امریکہ میں ملازمتوں کے نئے مواقعوں اور تنخواہوں میں اضافے نے ماہرین معیشت کو حیران کیوں کر رکھا ہے؟

نتالی شرمن - بزنس رپورٹر، نیویارک


ملازمتوں اور اجرتوں میں اضافہ

امریکہ میں روزگار کے مواقع میں رواں برس جنوری کے مہینے میں اچانک اضافہ دیکھا گیا جس سے امریکی معیشت میں سست روی کی پیش گوئیوں کی نفی ہوتی ہے۔

امریکہ کے لیبر ڈیپارٹمنٹ نے کہا ہے کہ ملک میں جنوری 2024 میں ملازمتوں کے 353,000 نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں جبکہ اوسطاً فی گھنٹہ تنخواہ میں بھی اضافہ ہوا ہے تاہم ملک میں بیروزگاری کی شرح 3.7 فیصد پر جوں کی توں موجود ہے۔

لیبر ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹ میں پیش کیے جانے والے اعداد و شمار میں ملازمتوں میں ہونے والے اضافے نے معاشی ماہرین کو حیران کر دیا ہے جنھوں نے سنہ 2022 سے بلند ہونے والی شرحِ سود کے باعث معیشت کے سست ہو جانے کی پیش گوئی کی تھا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جاب مارکیٹ کی مضبوطی نے ابتدائی شرح میں کمی کے امکان کو کم کر دیا۔

پریمیئر میٹن انویسٹرس سے منسلک تجزیہ کار نیل بیریل نے کہا ہے کہ ’ملازمتوں کے تازہ اعداد و شمار نے سب کو چونکا دیا ہے۔ یہ توقعات سے بہت زیادہ نکلی ہے اور فی گھنٹہ کمائی بھی توقع سے کہیں زیادہ ہے۔‘

’یہ اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ امریکی معیشت مضبوط رہے گی اور یہ بات ہر اس شخص کو متاثر کرے گی جو مارچ میں شرح میں کمی دیکھ رہے تھے اب وہ مزید آگے کی جانب دیکھیں گے۔ کساد بازاری (معیشت میں سست روی) کے بارے میں کوئی بھی خیال ابھی قبل از وقت ہے۔¬

امریکہ کے مرکزی بینک نے افراط زر کو دیکھتے ہوئے دو سال قبل سے شرح سود میں اضافہ کرنا شروع کیا تھا اور یہ کئی دہائیوں میں اپنی تیز ترین رفتار سے بڑھ رہی تھی۔

قرض لینے کے لیے زیادہ شرح سود کا مقصد معاشی سرگرمیوں کو کم کرنا اور قیمتوں میں اضافے کے دباؤ کو کم کرنا ہوتا ہے

لیکن بہت حد تک وبائی دور کی بچتوں کی وجہ سے مضبوط گھریلو اخراجات نے کاروبار کو جاری رکھنے میں مدد دی اور ایک نیک شگون والا چکر پیدا ہوا جس کے نتیجے میں صحت مند جاب مارکیٹ نے صارفین کے خرچ کرنے کے پیٹرن کو قائم رکھا۔

اندازے سے زیادہ مضبوط

ملازمت

جمعہ کو ریلیز کی جانے والی رپورٹ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ گذشتہ برس دسمبر اور نومبر میں پیدا ہونے والی نئی ملازمتوں کے مواقع امید اور اندازوں سے کہیں زیادہ تھے۔ ریٹیل فرمز اور ہیلتھ کیئر کے شعبوں کے ساتھ ساتھ کاروباری اور پیشہ ورانہ خدمات والے شعبے جنوری میں ملازمتوں میں اضافے کا باعث بنے۔

مجموعی طور پر امریکی معیشت نے ستمبر سے دسمبر کے عرصے میں 3.3 فیصد کی سالانہ شرح سے ترقی کی۔

امریکی مرکزی بینک کے سربراہ جیروم پاول نے رواں ہفتے کہا کہ حکام کو امید ہے کہ افراط زر مزید سنگین مندی کے بغیر کم ہوتا رہے گا۔

لیکن انھوں نے خبردار کیا کہ بینک کساد بازاری پر فتح کا اعلان کرنے اور دوبارہ قرض لینے کی شرح کو کم کرنے سے قبل ’مزید اعتماد‘ حاصل کرے۔ انھوں نے کہا کہ مارچ میں شرح میں کمی کا امکان نہیں ہے حالانکہ کچھ سرمایہ کار اس میں کمی ہونے کے لیے شرط لگا رہے تھے۔

کچھ تجزیہ کاروں نے کہا کہ جمعہ کو پیش کیے جانے والے اعدادوشمار میں تنخواہوں میں کافی حد تک اضافہ بتاتا ہے کہ جنوری 2023 کے مقابلے میں اوسطاً فی گھنٹہ کمائی میں 4.5 فیصد اضافہ ہوا ہے اور یہ ان لوگوں کے لیے باعث تشویش ہو سکتے ہیں جو مہنگائی میں تیزی سے کمی دیکھنے کے خواہاں تھے۔

فِچ ریٹنگز کے چیف اکانومسٹ برائن کولٹن نے کہا کہ ’لیبر مارکٹ میں اس شرح سے بڑھتی ہوئی اُجرت فیڈرل بینک کے لیے ایک مسئلہ ہے۔‘ جبکہ دوسروں نے خبردار کیا کہ ہر ہفتے کام کرنے والے مجموعی اوقات میں کمی سے تنخواہوں میں کمی آئے گی اور صورتحال پیچیدہ ہو جائے گی۔

نومبر میں ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات کے ساتھ ملازمتوں سے متعلق حالیہ رپورٹ امریکہ میں سیاسی بحث کا موضوع بن گئی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ اُجرت میں اضافے نے حالیہ قیمتوں میں اضافہ کو بہت حد تک پا لیا ہے لیکن ابھی لوگ مہنگائی سے نبرد آزما ہیں۔

مارکویٹ لا سکول پول کے ڈائریکٹر پروفیسر چارلس فرینکلن نے کہا کہ ’آپ کو یاد ہے کہ آپ جس چیز کے لیے ایک ڈالر دے رہے تھے اب اسی کے لیے 1.17 ڈالر ادا کر رہے ہیں۔ قیمتوں میں اضافے کے اس نئے معمول سے ہم آہنگ ہونے میں کافی وقت لگے گا۔‘


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 32036 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments