”غیبی امداد“ اور مولانا فضل الرحمٰن


ایک نارمل اور محنت مزدوری کرنے والے شخص سے جب یہ پوچھا جاتا ہے کہ آپ کا ذریعہ معاش کیا ہے؟

تو وہ فوراً سے جواب دے گا کہ وہ ایک دیہاڑی دار مزدور ہے، ریڑھی لگاتا ہے، اینٹوں والے بھٹے میں کام کرتا ہے یا کسی فیکٹری یا مل وغیرہ میں مزدوری کر کے اپنا اور بچوں کا پیٹ پالتا ہے۔ وہ پلٹ کر کبھی یہ نہیں کہے گا کہ اس کا ذریعہ معاش کسی ”غیبی امداد“ پر چلتا ہے یا فرشتے اسے من و سلویٰ پہنچاتے ہیں۔

آج کی دنیا میں اگر کوئی شخص اس طرح کا ماورائی سا دعویٰ کرتا ہے تو اس کی ذہنی صحت پر درجنوں سوالات اٹھیں گے اور سننے والے ہنسیں گے کہ ایسا بھلا کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک بندہ کچھ بھی نہ کرتا ہو پھر بھی اربوں کھربوں کا مالک بنا بیٹھا ہو، درجنوں لگژری گاڑیوں کا مالک ہو اور جب وہ کہیں منہ کرے تو اس کے آگے پیچھے درجنوں حفاظتی گاڑیوں کا قافلہ چلے اور اگر کوئی ذی شعور ایسے شخص سے اس کا ذریعہ آمدن پوچھ لے تو وہ ہنستے ہوئے آ گے سے یہ کہے کہ اس کا ذریعہ معاش تو غیبی امداد ہے۔

صاف ظاہر ہے بندہ بڑا شاطر ہے اور وہ اس سوال کی حقیقت کو خوب جانتا اور سمجھتا ہے اور اسے بڑے اچھے سے پتا ہے کہ جب اس سوال کی گرہیں کھلیں گی تو تجوری کے تانے بانے کہاں جا کر جڑیں گے؟

باتیں حلال و حرام اور جائز و ناجائز سے تو بہت آگے نکل جائیں گی۔
ذریعہ معاش والا سوال گزشتہ دنوں جگنو محسن نے ایک ٹی وی پروگرام میں مولانا فضل الرحمن سے پوچھ لیا۔

مولانا پہلے تو سٹپٹائے، کیمرے کی طرف دیکھتے ہوئے تھوڑا سا مسکرائے اور پھر ناکام سی سنجیدگی کو اپنے چہرے پر طاری کیا اور دنیا سے بے رغبتی کی اداکاری کرتے ہوئے فرمانے لگے
” میرا ذریعہ معاش تو غیبی امداد ہے“

جگنو نے پلٹ کر پوچھا کہ پھر یہ اتنی دنیاوی چمک دمک، گاڑیاں، گھر اور جائیدادیں کہاں سے آئیں؟
تو مسکرا کر کہنے لگے کہ میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے اور جو تھوڑا بہت ہے بھی وہ سب جدی پشتی ہے۔

اب واضح یا دکھائی دینے والے ذریعہ معاش کی تو چھان بین یا جانچ پڑتال ہو سکتی ہے بھلا مخفی نذرانوں، غیبی امداد یا من و سلوی کا کھرا کیسے لگایا جا سکتا ہے بھائی؟

مولانا نے شاطر دماغی کا کمال مظاہرہ کیا اور تمام تر تفتیشی راستے ہی بند کر ڈالے اور کہا ”بھائی مجھے تو جو ملتا ہے غیب سے ملتا ہے“

اب غیب تک پہنچنے کی کون ہمت کرے اور کس کی رسائی ممکن ہو سکتی ہے؟

غیبی راستوں پر بھی تو یہی ہستیاں براجمان ہیں اور خود کو غیب کا مستند نمائندہ بھی سمجھتے ہیں، اسی ماورائی نسبت کی وجہ سے ہی تو کوئی ان سے سوال پوچھنے کی جرات نہیں کر سکتا۔

مولانا فضل الرحمٰن کو پاکستان میں ایک زیرک ”مذہبی سیاستدان“ کے طور پر جانا جاتا ہے، حالانکہ مذہب اور سیاست کا آپس میں کوئی جوڑ نہیں بنتا۔ سیاست دنیاوی فہم کا علم یا فن ہے جبکہ مذہب کا تعلق الوہیت سے ہے جس کی بنیادیں ایمانیات پر کھڑی ہوتی ہیں اور مذہب میں دنیا کو مردار یا نجس کہا گیا ہے اور اس کے طالب کو کتے سے تشبیہ دی گئی ہے۔

اس لیے دینی فہم رکھنے والے کو مذہبی عالم اور سیاست کا فہم رکھنے والے کو سیاستدان کہا جاتا ہے۔

