پاکستانی سیاست اور مذہبی ٹچ کا استعمال


مذہب اور سیاست یہ ایک ایسا موضوع ہے جو پاکستان کے بننے سے ہی شروع ہو گیا، پاکستان بننے کی بنیاد میں دو قومی نظریہ ایک ایسا خالص مذہبی نعرہ شامل تھا جس نے سیاست اور مذہب کو آپس میں ملا دیا۔ حالانکہ اسلام میں سیاست اس فعل کو کہتے ہیں جس کے انجام دینے سے لوگ اصلاح سے قریب اور فساد سے دور ہوجائیں۔ اہل مغرب فن حکومت کو سیاست کہتے ہیں۔ امور مملکت کا نظم و نسق برقرار رکھنے والوں کو سیاستدان کہا جاتا ہے۔

پاکستان میں آج بھی یہ بحث زور شور سے جاری ہے کہ پاکستان اسلام کے نام پہ حاصل کیا گیا یا فن حکومت جدید دور کے تقاضوں یعنی سکلرزم کی بنیاد پر ہو گی۔ یہ ایک لا حاصل بحث ہے جس کا کوئی اختتام نہیں ہے۔

سیاست حکومتی امور کی انجام دہی سکھاتی ہے اور مذہب حکمرانوں کو سیاست کے کوڈ آف کنڈکٹ سے آشنا کرواتی ہے۔

لیکن پاکستان میں مذہب کے نام پہ سیاست اور سیاست کے نام پہ مذہب کو بیچا گیا۔ جس سے نہ صرف سیاست داغدار ہوئی بلکہ مذہب پہ بھی کالا دھبہ لگانے کی کوشش کی گئی۔ یہ وہ چند وجوہات تھی جن کی وجہ سے سیاست اور دین حق کو غلط معنوں میں دیکھا گیا۔

پاکستان کو اب ایک شدت پسند سوسائٹی کہا جا سکتا ہے اور اگر اب کوئی بھی مذہب کے نام پہ سیاست کرنا چاہے تو اس کے نعرے کو خالی کھوکھلے نعرے کے طور پہ لیا جاتا ہے۔ پاکستانی مذہبی جماعتوں کی عملی سیاست کافی کمزور ہو چکی ہے۔ ٹی ایل پی کا سیاسی دور کا آغاز بھی سیاست اور مذہب کا مطالعہ کرنے والوں کے بہت سارے سوالوں کا جواب ہے۔

1978 کے بعد جب صدر ضیاء الحق نے مارشل لاء لگایا تو ان دنوں امریکہ اور روس کے درمیان سرد جنگ عروج پہ تھی۔ روس کا افغانستان پہ چڑھائی پاکستان میں جنگی جنون کی ابتدا تھی جس کو جہاد کا نام دیا گیا۔ یہ اس خطرناک شدت پسندی کی طرف پہلا قدم تھا جس نے بعد میں پورے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس سفر کا آغاز کرنے کے لیے مذہبی ٹچ کا سہارا لیا گیا۔ پاکستان امریکہ کی ایماء پر افغانستان میں روس پہ چڑھ دوڑا۔ اپنے نوجوانوں کو جہاد اور جنت کے لالچ میں غیر ملکی جنگ (پروکسی وار) میں جھونک دیا۔ جس سے نہ ختم ہونے والی شدت پسندی کا آغاز ہوا جو اب تک جاری ہے، اور نجانے کب تک پاکستانی ماؤں کے بچے اسی طرح لقمہ اجل بنتے رہیں گے۔

جب روس اپنی سپر پاور کا ٹائٹل اتار کے پیا گھر سدھار گیا تو وہی پاکستانی مجاہد جس کو ریاست ہمیشہ سے اپنے بچے کہتی تھی پاکستان پہ ہی چڑھ دوڑے۔ یہ تحریک طالبان افغانستان اب تحریک طالبان پاکستان بن گئی۔ وہی دین جو قندھار میں نافذ کرنا تھا اب سوات کی وادیوں میں ہونے لگا۔

پاکستان ایک ایسی گہری کھائی میں گر گیا جس کا متبادل اب تک کہیں سجھائی نہیں دیتا۔ پاکستانی اب تک اسی ہزار لاشیں اٹھا چکا ہے اور ڈپلومیٹ کے ایک سروے کے مطابق اب تک پاکستان اب تک 150۔ 170 بلین ڈالر کا مالیاتی نقصان اس وار انٹیرئر میں برداشت کر چکا ہے۔

سیاست میں تمام سیاست دانوں نے مذہب کا استعمال خوب کیا۔ نواز شریف کبھی امیرالمومنین بننے چل دوڑے تو کبھی عمران خان عوام کہ ریاست مدینہ بنانے کے خواب دکھانے لگے۔ 2017 میں ختم نبوت کا معاملہ اٹھا تو ساری پولیٹیکل پارٹیز نے اس کو خوب اچھالا جس سے اس وقت کے وفاقی ارکان کی زندگیاں خطرہ میں پڑ گئی۔ اور 2018 کے الیکشن میں اسی مذہبی بحران سے وجود میں آنے والی مذہبی جماعت ٹی ایل پی ملک کی تیسری سب سے بڑی ووٹ لینے والی جماعت بن کر ابھری۔ اور پھر حکومت وقت کا ناک میں دم کیے رکھا۔

8 فروری 2024 کے الیکشن کو تمام تر تنازعات کے باوجود کسی مذہبی جذبات کے بغیر ہونے جا رہے ہیں، جو ایک حوصلہ افزا بات ہے۔ تمام سیاست دانوں کو چاہیے کہ وہ سیاسی ریلیوں اور جلسے جلوسوں میں مذہبی ٹچ کا کم از کم استعمال کریں۔ اگر بحیثیت پاکستانی ہم ایک پرامن اور مذہبی تنازعات سے پاک ملک دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے رویوں کو نا صرف بہتر کرنا ہو گا بلکہ اسے غیر روایتی کرداروں کی حوصلہ شکنی بھی کرنی ہو گی۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments