ایک نئی دنیا کا خیال


گزشتہ تین دہائیوں سے دنیا بھر کے میڈیا اور فکری حلقوں میں نیو ورلڈ آرڈر کا بہت چرچا رہا ہے۔ ”نیو ورلڈ آرڈر“ کی لفظی ترکیب سے آسانی سے اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اس آرڈر سے پہلے کوئی پرانا ورلڈ آرڈر یا آرڈرز بھی موجود تھے۔ اردو زبان ورلڈ آرڈر کا ترجمہ عام طور پر عالمی نظام سے کیا جاتا ہے جو ہمارے خیال میں مناسب نہیں۔ نظام یعنی سسٹم خواہ قدرتی ہو یا انسان کا بنایا ہوا ہو، کھلا نظام ہو یا بند اس کے تمام اجزائے ترکیبی آپس میں مربوط ہوتے ہیں اور ان کی اقدار معین اور جامد نوعیت کی ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر نظام شمسی میں تمام سیارے بمعہ اپنے چاندوں کے اپنے اپنے مداروں میں ایک معین رفتار اور وقت سے اپنا اپنا چکر پورا کر رہے ہیں۔ ہمارے خیال میں ورلڈ آرڈر کا درست ترجمہ ”عالمی حکم، عالمی ترتیب یا عالمی صف بندی“ سے ہونا چاہیے۔

ماہرین سماجیات و سیاسیات کے مطابق موجودہ نیو ورلڈ آرڈر جسے عرف عام سرمائے کا عالمی نظام کہا جاتا ہے تاریخی اعتبار سے تیسرے نمبر کا نظام یا آرڈر ہے۔ پہلے عالمی آرڈر کو عضلیاتی طاقت (mascular power) کے نظام یا آسانی کے لیے اسے تلوار کی طاقت کا نظام سے بھی یاد کیا جاسکتا ہے۔ اس نظام کی خاص بات یہ تھی جو گروہ، ملک یا قوم اپنا زور بازو منوا لیتا اسے یہ حق حاصل ہو جاتا کہ وہ اپنے گردونواح کو اپنی ملکیت میں لے اور اپنا سکہ اور قانون رائج بلکہ نافذ کرے۔

یونان و مقدونیہ کی سلطنت، سلطنت روم، ایران، بابل و نینوا، عرب سلطنت، بازنطینی سلطنت، منگول اور تاتاری سلطنت اور آخر میں سلطنت عثمانیہ اسی عالمی آرڈر کی یادگاریں ہیں۔ اس دور کو قرون اولیٰ اور قرون وسطیٰ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ یہ عالمی نظام زمانہ قبل از تاریخ سے لے کر 1683 ء تک کا مانا جاتا ہے۔

جنگ ویانا 1683 ء میں عثمانی سلطان سلیمان عالیشان اور آسٹریا، روم اور پولینڈ کی اتحادی افواج کے مابین لڑی گئی جس میں عثمانی سلطان کو شکست ہوئی اور اتحادی یورپی افواج کو فتح ہوئی۔ یہ جنگ زور بازو کے عالمی آرڈر کے خاتمے کا سبب بنی اور یہاں سے ٹیکنالوجی کے دور یا حاکمیت اعلیٰ کے دور کا آغاز بھی تصور کیا جاتا ہے۔

یورپی اقوام یا ممالک احیائے علوم کی تحریک کی وجہ سے ٹیکنالوجی کی برکات سے آشنا ہونے کے بعد ہمہ وقت جدید اور اعلیٰ ٹیکنالوجی بنانے اور حصول کی دوڑ میں شامل ہو گئے۔ 1764 ء میں برطانیہ نے بھاپ کا انجن تیار کر کے گویا ٹیکنالوجی اور صنعتی میدان مار کر دنیا کا لیڈر بن گیا۔ انگریز بہادر یا دوسرے الفاظ میں ٹیکنالوجی، صنعت یا صنعتی سرمائے کا سکہ دنیا بھر میں تقریباً اڑھائی سو سال تک چلا۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم کی صورت میں ٹیکنالوجی کے بڑے چیمپیئن جاپان، جرمنی، برطانیہ اور سویت روس آپس میں ٹکرا کر برباد ہوئے۔

