کہرے والی سردی: انڈیا اور پاکستان کا بدلتا کلچر
جنوری 2024 کا تقریباً سارا مہینہ ہی کہرے والی سردی کے ساتھ گزر رہا ہے۔ کبھی دھوپ نکلی بھی تو بس تھوڑی دیر کے لیے ورنہ سورج کی شکل ہی نظر نہیں آتی کہ وہ ہے بھی یا نہیں۔ ایسے جیسے ہم ناروے کے Svalbard کے قریب ہی کہیں رہائش پذیر ہوں جہاں سال کے کچھ مہینوں میں نہ تو سورج نکلتا ہے اور نہ ہی دن ہوتا ہے ہاں رقص کرنے والی سبز روشنیوں کا نظارہ ہوتا ہے اور قطبی ریچھ کی چہل قدمی۔ میں نے سول بارڈ کی قطبی راتوں پہ یوٹیوب ویڈیوز دیکھی ہیں عجیب سی پراسراریت ہے وہاں۔
سردی بھی عجیب ہے کبھی تو ہڈیوں میں گھستی محسوس ہوتی ہے تاہم کبھی میرا دل کرتا ہے تو روح کو شانت کرنے کے لیے اس کہرے والی سردی میں بائیک کا رخ بہاول پور شہر سے باہر کی طرف کر دیتا ہوں۔ خراماں خراماں موٹر سائیکل چل رہا ہوتا ہے، سڑک کے اردگرد درختوں اور پودوں پہ نظر ڈالتا جاتا ہوں اور خود کو نیچر کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی کوشش کرتا جاتا ہوں۔ نیچر کے ساتھ ہم آہنگ ہوئے بغیر آپ روحانی سکون حاصل کر ہی نہیں سکتے چاہے تفریح کے کتنے ہی مصنوعی طریقے حاصل کر لیں۔ انسان کا دل فطری طور پر کائنات کے اجتماعی لاشعور کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔
آپ یہ نہ سمجھیں کہ یہ صرف انسان کا بنایا ہوا موبائل فون سیٹ ہے جو کینیڈا یا دنیا کے کسی بھی حصے میں بیٹھے آپ کے رشتہ دار کے ساتھ آپ کا رابطہ کرا دیتا ہے۔ آپ اپنے دل کو یونیورسل برین کے ساتھ جوڑیں اور پھر دیکھیں دور دراز کی خبریں آپ کے دل پہ اترنا شروع ہو جائیں گی جب بعد میں ان افراد سے ان باتوں کا تذکرہ کریں گے تو وہ خود ان کی تصدیق کریں گے۔ یہ مراقبہ کیا ہے؟ کائنات کے اجتماعی دل یا دماغ کہہ لیں، اس کے ساتھ خود کو جوڑنا۔ خیر۔
گلوبل کلائمیٹ چینجز آ نہیں رہیں آ چکی ہیں۔ گرم علاقے سرد اور سرد علاقے گرم ہونا شروع ہو چکے ہیں ایسے جیسے آسٹریلیا کے بارے میں سائنسدان کہتے ہیں کہ وہ آہستہ آہستہ ملائشیا کی جانب کھسک رہا ہے۔ لوگ تو دعوٰی کر رہے ہیں کہ انھوں نے صحرائے چولستان میں برفباری ہوتے دیکھی ہے جہاں صدیوں سے برفباری کا کوئی ذکر ہی نہیں ملتا تو کیا مستقبل قریب یا بعید میں بہاول پور میں بھی برفباری ہوا کرے گی؟
آج بائیس جنوری 2024 تک آنے والی اطلاعات کے مطابق اس بار مری اور نتھیا گلی میں ابھی تک باقاعدہ برفباری نہیں ہوئی جہاں اس موسم میں اس قدر برفباری ہو جایا کرتی تھی کہ راستے بند ہو جاتے اور لوگ گھروں میں محصور ہو جاتے تھے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس بار لاہور اور بہاول پور کا موسم مری اور گلیات سے زیادہ سرد جا رہا ہے۔ ہو سکتا ہے وہاں درجہ حرارت بہاول پور سے زیادہ کم ہو لیکن شدید اور ہڈیوں میں گھس جانے والی سردی کی جو فیلنگ پنجاب اور سندھ میں محسوس کی جا رہی ہے وہ غالباً روایتی سرد علاقوں میں محسوس نہیں کی جا رہی۔ خیر۔
