میاں ڈارون، بندر اور انسان
اس مضمون کے عنوان سے ہرگز یہ گمان نہ کیجیے گا کہ ہمارا یہاں اس مضمون پر طبع آزمائی کرنے کا مقصد ڈارون کے نظریہ ارتقاء سے متفق ہونا ہے۔ خدارا ہمارا ڈارون کے ساتھ مل کر کوئی ہم خیال سیاسی گروپ بنانے کا ارادہ نہیں ہے۔ ہر چند کہ ہمارا اس موضوع پر لکھنے کا مقصد ڈارون کے نظریہ ارتقاء کی روشنی میں ڈارون کی زندگی کا احاطہ کرنا ہے۔
ڈارون میاں کے حالات زندگی سے اندازہ تو یہ ہی ہوتا ہے کہ ڈارون میاں جس علاقے میں سکونت اختیار کیے ہوئے تھے وہاں بندروں کی بہتات تھی۔ میاں ڈارون خود تو انٹرورٹ تھے لیکن ہمیشہ سے ان کے من کو جنگل میں درختوں کی ٹہنیوں پر پھاندتے و شورو غوغا کرتے ہوئے ایکسٹروورٹ بندر ہی بھاتے تھے۔ بندروں کی لائبریری سے ملنے والی کتب اور بندروں ہی کے ایک عظیم دانشور اور تاریخ کے راقم کی تحقیق سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے۔ ایک دن بندروں کے ایک ایکسٹروورٹ سردار نے ڈارون میاں کا بندروں کے ساتھ لگاؤ دیکھ کر ان کو اپنی برادری میں شامل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ بندروں کے ساتھ ڈارون میاں کی اٹھان نے انہیں بالکل بندروں کا سا ہی کر دیا تھا۔
اگر وہ ان بندروں کے ساتھ دن کے اوقات میں درختوں پر کلکاریاں بھرتے اور وہاں بسنے والے انسانوں کے ہاتھوں سے چیزیں اچکنے کے فن پر عبور حاصل کرتے ملتے تو رات کہ اوقات میں بندروں کے پائے کے دانشوروں کے ساتھ ان کے افکار پر مکالمہ کرتے ہوئے پائے جاتے تھے۔
بندر، ڈارون میاں کو اپنے نظریات و افکار کے بارے میں اکثر آگاہی فراہم کرتے رہتے اور ڈارون میاں اس سلسلے کو خود آگاہی سمجھ کر جاری رکھتے تھے۔ ہر چند کے بندروں کا جنگل میں رہنے کا مقصد سوائے اپنی نسل کی بڑھوتی کے کچھ نہ تھا اور اس ہی مقصد کے حصول کے لئے پھر اچھے سے اچھا کھانا پینا تھا۔ پیشتر اوقات یہ بندر زندگی جیسی نعمت کا شکر بجا لاتے ہوئے درختوں پر پھاندتے اور کلکاریاں مارتے ہوئے نظر آتے۔ اس دوران ڈارون میاں بندروں کے ماہر و مشاق اساتذہ سے شہروں میں بسنے والے انسانوں کے ہاتھوں سے چیزیں اچکنے کے فن پر عبور حاصل کرتے رہے، یہاں تک کہ وہ اس چھینا جھپٹی کے فن میں خوب تجربہ کار ہو گے۔
ان بندروں کے نزدیک خدا کا رزق دینے کا وعدہ اور اس کے حصول کے لئے جائز کوشش اپنی جگہ مگر اس رزق کے حصول کے لئے چھینا جھپٹی بھی لازم و ملزوم تھی۔ بندروں نے ڈارون میاں کو یہ بھی باور کروا دیا تھا کہ اس عظیم مقصد کے حصول کے لئے کسی بھی قسم کی لوٹ کھسوٹ سے گریز نہ کیا جائے۔
ڈارون میاں کی زندگی میں ایک وقت ایسا بھی آیا کہ بندر ڈارون میاں کو اپنے ہی گھر کا فرد سمجھنے لگے اور انہیں گود لے لیا۔
