مسلم لیگ (ن) کے انتخابی وعدے قابل عمل نہیں
مسلم لیگ (ن) نے آج لاہور میں اپنے انتخابی منشور کا اعلان کیا ہے۔ نواز شریف نے اس سلسلہ میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ معیشت ہے۔ اسے ٹھیک کیے بغیر آگے نہیں بڑھا جاسکتا۔ انتخابات سے محض دو ہفتے قبل جاری کیے گئے منشور میں مسلم لیگ (ن) نے بلند بانگ وعدے کیے ہیں لیکن منشور یا اس موقع پر کی گئی تقریروں میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ معاشی اصلاحات کے اہداف حاصل کرنے کے لیے وسائل کہاں سے آئیں گے۔
پارٹی منشور میں صرف بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے ترسیلات زر کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس مد میں سالانہ 40 ارب ڈالر وصول ہوں گے۔ لیکن قومی آمدنی میں اضافہ کے دیگر طریقوں کا حوالہ نہیں دیا گیا۔ اس وقت پاکستان اپنی معیشت چلانے اور ڈیفالٹ سے بچنے کے لیے عالمی مالیاتی فنڈ سے قرض لینے پر مجبور ہے۔ آئی ایم ایف اسی شرط پر قرض فراہم کرتا ہے کہ اس کی تجویز کردہ اصلاحات نافذ کی جائیں۔ ان اصلاحات میں بنیادی نکتہ درآمد شدہ تیل و گیس پر دی جانے والی سبسڈی کا خاتمہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شہباز حکومت کو بھی پیٹرولیم مصنوعات، گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑا تھا اور یہ سلسلہ نگران حکومت کے دور میں بھی جاری ہے۔ البتہ پیپلز پارٹی کے بعد اب مسلم لیگ (ن) نے بھی بجلی سستی کرنے کے علاوہ متعدد دوسری سہولتیں دینے کا اعلان کیا ہے۔
انتخابات کے دوران عام لوگوں کو خوش کرنے اور نعرے بازی کی حد تک وعدے کرنے میں تو کوئی مضائقہ نہیں لیکن معیشت کے حقیقت پسندانہ جائزے سے باور نہیں ہوتا کہ یہ دونوں پارٹیاں مل کر یا اقتدار میں آنے کے بعد اپنے طور پر ایسی معاشی اصلاحات متعارف کروا سکیں گی جن کا تعلق عام لوگوں کی معیشت اور سہولتوں سے ہے۔ اس کے برعکس اس بات کا امکان زیادہ ہے کہ نئی حکومت کو پانچ سالہ دور حکومت میں بار بار آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑے اور وہ ان مالی معاہدوں کا بوجھ عوام کو منتقل کرنے پر مجبور ہوں۔
مسلم لیگ (ن) نے جو معاشی وعدے کیے ہیں، ان میں بیروزگاری و مہنگائی میں کمی، بجلی کی پیداوار بڑھانے اور اسے سستا کرنے، غربت 25 فیصد کم کرنے اور فی کس آمدنی کو دو ہزار ڈالر تک لے جانے کا وعدہ شامل ہے۔ اس کے علاوہ نوجوانوں کی بہبود اور زراعت کی بہتری کے لیے بھی ایسے وعدے کیے گئے ہیں جنہیں پورا کرنے کے لیے بے بہا وسائل درکار ہوں گے۔ البتہ مصارف کا ذکر کرتے ہوئے یہ بتانے کی زحمت نہیں کی گئی کہ ان اخراجات کو پورا کرنے کے لیے وسائل کہاں سے دستیاب ہوں گے۔ ملک کو اس وقت دو شعبوں میں اپنی آمدنی کا بیشتر حصہ صرف کرنا پڑتا ہے۔ ان میں ایک دفاع اور دوسرا بیرونی قرضوں کی ادائیگی ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے لیے مزید قرض لیے جاتے رہے ہیں۔ دوست ممالک سے مسلسل قرض رول اوور کرنے کی درخواست کی جاتی ہے البتہ آئی ایم ایف کی اقساط ادا کرنے کے کے لیے نئے قرض کا اہتمام کرنا ضروری رہا ہے۔ پاکستان دفاعی اخراجات میں کمی کا ’متحمل‘ نہیں ہو سکتا اور بیرونی قرض معاف ہونے کا کوئی امکان نہیں۔ اس صورت میں پاکستان کی فوری معاشی مشکلات میں کمی کا امکان دکھائی نہیں دیتا۔
آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدوں کی وجہ سے بجلی و گیس کی قیمتوں میں اضافہ کی دو وجوہات ہوتی ہیں۔ ایک یہ ملک کے پاس مہنگی گیس خرید کر یا مہنگی بجلی پیدا کر کے انہیں سستے داموں عوام تک پہنچانے کے وسائل نہیں ہیں۔ دوسرے ماضی قریب کی تقریباً ہر حکومت اپنی آمدنی میں اضافہ کرنے میں ناکام رہی ہے۔ خاص طور سے تجارت پیشہ لوگوں کو انکم ٹیکس دینے پر آمادہ نہیں کیا جا سکا اور نہ ہی اہم صنعتوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہو کر برآمدات بڑھانے کے لیے تیار کیا جا سکا ہے۔ اس کے برعکس ہر سیاسی پارٹی پیٹرول، گیس و بجلی کی قیمتوں میں اضافے کو حقیقی صورت حال کے حوالے سے پیش کرنے کی بجائے، عوام کو یہ بتانے کی کوشش کرتی رہی ہے کہ یہ مشکل دوسری پارٹیوں کی کوتاہ اندیشی کی وجہ سے درپیش ہے۔ حالانکہ قومی آمدنی میں اضافے کے لیے کوئی بھی حکومت ڈرامائی اقدامات نہیں کر سکی۔ یا اگر کوئی ایسا فیصلہ کیا جاتا ہے تو اسے مختلف گروہوں کے دباؤ کی وجہ سے تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ اسی لیے زراعت میں ترقی کے لیے وسائل فراہم کرنے کی بات تو کی جاتی ہے لیکن کبھی زرعی ٹیکس عائد کرنے کی کوئی تجویز سامنے نہیں آتی تاکہ مالدار زمیندار بھی قومی آمدنی میں اپنا حصہ ادا کرنے پر مجبور ہوں۔
مسلم لیگ (ن) سے پہلے پیپلز پارٹی کے بلاول بھٹو زرداری نے دس نکاتی منشور کے ذریعے دل خوش کن معاشی اصلاحات یا مراعات کا اعلان کیا تھا۔ بلاول بھٹو کے انتخابی وعدوں میں تنخواہیں دوگنا کرنا، مستحق عوام کو سولر انرجی کے ذریعے تین سو یونٹس کی مفت فراہمی، غریب عوام کے لئے تیس لاکھ گھروں کی تعمیر کے علاوہ سب کے لئے مفت معیاری تعلیم اور مفت طبی سہولتوں کے لئے ہسپتالوں کا جال بچھانا شامل ہے۔ روزگار کے متلاشی نوجوانوں کو ایک سال تک ماہانہ وظائف کے ساتھ پیشہ ورانہ تربیت کی فراہم کرنے کا وعدہ بھی کیا گیا ہے۔ اسی طرح زراعت میں سہولتوں اور مزدوروں کی فلاح و بہبود کے لیے فراخدلانہ وعدے کیے گئے ہیں۔ البتہ بلاول بھٹو زرداری بھی محاصل میں اضافے یا انکم ٹیکس ادا کرنے والوں کی تعداد بڑھانے کے لیے کوئی قابل عمل منصوبہ سامنے نہیں لا سکے۔ البتہ پیپلز پارٹی کے دس نکات میں صنعت کاروں کو دی جانے والی پندرہ سو ارب روپے سالانہ کی سبسڈی ختم کر کے اور وفاق کی 17 اضافی وفاقی وزارتوں کے خاتمہ سے تین سو ارب بچت کر کے، اٹھارہ سو ارب روپے فراہم کرنے کا اشارہ دیا گیا ہے۔ اگرچہ کسی جامع معاشی حکمت عملی کے بغیر ایسا کوئی منصوبہ شروع کرنے سے پہلے ہی ناکامی کا شکار ہو سکتا ہے۔
مسلم لیگ (ن) نے آج منشور پیش کرتے ہوئے قومی پیداوار بڑھانے اور ترسیلات زر میں اضافہ کا حوالہ دیا ہے۔ البتہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی بھیجی ہوئی رقوم پر معاشی احیا کا انحصار ایک تو ملکی عوام کو اپنے ہی ملک میں روزگار کے باوقار مواقع فراہم کرنے کی بجائے بیرون ملک جا کر دولت کمانے اور پاکستان بھیجنے کی پرانی پالیسی کا تسلسل ہے۔ بدلتے ہوئے عالمی معاشی حالات میں یہ پالیسی پائیدار نہیں ہو سکتی۔ اس کی کامیابی کا انحصار ان ممالک کی داخلی پالیسیوں پر رہے گا جہاں پاکستانی افرادی قوت روزگار کی تلاش میں جاتی ہے۔ متعدد عرب ممالک ٹیکنالوجی کے استعمال سے غیر تربیت یافتہ غیرملکی کارکنوں پر انحصار کم کر رہے ہیں۔ پروفیشنل اور انتظامی شعبوں میں سعودی عرب سمیت متعدد ممالک اپنے شہریوں کو آگے لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اب شہریوں کو یہ بتایا جا رہا ہے وہ محض ریاستی سہولتوں سے مستفیض نہیں ہوسکتے بلکہ انہیں قومی پیداوار میں حصہ دار بننا ہو گا۔ پاکستانی پالیسی سازوں کے لیے ترسیلات زر کو مسلسل اپنی معیشت کا اہم حصہ مان کر منصوبہ بندی کرتے ہوئے تبدیل شدہ عالمی معاشی، سماجی و سیاسی حالات کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہونا چاہیے۔
ملکی معیشت میں بہتری کے لئے دو کام بے حد ضروری ہیں۔ ایک یہ کہ انتخابات کے بعد سیاسی استحکام حاصل ہو یعنی ہارنے والی پارٹیاں ایک بار پھر دھاندلی کا نعرہ لگاتے ہوئے احتجاج اور نظام زندگی مفلوج کرنے کا طریقہ اختیار کرنے سے گریز کریں۔ دوسرا اہم پہلو بیرونی سرمایہ کاری کا حصول ہے۔ جیسا کہ فوجی قیادت اشارے دیتی رہی ہے کہ دوست ممالک پاکستان میں پچاس سے ایک سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔ البتہ سرمایہ کاری ممکن بنانے کے لیے ملک میں امن و امان کی بحالی اور عوامی بے چینی کا خاتمہ بے حد ضروری ہو گا۔ بظاہر کوئی بھی سیاسی جماعت اس پہلو سے معاملات پرکھنے اور ان کا کوئی مناسب حل تلاش کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی۔ ایسے میں یہ دیکھنا ہو گا کہ انتخابات کے کیا نتائج سامنے آتے ہیں اور ان میں کامیاب و ناکام ہونے والے سیاست دان ملکی بہبود کے لیے کس حد ایک دوسرے کے ساتھ مل بیٹھ کر کوئی مشترکہ حکمت عملی بنانے پر آمادہ ہوسکتے ہیں۔
مسلم لیگ (ن) کے انتخابی منشور میں معاشی وعدوں کے علاوہ قانی و آئینی اصلاحات کا بھی وعدہ کیا گیا ہے۔ پارٹی نے پارلیمنٹ کی بالادستی یقینی بنانے، نیب ختم کرنے اور آئین کے آرٹیکل 62، 63 کی اصل حالت میں بحالی کا وعدہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ متعدد عدالتی اصلاحات لانے کا اعلان بھی کیا گیا ہے تاکہ لوگوں کو سستا اور جلد انصاف مل سکے۔ البتہ ملکی آئین میں تبدیلی کے لیے ایک تو کسی بھی پارٹی کو قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت حاصل ہونی چاہیے جو موجودہ حالات میں ممکن دکھائی نہیں دیتی۔ دوسرے پارلیمنٹ کی بالادستی کا معاملہ فوج کے ساتھ کسی وسیع تر سیاسی و انتظامی اصلاحات کے ایجنڈے پر اتفاق رائے کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ اس وقت تو ملک کی ہر پارٹی فوج کے ساتھ ’ایک پیج‘ بنا کر اقتدار حاصل کرنا چاہتی ہے۔ سیاسی انتخابی کامیابی کے لیے فوجی سہولت کاری پر انحصار کرنے کے بعد کوئی بھی سیاست دان انتخابات کے بعد کیسے فوجی اثر و رسوخ سے محفوظ رہ سکتا ہے۔
میاں نواز شریف گزشتہ تین بار اقتدار کے دوران فوج کے ساتھ تعاون میں مشکلات کا شکار رہے ہیں۔ ہر بار انہیں اس کی بھاری قیمت بھی ادا کرنا پڑی ہے۔ آج لاہور میں منشور پیش کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میاں صاحب نے یہ وضاحت نہیں کی کہ اس بار وہ کیسے فوج کے ساتھ مل کر خوش اسلوبی سے کام کرسکیں گے۔ اور وہ اس مقصد میں کامیاب ہو بھی جاتے ہیں تو اس سے پارلیمنٹ کیسے برتر و بالادست ہو جائے گی؟


