ایرانی شمال کا شہر ماثال


muhammad taqi kuldan

بندر انزلی میں رات کو ہم ٹھہرے۔ صبح ناشتہ کرنے کے بعد ہمیں ماثال جانا تھا۔ چنانچہ صبح سویرے ہم نے ماثال جانے کی تیاری کی۔ سب سے پہلے ہم نے فیصلہ کیا کہ ماثال جو کہ ایک پر فزا مقام ہے، وہاں سیر کے ساتھ پک نک بھی کریں گے۔ اس لیے ہم ایک مارکیٹ میں گئے۔ پک نک کے تمام لوازمات خریدے۔ ان لوازمات میں برتن، پتیلی، پکنک کے لئے چولھا، فروٹ، مرغی، چاول، اور باقی ضروری چیزیں تھیں۔ جب ہم یہ سامان خرید رہے تھے دکان کے باہر ایک بوڑھا شخص بیٹھا ہوا تھا۔

انہوں نے حال چال پوچھنے کے بعد ہم سے پوچھا کہ آپ کو شمال کیسا لگا؟ ہم نے کہا کہ یہ جنت نذیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں ابتدا سے یہی رہتا ہوں۔ یہاں ہر چیز خوبصورت ہے، بارش وقت پر ہوتی ہے، برف باری سال میں متعدد بار ہوتی ہے، یہاں فروٹ وافر مقدار میں پیدا ہوتی ہے، ہر طرف ہریالی ہی ہریالی ہے، آپ کو اس علاقے میں بہترین پوائنٹ ملیں گے جس کو دیکھ کر دل نہیں بھرتا، جی چاہتا ہے کہ بس یہ علاقے دیکھتا رہوں۔ لیکن ایک چیز کی کمی ہے۔ لوگوں کے پاس روزگار نہیں ہے۔ بے روزگاری عام ہے۔ اور غربت بھی یہاں ہے۔

بہرکیف پک نک کے تمام لوازمات لے کر ہم روانہ ہوئے۔ ہماری منزل ماثال تھا۔ ماثال میں گنے و سرسبز جنگلات، آسمان کی بلندیوں کو چھوتے درخت، قدرتی آبشاریں، غاریں، جنگلی جانور اور دوسری بہت سی حسین چیزیں ہیں جس کی وجہ سے قدرتی نظاروں سے لطف اندوز ہونے کے لیے سیاحوں کی آمد و رفت کا سلسلہ یہاں ہمیشہ جاری رہتا ہے۔

اس شہر کی مساحت 622 کلومیٹر مربع میٹر ہے اور اس کی آبادی 50 ہزار افراد پر مشتمل ہے۔ یہاں پر بسنے والے لوگوں کی زبان ”تالشی“ ہے۔ یہ لوگ بے حد مہمان نواز ہیں اور ان سے جس قدر بھی ممکن ہو باہر سے آنے والے سیاحوں کے ساتھ تعاون کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

یہ شہر اپنے قدرتی اور طبیعی حسن کی وجہ سے سیاحت کا مرکز ہے۔ اس شہر میں قدرتی کشش کے علاوہ تاریخی آثار بھی موجود ہیں جن کی وجہ سے سیاح یہاں کا رخ کرتے ہیں۔ تاریخی مقامات میں کول نامی قلعہ، شہر گاہ، دورہ اشکانی کا قبرستان، درہ خون، قدیم علاقے خندیلہ پشت، پیلاقی درا، النزہ اور رحیمی خاندان کی قدیم عمارتیں شامل ہیں۔

یہ شہر بلند آبشاروں کی وجہ سے بھی کافی مشہور ہے۔ ییلاقی النزہ کے علاقے میں واقع ویوز نامی آبشار، 15 میٹر سے بھی بلند آبشار خون، آبشار تولی نساء اور آبشار رامینہ یہاں کی مشہور آبشاریں شمار ہوتی ہیں۔

