قانون ساز یا نالی ساز؟


یاد رکھئیے جنہیں آپ نالی ساز، سولنگ ساز یا سڑک ساز سمجھ کر ووٹ دے رہے ہیں یہ دراصل آئین ساز ہیں، قانون ساز ہیں مگر نہ آپ کو معلوم ہے نہ انہیں خود احساس ہے۔ ان سے اسی بابت سوال کیجیے کہ محترم آپ نے آخری پانچ سالہ میں یا سارے کریئر میں کب اسمبلی میں کھڑے ہو کر ہماری نمائندگی میں زبان ہلائی یا قانون سازی کروائی تھی۔ ذرا ووٹ ڈالنے سے پہلے دیکھ لیجیے کہ آپ محض اسمبلی میں اشاروں پر کھڑے ہونے والا روبوٹک ہاتھ بھیج رہے ہیں یا ضمیر اور عوام کی رائے بدل دینے والی صلاحیت کی حامل زبان بھیج رہے ہیں۔

اس مقصد کے لئے نمائندہ کیسا ہونا چاہیے تو یہاں سینیٹر مشتاق کو ایک عمومی مثال سمجھ کر اندازہ لگا لیجیے کہ عوامی جذبات اور ضمیر کا کیسے ایوانوں میں اظہار کیا جاتا ہے؟ کیا آپ کے لیڈر نے ایسا اظہار کیا ہے؟ اس سے پوچھئے بھی اور خود بھی اپنے ذہن کو واپس دوڑا کر اپنے لیڈر کو ایوان میں کھڑے ہو کر تقریر کرتے یاد کیجئے۔ اگر ذہن میں ایسی کوئی یاد نہیں ابھرتی تو انہی سے پوچھ لیجیے کہ ان کو تو یاد ہی ہو گا۔

اگر آپ سمجھتے ہیں کہ گلی، نالی اور سڑک بنوانا ہی لیڈرشپ ہے تو اچھی طرح تسلی کر کے سب سے بہتر ٹھیکیدار کو ووٹ دیں اور اس کو واضح طور پر بتا دیں کہ لالا میٹریل کے معیار اور کوالٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا خواہ آپ کو اپنے حصے کا کمیشن قربان ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔

اگر آپ تھانے کچہری کو سیاست سمجھ کر لیڈر کا انتخاب کر رہے ہیں تو کوشش کریں ایسے نمائندے کا انتخاب کریں جو خود نہ صرف تھانے اور جیلیں دیکھ چکا ہو بلکہ خود بھی نسبتاً بہتر کرمنل ہو۔ اس معاملے میں شرفاء کو ووٹ دینا خود اور لیڈر دونوں کو مصیبت میں ڈالنے کے برابر ہو گا۔ مزید میرٹ کے لئے دائیں بائیں سے انفارمیشن لے لیں اور اس لیڈر کا انتخاب کریں جس کا تھانیدار کو بدتمیزی اور ترجیحاً گالی دے کر مخاطب کرنے کا ریکارڈ موجود ہو۔ اگر ہتھ چھٹ مل جائے تو سبحان اللہ۔

اگر آپ کو سڑکوں پر عوامی نمائندگی درکار ہے تو اس کے لئے آپ ان متشدد جماعتوں سے لیڈر کا انتخاب کیجیے جو منٹوں میں سڑکوں کو بند کرنے، املاک کو جلانے اور پولیس کو ہینڈل کرنے اور اس سے لکن میٹی کھیلنے کا مناسب تجربہ رکھتے ہوں۔ اس عمل میں بہرحال دعووں سے زیادہ ٹریک ریکارڈ پر نظر رکھیں اور ان جماعتوں اور امیدواران کا انتخاب کیجیے جو سپریم کورٹ، پی ٹی وی اور پارلیمنٹ جیسے اداروں پر حملے کا بھی تجربہ تو رکھتے ہوں لیکن اس سے بڑے یا اس سے چھوٹے لیول والوں سے ہر صورت بچیں۔ اس سے آپ کے ووٹ کے ساتھ ساتھ آپ کی سیکیورٹی بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

آخر میں ڈرتے جھجکتے ذاتی سی گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ اگر درج بالا تمام خصوصیات کسی ایک لیڈر میں یکجا دیکھ لو تو خدارا اس کو ہاتھ سے مت جانے دینا۔ اس کو ہر صورت خود پارلیمنٹ چھوڑ کر آنا کہ اصل پاکستانی جمہوریت کی نمائندگی اسی کو آتی ہے۔

Facebook Comments HS