سیاست امکانات کی دنیا ہے، جس میں ساکن، جامد یا فکس کچھ نہیں ہوتا، انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین پر جرح کی جا سکتی ہے ان قوانین کو بدلتے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بار بار تبدیل کیا جا سکتا ہے اور انسانی فہم و فراست پر کھلے دل سے شک و شبہ کا اظہار کیا جا سکتا ہے اور اس بنیاد پر آپ کو سیاست کے میدان سے بے دخل نہیں کیا جا سکتا اور نا ہی کوئی سیاسی پنڈت آپ پر سیاست سے روگردانی یا توہین سیاست کا کوئی فتویٰ لگا سکتا ہے۔

چونکہ سیاست میں حق ملکیت کا کوئی چکر ہی نہیں ہوتا، آپ تھوڑے بہت پڑھے لکھے ہیں، سیاسی سوجھ بوجھ رکھتے ہیں اور آپ کو ایسا لگتا ہے کہ آپ اپنی فہم و فراست سے عوام کی خوشحالی میں اضافہ یا ان کے دکھوں کا کسی حد تک مداوا کر سکتے ہیں تو بلا جھجک سیاست کے میدان میں داخل ہو سکتے ہیں کوئی قدغن یا سرٹیفکیٹ کی ضرورت ہی نہیں ہے صرف عوامی تائید ہی کافی ہے۔

مذہب اجارہ داری کا چکر ہے اور ہر مذہبی عالم ”میں اور میری“ سے اپنی بات کا آغاز کرتا ہے اور اس میں لچک کوئی گنجائش موجود نہیں ہوتی اور جو عالم ہوتا ہے اسی کی اجارہ داری ہوتی ہے ایک عام بندے کو دین کے معاملے میں کوئی بات کہنے یا اپنی رائے دینے کا قطعاً کو اختیار نہیں ہوتا اور اگر کوئی جرات کر لے تو گستاخی کا فتویٰ تیار ہوتا ہے۔

مذہبی معاملات میں سیاست کی طرح کا کوئی بندوبست نہیں ہوتا، یہ اصول و ضوابط کے لحاظ سے بے لچک، جامد یا فکس ہوتا ہے اور اس کے دائرہ کار میں جو کچھ بھی ہوتا ہے اس پر کوئی سوال نہیں کیا جا سکتا۔

بلکہ ایمان کی پختگی یا کامل ہونے کا دار و مدار ہی اس یقین با اعتقاد پر ٹکا ہوتا ہے کہ جو جتنا تسلیم و رضا کی گہرائی میں اترے گا اتنا ہی کامل و اکمل کہلائے گا۔

اسی ماورائی طاقت کے سہارے جب کوئی مولانا سیاست کے میدان میں داخل ہوتا ہے تو وہ کوئی دین کی خدمت یا سر بلندی کا فریضہ سر انجام نہیں دے رہا ہوتا بلکہ اپنی دنیاوی طاقت اور چمک دھمک میں اضافہ کر رہا ہوتا ہے، دین کا دنیاوی چمک دھمک سے بھلا کیا واسطہ؟

اگر دین کی وجہ سے آپ کا بزنس دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کر رہا ہے تو پوچھنا تو بنتا ہے نا!

بھائی یہ کون سا من و سلویٰ یا غیبی امداد ہے جو صرف آپ ایسوں کے حصے میں آتی ہے اور آپ کی امامت میں نمازیں پڑھنے والے غریب غرباء جو آپ کے ساتھ دعاؤں میں آمین بھی کہتے رہتے ہیں ان کا طرز زندگی یا معیشت بہتر کیوں نہیں ہو پاتی؟

کیا ان کے خالق یا آپ کی خالق کے بیچ کو فرق ہے؟
یا آپ کے خالق نے آپ کو کوئی خاص ڈسکاؤنٹ پیکج دے رکھا ہے؟

جس دین کے دامن سے لپٹ کر آپ کی دنیا نکھر جاتی ہے ایک عام مذہبی انسان بھی تو اسی مذہب کا ہی نام لیوا ہوتا ہے ان کی زندگیوں میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی کیوں نہیں آتی؟ جگنو کو مولانا سے یہ پوچھنا چاہیے تھا کہ سرکار ہمیں بھی کوئی ایسی دعا یا وظیفہ دان کر دیں جس کی بدولت ہمیں بھی غیبی امداد تک رسائی حاصل ہو سکے اور ہمیں بھی کوئی ایسا ماورائی سا چولہ پہنا دیں جسے پہن کر ہم بھی آپ کی طرح کے بن جائیں نا کوئی جواب دہی کا ڈر اور نا ہی ذریعہ معاش بتانے کا جھنجھٹ۔

بیچارے عوام کو بھی کوئی ایسا فارمولا بتا دیں کہ آپ کی طرح سے اپنی عاقبت کو تباہ کیے بغیر اور اپنے دامن کو دنیا کے تمام تر پلیدگیوں سے محفوظ رکھتے ہوئے اپنے بینک بیلنس، رنگ برنگی گاڑیوں، کوٹھیوں اور زمینوں میں اضافہ کر سکیں۔

ہمیں بھی دین کا کوئی ایسا پاٹھ پڑھا دیں جسے پڑھ کر ہم بھی ہر بننے والی حکومت سے اپنے حصے کا شیئر حاصل کر سکیں اور بنا حکومت کے حکومتی پروٹوکول، سہولیات اور آسائشیں حاصل کر سکیں۔

Facebook Comments HS