عبدالسلام اور الیکٹرو ویک تھیوری
سائنسی دنیا میں یہ بات طے ہے کہ ایک سائنسی تھیوری کے پیچھے کوئی نہ کوئی محرک ہوتا ہے جو پہلے سے موجود تھیوریز کے نامکمل ہونے یا ان تھیوریز سے اخذ ہونے والے نتائج کی تجرباتی مشاہدات سے ہم آہنگی نہ ہونے کی صورت میں ہو سکتا ہے۔ ٹھیک اسی طرح عبدالسلام، سٹیون وائن برگ اور شیلڈن گلیشو کی الیکٹرو ویک تھیوری کا بھی سائنسی محرک موجود تھا جو سابقہ تھیوریز کے نامکمل ہونے کی صورت میں سامنے آیا
ہم جانتے ہیں کہ ہماری اس کائنات میں درج ذیل بنیادی قوتیں وجود رکھتی ہیں :
1۔ الیکٹرک فورس
2۔ میگنیٹک فورس
3۔ سٹرانگ نیوکلیئر فورس
4۔ ویک نیوکلیئر فورس
5۔ گریویٹیشنل فورس
سال 1865 ء میں جیمز کلارک میکسویل نے اپنی مشہور مساواتوں کی بنا پر الیکٹریک فورس اور میگنیٹک فورس کو یکجا کیا اور الیکٹرومیگنیٹک فورس کا تصور پیش کیا جسے فزکس میں ہم یونیفیکیشن کہتے ہیں۔ اسی کی بنا پر الیکٹرومیگنیٹک فیلڈ کی اصطلاح سامنے آئی اور روشنی کو الیکٹرومیگنیٹک ویوو کے طور پر سمجھنے میں اور نتائج اخذ کرنے میں بہت مدد ملی۔ بعد میں معلوم ہوا کہ کوانٹم لیول پر اس فورس کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے والے فورس کیرئیر پارٹیکلز ”فوٹانز“ ہیں لہذا فوٹانز بطور فورس کیرئیر بھی اس فورس کی خاصیت قرار پائے۔
الیکٹرومیگنیٹک فورس اور سٹرانگ نیوکلیئر فورس کی بنا پر ایٹم کے وجود تو باآسانی سمجھا جاسکتا تھا مگر ریڈیو ایکٹیویٹی میں ”بیٹا ڈیکے“ کو سمجھنے کے لیے 1933 ء میں اینریکو فرمی نے ویک انٹرایکشنز کا تصور پیش کیا جنہیں فرمی انٹرایکشنز بھی کہتے ہیں جن میں ایک کا نٹیکٹ فورس شامل تھی اور وہ بھی بنا کسی رینج یا حد کے۔ بعد میں 1956 ء میں لی اور یانگ نامی سائنسدان یہ بات سامنے لائے کہ یہ وویک فورس ”پیریٹی سمٹری“ کو فالو نہیں کرتی جسے بعد میں شیونگ وو نامی تجرباتی طبیعات دان نے درست ثابت کیا کہ جب تابکاری عناصر کے نیوکلیائی کو میگنیٹک فیلڈ میں ایک ہی سمت میں سپن کروایا تو معلوم ہوا کہ وہ نیوکلیائی ایک سمت کے مقابلے دوسری سمت میں زیادہ بیٹا پارٹیکلز خارج کر رہے تھے جب کہ پیریٹی سمٹری کے مطابق تمام تر قوانین ایک حالت اور اس کی الٹ حالت (مرر ایمج) کے لیے ایک سے ہوں گے۔
لہذا اب طبعیات دان اس کوشش میں تھے کہ وویک فورس اور الیکٹرومیگنیٹک فورس کے درمیان لنک کا پتہ لگا سکیں۔
الیکٹروویک تھیوری:
1960 ء کی دہائی تک ویک فورس کے بارے میں نمایاں تھیوری سامنے نہیں آئی تھی کہ جو اس کو واضح طور پر بیان کر سکتی اور درست پیشین گوئی کرتی۔
لیکن پھر عبدالسلام، سٹیون وائن برگ اور گلیشو نے ”الیکٹروویک تھیوری“ میں پیش کی اور اسی تھیوری کے چلتے الیکٹرومیگنیٹک فورس اور ویک فورس کی یونیفیکیشن سامنے آئے اور الیکٹروویک فورس کی ٹرم سائنسی دنیا میں متعارف ہوئی۔ بلفظ دیگر یہ معلوم ہوا کہ الیکٹرومیگنیٹک فورس اور وویک فورس دراصل ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔
