جرمنی میں پناہ کے متلاشیوں کے لئے نیا قانون؟


جرمنی کے سولہ صوبوں میں سے چودہ نے مشترکہ طور پر عندیہ دیا ہے کہ جرمنی میں پناہ کے لئے درخواست گزاروں کو ان کے نان نفقہ کے لئے اور مراعات وغیرہ دینے کا ایک مشترکہ اسٹینڈرڈ وضع کیا جائے گا جس کے ذریعے، خاص طور پر، مستقبل میں پناہی متلاشیوں کو، نقد رقم دینے کی بجائے مستقبل میں، ایک ”پے کارڈ“ دیا جائے گا۔ جرمنی کے دو صوبوں باویریا اور میکلنبرگ۔ ویسٹرن پومیرانیا نے، فی الحال باقی چودہ صوبوں کے اسٹینڈرڈ کی مخالفت کی ہے۔

یہ دونوں اپنے تئیں تجاویز دیں گے تاہم وہ بھی نقد رقم ادا کرنے کی بجائے، ہے کارڈ کے ذریعے مراعات دینے کے حق میں ہیں۔ اس فیصلے کا اعلان، صوبہ ہیسن (صوبائی دارالحکومت ویس بادن) کے منسٹر پریزیڈنٹ یعنی وزیر اعلیٰ مسٹر بورس رہائین نے، وزرائے اعلیٰ کانفرنس کے صدر/چیئرمین کی حیثیت سے کیا ہے۔ یہ معاملات نومبر 2023 ء میں، چانسلر شولس اور صوبائی وزرائے اعلیٰ کی ایک ملاقات میں بھی طے پا چکے ہیں۔ وزرائے اعلیٰ کانفرنس نے، ہیسن کے وزیر اعلیٰ کی چیئرمین شپ میں ایک ورکنگ کمیٹی تشکیل دی تھی جس کو اس کام کے لئے، ملک بھر کے لئے کم ازکم معیارات کا ایک ماڈل تیار کرنا مقصود تھا۔ متعلقہ قانون سازی، گرمیوں تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔

اس پے کارڈ میں جرمن ادارے کی طرف سے، سرکاری مراعات کا کچھ حصہ جرمنی میں پناہ کے متلاشیوں کو، نقد رقم کی بجائے، کریڈٹ یعنی بیلینس کی صورت میں ٹرانسفر کیا جائے گا۔

اس پے کارڈ میں، ادائیگی سروسز کی ایک بہت بڑی ماسٹر کارڈ نامی کمپنی کی طرف سے کریڈٹ بھرا جائے گا۔ یہ پے کارڈ، ہر اس دکان میں یا آٹومیٹ، جہاں ماسٹر کارڈ کے نارمل بنک کارڈز کے ذریعے ادائیگی ممکن ہو، پر قابل قبول ہو گا۔ جرمنی کے انتظامی حکام کی طرف سے، یہ پے کارڈز، پری۔ پیڈ فنکشن کی طرح، انفرادی طور پر لوڈ / انلوڈ کیے جائیں گے۔

20.11.2023 ء کی ایک خبر کے مطابق، صوبہ تھورنگیا کے ایک چھوٹے سے ضلع گریز میں، اس ماڈل کا دسمبر 2023 ء سے، تجربہ کیا جا رہا ہے :

ضلع گریز اور قریبی علاقوں میں رہنے والے پناہ کے متلاشیوں کو، صرف ایک سو یورو نقد دینے کے بعد ، مراعات کی باقی تمام رقم، کریڈٹ کی صورت میں، ان کے پے کارڈز میں ٹرانسفر کی جاتی ہے۔ پناہ کے درخواست گزاروں کو انتظامیہ کے دفاتر میں بنفس نفیس حاضری دینا ہوتی ہے مبادا کہیں کوئی اور، دوسرے کے نام پر ہے کارڈ وصول نہ کر سکے۔

اس پے کارڈ پر کارڈ نمبر، ولیڈیٹی کی تاریخ، پناہی متلاشی کا فرسٹ اور سر نیم، اور اس کا ”اے۔ زیڈ۔ آر“ نمبر یعنی غیر ملکیوں کے سینٹرل رجسٹر کا نمبر، پرنٹ ہوتا ہے۔ ضلع گریز کی مئیر پرسن، جرمنی کی سی ڈی۔ یو جماعت کی راہنما، محترمہ مارٹینہ شوائین برگ کے مطابق، ہے کارڈوں پر بچے ہوئے بیلینس کی نقد ادائیگی ممکن نہیں ہوگی۔ البتہ خرید کی گئی خورد و نوش اشیاء واپس کرنے پر، ہے کارڈ پر اتنے ہی بیلینس کی بیک لوڈنگ ممکن ہو گی۔ اس کے علاوہ ضلعی انتظامیہ، ہے کارڈ کریڈٹ یعنی بیلینس کی حد مقرر کرنے کی مجاز ہوگی۔

اس معاملے سے جڑے ہوئے تمام جرمن، ضلعی، شہری انتظامی اداروں کو، ایک کارڈ کے اجراء کے لئے تین یورو سے چھ یورو کا خرچہ برداشت کرنا ہو گا۔ ایک دفعہ کریڈٹ بھرنے کے لئے ایک یورو ادا کرنا ہو گا۔

اس اقدام کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ پناہ کے متلاشیوں کو، خورد و نوش کی اشیاء کی خریداری کے لئے دی جانے والی نقد رقم، اپنے اہل و عیال اور غیر ملکوں میں پیاروں کو بھیجنے کی بجائے، یہاں جرمنی میں خرچ کرنا پڑے گی۔ اوورسیز پاکستانیوں کے لئے، جو اپنے پیاروں کو رقم بھیجتے ہیں اور زر مبادلہ کی بڑھوتری میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں، یہ خبر اچھی ہے اور نہ ہی پاکستانی معیشت کے لئے سود مند ہے۔

Facebook Comments HS