تشکر سے تفکر تک


وہ بھی ایسا ہی ابر آلود دن تھا لیکن آج کی رم جھم کے برعکس اس روز موسلادھار مینہ برس رہا تھا اور ڈی ایس ڈی کی سرکاری بلڈنگ کے بند کھڑکیوں اور دروازوں میں سے بھی چھاجوں برستی بارش کی جلترنگ سنائی دے رہی تھی۔ برٹش کونسل کے زیر اہتمام لاہور میں ہم چند روز کے لئے مقیم ہو کر پیلی کورس کی ٹریننگ لے رہے تھے۔ سنسنی اور سیاسی طور پر ہیجان خیزی کے ماحول کے باوجود ہماری ٹرینر انتہائی ذمہ داری سے ماحول کو غیر سیاسی رکھے ہوئے ٹریننگ کروا رہی تھیں۔

اچانک ایک ساتھی کے موبائل پر کوئی متوقع پیغام آیا اور تو ان کا چہرہ جوش سے تمتما اٹھا۔ برداشت نہ کر سکے اور بلا اجازت اٹھ کر ڈسپلن کو توڑا اور جوش جذبات سے ہکلاتے ہوئے بریکنگ نیوز سنانے لگے۔ اتنی سی بات ہی سمجھ میں آ رہی تھی:

”سپریم کورٹ نے نواز شریف کو نا اہل کر دیا ہے“

اس بریکنگ کے بعد تربیتی سیشن کا ڈسپلن اور ڈیکورم بھی بارش کے ساتھ پانی ہو گیا۔ تحیر سے پہلے تو گمبھیر خاموشی چھائی، پھر پھٹی انکھوں کے ساتھ ہاتھ منہ تک اٹھے اور اگلے لمحے پورا ٹریننگ ہال کنٹرولڈ مگر بے ساختہ نعروں سے گونج اٹھا۔ مبارکبادیں دیتے ہوئے جوش اور سرخوشی سے کئی دوستوں نے ایک دوسرے کو گلے لگا لیا۔ سب کے چہرے تمتمائے ہوئے تھے، ہاتھ کپکپا رہے تھے اور لفظ کانپتے ہونٹوں کا ساتھ نہیں دے پا رہے تھے۔

کوئی زیرلب بڑبڑاتا تو کوئی ہذیانی خوشی کی کیفیت میں جو بھی منہ میں آتا کہے جا رہا تھا۔ قابل فہم چند الفاظ جو سمجھ میں آ رہے تھے وہ الحمدللہ، تبدیلی، انشاءاللہ، اللہ تیرا شکر وغیرہ تھے۔ چند لوگ جو خود کو خوشی سے سنبھال نہیں پا رہے تھے وہ کپکپاتی ٹانگوں کے ساتھ خود کو سنبھالنے کے لئے کرسیوں پر بیٹھنے لگے۔ کئی ساتھی ہاتھوں میں چہرہ لئے بارگاہ ایزدی میں حاضر محسوس ہو رہے تھے۔ کئی ایک مناسب جگہ کی جستجو میں تھے جہاں وہ سجدہ ریز ہو سکیں۔

سب سے مختلف صورتحال ہماری ہماری ٹرینر کی تھی۔ وہ پہلے تو بے یقینی سے سب کو دیکھتی رہیں اور پھر اچانک سب کچھ بھول بھال کر انہوں نے چھت کی طرف اپنا چہرہ اٹھایا اور اپنے ہاتھوں کو چہرے سے بلند کر کے دعا کے انداز میں جوڑا اور آنکھیں بند کر لیں۔ کئی طویل لمحوں کے بعد جب ان کا ہاتھ نیچے آیا تو ان کی آنکھیں آنسوؤں سے ڈبڈبا رہی تھیں اور ہاتھ کانپ رہے تھے۔ اس منظر نے گویا صورتحال کو اور شکر انگیز بنایا اور قریب قریب ساری کلاس کی آنکھیں نم ہو گئیں اور پھر نسبتاً طویل خاموشی چھا گئی۔ میں اور دو اور ساتھی اس تشکر گاہ میں ”تفکر کا بت“ بنے پتھرائی انکھوں سے سب کو تک رہے تھے۔

بعد میں پتہ چلا کہ یہ خوشی میں یہ خبر بریک کرتے ہوئے اے آر وائی کے صابر شاکر کی زبان بار بار حلق میں پھنس رہی تھی۔ عمران خان نے عدلیہ اور جے آئی ٹی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ساتھیوں کے ساتھ مٹھائیاں کھائیں اور اتوار کو پریڈ گراؤنڈ میں یوم تشکر منانے کا اعلان کیا۔ شیخ رشید نے خوشی سے مکا ہوا میں بلند کرتے ہوئے کہا کہ نون لیگ کے کارکن بھی اندر سے خوش ہیں۔ جہانگیر ترین نے بیان دیا کہ یہ جمہوریت کے لیے بہترین وقت ہے اور نواز شریف کو عدالت کا فیصلہ ماننا ہو گا مزید براں بنی گالہ جا کر شکرانے کے نفل پڑھنے کا بھی کہا۔

سراج الحق نے اپنی سرخرو ہو کر عدالت سے نکلنے کا ذکر کرتے ہوئے جے آئی ٹی کا شکریہ ادا کیا۔ شاہ محمود قریشی نے اس فیصلے سے اداروں کی مضبوط ہونے کا عزم ظاہر کیا اور بنی گالہ میں شکرانے کے نوافل ادا کرنے کی تلقین کی۔ دکانوں پر مٹھائیاں کم پڑ گئیں اور قرآن خوانی، آتش بازیاں اور ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے اور کارکنان کا برسوں تک نہ تھمنے والا رقص شروع ہو گیا جس کے دھیما ہونے پر کسی بھی بسمل کی تڑپ اور جوش بھر دیتی۔

اس بات کو چھ سال گزر چکے ہیں۔ جنوری کے آخری دن ہیں۔ پورے ملک میں بارش کی رم جھم جاری ہے۔ عدالت سے متواتر خبریں آ رہی ہے کہ عمران خان اور شاہ محمود کو دس سال کے لئے قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔ اب 14 سال قید بامشقت اور نا اہلی ہو گئی ہے۔ اب عدت کیس کا فیصلہ محفوظ ہو گیا ہے۔ یہ سب خبریں جہاں ایک فریق کے لئے بے حد گمبھیر ہیں وہیں دوسرے فریق کے لئے تشکر افزا بھی ہیں مگر میرے کان لگانے کے باوجود کسی گلی سے ڈھول، مٹھائیاں، جشن و نوافل کی صدا بلند ہوتی سنائی نہیں دیتی۔ سوشل میڈیا پر بھی دبی دبی سسکیوں اور دوسری طرف سے دبے دبے استہزاء سے زیادہ کچھ نہیں ملتا۔ میں ہر ملنے والے چہرے پر بھی کچھ تاثرات تلاشنے کی کوشش کرتا ہوں ہوں مگر لوگوں کے چہرے سپاٹ ہیں۔ وہ خاموش ہیں اور بولے بغیر آنکھیں پھیر لیتے ہیں۔ کوئی اس موضوع پر تمتماتے اور کپکپاتے ہوئے بات نہیں کر رہا۔

یہ صورتحال مجھے وقت کے اس پار چھ سال پہلے کے ٹریننگ ہال میں لے جاتی ہے جہاں موجود اکیلا ”تفکر کا بت“ اب ملک بھر کے ہر ذی روح میں منتقل ہو چکا ہے۔ اب کسی بسمل کے تڑپنے پر رقص میں تیزی نہیں آتی۔ ہر کوئی خود کو بسمل کی جگہ پر محسوس کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ میں یکسوئی کے لئے آنکھیں بند کر کے سلمان احمد کی اس غزل کے اشعار میں کھو جاتا ہوں

جو ہم پہ گزرے تھے رنج سارے جو خود پہ گزرے تو لوگ سمجھے
جب اپنی اپنی محبتوں کے عذاب جھیلے تو لوگ سمجھے

Facebook Comments HS