قبائل کا مقدمہ کون سنے گا
2018 میں 25 ویں آئینی ترمیم کے تحت وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) کو صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم کر دیا گیا، اس وقت ضم شدہ قبائلی اضلاع کے عوام کے ساتھ وعدہ کیا گیا کہ این ایف سی ایوارڈ سے تین فیصد حصہ ان کو دیا جائے گا اور ان اضلاع کی پسماندگی کو دور کرنے اور دیگر بندوبستی اضلاع کے برابر لانے کے لئے سالانہ 100 ارب روپے اور دس سال میں 1 ہزار ارب روپے کی رقم دی جائے گی لیکن ان اعلانات پر کوئی عمل درآمد نہیں ہوا، پرانے ایف سی آر نظام اور پولیٹیکل ایجنٹ سسٹم کو ختم کر کے ڈپٹی کمشنرز کو تعینات کر دیا گیا اور قبائلی اضلاع کے خاصہ دار فورس کو پولیس کی حیثیت دی گئی اور عدالتوں کا قیام عمل میں لایا گیا، لیکن ایک طرف سابقہ خاصہ دار سراپا احتجاج ہیں اور یہ شکایت کر رہے ہیں کہ بندوبستی اضلاع کے پولیس کی طرح مراعات اور ساز و سامان نہیں دیا جا رہا اور اس طرح زیادہ تر قبائل اب بھی عدالتوں کی بجائے جرگوں کے ذریعے اپنے معاملات کو حل کرنے پر ترجیح دیتے ہیں، ان اضلاع میں پولیس سٹیشنز قائم کر دیے گئے ہیں لیکن بد امنی اور دہشت گردی کے واقعات دوبارہ شروع ہو گئے ہیں، تعلیم، صحت پینے کے صاف پانی کا کوئی منصوبہ نظر نہیں آ رہا بلکہ حکومتوں کی عدم دلچسپی کی وجہ سے ان اضلاع میں بے روزگاری کی شرح بڑھتی جا رہی ہے، زیادہ تر لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، ہزاروں نوکریاں دینے اور انڈسٹریل زونز قائم کرنے کے منصوبوں کے دعوے بھی دھرے کے دھرے رہ گئے، سابقہ فاٹا کے قومی اسمبلی کی بارہ سیٹوں میں سے چھ سیٹوں کو کم کر دیا گیا اور سینیٹ میں اٹھ سینیٹرز کا مخصوص کوٹہ بھی ختم کر دیا گیا یعنی ان علاقوں کی آواز کو کمزور کر دیا گیا البتہ خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی میں پہلی بار قبائلی اضلاع کو نمائندگی دی گئی لیکن تمام ایم پی ایز حضرات ڈیسک بجاتے اور واک اوٹ کرتے دکھائی دیے کسی قسم کی توجہ یا خاص ترقیاتی پیکج نہیں دیا گیا اور این ایف سی ایوارڈ میں حصہ دینے پر بھی اس صوبائی ایوان میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، اب 8 فروری کو الیکشن ہونے جا رہے ہیں کیا قبائلی اضلاع کے قومی و صوبائی اسمبلی کے ممبران منتخب ہونے کے بعد اپنے حقوق حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکیں گے یا پچھلی بار منتخب نمائندہ گان کی طرح احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے ، ضم شدہ اضلاع سے منتخب ممبران پارلیمنٹ کے لئے اس بار این ایف سی ایوارڈ سے تین فیصد حصہ لینا ایک بہت بڑا چیلنج ہو گا،


