مولانا طارق جمیل، کرونا وبا اور بے حیائی

23 اپریل کووزیرِاعظم کی احساس ٹیلی تھون میں مولانا طارق جمیل نے خواتین اور نو جوانوں کے خلاف نہایت نازیبا الفاظ استعمال کیے۔ مولانا نے فرمایاکہ میرے دیس پر جو کرونا کا عذاب ہے یہ خواتین کے مختصر لباس اور کالج، یونیورسٹی میں پڑھنے والے نوجوانوں کی بے راہ روی کی وجہ سے ہے۔ عورتوں…

Read more

کرونا بحران اور گھریلو تشدّد

وفاقی وزارت برائے اِنسانی حقوق نے ایک انتباہ کے ذریعے لاک ڈاؤن کے دوران گھریلو تشدّد کے واقعات رپورٹ کرنے کے لئے ہیلپ لائن 1099 اور واٹس ایپ نمبر 0333 908 5709 کا اجراء کیا ہے۔ انتباہCOVID۔ 19 میں لکھا ہے : ﴾کیا آپ گھر میں غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں؟ ﴾کیا آپ کو تشدّدکا…

Read more

ہماری مغرب سے دشمنی آخر ہے کیا؟

میرے پچھلے کالم میں جس ٹیلی ویژن شو کا ذکر کیا گیا اس میں خلیل الرحمن قمر صاحب نے گلہ کیا کہ میں اتنا نوازا ہوا شخص ہوں، پھر بھی محترمہ طاہرہ عبداللہ اور جناب اویس توحید نے مجھے نہ پڑھا، نہ دیکھا ہوگا۔ انھوں نے طعنہ دیا کہ یہ مغرب کے لکھاریوں کو پڑھتے…

Read more

خلیل الرحمٰن قمر اور الہام کا مغالطہ

ڈرامہ ’میرے پاس تم ہو‘ کے بارے میں ذرائع ابلاغ میں بہت کچھ نشر ہو رہا ہے اوربہت کچھ لکھا بھی جاتا رہا ہے لیکن میں نے اس پر کچھ نہ لکھنا ہی بہتر جانا۔ گذشتہ کئی دنوں سے ایک نجی چینل پر نشر ہونے والے ٹاک شو کے کچھ حصے سماجی رابطوں کی ویب…

Read more

خیبرپختونخواہ، طالبات اور عبایہ

17 ستمبر، بروزمنگل وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ محمود خان نے ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کا تمام سرکاری سکولوں کو جاری کردہ نوٹیفیکیشن جس میں بچیوں کو لازمی طور پر عبایہ یا چادر پہننے کی ہدایت کی گئی تھی واپس لینے کا اعلان کر دیا۔ سیکرٹری تعلیم خیبرپختونخواہ، ارشد خان نے ایک نجی چینل کو بتایا کہ حکومت نے ایسی کوئی پالیسی نہیں بنائی جس کے تحت چادر اوڑھنا یا برقع پہننا لازمی ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر نے اس معاملہ پر کسی ڈیپارٹمنٹ یا وزیرِ اعلیٰ کو اعتماد میں نہیں لیا۔ پاکستان ایک آزاد ملک ہے اور ہر ایک کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی مرضی سے لباس زیب تن کرے۔

Read more

پاکستانی بچوں کے حقوق براستہ جنیوا 

پاکستان کے تیسرے عالمی معیادی جائزہ کی حتمی منظوری 19 مارچ 2018 کو جنیوامیں ہونے والے انسانی حقوق کو نسل کے اجلاس میں دی گئی ہے۔   پاکستان نے 289 سفارشات میں سے 168 کو منظور کیا ہے اور 117 کو زیر التواء یا غور طلب قرار دیا ہے جبکہ چار کو یکسر رد کردیا…

Read more