پی ٹی ایم یا جرنیلی پراجیکٹ: غدار کون؟



پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) 2018 میں ابھری اور پاکستان میں خاص طور پر پاکستان۔ افغانستان سرحد کے ساتھ قبائلی علاقوں میں رہنے والوں کو درپیش مسائل کو اجاگر کرنے کی اپنی کوششوں کے لیے اہمیت حاصل کی۔ ان کے ساتھ بیٹھ کر انہیں سننے اور ان کے مسائل حل کرنے کے بجائے ان پر ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا سرکار نے پی ٹی ایم کے رہنماؤں کو غدار اور باغی قرار دیا۔ قانونی اور انتظامی اقدامات کے ذریعے تحریک کی سرگرمیوں کو دبانے کی کوشش کی گئی۔ ان کے بے شمار رہنماؤں اور کارکنوں کو بار بار گرفتار کیا گیا اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ یہاں تک کہ پی ٹی ایم کے مطالبات کو جائز سمجھتے ہوئے جن لوگوں نے ان کی اخلاقی حمایت کی انہیں بھی غدار اور ملک دشمن کہا گیا۔
خصوصاً حب الوطنی کے سرٹیفیکٹ بانٹنے والے ریٹائرڈ فوجیوں کا گروپ باقاعدگی سے وٹس ایپ گروپس اور سوشل میڈیا پر پی ٹی ایم رہنماؤں کی تقریروں، جن میں وہ اپنی مشکلات اور مسائل کا ذکر کرتے تھے، کو غداری، پاکستان دشمنی اور بیرونی ایجنٹ کہہ کر شیئر کرتے تھے، اس وقت آئی ایس پی آر کے سربراہ آصف غفور نے تو باقاعدہ پریس کانفرنسیں کر کے ان پر ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام لگائے اور غداری کے فتوے داغے۔ عمران ”تا حیات حکمران، جرنیلی پراجیکٹ“ کے دوران کروڑوں، اربوں روپے خرچ کر کے جن لوگوں کو ”مشہور و معروف“ ٹی وی اینکرز، صحافی اور یو ٹیوبر بنایا گیا تھا، آج وہ ملک، فوج اور عدلیہ کے بارے میں ملک کے اندر اور باہر بیٹھ کر جو کچھ کہہ اور کر رہے ہیں، یقیناً، تمام ”محب وطنوں“ کو غداروں اور محض اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والوں کا فرق تو معلوم ہوا ہو گا۔ کیا پی ٹی ایم نے ان جرنیلی پراجیکٹ والوں کی طرح ایسا کچھ کیا ہے، یا ان کے مطالبات میں ایسا کچھ شامل ہے کہ ان کو وطن دشمن اور غدار کہا جائے، مختصر جائزہ لیتے ہیں کہ پی ٹی ایم چاہتی کیا ہے اور اس کا کردار کیا ہے :

حقوق کی وکالت: پی ٹی ایم قبائلی علاقوں میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں اور انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کے لیے انصاف کا مطالبہ کرتی ہے اور ایسے معاملات سے نمٹنے میں احتساب اور شفافیت کا مطالبہ کرتی ہے۔

بارودی سرنگیں اور چیک پوسٹیں : پی ٹی ایم نے قبائلی علاقوں میں بڑی تعداد میں بارودی سرنگوں اور فوجی چیک پوسٹوں کی موجودگی کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا ہے، جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ مقامی آبادی کی نقل و حرکت محدود ہے اور تکلیف کا باعث ہے۔

لاپتہ افراد: تحریک نے لاپتہ افراد کے مسئلے پر توجہ مرکوز کی ہے، ایسے افراد جنہیں مبینہ طور پر سیکورٹی فورسز نے مناسب قانونی طریقہ کار کے بغیر حراست میں لے لیا ہے۔ پی ٹی ایم نے ان لاپتہ افراد کے بارے میں معلومات اور ان کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

غیر فوجی سازی: پی ٹی ایم نے قبائلی علاقوں کو غیر فوجی بنانے اور سیکورٹی چیک پوسٹوں کو ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے، یہ دلیل دیتے ہوئے کہ اس طرح کی موجودگی مقامی آبادی کی معمول کی زندگیوں کو متاثر کرتی ہے۔

میڈیا بلیک آؤٹ: اس تحریک نے تنقید کی ہے جسے وہ اپنی سرگرمیوں کے میڈیا بلیک آؤٹ کے طور پر سمجھتے ہیں اور اپنی شکایات کا احاطہ کرنے کے لیے آزاد اور منصفانہ پریس کی اہمیت پر زور دیتی ہے۔

سیاسی شرکت: پی ٹی ایم ایک سماجی تحریک کے طور پر شروع ہوئی، اس کی مقبولیت کو سیاسی نمائندگی میں تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ اس کے کچھ رہنماؤں نے پالیسی سازی پر زیادہ براہ راست اثر ڈالنے کے لیے انتخابات میں حصہ لیا۔

غداری کے فتوؤں کے علاوہ پی ٹی ایم کو اپنے ان مسائل کے حل اور مطالبات کے لیے حصول کے لیے جدوجہد میں مختلف چیلنجز اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا رہا ہے۔

گرفتاریاں اور ہراساں کرنا: پی ٹی ایم کے رہنماؤں اور کارکنوں کو سیکورٹی فورسز کی جانب سے گرفتاریوں، ہراساں کرنے اور دھمکیوں کا نشانہ بنایا گیا ہے اور بنایا جاتا ہے۔

میڈیا بلیک آؤٹ: پی ٹی ایم کا مرکزی دھارے میں شامل پاکستانی میڈیا آؤٹ لیٹس پر مکمل بلیک آؤٹ ہے۔ تحریک کے واقعات اور شکایات پر کوئی کوریج نہیں ہوتی بلکہ ان کے خلاف منفی پروپیگنڈا ہوتا ہے اور جانبدارانہ رپورٹنگ ہوتی ہے، جس کی وجہ سے پی ٹی ایم اپنے پیغام کو پھیلانے کے لیے سوشل میڈیا اور متبادل چینلز پر انحصار کرتی ہے۔

قانونی چیلنجز: پی ٹی ایم کو پاکستان میں قانونی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے، بشمول بغاوت، دہشت گردی اور اکسانے کے الزامات۔ پی ٹی ایم کے رہنماؤں پر مختلف الزامات کے تحت مقدمے درج ہیں اور وقتاً فوقتاً اس کے رہنماؤں کو حراست میں لیا جاتا ہے، جو کہ تحریک کے اختلاف رائے کو دبانے اور ان کی آواز کو خاموش کرنے کی کوششوں کے مترادف ہے۔

سیاسی تنہائی: پشتونوں اور پاکستانی معاشرے کے کچھ طبقات میں عوامی حمایت حاصل کرنے کے باوجود، پی ٹی ایم کو مرکزی دھارے کی سیاسی جماعتوں سے سیاسی تنہائی کا سامنا ہے۔ سیاسی اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے تحریک کے مطالبات اور شکایات کو مناسب طریقے سے حل نہیں کیا گیا، جس کی وجہ سے پسماندگی کا احساس ہوتا ہے۔

ان چیلنجوں کے باوجود، پی ٹی ایم پشتونوں کے حقوق کی وکالت جاری رکھے ہوئے ہے اور قبائلی علاقوں میں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل، اور بارودی سرنگ سے ہونے والی ہلاکتوں جیسے مسائل کے بارے میں بیداری پیدا کر رہی ہے۔ تحریک اپنے پیغام کو وسعت دینے اور تبدیلی کے لیے زور دینے کے لیے نچلی سطح کی حمایت اور بین الاقوامی یکجہتی پر بھروسا کرتے ہوئے، مشکلات کے باوجود لچکدار رہتی ہے۔

ریاست کو چاہیے کہ بیشک اندر، باہر بیٹھے ملک کے خلاف زہر اگلنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹے لیکن حقائق کا احساس کرتے ہوئے غداری کے فتووں کے بجائے پی ٹی ایم سمیت جو بھی اپنے بنیادی آئینی حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں تو ان کو سنے، انہیں سینے سے لگائے اور ان کے مسائل حل کرے کہ اسی میں ملک کی بھلائی ہے
۔

Facebook Comments HS