اسلام کا مالیاتی نظام


اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہوتے ہوئے اپنے معاشرتی نظام میں مختلف حوالوں پر مبنی ہے۔ جس میں اس کا مالیاتی نظام بھی شامل ہے۔ اسلام میں مالیاتی نظام کی بنیاد اخلاق اور شریعت کے اصولوں پر مبنی ہے۔ اسلام میں کاروباری رسک کو شیئر کرنا، حقوق و ذمہ داری، ملکیتی حقوق اور معاہدوں کی پاسداری اس کے بنیادی عوامل ہیں۔ سرمایہ دارانہ و اشتراکی مالیاتی نظاموں میں بنیادی طور پر اشیاء کی تیاری، اس کی ترسیل اور اقتصادی رجحان پر نظر ہوتی ہے۔

جب کہ اسلامی مالیاتی نظام میں اخلاقی اصول، معاشرت اور مذہب سب کو ایک منظم ضابطہ میں دیکھتا ہے۔ جس میں مساوات اور کاروباری انصاف معاشرت کے لئے لازمی جز ہیں۔ اس میں دولت کی تقسیم، معاشرتی و مالیاتی انصاف اور مملکت کا کردار اہم عنصر ہیں۔ اسلامی معاشرتی نظام میں زکٰوۃ بڑی اہمیت رکھتی ہے جو مستحقین کے مال میں سے شریعتی قوانین کی روح سے کچھ حصہ ادا کرنا ہے اور فقیروں و محتاجوں کی مدد فراہم کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔

ربا (سود) کو اسلام میں حرام قرار دیا گیا ہے، اور مالی معاملات میں سود کے بغیر اصولوں پر عمل کرنا ضروری ہے۔ اسلام میں مالی معاشرت میں حلال اور حرام کی وضاحت تفصیل سے بیان کر دی گئی ہے۔ اہل اسلام کو معاشرتی امور میں بلا سود معاملات اختیار کرنے کے لئے مشورہ حاصل کرنا چاہیے۔ اسلامی مالی نظام میں شراکتی اصولوں کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے، جو افراد کو اپنی معاشی ترقی میں مدد فراہم کرے۔ اسلامی مالیاتی نظام میں عدل و انصاف جز لاینفک ہے، اور دولت کی فراوانی اور تقسیم میں انصاف کا خصوصی خیال رکھا گیا ہے۔

اسلامی مالیاتی نظام کی ابتداء:

اسلامی مالیاتی نظام کی بنیادی ابتداء اسلامی تعلیمات اور پیغمبر اکرم ﷺ کے زمانے میں ہوئی۔ اسلامی مالی نظام کے اصول قرآن اور حدیث سے مستخرج ہیں۔ یہاں کچھ اصول ہیں جو اسلامی مالی نظام کی ابتداء کو مضبوط بناتے ہیں :

زکوة: اسلامی مالیاتی نظام میں زکوة کا اہم حصہ ہے، جو ثروت مند لوگوں کو اپنے مال کا ایک چھوٹا حصہ فقیروں اور غریبوں میں تقسیم کرنے کا حکم دیتا ہے۔

صدقہ: مستحقین کو فقراء و غرباء کی مدد کے لئے کھلے دل سے مال دینے کا اصول ہے۔
ربا: ربا یعنی سود کو اسلام میں ممنوع قرار دیا گیا ہے۔

مالی عدل: اسلامی مالیاتی نظام میں مالی عدل کا پیش ہونا ضروری ہے، جس کے تحت سب لوگوں کو برابر حقوق ملیں۔

حلال اور حرام: مالیاتی معاملات میں حلال اور حرام کا خصوصی خیال رکھنا تا کہ اہل اسلام مال حاصل کرتے وقت اختصاصی اصولوں پر عمل کریں۔

مالی تعلیم: اسلامی مالیات میں مالی تعلیم کو عام کرنا تا کہ لوگ مالی معاملات میں اخلاقی اور شرعی پیچیدگیوں کو سمجھیں۔ یہ اصول اسلامی مالیاتی نظام کے بنیادی رکن ہیں جو معاشرتی انصاف اور اخلاقیت کو مد نظر رکھتے ہیں۔

حضرت محمد ﷺ کے زمانے میں مدینہ کی ریاست کی صورت میں ایک ایسا نظام قائم ہوا جو اسلامی اصولوں پر مبنی تھا۔ مکہ سے مدینہ ہجرت کے بعد مدینہ چارٹر یا جسے دستور مدینہ کہا جائے، قائم کیا گیا یہ ایک اہم قدم جس نے مسلمانوں کو ایک معاشرتی اور سیاسی نظام کے تشکیل دینے کا کام کیا۔ اس چارٹر میں مختلف قبائل اور دینی گروہوں کے مابین اختلافات کو حل کرنے کے لئے وضاحتی اصول دیے گئے اور اسلامی معاشرتی اور سیاسی نظام کے بنیادی اصولوں کو وضع کیا گیا۔ اس نظام میں زکوۃ، صدقات اور مالی امور کے لئے اصولی ہدایات فراہم کی گئیں جو اسلامی معاشرتی نظام کی بنیاد رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ، معاشرتی اور اخلاقی اصولوں کی پیشگوئی کی گئی اور مسلمانوں کو ایک متضامن اور عدلی معاشرتی جماعت بنانے کی راہنمائی دی گئی جس کی بنیاد قرآن و حدیث ہے۔

حضرت عمر اور اسلام کا مالیاتی نظام:

حضرت عمر بن الخطاب (رضی اللہ عنہ) نے اپنے خلافت کے دوران اسلامی مالیاتی نظام میں اصلاحات کیں۔ انہوں نے عدل اور انصاف کی بنیادوں پر مالی نظام کو مضبوط کیا اور مسلمان جماعت کے لئے عدلیہ کے اصولوں کا اطلاق کیا۔ حضرت عمر نے زکٰوۃ کے معیار کی وضاحت دی اور اسے جمع و جمع المال (مال جمع کرنے اور اس کا معیار) کے حساب سے متعین کیا۔ انہوں نے مسلمانوں کو اپنے مالی ذرائع کا حساب دینے اور گورنروں کو نہ صرف زکٰوۃ کا استعمال کرنے کی تربیت دی بلکہ ان کے مواخذہ کا نظام بھی وضع کیا۔ انہوں نے دولت کے حصول کے لئے مالی امور میں ترتیب دی اور عدلیہ کو معیاری جواز فراہم کیے۔ حضرت عمر کی حکومت میں مالی اصلاحات نے مسلمانوں کو اقتصادی استحکام فراہم کیا اور عدلیہ کے ذریعے مالی انصاف کو ترویج دیا۔

بعد کے دور میں اسلامی مالیاتی نظام میں عمر عبدالعزیز نے اہم اصلاحات کیں۔ انہوں نے زکٰوۃ اور خمس کے معاشرتی حقوق فراہم کرنے کی کوشش کی اور اسلامی اصولوں پر مبنی مالی نظام کو مزید بہتر بنانے کے لئے کام کیا۔ انہوں نے دولت مند لوگوں پر زیادہ مالی بوجھ ڈالنے کے لئے اصلاحات کیں تاکہ مالی تقسیم میں عدل و انصاف ہو۔ عمر عبدالعزیز کا دور اسلامی معاشرتی اور مالی نظام میں بہتری اور انصافی تبدیلیوں کی نمایاں مثال تھے جس نے معاشرتی اور اقتصادی اصولوں کو اہمیت دی اور ان کو عملی شکل دینے کی کوشش کی۔

اسلامی مالیاتی نظام کے بارے ایک اجمالی خاکہ بیان کیا گیا تا کہ اسے سمجھنے میں آسانی رہے۔ اس پر مسلمان سکالرز نے بہت کام کیا ہے۔ اور ہر شے کو وضاحت سے بیان کر دیا ہے۔ یہ تینوں، سرمایہ دارانہ نظام، اشتراکی نظام اور اسلام کے مالیاتی نظام بارے آخری قسط ہے۔

 

Facebook Comments HS