انتخابات 2024 میں ایک کروڑ لاپتہ خواتین


الیکشن کمیشن پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق انتخابات 2024 کے لئے 127 ملین رجسٹرڈ ووٹر زمیں سے 58.5 ملین عورتیں ہیں اور 68.5 ملین مرد ہیں۔ پاکستان کی 224.5 ملین آبادی میں جہاں خواتین کل آبادی کا 49 فیصد ہیں دس ملین کا یہ فرق ایک بڑا جینڈر گیپ ہے۔ اگرچہ انتخابات 18 20 میں یہ گیپ 13 ملین کا تھا اور کچھ حلقے اس بہتری کو بڑی کامیابی تصور کر رہے ہیں تاہم سوچنے کی بات یہ ہے کہ دس ملین یعنی ایک کروڑ خواتین ووٹوں کے اندراج میں لاپتہ کیوں ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق اگرچہ ووٹ ڈالنا تمام شہریوں کا آئینی حق ہے لیکن گزشتہ انتخابات میں لاکھوں عورتوں کو اس حق کے استعمال سے روک دیا گیا۔ خاص طور پر پاکستان کے انتہائی قدامت پسند حلقوں میں، سیاسی جماعتوں کے عہدیداروں، مقامی عمائدین اور دیگر طاقتور شخصیات نے خواتین کو ووٹ نہ دینے کے پیغامات نشر کرنے کے لئے ساز باز کی اور بسا اوقات انہیں پو لنگ اسٹیشنز سے دور رکھنے کے لئے جسمانی طاقت کا مظاہرہ بھی کیا گیا۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ حکومتوں اور پارلیمان کی تشکیل کو پورے معاشرے کی عکاسی کرنا ہوتی ہے۔ لاکھوں لا پتہ خواتین ووٹرز کا مطلب ہے کہ پاکستان میں ان کے معاملات اور تحفظات کی پوری نمائندگی نہیں ہو پاتی۔

حال ہی میں کوہستان میں ایک فتویٰ جاری کیا گیا کہ خواتین انتخابات کے لئے کیمپین نہیں چلا سکتی تاہم الیکشن کمیشن نے اس کا بر وقت نوٹس لیا۔ پاکستان میں ووٹ درج کروانے اور ڈالنے کے لئے ووٹرز کے پاس کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کا رڈCNIC) ) ہونا ضروری ہے لیکن قومی آگاہی مہم اور موبائل رجسٹریشن مراکز کے باوجود بہت سی خواتین قومی شناختی کارڈ ہی نہیں رکھتیں جس کی بڑی وجہ آمدورفت اور تعلیم میں رکاوٹیں اور پدر سری نظام ہیں۔ 2017 کے الیکشن ایکٹ میں خواتین کے حق رائے دہی سے محرومی کی کچھ وجوہات کو دور کرنے کی کوشش کی گئی۔ قانون میں کہا گیا کہ انتخابات کے منطقی ہونے کے لئے کسی بھی حلقے میں کم از کم دس فیصد ووٹرز کا خواتین ہونا ضروری ہے۔ تاہم اس کم شرح نے تفاوت کو کم کرنے کے لئے بھی کم ہی کام کیا ہے۔

اگر خواتین امیدواروں کے حوالے سے جائزہ لیا جائے تو قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں خواتین کے لئے 17 فیصد سیٹیں مختص ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ قانون کے مطابق خواتین جنرل نشستوں پر بھی انتخابات میں حصہ لے سکتی ہیں بلکہ سیاسی پارٹیوں پر یہ لازم ہے کہ جنرل نشستوں پر ان کی پانچ فیصد امیدوار خواتین ہوں۔ لیکن ہمارے پدر سری نظام میں کتنی خواتین انتخابات میں حصہ لیتی ہیں اس کا اندازہ الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار سے لگایا جا سکتا ہے۔

انتخابات 2024 میں 94 فیصد مرد اور 6 فیصد خواتین نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے ہیں۔ اگر ملک کی دو بڑی سیاسی پارٹیوں کا جائزہ لیا جائے تو پنجاب اسمبلی میں پاکستان مسلم لیگ نوازنے 282 میں سے 4 سیٹوں پر خواتین کے کاغذات نامزدگی جمع کروائے ہیں جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے 241 میں سے 9 سیٹوں پر خواتین کے کاغذات نامزدگی جمع کروائے ہیں۔ اس طرح سے یہ دونوں جماعتیں الیکشن کمیشن کی شرط کو پورا نہیں کرتیں۔ الیکشن کمیشن ایکٹ کی شق 206 کے مطابق اس عدم تعمیل پر ایکشن لیا جانا چاہیے۔

