تحریک انصاف کا ووٹر مایوس
تحریک انصاف کا ووٹر شدید مایوسی کا شکار ہے ان کو سمجھ نہیں آ رہی ہم نے ووٹ کس کو دینا ہے اور کیا ہمارے ووٹ دینے کے بعد بھی تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار جیت پائیں گے؟ کیا آزاد امیدوار اتنی بڑی تعداد میں جیت سکیں گے کہ وہ حکومت بنانے کے قابل ہو جائیں کیا ان کے حکومت بنانے کے بعد عمران خان کے لیے کوئی آسانیاں پیدا ہو سکیں گی؟ کیا تحریک انصاف پر لٹکتی تلوار ختم ہو جائے گی؟ کیا تحریک انصاف کو دوبارہ قومی ادارے میں شامل ہونے کا موقع مل سکے گا؟
ایسے کئی سوالات پی ٹی آئی کے ووٹر کے ذہن میں گردش کر رہے ہیں جن کا اظہار وہ مختلف پلیٹ فارم پر کرتے نظر آرہے ہیں عمران خان اور تحریک انصاف کا برا وقت 10 اپریل 2022 کی رات کو ہی شروع ہو گیا تھا جب عمران خان وزیراعظم ہاؤس سے ایک ڈائری اٹھا کر واپس بنی گالہ چلے گئے تھے۔ پھر عمران خان کچھ عرصہ بنی گالہ رہے اور پھر مستقل زمان پارک شفٹ ہو گئے۔ زمان پارک کے باہر آٹھ ماہ پیر سائیں کا نہ ختم ہونے والا میلہ دن رات جاری رہا۔
اس دوران کئی بار پولیس پر تحریک انصاف کے لوگوں نے حملے کیے۔ اسلام آباد پولیس ہو، لاہور پولیس ہو یا کوئٹہ پولیس ہو جس ضلعے کی پولیس عمران خان کے وارنٹ گرفتاری لے کے آتی جواباً عمران خان کا ورکر ان پر پتھراؤ کرتا ڈنڈے مارتا یا پٹرول بم پھینکتا۔ پھر اس کے بعد اسلام آباد کی عدالت سے جس طریقے سے عمران خان کو گرفتار کیا گیا پھر نو مئی کا واقعہ ہوا فوجی تنصیبات کو جلایا گیا پشاور ریڈیو پاکستان کو بھی جلایا گیا شہدا کا تمسخر اڑایا گیا۔
پھر تحریک انصاف اور عمران خان کی الٹی گنتی شروع ہو گئی اور ان کی عملی سیاست میں واپسی کے تمام دروازے بند ہو گئے۔ پھر تحریک انصاف کا شیرازہ ایسے بکھرا جیسے خزاں میں درختوں کے پتے بکھرے ہوتے ہیں۔ ایک لمحے کے لیے اس ساری صورتحال کا جائزہ لیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان میں عمران خان کبھی وزیراعظم رہے ہی نہیں اور تحریک انصاف نامی جماعت کا کوئی وجود ہی نہیں تھا۔ انتخابی نشانات الاٹ کرنے کی باری آئی تو تحریک انصاف سے بلا بھی چھین لیا گیا پھر ان کو جو انتخابی نشان الاٹ کیے گئے وہ انتخابی نشان کم اور ان کی اوقات بتانے والے نشان زیادہ محسوس ہو رہے تھے۔
سب سے تضحیک آمیز انتخابی نشان گجرات کے چوہدری پرویز الہی کو گدھا گاڑی کی صورت میں الاٹ کیا گیا۔ کوئی بھی باشعور انسان تصور بھی نہیں کر سکتا کوئی گمنام شخص چمٹے، جوتے، ہارمونیم، پیالے کے انتخابی نشانوں سے الیکشن جیت لے گا اور وہ قومی اسمبلی پہنچ جائے گا، اگر کوئی ایسا سوچتا بھی ہے تو وہ اہم احمقوں کی جنت میں رہتا ہے، پچھلے ایک ہفتے کے دوران عمران خان کو دو مختلف کیسز میں 24 سال کی سزائیں سنائی جا چکی ہیں جبکہ القادر ٹرسٹ کیس، نو مئی کے کیسز، عدت میں نکاح کیس اس کے بعد الیکشن کمیشن حملہ کے سمیت کئی اور کیسز میں سزائیں عمران خان کا انتظار کر رہی ہیں۔
