بلی گوشت کا بٹوارا
انسانی تاریخ میں طاقت کی ترسیل ایک مشکل کام رہا ہے۔ اکثر بادشاہوں کی وفات پر ان کے فرزند آپس میں لڑے۔ اور ان میں سی کسی ایک کے شکست خوردہ ہونے کے بعد دوسرا اس اقتدار پر قبضہ جما لیتا تھا۔ اس دورانیے میں عوام کے اندر بھی کبھی کبھار بغاوت کا علم بلند ہو جایا کرتا تھا۔ اب کے جدید ریاستوں میں اقتدار کی منتقلی بھی اچھا خاصا مشکل عمل بن چکی ہے۔ بالخصوص نگران حکومت کے تلے جمہوری ممالک میں انتخابات کروا کے نئی حکومت کا قیام کروانا ایسا ہے جسیا خزانے کی کنجی کو ایک خزانچی سے لے کر دوسرے کے حوالے کرنا ہے۔ اس دورانیے میں چوری اور ڈکیتی کا خدشہ بھی اپنی جگہ موجود رہتا ہے۔ اس پورے دورانیے کے مکمل ہونے میں عوام کی قوت اور امیدیں وابستہ ہوتی ہیں۔ کیونکہ اس عمل میں عوام اپنی پوری محنت اور لگن کے ساتھ انتخابات کے ذریعے ایک نتیجے تک پہنچتے ہیں کہ کس کو خزانے کی چابی پکڑانی ہے جو ان کے سوچ کے مطابق ایک نظام کو قائم کرے جس میں وہ خوش رہیں اور وہ اس نظام حکومت میں اپنی لیے نئی دنیا بنتے دیکھنے کے خواہشمند ہوتے ہیں۔ اس چیز کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ جمہوری حکومت کی تبدیلی میں نگران حکومت کا کردار کافی اہم ہوتا ہے۔ ایک زمانے تک نگران حکومت کا کام الیکشن کروانا ہوتا تھا۔
مگر آج کل کی نگران حکومتوں کا سیٹ اپ بہت ہی مشکل اور پیچیدہ بن چکا ہے۔ اگر ہم پاکستان میں بننے والی نگران حکومت کو دیکھیں۔ تو اس کے بننے کا عمل اور پھر اس نگران حکومت سے انتخابات کروانا اور اس کے اختیارات میں توسیع کرنا پاکستان میں قائم ضعیف جمہوری نظام کے لئے کارآمد ثابت نہیں ہوا ہے اور نہ ہی ہو سکتا ہے۔ کیونکہ پاکستان کی تاریخ دیکھیں تو نگران حکومتیں اسٹیبلشمنٹ کے تابع کام کرتی رہی ہیں۔ اور اسی طرح دوسرے ممالک کو دیکھیں تو کچھ عرصہ پہلے بنگلادیش میں نگران حکومت کی نگرانی میں فوجی حکومت بنی ہے۔
اگر ہم اپنے نگران سیٹ اپ کے بننے کا سبب دیکھیں تو ایک فوجی جنرل نے ہی اپنے سیاہ کو سفید کروانے کے لئے اس کا قیام عمل میں لایا ہے۔ مگر پھر بھی جنرل ضیاء ایک دہائی تک حکومت کرتا رہا۔ اور پھر اس نظام کو جنرل مشرف نے دوبارہ بحال کیا، اور تین ماہ کے اندر الیکشن کرانے کے اعلان کے ساتھ اپنی پارٹی کو ”کنگ پارٹی“ بھی قرار دیا۔ اور جب ووٹ کم پڑے تو ہارس رائڈنگ کے ذرائع آزاد امیدوار کو اپنے ساتھ ملا لیا۔ اور ان ادوار میں نگران حکومت فوجی جنرل خود بناتے رہے۔
2013 میں پہلی دفعہ جمہوری حکومت کے یہاں یہ بات آ پہنچی مگر حکومت اور اپوزیشن نگران وزیراعظم منتخب کرنے میں ناکام رہے تو الیکشن کمیشن نے آئین کے تشریح کے تحت نگران وزیراعظم منتخب کیا۔ مگر اس کے حکومتی تبادلوں کو بعد میں سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دیا۔ اس طرح نگران حکومت کے کام کو مختصر بنایا۔ 7 /اگست/ 2023 کو پی ڈی ایم کی حکومت نے نگران حکومت کے اختیارات کو مزید بڑھایا۔ جس میں پی پی پی اتراٹی، گورنمنٹ کمرشل ایکٹ 2006، پرائیویٹ کمیشن آرڈیننس 2000 میں تبدیلی کی گئی۔
مزید یہ کہ جنوری 2023 میں کے پی اور پنجاب اسمبلیاں تحلیل ہوئیں تو قانون کے تحت ان کو نوے روز کے اندر دوبارہ الیکشن کروانے تھے مگر سال سے زائد عرصے گزرنے کے بعد بھی نگران حکومت براجمان ہے۔ اب ان صوبوں کی نئی حکومتیں بنتے وقت دھاندلی کا خدشہ تو موجود ہے۔ اب تو حالات یہاں تک آ پہنچے کہ نگران وزیر الیکشن میں حصہ لیتے ہیں۔ سات مہینے حکومت میں گزار کر، آخری لمحے عہد چھوڑ کر الیکشن لڑنے کا فیصلہ کرلیتے ہیں۔ حتیٰ کہ موقع پا کر اپنی حلقہ بندی اپنی مرضی سے کراتے ہیں تاکہ الیکشن جتنے میں کامیابی ملے۔


