کیا عمران خان کو دوسری بار وزیراعظم بننے روکا جا سکے گا؟


پچھلے دنوں الیکشن کے انعقاد کے بعد نتائج کافی تاخیر سے آنا شروع ہوئے۔ لیکن جو بھی نتائج نکلے وہ بڑے سنسنی خیز ثابت ہوئے۔ الیکشن سے قبل کہا جا رہا تھا کہ عمران خان قید میں ہے۔ پارٹی زیر عتاب ہے۔ بڑے بڑے رہنما منظر سے غائب ہیں۔ عمران خان کے شدید مخالفین نواز شریف، زرداری اور مولانا فضل الرحمن جیسے بڑے کھلاڑی انتخابات کے میدان میں اتر چکے ہیں۔ مشکل ہے کہ الیکشن میں پی ٹی آئی کوئی قابل ذکر کارکردگی دکھائے۔

سب کا ماننا تھا خصوصاً کچھ سیاسی مبصرین کا، ان اینکرز اور صحافیوں کا جو عمران خان کے ناقدین سمجھے جاتے ہیں۔ کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ الیکشن مہم تو عمران خان نے چلائی نہیں۔ عوام میں تو وہ گئے نہیں۔ اس لیے عوام ان کو نظر انداز کریں گے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا ان سب کے بلند بانگ دعوے ہوا میں رہ گئے۔ لوگ میدان میں نکلے اور ایسے نکلے کہ سب ششدر رہ گئے۔ ایسا نہیں تھا کہ عمران خان کے ساتھ اقتدار سے الگ کیے جانے کے بعد جو کچھ ہوا۔ عوام اس کو بھول چکے تھے۔ بلکہ انہیں خوب یاد تھا کہ ملک میں کیا چل رہا ہے۔

سوشل میڈیا لوگوں اور عمران خان کے درمیان پل بنا۔ لوگ سوشل میڈیا کے ذریعے ملکی سیاسی حالات سے باخبر تھے۔ اور اس بات کا تہیہ کرچکے تھے کہ ووٹ کس کو دینا ہے۔ وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ الیکشن والے دن نکل کر عوام نے سیاست کے بڑے بڑے برجوں کو الٹ دیا۔ جن کے بارے میں سیاسی جغادریوں کا کہنا تھا۔ کہ طوفان ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ لیکن وہ بھول گئے تھے۔ کہ جب عوامی ریلا بپھر جائے۔ تو بڑے سے بڑا پشتہ بھی نہیں ٹکتا۔ اور ریت کا ڈھیر بن جاتا ہے۔

عوام کی بہت بڑی تعداد نے خاندانی سیاست کے خانوادوں کو مسترد کر دیا۔ اور خان پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔ ذرا سوچیے۔ اگر خان آزاد ہوتے اور ان کو وہی سہولیات میسر ہوتیں۔ جو دیگر سیاست دانوں کو میسر تھیں۔ اور وہ بے خوف و خطر اپنی پارٹی کے انتخابی مہم میں شرکت کرتے۔ تو الیکشن کے نتائج کیا برآمد ہوتے۔

پی ٹی آئی کے امیدواروں نے آزاد حیثیت سے الیکشن میں حصہ لیا۔ اور ظاہر ہے کہ آزاد امیدوار ہونے کی حیثیت سے ان کے انتخابی نشان بھی ایک دوسرے سے مختلف تھے۔ لیکن اس کے باوجود عوام نے ان کو پہچان کر ان کو ووٹ دیا۔ اب آنے والے دنوں میں بہت سے آزاد امیدوار چوراہوں میں دھرنوں پر بیٹھ جائیں گے۔ یا عدالتوں میں چلے جائیں گے۔ کیونکہ ان کے خیال میں الیکشن میں ان کے ساتھ دھاندلی کی گئی ہے اور منظور نظر امیدواروں کے حق میں ٹھپے مارے گئے ہیں۔ جب فارم پینتالیس اور فارم سنتالیس کی جانچ پڑتال کی جائے گی تو معلوم ہو جائے گا کہ کتنے فارمز کے اندر غلط اندراج کیا گیا ہے اور کتنے درست ہیں۔ اس بارے میں بعض لوگوں کو خدشہ ہے کہ انتقامی کارروائیاں شروع کی جا سکتی ہیں۔ اور اس بات کا امکان ہے کہ آزاد امیدواروں کو خرید کر یا ڈرا دھمکا کر ساتھ ملایا جائے۔