اس تھیوری کے تحت یونیفیکیشن انرجی پر (جو کہ 245 گیگا الیکٹران وولٹ کے آرڈر میں ہے ) دونوں فورسز ایک دوسرے میں ضم ہو جاتی ہیں اور ایک فورس کا روپ دھار لیتی ہیں۔ درجہ حرارت کی اصطلاح میں بات کریں تو یہ فورسز لگ بھگ 1015 کیلون پر یکجا ہو جاتی ہیں۔ اندازے کے لیے بتاتا چلوں کہ اب تک کا بلند ترین درجہ حرارت جو انسانوں نے سرن لیب میں سر کیا وہ 1012 کیلون تک ہے۔
لیکن بگ بینگ کے فوری بعد الیکٹروویک ایپوک میں درجہ حرارت اس قدر زیادہ تھا کہ کائنات میں ویک اور الیکٹرومیگنیٹک فورسز یکجا تھیں۔ مگر پھر سپیس ٹائم کے پھیلاؤ کے ساتھ درجہ حرارت کم ہوتا چلا گیا اور کو ارک ایپوک میں یہ دونوں فورسز جدا ہو گئیں اور ان کے فورس کیرئیر پارٹیکلز جو پہلے ایک سا تاثر دیتے تھے، بھی ایک دوسرے سے مختلف مگر سٹیبل حالتوں میں وجود رکھنے لگے۔ یہی وجہ ہے کہ اب کائنات میں ہمیں کہیں بھی الیکٹروویک فورس مشاہدے کے لیے نہیں ملتی۔
کم درجہ حرارت پر فورس کیرئیر پارٹیکلز الیکٹرومیگنیٹک فورس کے کیس میں فوٹانز کی شکل میں سامنے آئے، ویک فورس کے فورس کیرئیر پارٹیکلز ڈبلیو اور زیڈ بوزان پارٹیکلز کی شکل میں پائے گئے لیکن یاد رہے کہ فوٹانز تو بنا ماس کے ہوتے ہیں مگر ڈبلیو اور زیڈ بوزون پارٹیکلز کا ماس ہوتا ہے اور وہ بھی لگ بھگ 90 GeV/c 2 کے برابر جو کہ تقریباً ایک پروٹان یا نیوٹران کے ماس سے بھی زیادہ بنتا ہے۔ انہی کے اس ماس کی بدولت ویک فورس کم فاصلے (یعنی ایک عام نیوکلیس کے سائز سے بھی ہم) تک ہی کارگر ہوتی ہے۔
ٹیسٹس:
جب یہ تھیوری پیش کی گئی تو کوئی پارٹیکل ایکسلیریٹر ایسا نہ تھا جو 90 گیگا الیکٹران وولٹ تک توانائی پر اس تھیوری کو ٹیسٹ کرسکے۔ مگر اس تھیوری کی وہ پیشین گوئیاں جو کم توانائی پر ٹیسٹ ہو سکتی تھی ٹیسٹ کی گئیں اور تجربات کے نتائج اس تھیوری کے حق میں تھے۔ لہٰذا اگلی دہائی میں دسمبر 1979 ء عبدالسلام سمیت سٹیون وائن برگ اور شیلڈن گلیشو کو سویڈن میں نوبل انعام سے نوازا گیا۔
سال 1983 ء میں سرن لیب اس قابل ہو گئی کہ سرن نے کارلو روبیا کی زیر سربراہی الیکٹروویک تھیوری میں پیش کیے گئے ڈبلیو اور زیڈ بوزون پارٹیکلز دریافت کر لیے اور اسی دریافت کی بدولت 1984 ء کو کارلو روبیا اور Simon van der Meer کو نوبل انعام سے نوازا گیا۔
یوں سٹینڈرڈ ماڈل آف پارٹیکلز فزکس میں دو نئے بوزون پارٹیکلز کا اضافہ ہوا جس کا کریڈیٹ اسی تھیوری کو جاتا ہے۔ اسی کے ساتھ گرینڈ یونیفائیڈ تھیوری اور تھیوری آف ایوری تھنگ کے لیے تھیوریٹیکل فزیسسٹس کو انسپایئریشن ملی۔ ہوں یہ کہنا بالکل بجا ہو گا کہ الیکٹروویک تھیوری فزکس کی دنیا میں بنیادی اہمیت کے حامل ہے اور اس تناظر میں ڈاکٹر عبدالسلام کا بنیادی کردار ناصرف تھیوریٹیکل فزیسسٹس بلکہ پاکستان کی سائنسی کمیونٹی کے لیے بھی باعث فخر ہے۔


