مقبوضہ کشمیر نہیں جانا صاحب


”مقبوضہ کشمیر نہیں جانا، غوری ٹاؤن جانا ہے، مناسب پیسے مانگیں۔“

راول ایکسپریس اپنے مقررہ وقت 12:30 پہ ہی لاہور ریلوے اسٹیشن سے راولپنڈی کے لیے روانہ ہوئی۔ سارا سفر خیریت سے ہوا اور ٹرین اپنے مقررہ وقت سے دس منٹ پہلے ہی، چکلالہ اسٹیشن پر پہنچی۔ ایک تو اس وقت یہ اسٹیشن بالکل سنسان تھا اور یہاں صرف گنتی کے چند مسافر ٹرین سے اترے، جو فوراً سے پہلے اپنے اپنے ٹھکانوں کی طرف نکل گئے۔ میں نے رات کے اس آخری پہر کی خاموشی اور فروری کی ٹھنڈ میں کچھ دیر اسٹیشن پہ اکیلے بیٹھنے کو نعمت جانا۔ اب تقریباً صبح کے پانچ بج چکے تھے، آسمان پر ابھی صبح کے آثار، گہرے سیاہ بادلوں کی وجہ سے نمودار نہیں ہوئے تھے۔

میرا گھر اسٹیشن سے تقریباً 5 کلو میٹر کی مسافت پر غوری ٹاؤن فیز 5 بی میں ہے۔ گھر جانے کے لیے میں عموماً آن لائن رائیڈز کا ہی انتخاب کرتا ہوں۔ آج صبح جب میں نے رائیڈ بک کرنے لیے ان ڈرائیو ایپلیکیشن آن کی تو کرایہ تقریباً 400 کے قریب تھا، لیکن غوری ٹاؤن جانے کے لیے سبھی رائیڈرز 600 یا اس سے زائد کرائے کا مطالبہ کر رہے تھے، جو میرے حساب سے زیادہ اور منافع خوری کے زمرے میں آتا تھا۔ مجھے اس بات کا بھی بخوبی اندازہ تھا کہ رات کے اس پہر، واپسی کی سواری ملنا مشکل ہے، لیکن آخر میں اس سواری نا ملنے کا کریہ کیوں ادا کروں! کیا دن کے وقت اس علاقے میں آنے والے سبھی ڈرائیورز کو سواری مل جاتی ہے، اگر نہیں تو تب بھی تو وہ اس طرف تقریباً 400 میں آتے ہیں نا! اور ویسے بھی اگر ان ڈرائیو ایپلیکیشن کے حساب سے کوئی ڈرائیور مقررہ کرائے پہ جانے کو تیار ہو جائے، تو میں اسے خوشی سے سو پچاس زائد دے ہی دیتا ہوں۔

خیر دو سے تین بار کوشش کرنے کے باوجود بھی کوئی بھی 600 سے کم پہ راضی نا ہوا۔ اور مجھے بھی اب کافی عجیب لگ رہا تھا کہ آخر ان انسان صفت ڈرائیورز سے کیسے کچھ کہا جائے۔ خیر اب کی بار میں نے کمنٹس سیکشن میں ڈرائیورز کے نام ایک پیغام لکھا: ”مقبوضہ کشمیر نہیں جانا، غوری ٹاؤن جانا ہے، مناسب پیسے مانگیں“ اب کی بار پھر ایک انسان صفت ڈرائیور، جو وہیں اسٹیشن پر موجود تھے، نے 600 کا مطالبہ کیا مگر ساتھ ہی ایک ڈرائیور جو تقریباً 3 کلو میٹر کی دوری پہ تھے، نے 420 روپے میں جانے پہ رضا مندی ظاہر کی۔

میں نے ریکویسٹ ایکسیپٹ کی۔ کچھ لمحے بعد ان کی کال آئی اور اب میں اکیلے بیٹھا مسکرا رہا تھا۔ علیک سلیک کے بعد کہنے لگے کہ تو آپ مقبوضہ کشمیر نہیں جا رہے، غوری ٹاؤن جانا ہے۔ ”جی غوری ٹاؤن جانا ہے۔ مگر کئی لوگ انتہائی غیر مناسب کریہ مانگ رہے تھے، اس لیے پیغام لکھا تھا“ میں نے وضاحت دی۔ ”اچھا چلیں میں 4 سے 5 منٹ میں آپ کے پاس پہنچ جاؤں گا“ اور پھر انھوں نے کال کاٹ دی۔ اور میں یہ ارادہ کر چکا تھا کہ انھیں 500 کرایہ ادا کروں گا۔

میں اپنے سامان، جو کہ دو بیگز پر مشتمل تھا لے کر اسٹیشن سے باہر آ گیا۔ اور وہ صاحب جو بڑی دیر سے وہاں کھڑے تھے اور 600 سے نیچے آنے کا نام تک لینا گوارا نہیں کر رہے تھے، گاڑی سے نکل کر میرے پاس آئے اور کہنے لگے ”یہ کشمیر والی بات آپ نے کی تھی“ ۔ جی۔

”چلیں آئیں میں آپ کو چھوڑ آتا ہوں“
”نہیں اب مجھے رائیڈ مل چکی ہے“ میں نے کہا۔
”دراصل، وہاں سے واپسی کی سواری نہیں ملتی“ انھوں نے وہی وضاحت پیش کی، جس کا مجھے اندازہ تھا۔
”اگر سواری نہیں ملتی تو اس کا بوجھ مجھ پہ ڈالنا درست ہے؟“ میں نے سوال کیا۔

اب کی بار انھوں پیٹرول، گاڑی، مہنگائی اور دیگر مجبوریوں کا رونا رونا شروع کر دیا۔ خیر میری رائیڈ اتنی دیر میں وہاں آ چکی تھی۔ میں نے اپنا سامان گاڑی میں رکھا اور منزل کے جانب روانہ ہوا۔

یہ سرمئی رنگ کی مہران گاڑی تھا، زیادہ پرانی نہیں تھی مگر سفر کے قابل تھی۔ ڈرائیور ایک خوش طبع انسان تھا، گاڑی میں کسی قسم کی لائٹ نا تھی کہ ڈرائیور کو دیکھ سکوں، مگر سٹریٹ لائٹ کی روشنی میں ڈرائیور کا رنگ گندمی دکھا اور شیو بڑھی ہوئی تھی۔ کپڑوں کا رنگ غالباً سیاہی مائل تھا اور وہ خود ہی میرے کمنٹ پہ سلیقے سے بات کرنے لگا۔ ”بھائی دیکھیں، پیسوں سے فرق نہیں پڑتا، آپ مجھے چار پیسے کم بھی دیں گے تو بھوکا نہیں مروں گا اور اگر دو پسے زیادہ دیں گے، تو بھی آپ کا کچھ نہیں جائے گا۔ سر بس یہ ہماری ایمان کی کمزوری ہے کہ جب بھی ہمیں کوئی مجبور دکھتا ہے تو ہم اس کا سہارا بننے کے بجائے، اسے لوٹنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کم از کم کسی کو لوٹ کر ہم اپنے من کی آگ نہیں بجھا سکتے۔“

Facebook Comments HS