پاکستان کے عام انتخابات اور جماعت احمدیہ کا بائیکاٹ


ملک میں بہت سی خبریں ہیں۔ عمران خان کی گرفتاری ہے، بلے کا نشان ہے، سزائیں ہیں، عدت کے مسائل ہیں، الیکشن کی تقریریں ہیں، جلسے ہیں، جلوس ہیں، زندہ باد، مردہ باد ہے۔ اور یہ سب اتنا سنسنی خیز ہے کہ چھوٹی چھوٹی خبریں، معمولی سے حقوق جو پامال ہو رہے ہیں ان کی طرف نہ حکمرانوں کا دھیان ہے نہ عدلیہ کا، نہ خواص کی پریشانی ہے نہ عوام کا مسئلہ۔ اسی گرما گرمی میں آئین کی بنیادی خلاف ورزی پر مشتمل کچھ خبروں کی طرف دھیان جائے بھی تو کیسے؟

ہم سب اور کچھ دوسرے اخباروں میں ایک مختصر لیکن حیرت انگیز خبر دیکھنے کو ملی کہ وطن عزیز میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جسے انتخابات میں براہ راست حصہ لینے کی اجازت ہی نہیں۔ شاید آپ سمجھے ہوں کہ وہ دہائیوں سے آباد افغان شہری ہیں۔ تو عرض ہے کہ وہ افغانستان سمیت کسی بھی اور ملک کے شہری نہیں ہیں بلکہ اسی ملک پاکستان کے شہری کہلاتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے آصف علی زرداری، میاں نواز شریف، عمران خان، مولانا فضل الرحمن یا پھر آپ ہیں۔

تو کیا ان لوگوں نے کبھی ووٹ ڈالا ہی نہیں؟ ایسا بھی نہیں ہے۔ پاکستان کے ابتدائی 27 سال میں ان کو ووٹ ڈالنے کا حق اسی طرح ملتا رہا ہے جیسے باقی سب کو۔ بلکہ ان میں سے ممبران پارلیمنٹ، سینیٹر یہاں تک کہ وزیر مشیر بھی منتخب ہوتے رہے ہیں۔

اب آپ سوچتے ہوں گے کہ اب کیا ہو گیا وہ کیوں ووٹ نہیں ڈالتے یا نہیں ڈال سکتے۔ تو جواب بڑا سادہ بھی ہے اور الجھا ہوا بھی۔ لیکن یہ سادہ اور الجھا ہوا جواب آئین پاکستان کی بھی خلاف ورزی کرتا ہے اور انٹرنیشنل قوانین کی بھی۔ جواب بنیادی انسانی حقوق کے منافی بھی ہے اور بانی پاکستان کے فرمودات کے بھی خلاف ہے۔ وہی بانی پاکستان محمد علی جناح جن کی 11 اگست کی تقریر کا حوالہ اکثر دیا جاتا ہے اور وہی بانی پاکستان جنہوں نے پہلی کابینہ میں دوسرے اہم ترین عہدے کے لئے انہی میں سے ایک شخص کو خود پاکستان کا پہلا وزیرخارجہ مقرر کیا تھا۔ اور یہ کمیونٹی ہے جماعت احمدیہ۔

جواب ہے کیا؟ جواب جاننے کے لئے میں نے کمیونٹی کے ترجمان عامر محمود سے رابطہ کیا جن کے حوالے سے یہ خبر شائع ہوئی تھی۔ انہوں نے جو کہا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ پاکستان ”بنانے کے گناہ“ میں شامل ان کی جماعت کے افراد کے لئے علیحدہ امتیازی انتخابی فہرستیں بنائی گئی ہیں جن پر قادیانی مرد/قادیانی عورت تحریر ہے۔ اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ تمام اقلیتوں کے لئے اس طرح کی فہرستیں ہوں گی تو عرض ہے کہ نہیں، مسیحی، ہندو، سکھ اور دوسرے کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والی اقلیتوں کے لئے ایسی کوئی علیحدہ فہرست نہیں ہے۔ اگر ہے تو صرف جماعت احمدیہ کے لئے۔ چنانچہ اس امتیازی سلوک کے خلاف جماعت احمدیہ نے احتجاجاً انتخابات کا بائیکاٹ کیا ہے۔

انتخاب میں حصہ لینے یا ووٹ ڈالنے کے لئے کسی بھی شخص کا محض اس ملک کا شہری ہونا کافی ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ایک بنیادی آئینی و شہری حق کو بھی ہم نے مذہب کے خانے میں تقسیم کر رکھا ہے۔ ذہن پر زور دینے سے بھی دنیا کے کسی قابل ذکر ملک میں کوئی مثال ایسی نہیں ملی جہاں مذہب کی بنیاد پر ووٹر لسٹیں بنتی ہوں اور مذہب کی بنیاد پر کوئی انتخابات میں حصہ لے سکتا ہو۔ کوئی منفی مثال ہو تو ہو اکیسویں صدی کے جمہوری معاشرے میں ایسی کوئی پریکٹس نہ ہے نہ ہو سکتی ہے۔ یہ ایک اور کلنک کا داغ ہے جو پاکستان کی پیشانی پر مل دیا گیا ہے۔

ایک طرف ہم بڑے فخر سے یہ اعلان کرتے ہیں کہ کینیڈا میں پاکستانی نژاد اتنے افراد ممبران پارلیمنٹ منتخب ہو گئے ہیں، صادق خان لندن کے مئیر بن گئے ہیں، امریکی کانگریس میں اتنے مسلمان انتخابات میں حصہ لیں گے، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، ناروے، سویڈن، جرمنی میں مختلف مذاہب اور بیک گراؤنڈ سے تعلق رکھنے والے اتنے افراد منتخب ہوئے۔ دوسری طرف جن ممالک میں دیو سیاست کی چنگیزی سے مسلمان متاثر ہو رہے ہوں وہاں بھی ہمارے پیٹ میں زور کا مروڑ اٹھتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے اپنے ملک میں ہم ہر اس کام پر فخر کرتے ہیں جس سے بنیادی انسانی حقوق، آئینی حقوق، اخلاق، سماج، سیاست متاثر ہو رہے ہوں۔ اور اس لئے کہ اکثریت یا طاقتور کا مسئلہ 9 مئی وغیرہ ہے یہ نہیں چنانچہ کسی اخبار کے کونے میں ایک چھوٹے سے کالم میں لگی خبر دیکھئیے اور آگے بڑھ جائیے۔

Facebook Comments HS