برطانیہ یہ جنگ جیت کر بھی ہار گیا اور اس کی مٹھی میں بند دنیا تیزی سے نکلنے لگی اور آج کا برطانیہ سکاٹ لینڈ اور شمالی آئر لینڈ کی فکر میں رہتا ہے کہ کہیں وہ بھی ہاتھ سے نہ نکل جائیں۔ یاد رہے کہ اس وقت تک امریکہ کوئی صنعتی ملک نہیں تھا البتہ دنیا بھر میں غلاموں اور اناج کی تجارت سے وافر سرمایہ اکٹھا کر چکا تھا۔

1944 ء میں ہونے والی بریٹن وڈز کانفرنس جسے کرنسی اور مالیات کے عالمی معاملات سے متعلقہ کانفرنس بھی کہا جاتا ہے۔ اس کانفرنس میں سویت روس سمیت 44 اقوام یا ممالک نے شرکت کی۔ یہ کانفرنس صنعتی سرمائے کی حاکمیت اعلیٰ کے خاتمے اور مالیاتی سرمائے کی حاکمیت کے آغاز کا سبب بنی۔ ”نیو ورلڈ آرڈر“ کی اصطلاح بھی سب سے پہلے اسی کانفرنس میں استعمال کی گئی۔ اس کانفرنس میں مستقبل کے عالمی معاملات کے خد و خال کو بھی طے کیا گیا۔

اسی کانفرنس کے نکات کی روشنی میں اقوام متحدہ کی تشکیل نو اور عالمی بینک، انٹرنیشنل مالیاتی فنڈ اور عالمی تجارتی تنظیم کی بنیادیں بھی رکھی گئیں۔ ان اداروں کی زیر سرپرستی امریکہ نے اپنے جمع شدہ سرمائے کو دوسرے ممالک کو سود پر فراہم کرنا شروع کر دیا۔ قصہ مختصر امریکہ نے ان اداروں کی مدد سے دنیا کو کنٹرول اور سرمائے کی حاکمیت کے کلچر کو فروغ دیا جس کا لب لباب محض یہی ثابت کرنا تھا کہ جس کے پاس سرمایہ ہے وہی افضل اور اعلیٰ ہے۔

اس نیو آرڈر کو لاگو ہوئے 80 سال گزر گئے ہیں۔ یہ آرڈر دنیا کو کیا کچھ دے سکا اور کیا نہیں دے سکا اس کی جمع تفریق کرنے میں اب ہم شاید حق بجانب ہیں۔ یاد رہے ورلڈ آرڈر کبھی بھی خیراتی یا سماجی ترقی کے لیے نہ تو بنتے ہیں اور نہ ہی بنائے جاتے ہیں۔ اپنے تراشیدہ یا ڈیزائن کردہ ”سکے“ کو دنیا بھر میں زیادہ سے زیادہ اور تا دیر جما کر رکھنے کا نام ورلڈ آرڈر ہے۔ طاقت کے زور سے اس سکے کو جمایا جاتا ہے اور جب تک طاقت ساتھ دیتی ہے سکہ چلتا رہتا ہے۔

ہماری زمین کائنات کا ایک ادنیٰ سا ہی حصہ ہے کائناتی اصول اور قوانین جس طرح پوری کائنات پر لاگو ہیں بین اسی طرح زمین پر بھی نافذالعمل ہیں۔ ”فنا کے قانون“ کے تحت جس میں ہر عروج کو زوال، موت حتیٰ کہ قیامت کے تصورات بھی اسی قانون سے ہی اخذ کیے گئے ہیں۔ مادہ کبھی فنا نہیں ہوتا یہ حقیقت اپنی جگہ درست ہے مادے کی ہیئت میں ظاہری یا خاصیتی تبدیلی کو فنا ہی کہا جاتا ہے یعنی اس کی پہلی شکل ختم او ر اس کی جگہ نئی شکل کا جنم یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔

اس زمین پر انسانوں کی طرح حیوانات کو بھی تین مختلف ادوار میں تقسیم کر کے دیکھا جا سکتا ہے۔ پہلے دور میں رینگنے والے جانور، دوسرے دور میں ڈائنو سارز اور اس کے بعد ممالیہ جانوروں کا دور۔ علم حیاتیات کے حوالے سے ہم سب اس وقت ممالیہ جانوروں کے دور یا عہد میں رہ رہے ہیں اور یہ بھی شاید اتفاق ہے کہ بھیڑ بکریوں کی طرح حضرت انسان بھی ایک میمل ہے۔