جنوبی ایشیا کلائمیٹ چینجز سے گزر رہا ہے ساتھ ساتھ اس کا کلچر بھی تیزی سے بدل رہا ہے۔ پرانا اور روایتی کلچر شکست کھا رہا ہے اور نیا کلچر جسے آپ مغربی کلچر کہہ لیں یا سوشل میڈیا کی پیداوار کلچر کہہ لیں وہ اپنی گرفت مضبوط کر رہا ہے۔ پرانی روایات نہ صرف کمزور ہو رہی ہیں بلکہ مذہب بھی فرنٹ بینچ سے بیک بینچ کی طرف جا رہا ہے۔ آپ یہ تو نہیں کہ سکتے کہ لوگ لامذہب ہو چکے ہیں تاہم انڈیا اور پاکستان کے عوام میں مذہب کے ساتھ اب پہلے جیسی وابستگی نہیں رہی۔ براہ کرم، مذہب کے بارے میں یہ مشاہدہ ایک غیر جانبدار تجزیہ کے طور پہ لیا جائے اسے میرے جذبات سمجھ کر فتوٰی بازی نہ کی جائے۔ آپ چاہیں تو خود اپنے اردگرد اس حوالے سے صورتحال کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ خیر۔
تاہم ایک بات یقینی ہے کہ آپ مذہبی روایات سے جڑے رہیں یا نہ رہیں خدا کے ساتھ آپ کی روح کا تعلق کبھی بھی ختم نہیں ہو سکتا۔ آپ جب چاہیں اللہ کو اپنے دل میں اور اپنے بہت قریب محسوس کر سکتے ہیں۔ آپ کو اللہ سے اپنے رابطہ کے لیے کسی توسل یا وسیلہ کی کوئی ضرورت نہیں۔ بس اس پاک ذات کو محسوس کرنا شروع کر دیں آپ کو خود بخود احساس ہونا شروع ہو جاتا ہے کہ وہ بالکل آپ کے قریب بیٹھا ہے، آپ کو دیکھ رہا ہے اور آپ کو سن رہا ہے۔
چونکہ انڈیا، پاکستان اور جنوبی ایشیا کے تمام ممالک کا کلچر تبدیلی کے مرحلہ سے گزر رہا ہے تو اس صورتحال میں لوگ بے چینی اور پریشانی والی کیفیت بھی محسوس کر سکتے ہیں تو کون سے عوامل اپنانا ہوں گے جو اس ساری صورتحال میں آپ کو پرسکون رکھ سکیں۔
اس حوالے سے اکبر شیخ اکبر کا آپ کے لیے مشورہ ہے کہ ایک تو خود کو شانت رکھیں۔ جو ہو رہا ہے اسے روکنا آپ کے بس کی بات نہیں۔ کلچر کی تبدیلیوں میں اگر کوئی مثبت باتیں بھی سامنے آ رہی ہوں تو یہ اچھی بات ہے۔ آپ ان خودکار تبدیلیوں میں روحانی طور پر پرسکون رہنا چاہتے ہیں نا تو ایک تو خود کو مکمل ایماندار رکھیں۔ کسی قسم کی ہوس اور لالچ اپنے اندر پیدا نہ ہونے دیں۔ یہ جو جنوبی ایشیائی معاشروں میں کرپشن کا رجحان پایا جاتا ہے تو اس کے پیچھے یا تو لالچ ہوتی ہے یا عدم تحفظ کا احساس۔
آپ کے ہمسائے کو آپ سے کوئی تکلیف نہ پہنچے۔ یاد رکھیں جو لوگ اپنے ہمسائیوں کے لیے تکلیف کا سبب بن رہے ہوتے ہیں وہ قدرت کے ایک خودکار نظام کے تحت خود بھی بے سکونی اور پریشانیوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کسی کا حق نہ کھائیں۔ زیادہ کی لالچ نہ رکھیں۔ اپنے دستیاب وسائل میں ہی اپنے اخراجات کو منیج کریں۔ غصے اور جارحیت کو اپنے اوپر غلبہ نہ کرنے دیں۔ معاف کرنے والی طبیعت اپنائیں اور مثبت باتوں او ر مثبت سوچ کو فروغ دیں۔ کسی سے مذہب، زبان، ذات پات، رنگت اور برادری کی بنا پہ نفرت نہ کریں۔