عمران خان کی اس وقت عمر 71 سال ہے۔ اگر ان کی سزاؤں کا جائزہ لیا جائے تو فی الحال وہ 200 سال کی عمر کے بعد ہی جیل سے باہر آئیں گے اگر ان کی قسمت نے ان کا دوبارہ ساتھ دیا تو شاید وہ اس سے پہلے باہر آجائیں۔ اگر سعودیہ اور چین کے ساتھ تعلقات خراب کرنے کے معاملات اور مجھے موجودہ اسٹیبلشمنٹ کی قیادت کے موڈ کو دیکھا جائے تو تو بظاہر لگ رہا ہے عمران خان کی پاکستان کی سیاست میں واپسی کے تمام دروازے اب بند ہو چکے ہیں۔
اس کا ذمہ دار کوئی اور شخص نہیں صرف عمران خان ہے۔ کیونکہ عمران خان نے وزیراعظم بننے اور وزیراعظم ہاؤس سے نکلنے کے بعد ہر وہ کام کیا جو کسی بھی وزیراعظم کے عہدے پر فائز شخص کو سوٹ نہیں کرتے تھے۔ عمران خان کی نا اہلیوں، نالائقیوں اور غلطیوں کی وجہ سے آج نواز شریف پاکستان واپس آئے ہیں بلکہ ایک بار پھر شیروانی پہننے کی تیاری کر رہے ہیں۔ نواز شریف اس لحاظ سے بھی کافی خوش قسمت ہیں کہ ان کے لیے ہر بار واپسی کا راستہ کھل جاتا ہے۔
اس کی سب سے بڑی وجہ نواز شریف صرف اسٹیبلشمنٹ کی سیاست میں مداخلت کے خلاف ہیں۔ انہوں نے اقتدار حاصل کرنے کے لیے یا حکومت چلانے کے لیے کبھی اسٹیبلشمنٹ پر تکیہ نہیں کیا۔ وہ پاکستان کو اپنے دم پر اور ملکی وسائل سے چلانے کے خواہاں ہیں۔ آج کل نواز شریف کی تقریروں میں بھی یہی تاثر مل رہا ہے کہ وہ موجودہ ملکی حالات سے کافی پریشان ہیں ان کو یہ بھی نظر آ رہا ہے کہ پاکستان اس وقت جن مسائل کا شکار ہے ان سے نکالنا کوئی بچوں کا کھیل نہیں ہے جان جوکھوں میں ڈالنے کے مترادف ہے۔
نئی حکومت بنتے ساتھ ہی آئی ایم ایف کے ساتھ طے کردہ وعدے کے مطابق 15 فروری سے پہلے یعنی بجٹ سے بھی پہلے حکومت کو چینی پر پانچ روپے ڈیوٹی عائد کرنا پڑے گی اور متعدد اہم اشیاء پر ٹیکس 17 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنا پڑے گا۔ اس کا واضح مطلب ہے کہ نئی حکومت آتے ہی ملک میں مہنگائی کی ایک نئی لہر آئے گی اگر نواز شریف وزیراعظم بنتے ہیں تو ان کو بالکل ایسے ہی عوامی رد عمل کا سامنا کرنا پڑے گا جیسا شہباز شریف کی حکومت کو سامنا کرنا پڑا تھا ہاں البتہ اگر نواز شریف حکومت اپنے پہلے سال میں آئی ایم ایف سے جان چھڑانے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کے لیے قائل کرنے میں کامیاب ہو گئے تو 2025 پاکستانیوں کے لیے ایک نئے مستقبل کا سال ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ بھی بات قابل غور ہے نواز شریف کو بھی ان سب چیزوں کا علم ہو گا اگر وہ حکومت لینا اور حکومت کرنا چاہتے ہیں تو ظاہر ہے انہوں نے اس کی پلاننگ بھی کی ہوگی۔


