چوروں سے بات چیت کے لئے تیار
چھوڑوں گا نہیں، کسی کو این آر او نہیں دوں گا، دہشت گردوں سے بات تو کر سکتا ہوں ان چوروں، ڈاکوؤں سے بات نہیں کروں گا۔ ایسے کئی ڈائیلاگز عمران خان نے بطور وزیراعظم بولے۔ عمران خان 45 ماہ وزیراعظم رہے لیکن ایک بار بھی اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سے ملاقات کرنا تو دور کی بات پارلیمنٹ میں آتے جاتے ہاتھ ملانا بھی مناسب نہ سمجھا۔ نواز شریف کو عجیب و غریب ناموں سے مخاطب کرتے رہے۔ جس نواز شریف کو ملک سے خود باہر جانے کی اجازت دی اس کو پھر بھگوڑا کہہ کر بھی مخاطب کرتے رہے۔
یہاں تک کہ نواز شریف کی بیماری کا بھی مذاق اڑاتے رہے جبکہ شوکت خانم ہاسپٹل کے ڈاکٹر فیصل سلطان اس وقت کی پنجاب کی وزیر صحت یاسمین راشد اور سروسز ہسپتال کے ایم ایس ایاز محمود کی میڈیکل رپورٹس دیکھنے کے بعد عمران خان نے خود تسلیم کیا نواز شریف کی طبی حالت بہت تشویش ناک ہے اور ان کو علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت ملنی چاہیے۔ پھر اسی نواز شریف کی بیماری کا عمران خان سمیت ان کی پوری جماعت نے مذاق اڑایا جو کہ آج کے دن تک بھی سلسلہ جاری ہے۔
یہی کچھ کلثوم نواز کی بیماری کے وقت کیا گیا۔ وقت کی ستم ظریفی دیکھیں وہی عمران خان آج نواز شریف سے بات کرنے کے لیے تیار ہے۔ جب اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے عمران خان کو میثاق معیشت کی آفر کی عمران خان کی جانب سے اور مراد سعید نے اس کو این آر او کا نام دیا۔ اچھا یہ بھی یاد رہے جس وقت شہباز شریف نے یہ آفر کی تھی وہ تازہ تازہ جیل سے رہا ہو کر نکلے تھے کیونکہ 2018 کے ضمنی الیکشن کے فوری بعد نیب نے شہباز شریف کو دوبارہ گرفتار کر لیا تھا۔
اس کے باوجود بھی شہباز شریف نے پارلیمنٹ میں آتے ہی عمران حکومت کو میثاق معیشت کرنے کی کھلی آفر کی تھی۔ اس وقت کی پوری اپوزیشن نے شہباز شریف کی تجویز کو کھلے دل سے تسلیم کیا تھا لیکن عمران حکومت اس کو پھر این آر او کا نام دے رہی تھی۔ آج وقت بدل چکا ہے طاقت کا توازن بھی تبدیل ہو گیا ہے ٹیبل ٹرن ہو گئے ہیں عمران خان جیل میں ہے نواز شریف، شہباز شریف، آصف زرداری آزاد ہیں ان تینوں میں سے کوئی بھی عمران خان سے بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
عمران خان نے آصف زرداری کو بندوق کی شست پر رکھا بس یہ بھی آپ کو یاد ہو گا جبکہ موجودہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر، جنرل ندیم اور میجر جنرل فیصل نصیر کے متعلق عمران خان جو ریمارکس جلسوں اور اپنی تقریروں کے درمیان دے چکے ہیں وہ بھی ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ سسٹم میں موجود کوئی بھی شخص آج عمران خان کے ساتھ بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہے کیونکہ ان سب کو معلوم ہے عمران خان موقع پرست آدمی ہے جب مشکل میں ہوتا ہے یا جب اس کو کسی کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ قدموں کو ہاتھ لگاتا ہے جب آزاد ہو تو گلے کو پڑتا ہے، یہ عمران خان کا بہت پرانا مشغلہ ہے۔
عمران خان کو یہ بھی نظر آ رہا ہے کہ اس پر جتنے سنگین نوعیت کے کیسز ہیں اگر ان کے فیصلے آتے ہیں تو اس کی جیل بھی لمبی ہو سکتی ہے۔ اس کے تمام مخالفین آزاد ہیں پرسکون ہیں۔ پھر وہ مشکلات میں پھنسے ہوئے شخص کے ساتھ کیسے بات چیت کریں گے کیونکہ جب عمران مزے میں تھا وہ کسی کے ساتھ بھی بات کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ پاکستان کو آج متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ پاکستان جن اندرونی بیرونی مسائل میں گرا ہوا ہے ان کا مقابلہ متحد ہو کر ہی کیا جا سکتا ہے۔ اس وقت تحریک انصاف کی جو قیادت دستیاب ہے موجودہ سیاسی قیادت کو ان کے ساتھ مل کر گرینڈ ڈائیلاگ کرنا چاہیے کیونکہ بات چیت سے ہی مسائل حل ہوتے ہیں لڑائی جھگڑے مسائل کو بڑھاتے ہیں۔


