ایکس وائف کے نام کھلا خط
ایکس وائف کے نام کھلا خط
ملتان روڑ لاہور
23۔ جنوری 2024
عزیز من، جان ایمن!
السلام علیکم!
میں خیریت سے ہوں، امید ہے آپ بھی خیریت سے ہوں گی۔ آپ سے رسم و راہ جدا کیے ایک زمانہ بیت چکا، اس کے باوجود ذہن و روح میں آپ کی موجودگی کا احساس رقصاں ہے۔ گزشتہ برس سے ہنوز سال کے اواخر تک آپ سے جدا ہو جانے کی جملہ واردات خود ساختہ جبری مشقت کے کوہ گراں تلے دبی دبی سسکی سسکی محسوس ہوئیں۔ محبت بھی ایک عجب چیز ہے۔ یہ کم بخت جس شخص سے ہو جائے، فقط اسی کا ہو، رہو پر مجبور کیے رکھتی ہے۔ میرے ذہن و قلب اور روح کے نہاں خانوں میں آج بھی آپ کا سراپا اپنی تمام تر جولانیوں اور تمازتوں کے ساتھ جلوہ گر ہے۔
میں ایک عجیب شخص ہوں۔ اوپری دل سے سیکڑوں محبتیں کی ہیں لیکن دل کی اتھاہ وادی کے پنہاں گلستان ارم میں کسی کو جھانکنے بھی نہیں دیا۔ جب آپ سے ایک نسبت گونہ طے ہوئی اور آپ نے میرے گھر میں قدم رکھا تو فرط مسرت سے میں نے اپنے دل کے گلستان ارم کو آپ کی سکونت کے لیے وقف کر دیا۔ تب سے اب تک آپ ہی اس باغ ارم میں سکونت پذیر ہیں۔ اگرچہ اب ہمارے درمیان کوئی تعلق، رشتہ اور نسبت کا پہلو باقی نہیں رہا، اس کے باوجود یہ گلستان ارم آپ کی ملک ہے اور رہے گا۔
ہمارے بدن کے مخلوط اتصال سے ایک وجود نے جنم لیا ہے جو اپنی بہار جاں فزا کے عین اوج پر ہے، اللہ اس مہ جبیں کو مزید اوج کمال عطا کرے اور اس کی راہ کے سبھی خار میری آنکھوں کا نگیں بنا دے (آمین) عزیز من! زندگی خوبصورت ہے اور اسے خوبصورت ہی رہنا ہے، یہ جوان مٹیار سر راہ شباب لوٹتی ہے، اپنے کوچہ میں قدم دھرنے والے رئیس کو قلاش کر کے خروج کا راستہ دکھاتی ہے۔ زندگی کے جانے کتنے رنگ، انداز ہور اطوار ہیں۔ اس کی نیرنگیوں اور بو قلمونیوں کو آج تک کوئی نہ سمجھ سکا۔
اس کے طلسم میں جو بھی آیا سر تا پا غرق پایا۔ زندگی چند روزہ ہونے کے باوجود طولانی حیات کا قصہ لایعنی بن کر رہ جاتی ہے ؛ اس کا حسن اپنے اندر ایسی غضبناکی لیے ہوئے ہے کہ اس کی دید لیے ہر پتنگا جل بھن کر اس کے سامنے تڑپ تڑپ کر جان کھو دیتا ہے اور اس کی خسروانہ انانیت میں سر مو فرق نہیں آتا۔ دنیا ایک آزمائش کدہ ہے، جہاں کوئی کسی کا نہیں ہے، یہاں ہر کوئی ہر کسی کے لیے آزمائش ہے۔ کسی کو کسی کی پروا نہیں ہے۔
یہاں کے باسیوں نے محبتوں، چاہتوں، عقیدتوں، منافرتوں، کدورتوں، مناقشوں اور آلاموں کے عذاب مول لے رکھے ہیں۔ خواہشوں کے اس جنگل میں شب و روز آرزوؤں کے خون ہوتے ہیں۔ یہاں محبت کو دار پر چڑھایا جاتا ہے اور نفرت کو پذیرائی کا ہار پہنایا جاتا ہے۔ اداسیوں، تنہائیوں، ارزانیوں، بدمعاشیوں اور جگ ہنسائیوں کے یہ طلسم کدے انسان کو ورطہ حیرت میں ڈالے ہوئے ہیں۔ خوبصورتی، بد صورتی، اچھائی، برائی، نیکی، بدی، گورا، کالا، رئیس، مقہور اور اس سے متصف ہزار ہا تصورات زیست ہیں جن نے انسان کے معصوم، کومل اور نرمل دل کو زخم زخم کر ڈالا ہے۔
مزے کی بات تو یہ ہے کہ ان زخموں کو کریدنے والے ہزاروں مل جاتے ہیں اور پھاہا رکھنے والا ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتا۔ ہمارا ساتھ فقط یہی تھا کہ ہم دونوں نے اس ازدواجی تعلق کے توسط سے عمر بھر کے عذاب مول لیے۔ ہم بھی زمانے کی چال میں آ گئے اور دنیا ہی کو اپنے دل میں بھرنے کی خواہش کا سامان کرتے رہے۔ یہ خواہش ایسی ناہنجار ہے کہ اس کے طلسم کی اسیری سے بادشاہ نہ بچ سکے تو ہم کس باغ کے نونہال تھے کہ ان آلام سے خود کو بچا پاتے۔