کائنات اور زمین پر اس طرح کی تبدیلیاں مسلسل جاری و ساری ہیں۔ اب ہم اپنے اصل سوال کی طرف آتے ہیں کہ زور بازو اور ٹیکنالوجی کے بعد مالیاتی سرمائے کے ورلڈ آرڈر کا آخر کیا مستقبل ہے۔ بیشمار دوستوں کی رائے ہے کہ ”نیو ورلڈ آرڈر“ اپنے اختتام کو پہنچ چکا جبکہ اس کے برعکس آراء بھی موجود ہیں کہ ابھی نیو ورلڈ آرڈر تو شروع ہی نہیں ہوا خاتمہ تو دور کی بات ہے۔ امریکی ریاست و شہری، عالمی مالیاتی اداروں کے مستفیدگان اور ان کے ذیلی حصہ داران و حاشیہ نشین وغیرہ کی تو شدید خواہش ہو گی کہ یہی ورلڈ آرڈر تا ابد قائم رہے تا کہ قیامت تک ان کی نسلیں گلچھرے اڑاتی رہیں لیکن ان کی بد قسمتی کہ کائنات کے اٹل اصولوں کے نزدیک ان بچگانہ خواہشات کی کوئی اہمیت نہیں۔

صنعتی عہد کے پیرائے میں کارل مارکس نے کہا تھا کہ جب ”کارخانہ دار مزدور بھرتی کرتا ہے تو وہ اپنے ہاتھوں اپنی قبر خود ہی کھود رہا ہوتا ہے“ ۔ مالیاتی سرمائے کے خالق یعنی امریکی ریاست و سرمایہ داروں نے اپنے سرمائے کی قدر زائد، منافع یا سود کو بڑھانے کے لیے جس طرح کے کوٹ پتلون ٹائی والے اور وردی والے مزدوروں کو بھرتی کیا ان کی 80 سالہ کارکردگی کو ایک نظر دیکھ لینے سے شاید اندازہ ہو جائے گا کہ انجام گلستان کتنا قریب ہے یا کیا ہو سکتا ہے۔

امریکہ وسیع زمینی رقبہ اور اسی تناسب سے معدنی اور زرعی وسائل سے مالا مال ایک کثیر القومی ملک ہے لیکن یہ سرمایہ کے بل بوتے پر سپر پاور یا دنیا کا چوہدری بنا اور اپنا سکہ جمایا یہاں سکے سے ہماری مراد ڈالر نہیں ہے بلکہ اپنی معاشی، معاشرتی اور سیاسی طاقت یا برتری منوا کر دنیا کو اپنے طابع فرمان یا معاشی غلام بنا کر یا بنانے کی کوشش کرنے سے ہے۔ یہاں ہم آسا نی سے کہہ سکتے ہیں کہ اس جن کی جان سرمایہ نامی طوطے میں قید ہے۔

امریکی سرمایہ تقریباً پوری دنیا میں انویسٹ ہے جس سے سود کی مد میں ملکی آمدنی کا مستقل بندوبست ہے۔ امریکہ نے اپنے سرمائے، سود اور عالمی سیاسی بالادستی کی حفاظت کے لیے ایک بہت بڑی اور مہنگی فوج بھی پال رکھی ہے۔ سودی کاروبار کو منظم رکھنے کے لیے ورلڈ بینک اور عالمی مالیاتی فنڈ نامی ادارے بھی موجود ہیں۔ بقول نوم چامسکی ”امریکہ اپنی بالادستی کو قائم رکھنے کے لیے غنڈہ ریاستوں کو کرائے پر بھی رکھتا ہے“ ۔ دنیا کو میٹھی گولی دینے کے لیے اقوام متحدہ بھی موجود ہے۔