اس اثنا میں بندروں کے عظیم دانشوروں اور ڈارون میاں کے درمیان کافی علمی بحث و مباحثوں کا انعقاد بھی کروایا گیا۔ جس کے توسط سے ڈارون میاں نے بندروں کو کافی مدلل دلائل کی روشنی میں قائل کرنے کی کوشش کی کہ انسان پہلے بندر تھا جو کہ بعد میں ایک ارتقائی عمل کے طفیل انسان بن گیا تھا۔ اس علمی نکتے پر بندروں نے ایک علمی اعتراض یہ اٹھایا کہ اگر واقع ہی انسان پہلے بندر تھا جو کہ ڈارون کے بقول بعد میں کسی ارتقائی عمل کے ذریعے انسان بن گیا تھا تو پھر ہم جیسے بندر کیوں آج تک بندر کے بندر ہی رہے گئے ہیں؟
اپنے پاس کوئی مناسب دلیل نہ ہونے کے باوجود بھی ڈارون میاں ہٹ دھرم ثابت ہوئے ان کی سوئی اس ایک نکتے پر ہی اٹکی رہتی تھی۔ جب ان کے پاس اس پر کچھ مناسب جواب نہ بن پایا تو انہوں نے ایک مفروضہ دے کر تمام بندروں کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ اس دور میں کچھ بندروں نے چند ناگزیر وجوہات کی بنیاد پر بندر ہی رہنے پر اکتفا کیا اور پھر اپنے اس فیصلہ پر ڈٹ گئے۔ وہ بندر اتنے ہٹ دھرم تھے کے آج تک بندر کے بندر ہی ہیں۔
بندروں نے ڈارون میاں کی لایعنی گفتگو پر دھیان نہ دیتے ہوئے اپنی رائے محفوظ رکھی کہ انسان اول روز سے ہی انسان تھا، ۔ ہاں مگر ان میں کچھ نامعقول ایسے بھی ہوئے کہ جن کو ان کی حرکتوں کی وجہ سے بندر گردانا گیا۔ بہرحال ڈراون میاں بھی اپنی جگہ پر ضدی تھے کہ پھر انہوں نے اپنے نظریہ ارتقاء پر قائم رہتے ہوئے بندروں ہی کے خاندان میں اپنا بیاہ رچا لیا تھا۔ بیاہ کے بعد ڈارون میاں نے اپنی باقی ماندہ زندگی ان بندروں کے درمیان رہتے ہوئے ہنسی خوشی بسر کی تھی۔
بازار میں خبر یہ بھی گرم ہے کہ ڈارون میاں کی باقی ماندہ نسل آج بھی انسانوں میں رہے کر یہی کام زور شور سے انجام دے رہی ہے۔ وہ اکثر خوخیانے کی آوازوں سے محظوظ ہوتے ہیں اس بات کے قطع نظر کہ یہ خوخیانے کی آوازیں انسانوں کی سماعت کے پر کس قدر ناگوار گزرتی ہیں۔
خبر تو یہ بھی ہے ڈارون میاں کی باقی ماندہ نسل اب انسانوں کو بولنے سے روکنے کے لئے اس ہی قسم کے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ کبھی کہیں کچھ جگہوں پر آپ کو ٹیں ٹیں اور قیں قیں کرتے ہوئے نظر آجائیں۔ جناب ان سے بحث و مباحثہ کرنے کی ہرگز کوشش نہ کیجیے گا۔ جناب ان کو تو یہ فن تنقید و بحث مباحثہ بندروں سے وراثت میں ملا ہے سو ان کو تو اس پر عبور حاصل ہے۔ اب انسانی کان بھلا اتنی فریکوئنسی کی تاب کہاں لا سکتے ہیں۔
جناب ہماری مانیں تو نہ ان کی دوستی اچھی نہ ہی ان کی دشمنی اچھی کہ یہ اچکنے کے فن میں اتنے مشاق ثابت ہوئے ہیں کہ آپ کے پاس سے عقل و شعور ہی اچک کر لے جائیں اور آپ کو احساس تک نہ ہو۔ یہاں اس بات کا بھی بہت احتمال موجود ہے کہ کچھ لوگ میرے ڈارون کے نظریہ ارتقاء سے متفق نہ ہونے کے سبب مجھ سے خفا ہوں اور کچھ تو مجھ سے اس قدر نالاں ہوں کہ وہ مجھ پر تنقید کے نشتر ہی لئے کر چڑھ دوڑیں۔ میرا یہاں پر ان تمام حضرات سے سوال ہے کہ بھائی جب ڈارون میاں کو ہی اپنے بندر ہونے پر کوئی اعتراض نہیں تھا تو آپ کو کیوں ہے؟
اگر ڈارون میاں کا اعتراض کہیں موجود ہے تو مجھ سے لازماً شیئر کریں تاکہ میں اپنے لکھے ہوئے مضمون سے رجوع کر سکوں۔