فیصلہ جتنا سنگین ہوتا ہے، ردعمل اتنا ہی جاں گداز ہوتا ہے۔ دو برس کا یہ ساتھ ایک خوشگوار اور دل پذیر احساس کے ساتھ یوں ختم ہوا کہ رنجشوں کا ایک لا متناہی سلسلہ چھوڑ گیا۔ ندامت و پشیمانی کی اس دیوار قہقہہ کو اب ہم چاٹ تو رہے ہیں لیکن کبھی یہ ختم نہیں ہو گی۔ حیرت ہوتی ہے کہ ان لوگوں پر جو اپنے تئیں خود کو تیس مار خان سمجھتے ہیں اور اپنے نفس کی چال میں آ کر اپنے ہاتھوں خود کو تباہ کر لیتے ہیں۔ ان معصوم، لاعلم اور شعور سے عاری لوگوں میں سرفہرست ایک میں بھی ہوں جس نے کمال ہوشیاری سے خود کو پورا مرد ثابت کرنے کے لیے ہر وہ حربہ اور حیلہ آزمایا جس کا ردعمل آپ کی ہرزہ سرائی اور اعلان بغاوت کی صورت دیا۔
اس یدھ میں دنیا جیت گئی اور ہم ہار گئے۔ ہماری ہار کو دنیا نے جشن کے طور پر منایا اور ہم خون کے آنسو بہا کر وقت کے جبر کے آگے سپر ڈال کر اپنی بربادی کا تماشا دیکھتے رہے۔ یہ تماشا بھی عجب چیز ہے۔ انسان، انسان کا دشمن ہوتا ہے، یہ سبھی کہتے ہیں، انسان، انسان کے لیے مسیحا بھی تو ہو سکتا ہے، یہ کہتا کوئی نہیں ہے مگر اس کی خواہش ہر کوئی کرتا ہے۔ آپ کے ساتھ گزرے وقت کی یادیں، باتیں اور شب و روز کی ملاقاتیں سرمایہ حیات ہیں۔
محبت کی تلاش میں ہم دونوں ایک مس میچ یعنی غلط انتخاب کے آلام میں گرفتار ہوئے۔ ہمارے درمیان کچھ بھی موافق نہ تھا، مخالف اور متضاد عناصر و لوازم کا ایک جہان تھا جس کی آوارگی نے ابتداً ہمارے پاؤں شل کر دیے اور ہم مزید آگے بڑھنے کا حوصلہ ہار اپنی اپنی راہ کو ہو لیے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ خاموشی سے نہایت سلیقے سے ایک دوسرے سے جدا ہوتے تو سر راہ ملتے ہوئے پشیمانی نہ ہوتی، نظر چرا کر اجنبی سا بن کر پاس سے گزر جانے کی خجالت کا یوں سامنا نہ کرنا پڑتا۔
انسان کے اختیار میں بہت کچھ ہونے کے باوجود بے اختیاری کی بے بسی کا سلسلہ ہائے دراز ہوتا ہے جس کی پیمائش کا تعین انسانی بساط سے باہر کی چیز ہے۔ محبت کی تلاش ایک دراصل خواہش کا سراب ہے اور اس سراب نما خواہش کے حصول کے لیے کسی مجسم سراپے کو جز وقتی پا لینا اصل محبت کے حاصل کا ثمرہ نہیں ہو سکتا۔ محبت کی اصل معراج مخلوق کی خالق کے وجود میں مدغم ہوجانا ہے اور یہ رتبہ بہت کم خوش نصیبوں کا مقدر ٹھہرتا ہے۔
انسان بڑا بھولا، معصوم اور تجاہل پرست ہے، اس کے ہاتھ موتی آ جائے تو کوڑی کا آنک کر سر راہ رکھ دیتا ہے جبکہ کوئلے کو نگیں سمجھ کر اس کی فروزنی کا ایسا اسیر ہو تا ہے کہ کسوٹی کے جملہ معیارات کو تج دیتا ہے اور اپنی تئیں اس کے انمول ہونے کی ضد پر مصر رہتا ہے۔ قصہ مختصر یہ کہ ہم نے ایک دوسرے میں ایک مثالی شخص کو تلاش کرنے کی کوشش کی جسے باوجود کوشش کے ہم تلاش کرنے میں ناکام رہے۔ اس رشتے کی ناکامی کا ذمہ دار ہم میں سے کوئی ایک نہیں بلکہ ہم دونوں ہیں اور اس ناکامی کا زیادہ حصہ ہماری خواہشوں کی بے لگام شوریدہ مزاجی کے سر جاتا ہے۔ اب ہم چاہ کر بھی ازلی فرقت کی اسیری سے رہائی نہیں لے سکتے کہ زمانے کا یہی دستور ہے۔
اپنا خیال رکھنا اور مجھے بھلا دینے کی کوشش میں غرق رہنا
والسلام
رنجور و مغموم و خاکسار
فقط اک شخص ناپائدار