اب ہم ان اداروں کی کارکردگی کا ایک مختصر جائزہ لیتے ہیں۔ اقوام متحدہ جس کا بنیادی مقصد دنیا میں جنگوں کے روک تھام تھا لیکن یہ ادارہ ایک جنگ بھی نہ روک پایا البتہ اس نے بیشمار جنگوں کی منظوری ضرور دی ہے۔ مالیاتی اداروں نے کرپشن کا لالچ دے کر دنیا کی ریاستوں یا حکومتوں اپنا مطیع تو کر لیا لیکن اس طرح سرمایہ کی ایک بڑی مقدار کرپشن کی نذر ہو چکی نتیجتاً قرضوں اور سود کی واپسی تقریباً ناممکن ہو چکی تو دوسری طرف بے پناہ غربت اکثریت عوام کا مقدر ٹھہری۔

اس وقت دنیا میں ”قرضوں اور سود کی واپسی نامنظور“ جیسی سیاسی تحریکیں بھی موجود ہیں۔ امریکہ ایک خطیر رقم اپنی فوج پر خرچ کرتا ہے جس کی افغانستان میں حالیہ کارکردگی ”مثالی“ ہے۔ بیس سالہ جنگ اور کھربوں ڈالر کے اخراجات کے باوجود آج بھی افغانستان میں دہشت گرد گروہ دندنا رہے ہیں۔ فتح شکست کا تعین اپنی جگہ مگر رسوائی کی بات یہ ہے کہ اشرف غنی اور حامد کرزئی جیسے معمولی اٹھائی گیرے امریکی قیادت کو بیس سال تک ماموں بنا کر رفو چکر ہو گئے۔

کرائے کی ریاستیں ڈالروں کے بہاؤ میں معمولی کمی کو بہانا بنا کر امریکہ کو آنکھیں دکھانا شروع کر دیتی ہیں۔ یہ وہ باتیں ہیں جن کا اعتراف خود امریکی قیادت بارہا کر چکی ہے۔ روس جسے امریکہ نے سوویت انہدام نے بعد لمبی رقوم اور تجارتی سہولتیں فراہم کر کے اپنے تعین مطیع کر چکا تھا مگر اسی روس نے امریکہ کی بالادستی کو یکسر پس پشت ڈال کر یوکرائن سے جنگ چھیڑ دی جس کا نتیجہ فی الحال یہ کہ یوکرائن کے وزیر اعظم زلنسکی سود خور پٹھانوں کی طرح امریکہ سے جنگی امداد لینے پہنچ جاتے ہیں۔

ہمارا گمان ہے کہ اس طرح امریکی سرمایہ جوں جوں تحلیل ہوتا جائے گا اسی طرح سے اس کی سیاسی گرفت بھی کمزور پڑتی جائے گی۔ امریکی سرمائے نے گزشتہ تمام عرصہ میں امیر کو امیر تر اور غریب کو غریب تر کیا ہے جس کی وجہ سے دنیا کی ایک بڑی آبادی نفرت کی حد تک امریکہ کے خلاف ہوتی نظر آتی ہے۔ سرد جنگ سے فوری بعد دہشت گردی کے خلاف ایک بڑی جنگ، یہ جنگ ابھی ختم بھی نہ ہوئی تھی کہ روس یوکرائن جنگ کا آغاز اور یہ جنگ ابھی جاری تھی کہ اسرائیل فلسطین کی جنگ کا آغاز اور پھر امریکہ اور یمن جنگ کا بھی آغاز اور ان کے تمام کے اخراجات کا بوجھ امریکہ کے کندھوں پر ہے۔

امریکی کارندوں اور کاریگروں کو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ وسائل ہمیشہ محدود ہوا کرتے ہیں لیکن وہ آج بھی جہاں ایک ڈالر لگتا ہے وہاں سو ڈالر لگاؤ کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ اس طرح کے حقائق کی روشنی میں ہمیں امریکہ کی عالمی سیاسی بالادستی خطرہ میں نظر آ رہی ہے جو بالآخر عالمی مالیاتی نظام کے انہدام پر منتج ہو سکتی ہے۔

