مسلم ممالک میں ترقی اور سیکولرازم
گزشتہ تین دہائیوں میں جو اسلامی ممالک معاشی، سماجی، تعلیمی اور سیاحتی لحاظ سے ابھر کر دنیا کے افق پر نمودار ہوئے ہیں ان میں ملائشیا اور ترکی سر فہرست ہیں، ان کے پاسپورٹ پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ٹھہرے، دنیا نے ان کو قدر کی نگاہ سے دیکھنا شروع کیا، بہت سے بین الاقوامی معاملات میں ان کی رائے ایک اہمیت رکھتی ہے۔
ان کے علاوہ خلیجی ممالک بھی اہمیت کے حامل ہیں، لیکن ان کی ترقی کی وجہ محنت سے زیادہ قسمت ہے، تیل نکلا، پھر انہوں نے خوب تیل نکالا اور اب تیل لگانا شروع کر دیا ہے۔
بنگلہ دیش جو کچھ دہائیاں پہلے انتہائی نامساعد حالات سے گزر رہا تھا اب معاشی ترقی کی جانب تیزی سے سفر جاری رکھے ہوئے ہے، نئی وزیراعظم نے اپنے ملک کے سیاسی نظام میں انقلابی تبدیلیاں کیں، معاشی ترقی کے لیے دنیا میں رائج جدید تقاضوں کو اپنایا۔
خوش قسمتی سے میں نے ان تمام ممالک کا تفصیلی سفر کر رکھا ہے، سوچنے کی بات یہ ہے کہ ان میں ایسا کیا ہے کہ انہوں نے ہر میدان میں اتنی تیزی سے ترقی کی ہے، بہت سارے مثبت فیکٹرز مل کر ترقی کی راہ ہموار کرتے ہیں۔
ہاں، ان تمام ممالک میں ایک چیز مشترک ہے، وہ ہے یہاں کا سیکولر نظام حکومت، ( گلف اور بنگلہ دیش میں نیم سیکولر، کچھ ممالک نے اسلام کو سرکاری مذہب قرار دے کر، ملک کے بیشتر قوانین سیکولر نظام حکومت سے مستعار لیے ہیں، تکنیکی اعتبار سے وہ بھی سیکولر ممالک ہی ہوں گے جبکہ دیکھنے میں آپ کو مذہبی نظر آئیں گے ) ۔
ان تمام ممالک نے سیاست میں مذہب کے استعمال کو سختی سے ختم کیا ہے، خلیجی ممالک میں تو ویسے ہی سیاست ڈکٹیٹر شپ کی وجہ سے خاندانوں کے ہاتھ میں ہے، وہاں یہ چیز اہمیت ہی نہیں رکھتی۔
مملکت خداداد پاکستان میں سیکولر ازم کو انتہائی غلط طریقے سے بیان کیا گیا، مذہب مخالف نظام حکومت بنا کر پیش کیا گیا، حتی کہ زیادہ تر پڑھا لکھا طبقہ بھی سیکولر ازم، سوشلزم، کمیونزم اور ایتھیسزم میں فرق کرنے سے قاصر ہے، یہ تمام چیزیں ایک دوسرے سے قطعی طور پر مختلف ہیں، اگر سیکولر ازم ایک غیر اسلامی یا غیر مذہبی نظام حکومت ہوتا تو یہ ممالک اور اس میں بسنے والے لوگ اسے قطعاً قبول نہ کرتے، یقیناً وہاں ہم سے کہیں بہتر مسلمان بستے ہیں جو اس نظام کو نہ صرف قبول کیے ہوئے ہیں بلکہ اس کے محافظ بھی ہیں۔
سیکولر ازم آج دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک میں رائج ہے (جن میں سیکولر ازم نہیں ہے وہاں نیم سیکولر ازم ہے ) ، آج کی تاریخ میں سعودی عرب بھی یہ بات سمجھ چکا ہے، اگر آپ سعودی عرب کا سفر کریں، مکہ اور مدینہ کے علاوہ سعودی عرب بدل چکا ہے اور نیم سیکولر ازم کی جانب تیزی سے گامزن ہے، شمال مغربی سعودی عریبیہ میں نیا بنایا جانے والا شہر جس کا نام ”نیوم“ ہے ( جو اپنے آپ میں ایک ریاست ہو گا) مکمل طور پر سیکولر (یا نیم سیکولر) قوانین کے تحت چلایا جائے گا۔
ہمیں شدید طریقے سے اپنے نیم ملا و نیم حکیم نظام میں موجود خامیوں کو ڈھونڈنا ہے، بدقسمتی سے ہمارے لوگوں کو جان بوجھ کر اندھیرے میں اور جدید تقاضوں سے دور رکھا گیا تاکہ ضرورت پڑنے پر بین الاقوامی طاقتیں بھیڑ بکریوں کی طرح مذہب کے نام پر ان کا استعمال کر سکیں۔
ہمارے نظام تعلیم میں ایسی خامیاں ڈال دی گئیں جو سوچنے والے دماغ پیدا کرنے کی بجائے دولے شاہ کے چوہے پیدا کر سکیں، چاروں جانب جہالت کی دیواریں کھڑی کر کے ہمیں فکری آئسولیشن کے ساتھ مذہب کے نام پر قید کر دیا گیا، عقائد کے نام پر ایسے نعرے دیے گئے جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں تھا، تاریخ ثابت کر رہی ہے کہ گزشتہ نسلوں نے آنے والی نسلوں کے ساتھ دشمنی کی، چند دنیاوی فائدوں کے عوض اپنی عاقبت کے ساتھ ہماری دنیا خراب کی۔
یاد رکھیے، کرہ ارض کی سب سے بڑی حقیقت (ایک فرد سے لے کر ملک تک) ہمیشہ سے اکانومی (معیشت) ہے، پنجابی کی ایک کہاوت ہے کہ
”جناں دے گھر دانے اونہاں دے کملے وی سیانے“
اگر معیشت ٹھیک ہوگی تو دنیا میں عزت ہوگی، آپ کی بات سنی جائے گی، رائے کی اہمیت ہوگی، ورنہ ”مانگت در مانگت“ ۔
آپ کے عقائد سے کسی کو کوئی سروکار نہیں، ہمیں ہمارے ”نیک اور پارسا“ اجداد نے جس ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا تھا وہ ٹرک بحیرہ عرب میں غرق ہو گیا، اب فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے، اس کے پیچھے غرق ہونا ہے یا ملائشیا اور ترکی کی سیانخ (Wisdom) کو اپنانا ہے۔