اس علاقے میں تقریباً 17 غاریں دریافت ہوئی ہیں جن میں سب سے اہم اور بڑی غار آویشو ہے۔ یہ 22 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس غار کا دھانہ 15 میٹر بلند اور دھلیز 50 سے 30 میٹر ہے۔ رودخانہ خالکایی کے قریب واقع پارک ساحلی ماسال بھی سیاحت کے لیے ایک اچھا مقام ہے جہاں اکثر لوگ پورا دن تفریح کی غرض سے گزارنے آتے ہیں۔

13 جولائی 2023 اس وقت مقامی وقت کے مطابق صبح کے سات بجنے کو ہیں۔ اس وقت میں شمال کے بندر۔ میں ایک روستا بنام آسالم میں رکے ہوئے ہیں۔ آسالم میں ہم نے ایک رات کے لئے ایک گھر کرایہ پر لیا ہے۔ اس گھر کی دو منزلیں ہیں۔ نیچے ایک کمرہ، واش روم، کچن اور بڑا ہال ہے۔ اوپر دو کمرے، ایک اسٹور، اوپن کچن اور ایک ہال ہے۔ اس گھر کا کرایہ دو ملین تمن ایک دن اور رات کا مقرر ہے۔ گھر سادہ لیکن آرام دہ بیڈوں پر مشتمل ہے۔ رات کو 9 بجے ہم آسالم پہنچے۔ آسالم میں جس گھر میں ہم رہ رہے ہیں، اس کے سامنے میٹھے پانی کا نہر ہے۔ اس نہر میں بطخیں تیر رہی ہیں۔ کل صبح ہم مثال گئے تھے۔ اور رات گئے آسالم میں آئے ہیں۔

بندر انزلی سے کل صبح ہم پک نک منانے ماثال گئے۔ ماثال ایک پر فزہ مقام تھا۔ ماثال جہاں پک نک منانے کے لئے ہم جا رہے تھے، پہاڑوں کے اوپر بہت دور تک ہے۔ گاڑی تقریباً ایک گھنٹہ پہاڑوں پر چڑھتا گیا۔ پہاڑ پر لوگ اپنے گاڑیوں سے اوپر جا رہے تھے، گاڑیوں کی تعداد اچھی خاصی تھی۔ مختلف جگہوں پر لوگ اپنے گاڑی میں میوزک لگا کر ناچ رہے تھے۔ ماثال میں ایران کے ہر علاقے کے لوگ موجود تھے۔ ہم سب سے پہلے پہاڑوں پر بہت اوپر گئے۔

جیسے جیسے آپ اوپر کی جانب جاتے ہیں۔ موسم سرد ہونا شروع ہوتا ہے۔ اور جولائی کا مہینہ ہمارے علاقے مطابق دسمبر لگتا ہے۔ دن کے وقت اندھیرے کا ساماں ہوتا ہے۔ بادل آپ کے بالکل قریب آ جاتے ہیں۔ بہت اوپر جاکر ہم واپس اپنے پک نک پوائنٹ پر آئے۔ ہمارے ارد گرد بہت ساری فیملی پک نک منا رہے تھے۔ ہم سے تھوڑے فاصلے پر ایک فیملی دو گاڑیوں کے ساتھ پک نک پر آئے تھے۔ اس میں نوجوان مرد، عورتیں، بچے اور بڑی عمر کی مرد اور عورتیں تھیں۔ وہ آپس میں مل کر اپنی زبان میں گانا گا رہے تھے اور ناچ رہے تھے۔ ہم نے اپنے ایک ساتھی سے پوچھا کہ ان کی زبان فارسی کی طرح نہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ترک ہیں، اپنی زبان میں گیت گا رہے ہیں۔

بہت خوبصورت منظر تھا۔ جتنی بھی گاڑیاں ان ناچنے والے فیملی کے پاس گزرتے تھے، ہارن بجا کر ان کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ جابجا فیملی پک نک منا رہے تھے۔ ہر فیملی اپنے میں مگن تھا۔