مذہبی اقلیتیں جو ملک کی آبادی کا 3.5 فیصد ہیں ان کے لئے سینٹ میں 4، قومی اسمبلی میں 10 اور صوبائی اسمبلیوں میں 23 نشستیں مخصوص ہیں۔ سیاسی پارٹیاں اقلیتی افراد کو جنرل الیکشن میں عموماً ٹکٹ نہیں دیتی کہ مخالف امیدوار مذہبی کارڈ استعمال کرتے ہوئے انہیں آسانی سے ہرا دیں گے۔ پھر فنڈز، سماجی حیثیت اور مقبولیت بھی رکاوٹ بنتی ہیں۔ ملک میں قومی اسمبلی کے تیس سے پینتیس حلقے ایسے ہیں جہاں مذہبی اقلیتوں کے ووٹ زیادہ ہیں، سندھ میں ہندو برادری اور پنجاب میں مسیحی برادری۔

اگر اقلیتی خواتین کی انتخابات 2024 میں شرکت دیکھی جائے تو یہ بھی اتنی حوصلہ افزاء نہیں ہے۔ صنف، مذہب اور طبقے کا باہمی تعلق کثیر جہتی اور پیچیدہ چیلنجز پیدا کرتا ہے جس کے نتیجے میں سیاسی نظام میں اقلیتی عورت کی پسماندگی بڑھ جاتی ہے۔ قانون کے مطابق اقلیتوں اور خواتین کے لئے مخصوص نشستوں کے علاوہ مذہبی اقلیت سے تعلق رکھنے والی خواتین عام نشستوں پر بھی انتخابات میں حصہ لے سکتی ہیں۔ لیکن زمینی حقائق جاننے کے لئے ہمیں پھر الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار سے رجوع کرنا پڑے گا۔

انتخابات 2024 میں پاکستان پیپلز پارٹی نے خیبر پختونخوا اسمبلی کے لئے جنرل سیٹ کا ٹکٹ ایک ہندو خاتون کو دیا ہے۔ جبکہ پاکستان مسلم لیگ نواز نے پنجاب اسمبلی میں خواتین کی مخصوص نشستوں میں ایک مسیحی خاتون کو نامزد کیا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ نواز نے پنجاب اسمبلی میں دو خواتین کو اقلیتی کوٹہ پر بھی نامزد کیا ہے تاہم ترجیحی فہرست میں ان کا نمبر سات اور آٹھ ہے جس سے ان کا صوبائی اسمبلی کا رکن منتخب ہونا مشکل نظر آتا ہے۔ اسی طرح سندھ میں اقلیتوں کی مخصوص نشستوں پر پاکستان پیپلز پارٹی نے تمام نامزدگیاں مردوں کی ہی کی ہیں۔

اگر انتخابات 2018 کے نتیجے میں منتخب ایوانوں کا جائزہ لیا جائے تو پنجاب اسمبلی کے 371 کے ایوان میں صرف ایک مسیحی خاتون تھی جبکہ سندھ اسمبلی کے 168 ارکان میں بھی صرف ایک ہی ہندو عورت تھی۔ تاہم پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے سینٹ میں عورتوں کی مخصوص نشستوں پر کرشنا کماری کو منتخب کیا گیا۔ خواتین کے لئے مختص نشستیں اکثر مسلمان خواتین کے لئے ہوتی ہیں اور مذہبی اقلیتوں کے لئے مختص نشستیں اکثر اقلیتی مردوں کے ذریعے پر کی جاتی ہیں۔ پاکستان کی سیاست میں اقلیتی خواتین کی کم ترین نمائندگی کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ حکومت، سیاسی جماعتیں اور سول سوسائٹی ایک جامع طریقہ کار وضع کریں۔

ملک کے آئین کا آرٹیکل 25 حکومت کو یہ اجازت دیتا ہے کہ وہ خواتین کے تحفظ کے لئے خصوصی اقدامات اپنائے تا کہ شہریوں کی برابری حاصل کی جا سکے۔ آرٹیکل 26، 25، 22، 21، 20 اور 27 خاص طور پر نسل، مذہب، ذات، جنس، رہائش یا جائے پیدائش کی بنیاد پر امتیازی سلوک کی ممانعت کرتے ہیں۔ خواتین کے خلاف ہر قسم کے امتیاز ات کے خاتمے پر اقوام متحدہ کا کنونشن (CEDAW) سیڈا کی پاکستان نے 1996 میں توثیق کی تھی جو حکومتوں کو پابند کرتا ہے کہ وہ سیاسی اور عوامی زندگی بشمول انتخابات میں خواتین کے خلاف امتیازی سلوک کو ختم کرنے کے لئے تمام مناسب اقدامات کریں۔

سیڈا کمیٹی اپنی سفارشات میں جمہوری سیاسی نظام میں خواتین کی مکمل اور مساوی شرکت کا مطالبہ کرتی ہے۔ اقوام متحدہ کا پائدار ترقی کا Goal 5 بھی صنفی مساوات پر زور دیتا ہے۔ لہٰذا قومی اور بین الاقوامی قوانین اس بات کے متقاضی ہیں کہ شہریوں کے درمیان مساوات قائم کی جائے۔ حکومت پاکستان کو اس بات کو یقینی بنانے کے لئے فوری اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ خواتین انتخابی عمل میں مساوی بنیادوں پر حصہ لے سکیں۔

Facebook Comments HS