انسان، تنہائی اور درد


انسان درد ہے اور انسان ہی آرام ہے۔ انسان خوشی ہے اور یہ ہی غم ہے۔ انسان حال ہے، ماضی ہے اور مستقبل بھی۔ انسان خیال ہے اور انسان اپنا حال بھی خود ہی ہے۔ انسان روشنی بھی ہے اور تاریکی بھی۔ انسان امید ہے تو مایوسی بھی۔ انسان ذرہ ہے اور آفتاب بھی۔ انسان عاجز ہو جائے تو مومن اور متکبر ہو جائے تو ابلیس ہے۔ انسان اپنی تکلیف کا خود موجد ہے اور خود ہی نجات کا راستہ ہے۔ دراصل انسان خود میں پوری کائنات ہے۔ حیرت اس عقل پر ہے جو انسان کے ہوتے ہوئے خدا کے نشان کو ڈھونڈنے سے قاصر ہے۔

انسان ہی خدا کے وجود کی دلیل ہے۔ مگر یہ خدا کی عمدہ تخلیق ”انسان“ آج تنہائیوں کی دلدل میں ہے۔ اس کی سانسوں میں اس کے دل کے جلنے کی بو ہے۔ اس کے سینے میں شعلے بھڑک رہے ہیں۔ انسان زندگی کے صحراؤں میں نخلستانوں کی تلاش میں ہے۔ اس کی تنہائی کا یہ عالم ہے کہ یہ محفلوں، انجمنوں اور دوستوں میں موجود تو ہے مگر حاضر نہیں۔ اس کی چمکتی آنکھیں اور چہرے پر زبردستی سجائی ہوئی مسکان اس کے درد کی ان کہی داستان ہے۔ یہ اندر ہی اندر گھٹن اور الجھن کا شکار ہے۔ ایک الجھن سے دوسری الجھن پالتا چلا جا رہا ہے۔

خود پرستی اور خود غرضی نے انسان کو انسان ہونے سے محروم کر دیا ہے۔ نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ ایک ہی گھر میں، ایک ہی کمرے میں بیٹھے دو بہن بھائی ایک دوسرے کے لئے اجنبی ہیں۔ انسان لا حاصل کی خواہش میں حاصل کو کھو رہا ہے۔ وہ حال میں رہ کر ماضی کا قیدی بن چکا ہے یا مستقبل کے خطروں میں جکڑا جا چکا ہے۔ جب انسان خود اپنے ساتھ نہیں ہے تو یہ دوسرے کے ساتھ کیسے ہو گا۔ ایک کی خوشی دوسرے کا غم بن گئی ہے اور ایک کی ہار دوسرے کی فتح۔

اب تو ایک ہی منزل کے مسافر بھی الگ الگ راستوں پر نکل پڑے ہیں۔ انسان کے پاس دکھ، درد اور تکلیف تو ہے پر کوئی بانٹنے والا ہی نہیں۔ انسان رونا چاہتا ہے پر کوئی کندھا ہی نہیں۔ بس یہی تنہائی ہے۔ تنہائی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب درد تو موجود ہو پر درد کو بانٹنے والے نہ ہوں۔ جب سننے والے کانوں سے بولنے والی زبانیں بڑھ جائیں۔ جب انفرادیت انسانیت پر غالب آ جائے۔ اب تنگ آ کر انسان نے اپنا درد اپنے تک محدود کر لیا ہے۔ وہ جب کسی کو اپنا درد سنانے کی کوشش کرتا ہے تو سامنے والا اپنے درد کی ٹوکری اس کے سامنے رکھ دیتا ہے۔ اب انسان سمجھنے لگا ہے کہ کسی کو اپنا درد بتانا اس کی کمزوری ہے۔

انسان ماہر نفسیات کے پاس جانے اور اس کو سب کچھ بتانے سے بھی کترا رہا ہے۔ ماہر نفسیات بھی آج کے انسان سے اس کی تکلیف نہیں اگلوا پا رہا۔ ایسا کیوں ہے؟ ماہر نفسیات جس کو خدا نے صلاحیت ہی سوچ بدلنے کی دی ہے وہ بھی درد کی گانٹھیں نہیں کھول پا رہا۔ شاید انسان کا اعتماد انسان سے اٹھ رہا ہے جس کی وجہ سے وہ ماہر نفسیات کے پاس بھی کھل نہیں پا رہا۔ ایک انسان جو معاشرے تشکیل دیتا ہے وہ اس قدر اکیلا کیوں؟ معاشرے کی تو بنیاد ہی اتحاد ہے، ہمدردی ہے اور انسانیت ہے۔

معاشرے تو بنتے ہی احساس پر ہیں۔ پھر انسان بھرے معاشرے میں معاشرے سے کٹا ہوا کیوں ہے؟ میرے خیال میں انسان یہ بھول گیا ہے کہ انسان کو انسان کی ضرورت ہے۔ انسان کو انسان کی ضرورت اس لئے نہیں کہ وہ کمزور ہے بلکہ اس لئے ہے کہ انسان کو انسان کی ضرورت بنایا گیا ہے۔ انسان سے دوری فطرت سے دوری کے مترادف ہے۔

بہت سارے لوگوں کا کہنا ہے کہ اپنے دکھ صرف رب سے بیان کرو جو کہ بہترین بات ہے مگر مکمل نہیں۔ جب آپ خود ہی کسی کی تنہائی کی وجہ بن جائیں، کسی کی تکلیف میں اضافہ کر دیں یا کسی کی تکلیف دور کرنے کی قوت ہونے کے باوجود کچھ نہ کریں تو رب کے پاس کس منہ سے اپنے دکھوں کی بات کریں گے۔ اللہ اپنے بندے کے حوالے سے بہت سنجیدہ ہے۔ انسان ہی اللہ تک پہنچاتے ہیں۔ اگر واصف علی واصف رح کے الفاظ میں کہوں تو ”اللہ کی تلاش کرنے والے انسانوں کی راہوں سے گزرتے ہیں“ ۔

اللہ کے بندوں سے دور ہو کر یا ان سے بیزار ہو کر اللہ کے بندے ہونے کا دعویٰ سراسر دھوکہ ہے۔ اللہ کی بندگی تو پنہاں ہی درد بانٹنے میں ہے اور راستے سے پتھر ہٹانے میں ہے۔ زندگی تو نام ہی دوسروں کے لئے جینے کا ہے، اپنے لئے جینا بھی کوئی جینا ہوا۔ ہمارے ہاں یہ کہا جاتا ہے کہ ہم سائنس کے میدان میں پیچھے ہیں مگر دراصل ہم انسانیت میں پیچھے ہیں۔ سائنس غیر انسانی معاشروں میں پروان نہیں چڑتی۔ سائنس کا کام آسانی پیدا کرنا ہے جب انسان ہی نہ ہو تو آسانی کس کی۔

پہلے انسانیت کو اس معیار تک پہنچنے کی ضرورت ہے جہاں انسان انسان کے فائدے کے لئے سائنس کو جانے اور ایجادات کرے۔ اللہ ہمیں دوسروں کے لئے آسانیاں کرنے والا بنائے۔ اپنے ٹوٹے ہوئے تعلقات کو درست کرنے کی توفیق دے۔ توڑنے والے معاشرے میں جوڑنے والا بنائے۔ ایک دوسرے کی تکلیف کو سمجھنے کی قوت دے۔ آنکھوں سے درد پڑھنے کی صفت بخشے۔ ہمیں امید کے چراغ روشن رکھنے کی توفیق دے۔

Facebook Comments HS