ماثال میں آئے ہوئے سیاحوں میں ایران سے باہر کے لوگ بھی تھے، لیکن اکثریت ایرانی تھے، جو کہ ایران کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے تھے۔ ان کی پہچان ان کے انداز سے ہوتی تھی۔ جیسے کردوں کی لباس ایران دیگر لوگوں سے مختلف ہے۔ ان کی موسیقی، ناچنے کا انداز، خوشی کا اظہار اپنے طور طریقے سے ہوتا ہے ان کی مادری زبان کردی زبان ہے جو فارسی زبان سے مختلف ہے، ان کی کلچر بود باش ایران کے باقی لوگوں جیسا نہیں ہے، اسی طرح لورستان سے آئے ہوئے لوگ جنھیں لوری کہتے ہیں، ان کی اپنی کلچر ہے۔ ایران بڑی تعداد میں ترک رہتے ہیں۔ ترک ہٹے کھٹے اور دراز قد ہوتے ہیں۔ ان کی بھی اپنی زبان اور کلچر ہے۔ لیکن ایران میں موجود یہ تمام الگ زبان، الگ کلچر کے باوجود اکٹھے رہتے ہیں۔ وہاں پر فارس، بلوچ، کرد، لوری، ترک آپس میں تعصب نہیں کرتے۔ سب ایرانی ہونے پر فخر کرتے ہیں۔

اگرچہ ان کی طرز ندگی، لباس، زبان، ایک دوسرے سے مختلف ہیں، لیکن یہ امتزاج ان کے درمیان محبت اور دوستی میں کمی نہیں لاتی۔ ایران میں قومیت کی ایشو کے مقابلے پالیسیوں پر لوگوں کے اختلافات ہیں۔

ایران کے حالات آئیڈیل نہیں ہیں۔ لیکن بحیثیت قوم ہم سے بہت بہتر ہیں۔ وہاں ہر شہری کو چاہے وہ فارس ہو، یا بلوچ، ترک، کرد ہو یکساں سلوک ہوتا ہے۔ قانون سب کے لئے یکساں ہے۔ ایران میں ہر ادارہ فعال ہے، شاہد یہی سبب ہے کہ باوجود تحریم کے جسے ہم ایران پر بیرونی پابندی کہتے ہیں، ایران ترقی کی جانب گامزن ہے۔ ہر شخص کو زندگی کی بنیادی سہولت میسر ہے۔ ایران میں لوگوں طرز زندگی ہمارے مقابلے بہت زیادہ بلند ہے۔ وہ ہر لحاظ ہم سے آگے ہیں۔

ایرانی پارلیمنٹ جسے مجلس کہتے ہیں انتخابات اپنے وقت پر ہوتے ہیں، ایرانی مجلس قانون سازی کرتی ہے۔
صدر جسے رئیس جمہور کہتے ہیں کہ انتخابات بھی کبھی تاخیر کا شکار نہیں ہوتے۔

پاکستان کے مقابلے میں وہاں ٹریفک کی اصولوں کی پابندی کی جاتی ہے۔ تیز رفتاری کو روکنے کے لئے سڑکوں پر جگہ جگہ کیمرہ نصب ہیں۔ جو رفتار میں تجاوز کرنے والے سواریوں کو جرمانہ کرتے ہیں۔ ٹول ٹیکس کا نظام خود کار ہے۔ ایرانی سڑکیں پاکستان کے مقابلے میں بہترین ہیں۔ ایران کے تفریحی مقامات میں انفرا اسٹرکچر زبردست ہے۔ ایران میں سیاحت اس لیے بھی موضوع ہے کہ پاکستانی روپے کے مقابلے میں ایرانی کرنسی کا نرخ کم ہے، اس لیے ایک پاکستانی کے لئے ایران میں سیاحت دوسرے ملکوں کے مقابلے ارزاں ہے۔ وہاں پر ہوائی جہاز اور بسوں میں ٹکٹ کی قیمت پاکستان کے مقابلے کم ہیں۔ ایرانی قوم بہت ہی زیادہ صفائی پسند اور مہذب ہیں۔

Facebook Comments HS