ضد لے ڈوبے گی


ضد کے معنی ہیں ہٹ دھرمی، اپنی مرضی کرنا، انا اور اڑ جانا۔ ضد سے مراد کسی بھی معاملے میں دوسروں کی مرضی کے برعکس اپنی مرضی کو فوقیت دینا اور اس پر اڑ جانا اور ڈٹے رہنا ہے۔ چاہے یہ مرضی ناپسندیدہ یا نقصان دہ ہی کیوں نہ ہو۔

ضد میں آ کر انسان اپنی ذات کو ترجیح دیتا ہے۔ دیکھا جائے تو کسی بھی بات پر اٹک جانا، کسی کی نہ سننا، خود کو صحیح سمجھنا ہی ضد ہے۔ اصل میں ہماری ذات کا ہی کوئی نہ کوئی پہلو ہوتا ہے جو ہمیں کسی بھی فیصلے یا سوچ پر اٹکائے رکھتا ہے، کسی بھی معاملے میں ہم اپنی مرضی کرتے ہیں۔

ضد میں آ کر کسی کے ساتھ کوئی سمجھوتا کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے اور ہمارا یہ عمل ہم سے غلط قدم اٹھواتا ہے، جس سے لڑائی جھگڑا بھی ہوتا ہے اور نقصان بھی اٹھاتے ہیں۔ بہت سے معاملات میں ہماری وہ ضد ہماری زندگی کا پچھتاوا بن جاتی ہے۔

ہمارے سماج اور مزاج کے ساتھ ساتھ سیاست میں بہت زیادہ ضد پائی جاتی ہے۔ اگرچہ اختلاف بھی ضد ہوتا ہے لیکن اس میں لچک نہیں ہوتی۔ ہٹ دھرمی بعض اوقات فریقین کی سوچ مختلف ہونے پر یہی صورتحال پیدا ہوجاتی ہے۔

سیاست میں اکثر کچھ معاملات حالات واقعات ضد کی صورت اختیار کر جاتے ہیں۔ اس وقت ملک میں ایک عجیب اور دلچسپ معاملہ چل رہا ہے ایک فرد اور اس کی سوچ دو مختلف دھڑوں کے درمیان ضد بن گئی ہے۔ ریاست کی مقتدرہ قوتیں اور کچھ سیاسی جماعتیں دوسری طرف ایک سیاسی جماعت کے حامی یا کہہ لیں اس فرد کی سوچ کو درست قرار دینے والے۔ دونوں جانب ایک ضد کی کیفیت پائی جا رہی ہے۔ ایک طرف اس فرد کو منظر سے ہٹانے کے لئے تمام ریاستی اداروں کو مصروف کر دیا ہے۔

اس میں ہر کسی کی مدد لی جا رہی ہے اور اس ایک فرد کی سوچ کے علمبرداروں کی ضد بھی روزبروز شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ اس سب کے نتیجے میں کوئی دوسرے کی بات سننے اور برداشت تک کرنے کے لئے تیار نہیں۔ سماج میں سیاست بھی جیسے اپنے اصول و ضوابط سے ہٹ کر کسی اور نہج پر چل نکلی ہے۔ اکثر مواقع پر درست اور غلط کا تعین کرنے والا بھی دکھائی نہیں دیتا مطلب اگر عدلیہ کو فیصلہ کرنے کا موقع ملتا ہے وہ بھی کئی جگہ مجبور اور اپنی ضرورتوں کے نظریے کا شکار دکھائی دیتی ہے۔ کہیں دینی معاملہ ہو وہاں بھی تشریح کا تعین مشکل نظر آتا ہے۔

ضد کا ماحول جیسے ہر طرف ایک گردوغبار کی طرح محسوس ہو رہا ہے۔ ساری سیاست کا محور فرد واحد بن گیا ہے۔ اس کی مخالفت اور حمایت پر مبنی مباحثے اور جھگڑے ہو رہے ہیں۔ بڑے سیاست دان ہوں دانشور یا کوئی گلی محلے میں تھڑے پر بیٹھے لوگ سب کی گفتگو کا موضوع وہی ایک فرد ہے۔

اس ضد کی کیفیت پر قابو پانے کے طریقے ہیں سب سے پہلے سوچ میں لچک پیدا کی جائے ہر کوئی دوسرے کو برداشت کرے۔ مخالف کو منظر سے ہٹانے اور تباہ برباد کرنے کا خیال ذہن سے نکالنا ہو گا۔ اس سب کے نتیجے میں نئی نسل کو غصے اور انانیت کی طرف دھکیلنے کا جرم سرزد ہو رہا ہے جس کا نقصان مجموعی طور پر سماج کو اٹھانا پڑے گا۔ یہ نہ ہو کہ ضد ہم سب کو لے ڈوبے۔

نعمان یاور

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

نعمان یاور

نعمان یاور پرنٹ اور الیکٹرانک صحافت میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں اور ان دنوں ایک نجی ٹی وی چینل سے وابستہ ہیں

nauman-yawar has 140 posts and counting.See all posts by nauman-yawar

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments