کیا الیکشن 2024 میں حصہ لینے والی مرکزی مسلم لیگ حافظ سعید کی جماعت الدعوۃ کا ’نیا چہرہ‘ ہے؟

روحان احمد - بی بی سی اردو ڈاٹ کام اسلام آباد


پاکستان میں آٹھ فروری کو ہونے والے عام انتخابات میں ’مرکزی مسلم لیگ‘ کے نام سے ایک نئی سیاسی جماعت الیکشن میں حصہ لینے جا رہی ہے۔

اس تنظیم کے پاکستان کے مختلف شہروں سے نامزد چند انتخابی امیدوار وہ ہیں جو یا تو حافظ سعید کے رشتہ دار ہیں یا ماضی میں اُن کا تعلق کالعدم لشکر طیبہ، جماعت الدعوۃ یا ملی مسلم لیگ سے رہا ہے۔

پاکستان میں مذہبی جماعتوں پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا دعویٰ ہے کہ دراصل مرکزی مسلم لیگ حافظ سعید کی جماعت الدعوۃ کا ہی ’نیا سیاسی چہرہ‘ ہے تاہم مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان نے اپنی جماعت کی حافظ سعید، جماعت الدعوۃ یا کسی دوسری کالعدم تنظیم سے کسی بھی قسم کے تعلق کی تردید کی ہے۔

واضح رہے کہ کالعدم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید، جن کو انڈیا ممبئی حملوں کا مبینہ ماسٹر مائنڈ قرار دیتا ہے، کو دہشتگردی کی مالی معاونت کرنے کے الزام کے تحت قائم متعدد مقدمات میں پاکستان کی انسداد دہشتگردی کی عدالتوں نے مجموعی طور پر 31 سال قید کی سزا سُنا رکھی ہے اور وہ اس وقت لاہور میں زیرِ قید ہیں۔

حافظ سعید کو اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے 10 دسمبر 2008 کو ’عالمی دہشتگردوں‘ کی فہرست میں شامل کیا تھا جبکہ پاکستان کی حکومت نے بھی لشکرِ طیبہ، جماعت الدعوۃ اور اس سے منسلک جماعتوں اور اداروں بشمول خیر الناس انٹرنیشنل ٹرسٹ، فلاح انسانیت فاؤنڈیشن، الانفال ٹرسٹ، ادارہ خدمت خلق، الدعوت الارشاد، الحمد ٹرسٹ، المدینہ فاونڈیشن اور معاذ بن جبل ایجوکیشنل ٹرسٹ کو کالعدم تنظیموں کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے۔

حافظ محمد سعید

مرکزی مسلم لیگ کے نامزد امیدوار کون ہیں؟

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں قومی اسمبلی کے حلقے این اے 122 سے حافظ سعید کے صاحبزادے حافظ طلحہٰ سعید مرکزی مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ یہ وہی حلقہ ہے جہاں سے پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق بھی انتخاب لڑ رہے ہیں۔

اسی طرح حافظ نیک گجر حافظ سعید کے داماد ہیں اور وہ بھی لاہور ہی سے صوبائی اسمبلی کے حلقے پی پی 162 سے مرکزی مسلم لیگ کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ رہے ہیں۔

یاد رہے کہ ماضی میں جماعت الدعوۃ سے منسلک چند افراد نے سنہ 2018 میں ’ملی مسلم لیگ‘ نامی جماعت کے پلیٹ فارم سے انتخابات میں حصہ لینے کی کوشش کی تھی لیکن اُس وقت کی حکومت کی مخالفت کے بعد پاکستان کے الیکشن کمیشن نے اس جماعت کی رجسٹریشن کی درخواست مسترد کر دی تھی۔

درخواست مسترد ہونے کے بعد اس جماعت کے امیدواروں کو ’اللہ اکبر‘ تحریک نامی ایک غیر معروف جماعت کے پلیٹ فارم سے انتخابات میں حصہ لینا پڑا تھا۔ لیکن یہ جماعت انتخابات میں کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کر سکی تھی۔

ملی مسلم لیگ کا نام پاکستان میں کالعدم جماعتوں کی فہرست میں شامل نہیں لیکن سنہ 2018 میں امریکہ کے محکمہ خزانہ نے سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی منظوری سے اس جماعت کو کالعدم قرار دیا تھا اور اس سے منسلک سات افراد کو ’عالمی دہشتگردوں‘ کی فہرست میں شامل کیا تھا۔

امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ ان اقدامات کا مقصد دہشتگردوں کی مالی معاونت کرنے والوں اور اس میں ملوث افراد کو نشانہ بنانا ہے۔

امریکہ کی جانب سے جن افراد کو ’عالمی دہشتگرد‘ قرار دیا گیا تھا ان میں سیف اللہ خالد، مزمل اقبال ہاشمی، محمد حارث ڈار، تابش قیوم، فیاض احمد، فیصل ندیم اور محمد احسان شامل ہیں۔ ان افراد پر کالعدم لشکرِ طیبہ کا حصہ ہونے کے الزامات بھی عائد کیے گئے تھے۔

امریکہ کی جانب سے ملی مسلم لیگ کے جن سات افراد پر پابندیاں لگائی گئیں تھیں اُن میں سے چار افراد پنجاب اور سندھ اسمبلیوں کی سیٹوں پر مرکزی مسلم لیگ کے نامزد امیدوار ہیں۔

محمد فیاض احمد اور فیصل ندیم شیخ صوبہ سندھ سے صوبائی اسمبلی کی نشستوں پی ایس 43 اور پی ایس 64 پر مرکزی مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے انتخابات لڑ رہے ہیں جبکہ محمد حارث ڈار اور مزمل اقبال ہاشمی صوبہ پنجاب میں قومی اسمبلی کے حلقوں این اے 129 اور این اے 77 سے مرکزی مسلم لیگ کے امیدوار ہیں۔

اسی فہرست میں شامل تابش قیوم اس وقت مرکزی مسلم لیگ کے مرکزی ترجمان ہیں جبکہ سیف اللہ خالد بھی اسی جماعت کا حصہ ہیں لیکن ان کے پاس کوئی عہدہ موجود نہیں۔

مرکزی مسلم لیگ کے ایک دوسرے ترجمان حنظلہ عماد کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ‘ہمارا کوئی بھی امیدوار کسی غیرقانونی سرگرمی میں ملوث نہیں اور نہ کسی کالعدم جماعت کا حصہ ہے۔’

امریکہ کی جانب سے جماعت کے کچھ افراد کو ماضی میں دہشتگرد قرار دیے جانے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ‘کسی بھی ملک کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ لوگوں کو بغیر ثبوت یا قانونی طریقہ کار کے بنا دہشتگرد قرار دے۔‘

ماضی میں جماعت الدعوۃ کا حصہ رہنے والے افراد کا پارلیمانی سیاست میں حصہ لینے سے متعلق بی بی سی کے سوال پر پاکستان کے نگراں وزیرِ اطلاعات مرتضیٰ سولنگی کا کہنا تھا کہ ’بڑے پالیسی فیصلے لینا خصوصاً عام انتخابات سے متعلق یہ نگراں حکومت کا مینڈیٹ نہیں ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’الیکشن کمیشن آف پاکستان رجسٹرڈ جماعتوں کو الیکشن لڑنے کی اجازت دیتا ہے۔ نگراں حکومت کا کسی بھی جماعت کو الیکشن لڑنے کی اجازت دینے یا لڑنے سے روکنے میں کوئی کردار نہیں۔‘

بی بی سی نے اس ضمن میں الیکشن کمیشن کے ترجمان کو سوالات بھیجے تاہم ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

MML

’مرکزی مسلم لیگ کا حافظ سعید یا جماعت الدعوۃ سے کوئی تعلق نہیں‘

مرکزی مسلم لیگ کے نامزد امیدوار اور اس جماعت کے ترجمان حافظ سعید اور ان کی جماعت الدعوۃ سے کسی بھی قسم کے تعلق کی تردید کرتے ہیں۔

پاکستان میں صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی سے ایک صوبائی اسمبلی کی نشست کے لیے امیدوار ندیم احمد اعوان نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی جماعت کا حافظ سعید سے کوئی تعلق نہیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ سنہ 2003 سے پاکستان میں متعدد فلاحی اور سیاسی تنظیموں کے رکن رہے ہیں جن میں حافظ سعید کی جماعت الدعوۃ اور فلاحِ انسانیت فاؤنڈیشن بھی شامل ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’پاکستان مرکزی مسلم لیگ پہلی مرتبہ پاکستان کے عام انتخابات میں حصہ لے رہی ہے اور ہم نے انتخابات سے قبل اپنا منشور بھی جاری کیا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ان کے منشور میں معیشت، دفاع اور خارجہ امور سمیت تمام معاملات پر تفصیلات موجود ہیں لیکن ان کے مطابق ان کی جماعت کی سیاست ایک نعرے کے گِرد گھومتی ہے جس کا مقصد ’سیاست، خدمت انسانیت ہے۔‘

بی بی سی کی جانب سے بھیجے گئے سوالات کے جواب میں مرکزی مسلم لیگ کے پریس سیکریٹری حنظلہ عماد کا کہنا تھا کہ ’ان الزامات میں کوئی صداقت نہیں کہ پاکستان مرکزی مسلم لیگ کو حافظ سعید کی حمایت حاصل ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی قیادت خالد مسعود سندھو کر رہے ہیں اور یہ الیکشن کمیشن آف پاکستان میں رجسٹرڈ شدہ جماعت ہے جس کا انتخابی نشان کرسی ہے۔‘

ان کی جانب سے تحریری جواب میں کہا گیا کہ ان کی جماعت کا کسی بھی کالعدم جماعت یا شخص سے تعلق نہیں اور انھوں نے ملک بھر سے مختلف مکتبہ فکر اور شعبوں سے تعلق رکھنے والے 500 سے زائد افراد کو انتخابات میں کھڑا کیا ہے جن میں خواتین اور نوجوان بھی شامل ہیں۔

کیا اس سیاسی جماعت کو عوامی پذیرائی مل سکتی ہے؟

پاکستان میں مذہبی سیاسی جماعتوں پر گہری نظر رکھنے والے صحافی و تجزیہ کار ماجد نظامی کی رائے ہے کہ پاکستان مرکزی مسلم لیگ حافظ سعید کی جماعت الدعوۃ کا ہی ’نیا سیاسی چہرہ‘ ہے۔

ماجد نظامی کا کہنا ہے کہ ’کچھ برسوں پہلے ریاست نے فیصلہ کیا تھا کہ جہادی تنظیموں کو قومی دھارے میں لایا جائے اور ان کا استعمال فلاحی اور سیاسی شعبوں میں کیا جائے۔‘

ماجد نظامی کے مطابق ماضی میں حافظ سعید کی جماعت ملی مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے الیکشن میں حصہ لینے کی کوشش بھی کر چکی ہے لیکن کچھ قانونی پیچیدگیوں کے سبب انھیں اس نام سے الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت نہیں مل سکی تھی اور اس لیے انھوں نے پھر بہاولنگر کی ایک غیر معروف جماعت اللہ اکبر تحریک سے اتحاد کیا تھا اور اُن ہی کے پلیٹ فارم سے سنہ 2018 کے انتخابات میں حصہ لیا تھا۔

ماجد نظامی کہتے ہیں کہ ماضی میں جماعت الدعوۃ سے تعلق رکھنے والے سیف اللہ خالد بھی پاکستان مرکزی مسلم لیگ کا حصہ ہیں لیکن وہ قومی دھارے میں شامل ہونے کے بعد اپنا رُخ سیاسی اور فلاحی کاموں کی طرف کر چکے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ انھیں نہیں لگتا کہ پاکستان مرکزی مسلم لیگ کو پارلیمانی سیاست میں زیادہ پزیرائی مل پائے گی۔

ان کا ماننا ہے کہ ’پذیرائی حاصل کرنا یہاں مقصد بھی نہیں۔ یہاں مقصد ایسی جماعتوں کو کہیں نہ کہیں مصروف رکھنا ہے، کیونکہ اگر یہ فارغ رہیں گے تو پھر اپنے عسکری ماضی کے بارے میں سوچیں گے اور یہ ریاست کے حق میں نہیں جاتا۔‘

کنگز کالج لندن میں سینیئر فیلو اور مصنفہ ڈاکٹر عائشہ صدیقہ بھی ماجد نظامی سے اتفاق کرتی ہیں۔

ان کا دعویٰ تھا کہ ماضی میں فوج کی جانب سے ایسی جماعتوں کو قومی دھارے میں لانے کی پالیسی اپنائی گئی تھی۔

ڈاکٹر عائشہ کے مطابق ’ایسے اقدامات لینا مجبوری تھی کیونکہ دُنیا کو یہ دکھانا تھا کہ دیکھیں ہم ان لوگوں کے خلاف اس لیے کارروائی نہیں کر رہے کیونکہ یہ قومی دھارے میں آ رہے ہیں۔‘

ڈاکٹر عائشہ کہتی ہیں کہ ’جماعت الدعوۃ کے لوگ تاریخی طور پر جمہوری نظام سے نظریاتی اختلاف رکھتے آئے ہیں لیکن ان کو سیاست میں اس لیے لایا گیا تاکہ ان کی موجودگی کا جواز پیش کیا جا سکے۔‘

سڈنی میں یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے ساتھ منسلک پی ایچ ڈی ریسرچر اور پاکستان میں سکیورٹی اور سیاسی امور میں دلچسپی رکھنے والے تجزیہ کار محمد فیصل نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ایسی جماعتوں کا انتخابات میں حصہ لینے کا مقصد دوسروں کو یہ باور کروانا ہوتا ہے کہ وہ تمام تر پابندیوں کے باوجود اب بھی زندہ ہیں۔‘

محمد فیصل کہتے ہیں کہ جماعت الدعوۃ کے متعدد رہنما بشمول حافظ سعید اس وقت جیل میں ہیں اور انڈیا کی طرف سے دباؤ بھی بہت ہے۔

انھوں نے کہا کہ انتخابات میں حصہ لینے کا مقصد یہ بھی ہے کہ ’اپنے کارکنان کو متحرک‘ رکھا جا سکے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 32026 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments