خانپور سیاسی پلڑا کس کا بھاری: این اے 170 اور پی پی 258


جنوبی پنجاب کے سرائیکی وسیب میں واقع شہر خانپور کو عظیم صوفی بزرگ خواجہ فرید کی نگری کہا جاتا ہے۔ شہر کے انتخابی حلقے این اے 170 اور پی پی 258 بڑے اور وسیع ہیں۔ اس انتخابی حلقے میں شہر خانپور کے علاوہ چولستان، اور دوسری طرف لیاقت پور سے لے کر کوٹ سمابہ تک پہنچے ہوئے ہیں۔ مختلف سرائیکی اور پنجابی برادریوں کے علاوہ اردو سپیکنگ میں راجپوت، ملک، قریشی اور مغل برادریوں پہ مشتمل اس شہر کی سیاسی وابستگی کو زیادہ تر نون لیگ ہی کے ساتھ شمار کیا جاتا رہا ہے۔

2008 کے بعد 2013 اور پھر 2018 کے الیکشن میں کامیابی نون لیگ کو حاصل ہوئی۔ لیکن اب چند روز بعد آٹھ فروری 2024 کے الیکشن میں حلقے کا سیاسی منظر نامہ کروٹ بدلتا نظر آ رہا ہے۔ ملک کی بڑی سیاسی پارٹی تحریک انصاف کے متعدد رہنما جیلوں میں ہیں۔ پوری دنیا کی نظریں اس الیکشن پہ لگی ہوئی ہیں لیکن الیکشن کی شفافیت ایک تلخ تریں سوال بنی ہوئی ہے۔ کہیں تو شامیانہ لگانے کی اجازت تک نہیں اور کہیں نوبت منہ میں نوالے ڈال کر دینے تک پہنچی ہوئی ہے۔

نام کو تو الیکشن ہیں لیکن ملکی تاریخ کے متنازع ترین قرار دیے جا رہے ہیں۔ ماضی کو چھوڑیے اب تو حال کے مناظر بھی اتنے مکروہ ہیں کہ اچھی بھلی طبیعت ناس ہو کر رہ جاتی ہے۔ لاکھوں محنت کش منوں مٹی تلے جا چکے نسلیں نئی جوان ہو چکیں ملک کی بڑی اکثریت بھی نوجوانوں پہ مشتمل ہے انھیں روٹی کے لالے پڑے ہیں۔ بات صرف لاہور کی حد تک نہیں اٹک سے لے کر رحیم یار خان تک نعرہ تو نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے یہ لگایا کہ مقابلہ ان ہی دونوں جماعتوں کے درمیان ہے لیکن زمینی حقائق جس جماعت کی زیادہ مقبولیت کی نشان دہی کر رہے ہیں وہ تحریک انصاف ہے۔

پنجاب بھر میں مقابلہ جس کا بھی ہو گا وہ تحریک انصاف کے ساتھ ہی ہو گا۔ وہ چاہے نون لیگ ہو یا پھر پاکستان پیپلز پارٹی۔ زیادہ تر مقابلہ البتہ تحریک انصاف کے ساتھ نون لیگ ہی کے درمیان متوقع ہے۔ یہ ہی صورت حال حلقہ این اے 170 اور پی پی 258 تحصیل خانپور کی ہے۔ این اے 170 سے مسلم لیگ نون کے ٹکٹ پہ سابقہ ایم این اے شیخ فیاض ہیں اور صوبائی سیٹ پہ ان کے ساتھ نون لیگ کے چوہدری ارشد ہیں۔ بڑی سیٹ پہ تحریک انصاف کے میاں غوث اور چھوٹی سیٹ پہ اعجاز شفیع ہیں اور جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کی بڑی سیٹ پہ ملک کی نامور مذہبی اور سیاسی شخصیت حامد سعید کاظمی اور چھوٹی سیٹ پہ میاں شہزاد انور نامزد امیدوار ہیں۔

جیسے ہی الیکشن مہم شروع ہوئی تو شہر میں حامد سعید کاظمی کی انٹری بھی شاندار انداز میں ہوئی اور ماحول بھی ان کے حق میں خوب بنتا دکھائی دیا۔ لیکن بہت جلد ہی اتنا کہ ابھی ٹھیک سے دیکھ بھی نہ پائے تھے کہ نہ جانے کیوں منظر بدلتا چلا گیا۔ لیکن اس کے باوجود وہ نماز فجر سے فراغت ہوتے ہی متحرک ہو جاتے ہیں اور یوں وہ بڑی تیز رفتاری سے اپنی ہمدردیوں کو سمیٹ رہے ہیں۔ دیکھنے میں یہ بھی آ رہا ہے کہ ان سے عقیدت رکھنے والوں کی بڑی تعداد کی سیاسی وابستگی نون لیگ کے ساتھ رہی لیکن اب سیاسی وابستگی پر مذہبی عقیدت غالب ہوتی چلی جا رہی ہے۔

