امید بہار رکھ
امید خزاں میں بہار کی آمد کا انتظار ہے۔ امید غم میں عید کی نوید ہے۔ امید ایک سانس سے دوسرے سانس تک کا سفر ہے۔ امید ہی ایک دھڑکن سے دوسری دھڑکن کے درمیان فاصلہ ہے۔ امید خون کی رگوں میں دوڑ ہے۔ امید ویرانے میں آبادی کا امکان ہے۔ امید چراغ کا آندھیوں میں جلنا ہے۔ امید اندھیری راتوں میں جگنوؤں کا چمکنا ہے۔ امید منجدھار میں الجھی ناؤ کے کنارے لگنے کا خیال ہے۔ امید قدرت کا
Read more