ہو سکتا ہے ہماری اوپری سطور میں بیان کردہ حقائق اور نتائج غلط ثابت ہو جائیں لیکن ہر ”عروج کو زوال“ کے کائناتی اصول کو زیادہ عرصہ تک روکا نہیں جا سکتا اور خاص کر اس صورتحال میں کہ کارخانہ دار نے مزدور بھرتی کیے اور اپنی قبر کشادہ کر والی جبکہ مالیاتی سرمائے نے مزدورں کی جگہ چور اور کام چور بھرتی کر لیے اور ٹھگوں، اٹھائی گیروں، دیہاڑی بازوں اور رسہ گیروں سے سماجی و سیاسی تعلقات استوار کر لیے ہوں تو سالوں کا سفر مہینوں میں طے ہو جاتا ہے۔ جس طرح پچھلے ورلڈ آرڈر اختتام پذیر ہوئے اسی طرح اس آرڈر نے بھی آخر ایک دن الوداع تو ہونا ہے دس سال بعد کیا اور بارہ سال بعد کیا۔ اگلا سوال یہ ابھرتا ہے کہ اگلا ورلڈ آرڈر کیا ہو سکتا ہے۔ سیاست کے ادنیٰ طالب علم کی حیثیت سے اس کے خد و خال ہی بیان کر سکتے ہیں۔

گزشتہ اور موجودہ ورلڈ آرڈر کسی ملک، قوم یا گروہ نے منظم طریقے سے جدوجہد کر کے ایجاد نہیں کیے بلکہ عالمی نفسا نفسی، سیاسی پیچیدگیوں، زمینی حالات اور قیادت کے فقدان کے تناظر میں جو قوم یا ملک سب سے موزوں کی بقا یعنی Survival of the fittest کے اصول ارتقاء پر پورا اترتا ہے اور اپنا وجود قائم رکھ پاتا ہے تو وہ سب سے پہلے اپنے آپ کو سپر پاور فرض کر لیتا اور پھر بعد میں دنیا میں اپنی دھاک بٹھانے میں جت جاتا۔ دنیا کا ایک بڑا حصہ اس کی دھاک سے متاثر بھی ہوجاتا مگر ”پورن وجے“ کسی بھی ورلڈ آرڈر کو حاصل نہ ہو سکی۔ سپر پاور اور ورلڈ آرڈر لازم ملزوم اصطلاحات تسلیم یا فرض کی جا چکی ہیں۔

ہمارے کچھ دوستوں کی رائے ہے کہ امریکہ بہادر کے بعد چین اور روس ایسی ریاستیں ہیں جو سپر پاور کے درجے یا منصب پر فائز ہو سکتیں ہیں اور نیا آرڈر ترتیب دے سکتیں ہیں۔ ہماری اختلافی رائے کے مطابق یہ دونوں ملک انہیں راستوں پر گامزن ہونے کی تیا ری میں ہیں جن پر امریکہ 80 سال چل کر نڈھال ہونے کے قریب ہے مثال کے طور پر چین BRICS نامی منصوبہ جو عالمی بینک کا چربہ ہے پر کام کر کے دنیا میں مالیاتی سرمائے کو انویسٹ کر کے سود کمانا چاہتا ہے۔

اس سودی کاروبار سے امریکہ جو مراتب و برکات حاصل کر چکا چلیں چین بھی اس کا مزہ چکھ لے۔ روس یہ سمجھتا ہے کہ امریکہ جنگیں برپاء کر کے سپر پاور بنا لہذا گزشتہ 30 سالوں کے دوران اپنے ہمسایہ ممالک سے مسلسل پنگے بازیاں اور جنگیں اس کا وتیرہ رہا ہے۔ امریکہ نے جنگیں لڑ کر جو عزت کمائی ہے اب اسی طرح کی عزت روس بہادر بھی کمانا چاہتا ہے۔ جزو کو کل مان لینا ہم جیسے انسانوں کا ہمیشہ سے المیہ رہا ہے، اللہ تعالیٰ ہم سب کے حال پر رحم کرے۔ یہ ضروری نہیں کہ ہر دفعہ کوئی ریاست ہی نئے عالمی نظام کو وضع اور نافذ کرے۔