عام تاثر یہ ہی ہے کہ اس کا زیادہ نقصان نون لیگ کے شیخ فیاض کو لازمی ہو گا۔ ان حقائق کے باوجود لیکن پلڑا پھر بھی شیخ فیاض کا بھاری لگ رہا ہے۔ پیپلز پارٹی کی چھوٹی سیٹ پہ میاں شہزاد انور بھی اپنی مہم میں کسی سے پیچھے نہیں میجر ریٹائرڈ تنویر حسین کے فرزند حسین بادشاہ بھی مہم میں شہزاد انور کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہیں۔ علاقے میں اثر و رسوخ بھی ان کا کم نہیں۔ عام تاثر فی الحال شہر خانپور میں یہ ہی ہے کہ مقابلے کا جو میدان تحریک انصاف اور نون لیگ کے درمیان لگ چکا ہے الیکشن کے آخری دن تک اس میں تبدیلی کا امکان اب باقی نہیں۔

2013 کے الیکشن میں خانپور سے این اے 170 پہ شیخ فیاض اور پی پی 258 پہ اعجاز شفیع دونوں ہی مسلم لیگ نون کے ٹکٹ پہ کامیاب ہوئے تھے۔ 2018 کے الیکشن میں شیخ فیاض دوبارہ پھر مسلم لیگ نون کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے اس وقت ان کے مدمقابل پی ٹی آئی کے میاں غوث تھے۔ جبکہ پی پی 258 سے اعجاز شفیع بطور آزاد امیدوار میدان میں اترے لیکن کامیاب نہ ہو سکے تب ان کے مدمقابل پی ٹی آئی کے سیٹھ ماجد اور نون لیگ کے چوہدری ارشد تھے۔ اب اس بار 2024 فروری کے الیکشن میں سیٹھ ماجد کی جگہ پی ٹی آئی کے امیدوار اعجاز شفیع اور بڑی سیٹ پہ ان کے ساتھ میاں غوث ایک بار پھر پی ٹی آئی کے ٹکٹ پہ میدان میں اترے ہیں۔

یہ بجا کہ 2018 کے الیکشن میں بطور آزاد امیدوار اعجاز شفیع شکست سے دوچار ضرور ہوئے لیکن اس وقت ان کو جو ووٹ ملے وہ لگ بھگ پچیس ہزار تھے جو ان کے ذاتی ووٹ تھے۔ اب کی بار تحریک انصاف کا ووٹ بھی ان کو ملنا ہے اور یوں ان کے مد مقابل نون لیگ کے چوہدری ارشد کے مقابلے میں اعجاز شفیع کی سیاسی برتری نمایاں لگ رہی ہے۔ جبکہ دوسری طرف میاں غوث کے مد مقابل نون لیگ کے شیخ فیاض بھی مضبوط پوزیشن پہ کھڑے ہیں۔ شیخ فیاض پہلے بھی اس حلقے سے دو بار کامیاب ہو چکے ہیں اور اس بار بھی ان کی مضبوط سیاسی پوزیشن کی وجوہات کم نہیں۔

2013 کی کامیابی سے لے کر تا حال پچھلے دس سال کی سیاسی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ وہ پنجاب کی ایک معروف کامیاب کاروباری شخصیت بھی ہیں لیکن اس کے ساتھ وہ ایک کامیاب سیاست دان بھی ضرور ثابت ہوئے ہیں۔ تھانہ کچہری کے معاملات سے اجتناب کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ ان کی سیاسی کامیابی کے سامنے میاں والی قریشیاں کی مشہور و معروف سیاسی بصیرت بھی ماند پڑتی دکھائی دی۔ شہر خانپور اور اس کے نواحی علاقوں میں سوئی گیس کی فراہمی، سڑکوں اور میگا سیوریج کی تعمیر سمیت تعلیمی اداروں کی تعمیر و ترقی اور کیڈٹ کالج کی بنیاد کی ترقیاتی سیاسی خدمات کی بنا پہ ان کی شخصیت کا ایک جاندار اثر و رسوخ قائم ہو چکا ہے۔

