارلیمنٹ اور ریاست لڑکھڑانے لگی تو نواز شریف نے گجرانوالہ جلسے میں لوہا گرم دیکھ کر ہتھوڑا مار دیا۔
بس اس کے بعد کیا ہوا کہ ادارے نے از خود ہی نیوٹرل ہونے کا اعلان کر لیا۔ رکیں ذرا یہاں میں آگے نکل گیا جب عمران لورز نے دیکھا اپنے گھوڑے کو اکیلے لانچ کرنے سے سسٹم پر سوالات کھڑے ہو سکتے ہیں تو اس دوران اچانک آصف زرداری کو ایک ڈیل آفر کی گئی ہمارے گھوڑے کو وزیراعظم بنانے کے لیے آپ کو ہمارا ساتھ دینا ہو گا ورنہ ٓاپ بھی نواز شریف کی طرح آؤٹ جاؤ گے۔ ڈیل تھی کہ عمران خان کو وزیر اعظم بنانا ہے تو آپ کو سندھ ملے گا آپ کے بیٹے کا بھی نام جعلی اکاؤنٹ کیس سے نکال دیا جائے گا۔
پھر ایسا ہی ہوا۔ آصف زرداری نے 2018 میں وزیراعظم کا ووٹ عمران خان یا شہباز شریف کو دینے کی بجائے اپنا الگ سے خورشید شاہ کو وزیراعظم کا امیدوار کھڑا کر دیا۔ اس طرح اپوزیشن کے تقسیم کی شروعات ہوئی پھر صدر کے ووٹ کے لیے بھی یہی صورتحال پیش آئی عارف علوی کے مقابلے میں اپوزیشن نے مولانا فضل الرحمن کو صدر کا امیدوار نامزد کیا تو آصف زرداری نے اعتزاز احسن کو صدر کا امیدوار نامزد کر دیا پھر اپوزیشن تقسیم ہو گئی اس کے بعد نواز شریف نے سینٹ کے چیئرمین کے لیے آصف زرداری کو رضا ربانی کو امیدوار نامزد کرنے کی آفر کی لیکن آصف زرداری نے نواز شریف کی بجائے عمران لورز کی بات مانی اور صادق سنجرانی کو ووٹ دیا بدلے میں سلیم مانڈی والا کی ڈپٹی چیئرمین شپ لے لی۔
خیر وقت گزرتا گیا جیسے جیسے عمران لور کا بھوت اترتا گیا مسیحا کی حقیقت سامنے آنا شروع ہو گئی۔ ایک دن ایسا آیا کہ یہی مسیحا اپنے محسنوں کے گلے پڑ گیا سب ہکے بکے رہ گئے، جس کے لیے ہم نے اپنی ساکھ داؤ پہ لگائی وہی ہمارے گلے پڑ گیا۔ آخر کار عمران لورز نے 2021 میں نیوٹرل ہونے کا فیصلہ کیا جیسے ہی وہ نیوٹرل ہوئے عمران کی لولی لنگڑی حکومت لڑکھڑانے لگ پڑی۔ اپوزیشن عدم اعتماد کی تحریک لائی اور عمران کو چلتا کیا۔
شہباز شریف آئے معاشی حالات ان کی توقع کے برعکس نکلے اور کچھ ان لوگوں کی نا اہلیاں بھی تھی جو سیاسی مجبوریوں کے باعث بروقت اور سخت فیصلے نہ کر پائے۔ اس لیے معاشی دباؤ دن بدن بڑھنے لگا اور ملک دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ گئے۔ آخر کار نہ چاہتے ہوئے بھی پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی آئی ایم ایف کے ساتھ عوام دشمن وعدہ کرنے پر مجبور ہو گئے۔ شہباز شریف اور جنرل عاصم منیر نے قوم پر ایک بہت بڑا احسان کیا جو اکنامک ریوائیول پروجیکٹ کی صورت میں سامنے آیا۔
یہ پروجیکٹ خالصتاً پاکستان کے اپنے وسائل کا ایک ٹریلین ڈالر کا پروجیکٹ ہے جس کی مدت 10 سال ہدف مقرر کیا گیا ہے کہ 2033 تک پاکستان اپنے وسائل سے معیشت کا حجم ایک ٹریلین ڈالر تک لے کر جائے گا۔ الیکشن 2024 میں ہو رہے ہیں اور حکومت کی مدت 2029 میں پوری ہوگی جو کہ بظاہر نظر آ رہا ہے کہ نواز شریف با آسانی وزیراعظم بن جائیں گے اب ان کے راستے میں کوئی قانونی اور سیاسی رکاوٹ نہیں رہی تمام رکاوٹیں ختم کر دی گئی ہیں اور میدان بھی صاف ہے۔
بظاہر لگ رہا ہے کہ نواز شریف 10 سال تک وزیراعظم رہیں گے اور اکنامک ریوائیول پروجیکٹ کو مکمل کریں گے اگر ایسا ہوتا ہے تو پاکستان دنیا کی بڑی معاشی طاقتوں کے برابر کھڑا ہو گا۔ نواز شریف میں صلاحیت ہے کہ وہ بغیر کسی سہارے کے ملک چلا سکتے ہیں کیونکہ نواز شریف ایک انٹرنیشنل فیس رکھنے والی شخصیت ہیں۔ دنیا ان پر اعتماد کرتی ہے یہ ان کو سب سے بڑا ایج ہے۔ نواز شریف پر پورا مشرق وسطی اور چین مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہیں اور ان کے علاوہ کسی اور کے ساتھ چلنے میں کمفرٹیبل محسوس نہیں کرتے جبکہ ان کے علاوہ کسی اور وزیراعظم کے ساتھ عرب ممالک اور جین کی اتنے اچھے ورکنگ ریلیشن بھی نہیں رہے۔ پلان تو بہت اچھا ہے اب اہم سوال یہ ہے چہرے بدلنے کے بعد پلان میں تبدیلی نہ آئے اگر تبدیلی آتی ہے تو ہم پھر دس سال پیچھے کھڑے ہوں گے۔