ہم نے تلوار، ٹیکنالوجی اور مالیاتی سرمائے کی حاکمیت اعلیٰ کے تین ادوار کا ایک طائرانہ جائزہ پیش کیا ہے۔ ان ادوار نے اپنے اپنے اوقات میں مختلف ثقافتوں، نظریات و نفسیات اور میکانیات کو جنم یا رواج دیا جن کی جھلکیاں آج بھی معاشرتی رویوں میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ یاد رہے معاشرتی ارتقاء میں رائج شدہ مثبت یا منفی رجحانات آسانی سے منہا نہیں ہو سکتے اور نہ ہی کیے جا سکتے ہیں مثال کے طور پر مدر سری نظام جو ہزاروں سال پہلے جنم اور فنا پا چکا بعد کے پدر سری نظام کی تمام تر ”احتیاطی تدابیر“ کے باوجود آج بھی ہر محلے، گلی و گاؤں میں اس کی باقیات کو با آسانی دیکھا جا سکتا ہے۔ بین اسی طرح نئے عالمی نظام میں سرمایہ داری، ٹیکنالوجی، کسی حد تک تشدد، جرائم، ریاستیں، قوانین، مذاہب، جمہوریت، تجارت، منافع و سود وغیرہ جیسے رجحانات موجود رہیں گے۔

انسان کے ہاتھوں میں ہتھیار (تیر و سنان)، ٹیکنالوجی، سرمایہ جیسی طاقتیں ”عقل و خرد“ نے بڑی محنت سے تیار کر کے تھمائی تھیں۔ بد قسمتی کی بات ہے کہ انسانوں نے بالعموم اپنی منفی جبلتوں کی تسکین کے لیے ہی ان طاقتوں کا استعمال کیا۔ طاقت کے ہر روپ نے سب سے پہلی گردن عقل و خرد کی کاٹی بعد میں دوسرے انسانوں کو نگوں کرنے کے لیے ان طاقتوں کا استعمال کیا گیا۔ ان تینوں ادوار کی تشکیل کی اصل قوت محرکہ عقل ہی ہے۔

انسانی معاشرہ سے عقل جیسے اہم عامل کو منفی نہیں کیا جا سکتا۔ گزشتہ تمام عرصہ میں عقل نے طاقتیں جمع کر کے باعث مجبوری، حسن زن یا سادگی میں انسانوں کی بجائے انسان نماؤں (جو محض اپنی جبلتوں کے غلام اور شعور سے قطعاً نا آشنا) کے حوالے کر دیں اور اپنا اور معصوم انسانوں کا نقصان کروایا۔ عقل کی حاکمیت اعلیٰ کا خواب یونانی فلاسفہ نے دیکھا جس کے حوالے افلاطون اور ارسطو کی تحاریر میں جا بجا دیکھے جا سکتے ہیں۔ نوع انسانی کی خوش قسمتی کہ عقل کی حکمرانی کی یہ تحریک آج بھی جاری و ساری ہے۔

پرانے تمام نظام مثالیت، مفروضوں اور دیومالا کی ”فکری اساس“ پر کھڑے نظر آتے ہیں دعوے، وعدے اور قسمیں ان کے بڑے حربے رہے ہیں۔ مستقبل کا عالمی نظام مادیت، سائنس اور انسان دوستی کی فکری اساس پر ہو گا۔ عمل اور ترسیل (delivery) اس کی اہم خصوصیات ہوں گی۔ ریاستیں اتھارٹی کی جگہ عوامی خدمت کو اپنا شعار بنائیں گی۔

ٓآج ہم ماڈرن فلاسفی اور بیسویں اور اکیسویں صدی کی سائنس کے دور میں جی رہے ہیں۔ اس دور کی دریافتیں یا ایجادیں انسان نما مخلوقات استعمال کرنا بھی چاہیں تو نہیں کر سکیں گی نتیجتاً زمینی وسائل اور اختیارات بہتر انسانوں کے ہاتھ منتقل ہو جائیں گے اور مثالیت، سامراجیت اور بدمعاشی پر مبنی نظام کا خاتمہ ہو جائے گا اور نوع انسانی ایک بہتر دور میں داخل ہو جائے گی۔

اس نئے نظام کا ممکنہ مرکز یورپ اور لاطینی امریکہ ہو سکتے ہیں۔ سامراجیت کے خلاف اور نئے ورلڈ آرڈر کے قیام کی سیاسی تحریکیں انہیں دو خطوں میں تگڑی نظر آتی ہیں۔

Facebook Comments HS