دوسری طرف ان کے سیاسی حریف میاں غوث کو اب تک کسی الیکشن میں کوئی کامیابی بھی نہیں مل سکی یہ ہی وجہ ہے کہ انھیں اپنی سیاسی ساکھ کو اتنا مضبوط بنانے کا موقع نہ مل سکا جس کی اب انھیں ضرورت بھی تھی۔ لیکن اس کے باوجود اعجاز شفیع کے ذاتی ووٹ بینک کے ساتھ پی پی ٹی آئی کے ووٹ کا فائدہ میاں غوث کو لازمی ہو گا۔ میاں غوث کی ایک خوش بختی یہ بھی ہے کہ پی پی 258 سے پی ٹی آئی کے نامزد امیدوار اعجاز شفیع اور میاں غوث دونوں کو انتخابی نشان حقہ ہی الاٹ ہوا ہے۔

دونوں کا انتخابی نشان ایک ہی ہے اور یوں پی ٹی آئی کے ووٹر کے لئے دو الگ الگ نشانات کو یاد رکھنے کی الجھن کی بجائے ایک ہی نشان پہ دو بار مہر لگانا زیادہ آسان ہو گا۔ بلا شبہ میاں غوث کی سیاسی خوش بختی کا یہ ایک بڑا منفرد اور جاندار پہلو ہے جس کے پھل بھی ان کی ٹوکری میں جائیں گے۔ جبکہ دوسری طرف شہر خانپور کے لئے اعجاز شفیع کی وہ سیاسی خدمات ہیں جن کو بھلانا ممکن نہیں۔ اہالیان شہر کے لئے سب سے خوبصورت تحفہ جس کا اعزاز اعجاز شفیع کو حاصل ہے وہ شہر خانپور کا وسیع و عریض سٹی پارک ہے۔

گونگے اور بہرے بچوں کے لئے سکول، بلدیہ کا خوبصورت سپورٹس کمپلیکس، سرکاری سکولوں اور گرلز کالج کی اپ گریڈیشن، یہ اور اسی طرح شہر کے گردونواح کے دیہاتی علاقوں اور چکوک کے لئے اعجاز شفیع کی سیاسی خدمات اتنی نمایاں ہیں کہ جو ان کے ذاتی ووٹ بینک میں اضافے کا باعث سمجھی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ خاص بات جو اعجاز شفیع سے بالخصوص منسوب ہے جو ان کی و جہ شہرت بھی ہے۔ یہ کہ انھیں اپنی زبان اور وعدے کی پاسداری کا پکا بھی سمجھا جاتا ہے۔

یہ ہی وجہ ہے کہ ان کے بارے میں یہ منفی رائے قائم کرنا کہ الیکشن میں کامیابی کے بعد وہ تحریک انصاف سے الگ ہو کر اپنی چارپائی نون لیگ یا کسی اور جماعت کے ڈیرے پر ڈال لیں گے انتہائی دشوار ہے اور محال بھی۔ حلقے میں ان کی سیاسی خدمات بھی قابل قدر ہیں اور دوسری طرف ملک کی بڑی جماعت تحریک انصاف کا ووٹ بھی ان کو حاصل ہے جس سے ان کی کامیابی کا امکان واضح ہے۔ شہر کی ملک برادری کے مشہور و معروف سربراہ ملک عبدالرحمن کی حمایت پہلے بھی نون لیگ کے شیخ فیاض کے ساتھ رہی اور تعلق اب بھی دو جسم اور ایک جان کا ہے۔

ملک برادری کے علاوہ شہر کی سبھی اردو سپیکنگ برادریوں میں مغل، راجپوت اور قریشی برادری کا کل ووٹ بیس ہزار کے لگ بھگ ہے۔ لیکن اس بار ان برادریوں کی حمایت تحریک انصاف کے ساتھ بھی نمایاں دیکھی جا رہی ہے۔ علاقے میں کارکردگی کی بنیاد پہ ذاتی ووٹ بینک شیخ فیاض اور اعجاز شفیع ہی کا زیادہ ہے اور پھر اپنی اپنی پارٹیوں کا ووٹ بھی ان کو حاصل ہو گا۔ یوں این اے 170 سے نون لیگ کے شیخ فیاض اور دوسری طرف پی پی 258 پہ تحریک انصاف کے امیدوار اعجاز شفیع کی بظاہر سیاسی برتری اس وقت تک نمایاں ہے۔ البتہ کوئی معجزہ وقوع پذیر ہو جائے تو منظر بدل بھی سکتا ہے۔

Facebook Comments HS