انتخابات اور مذہبی اقلیتیں

گزشتہ سال سے بے یقینی کا شکار قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات بالآخر 8 فروری کو منعقد ہوں گے۔ ملک کے مختلف علاقوں میں امن کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور موسم کی شدت کے باوجود الیکشن کمیشن عزم پختہ کیے ہوئے ہے کہ انتخابات 8 ء فروری کو ہی منعقد ہوں گے۔ ملکی سیاسی صورتحال کے پیش نظر اس مرتبہ انتخابات میں روایتی گہماگہمی کم اور خوف کا عنصر زیادہ ہے۔ 8 فروری 4202ء کو منعقد ہونے والے انتخابات ملکی تاریخ کی سولہویں قومی اسمبلی کا انتخاب کریں گے۔
ملکی تاریخ میں ہونے والے مختلف تجربات کے بعد 3791ء کے آئین کے تحت پاکستان میں پارلیمانی جمہوریت کا نظام قائم ہے اور صوبوں میں صوبائی اسمبلیوں اور وفاق میں قومی اسمبلی کے انتخابات ہر 5 سال بعد ہونا قرار پائے ہیں۔ اگرچہ موجودہ قومی اسمبلی میں پہلی دفعہ منتخب وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد لائی گئی اور وزیراعظم کو ہٹا دیا گیا لیکن قومی اسمبلی بہرحال اپنی مدت کی تکمیل کے بعد تحلیل کی گئی۔ پاکستان میں جمہوریت کا اساس پارلیمانی نظام ہے اور اس پارلیمانی نظام کے ساتھ سیاسیات میں معروف اصطلاح عمرانی معاہدہ بھی ہے۔
اگرچہ عمرانی معاہدے کی ایک معروف تعریف یہ کی جاتی ہے کہ لوگ مل کر حکومت کرنے کا اختیار کسی گروہ کو دیتے ہیں اور حکومت کے بنائے گئے قوانین کی پیروی کر کے جو اباً تحفظ اور آزادی حاصل کرتے ہیں۔ عمرانی معاہدہ کو مختلف سیاسی فلسفیوں نے مختلف زاویے سے بیان کیا ہے۔ جان لاک اور روسو جیسے فلاسفر نے عمرانی معاہدے کے متعلق تفصیل سے بات کی ہے۔ عصر حاضر میں جان رال کی انصاف کی تھیوری بھی منظر عام پر آئی جس کے مطابق سیاسی /عمرانی (Civic) آزادیاں پہلے نمبر پر آتی ہیں اور اس کے بعد سماجی اور معاشی ترقی کا نمبر آتا ہے۔ آئین بھی عمرانی معاہدہ کی ایک شکل ہے۔
ٓآئین پاکستان کے اول باب میں ہی انسانی حقوق اور آزادیوں کا تذکرہ کیا گیا ہے، بالخصوص آرٹیکل 8 سے 28 تک حقوق کے تحفظ کی بات کی گئی ہے۔ اس میں ایک اہم آرٹیکل نمبر52 ہے جس کے مطابق تمام شہری قانون کی نظر میں برابر ہیں اور قانونی تحفظ کے مساوی طور پر حقدار ہیں۔ آرٹیکل 20 (الف) کے مطابق ہر شہری کو اپنے مذہب کی پیروی کرنے، اس پر عمل کرنے اور تبلیغ کر نے کا حق ہو گا۔ مزید براں پاکستان نے مختلف بین الاقوامی معاہدوں کی توثیق کی ہے جس میں اقوام متحدہ کے بین الاقوامی انسانی حقوق کا چارٹر، سماجی اور معاشی آزادیوں کا معاہدہ وغیرہ شامل ہیں۔
انتخابات میں مختلف سیاسی جماعتوں نے اپنے منشور کا اعلان کیا ہے جس میں دو بڑی جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے منشور زیادہ زیر بحث رہے۔ دونوں جماعتوں کے منشور میں اقلیتوں کے خلاف ہونے والے تشدد اور جبری شادیوں کی روک تھام نمایاں نکات ہیں۔ یقیناً یہ دونوں نکات مذہبی اقلیتوں کے لئے اہمیت کے حامل ہیں۔ گزشتہ سال میں بالخصوص جڑانوالہ میں مسیحی اقلیت کے خلاف ہونے والے تشدد نے ریاست اور معاشرے کے اقدامات پر سوالیہ نشان اٹھائے ہیں۔
مخلوط طرز انتخاب پر منعقد ہونے والے انتخابات میں امیدواران مسیحی آبادیوں کا رخ کیے ہوئے ہیں۔ سیاسی امیدوار مذہبی رہنماؤں کو قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ اپنی کمیونٹی کے لوگوں کو ان کی حمایت کے لئے ابھاریں۔ انتخابات کی اس ساری مشق میں مذہبی اقلیتوں کے لئے کچھ اہم سوالات پیش نظر ہیں۔ پاکستان کے سیاسی نظام میں اقلیتوں کا کیا کردار ہے؟ اقلیتیں کس طرح کے عمرانی معاہدے میں شریک ہیں اور ان کے لئے عمرانی معاہدے کی بنیاد کیا ہے۔
انسانی حقوق کے تناظر میں قائد اعظم کی گیارہ اگست کی تقریر اکثر دہرائی جاتی ہے جس میں قائد اعظم محمد علی جناح نے کہا کہ ریاست کے امور میں فرد کے مذہب کا کوئی عمل دخل نہیں۔ تاہم، موجودہ قانون سازی اور ریاست اور معاشرے کے رویے کسی اور طرز عمل کی گواہی دیتے ہیں۔ سیاسی نظام کے چہرے اپنے اقدامات کو صرف اقلیتی کنونشن میں شرکت اور مذہبی تہواروں میں کیک کاٹنے تک محدود کیے ہوئے ہیں۔ انتخابات کے دوران مذہبی اقلیتوں کے لئے کیا اقدامات کیے گئے ہیں اور اقتدار حاصل کرنے کے بعد سیاسی جماعتوں کے کیا اقدامات ہوں گے، یہ تو آنے والا وقت ہی ثابت کرے گا۔ آخر میں مذہبی اقلیتوں کی ترجمانی کرتے ہوئے اپنی ایک نظم پیش کرتا ہوں۔
معاشرے کے حاشیے سے پرے ہوں
انسان نہیں بس کمین ہوں
سردیوں کی شام میں
مغالطے کا شکار ہوں
کہ کرسمس ہے
مکان و مکین جلے پڑے ہیں
پیشانی پر ثبت وہ جلتی راکھ ہے
سرکار نے پر کیک کاٹا ہے
کہ کرسمس ہے
پاک و نجس کی تخصیص میں
حق و باطل کی تصلیب میں
سزا و جزا کی تفریق میں
یہ کیسی مبارکباد ہے
کہ کرسمس ہے
مشکیں کسی ہوئی ہیں
سولیاں گڑی ہوئی ہیں
اور میرا یہ بدن
آخری آزادی کا منتظر ہے
پر یہ سب کیسے کہوں
کہ کرسمس ہے
(سلمان سحر)