اس وقت ایک ایسا سیاسی منظر نامہ بننے جا رہا ہے۔ جس میں کسی ایک سیاسی جماعت کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہے۔ انتخابی نتائج اور اعداد و شمار کی رو سے ملک میں سب سے زیادہ نشستیں آزاد امیدواروں نے حاصل کی ہیں۔ یہ سب کو پتہ ہے کہ آزاد امیدوار کون ہیں۔ ظاہر ہے پی ٹی آئی کے کارکنوں اور ہمدردوں نے آزاد امیدواروں کو ووٹ دے کر کامیاب کرایا ہے۔ اب آنے والے دنوں میں اس بات کی بھرپور کوشش کی جائے گی۔ کہ نواز شریف کی مخلوط حکومت کے قیام کی راہ ہموار کرنے کے لیے آزاد امیدواروں کی ہمدردیاں حاصل کی جائیں۔ کیونکہ آزاد امیدواروں کی تعداد کم نہیں ہے۔

ان کی تعداد نون لیگ اور پی پی پی سے زیادہ ہے لہذا نون لیگ اور پی پی پی سمیت ہر کسی کی خواہش ہوگی کہ وہ زیادہ سے زیادہ امیدواروں کو اپنے ساتھ ملا لیں۔ تاکہ ان کی سیاسی طاقت میں اضافہ ہو۔ لیکن ان سیاسی پارٹیوں کو نہیں بھولنا چاہیے کہ ان آزاد امیدواروں کو توڑنا آسان کام نہیں ہے۔ ان کے پاس پی ٹی آئی کے ووٹ ہیں۔ ان میں شاید ہی کوئی ایک آدھ بندہ ان کی طرف آ جائے۔ فی زمانہ صورتحال ایسی ہے کہ نواز شریف نے دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ بات چیت کے لیے شہباز شریف کو فری ہینڈ دے دیا ہے۔ اب شہباز شریف اقتدار میں آنے کے لیے سیاسی امور کے ماہر کھلاڑی آصف زرداری کی حمایت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

اس کے علاوہ چھوٹی سیاسی جماعتوں کو بھی ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں۔ تا کہ عمران خان کی اپوزیشن کا مقابلہ کیا جا سکے۔ لگتا ہے پی ڈی ایم کی طرح کا ایک اتحاد وجود میں آ جائے گا۔ اب نواز شریف کو مخلوط حکومت بنانے میں جوڑ توڑ کرنا ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ کب تک ایک کمزور حکومت چلا پائیں گے۔ ان کے سامنے عمران خان کی صورت میں ایک مضبوط اور ٹکر کی اپوزیشن موجود ہے۔ وزارتوں اور دیگر اہم عہدوں پر متحدہ جماعتوں میں ایک فارمولا طے کرنے پر ابھی باتیں ہوں گی۔ ہر جماعت کی کوشش ہوگی کہ زیادہ وزارتیں ان کے حصہ میں آئیں۔

آنے والے دنوں میں پتہ چلے گا کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ آنے والے دن سیاسی جوڑ توڑ کے لیے بہت اہم ثابت ہوں گے۔ لگتا ہے فروری کے آخر میں جا کر حکومت بنے گی۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے۔ کہ آج کسی وزیراعظم نے اپنی مدت پوری نہیں کی۔ تئیس وزیراعظم آئے اور اپنی مدت پوری کیے بغیر نکالے گئے۔ دیکھتے ہیں کہ چوبیسواں وزیراعظم اپنی پانچ سالہ متوقع مدت پوری کر پائے گا؟

امید ہے کہ چوبیسواں وزیراعظم اپنی مدت بخیر و خوبی پورا کرے۔ اگرچہ ہماری سیاسی تاریخ کچھ اور کہتی ہے۔ جس کی بنیاد پر خدشہ ہے کہ دو ڈھائی سال کے بعد مخلوط حکومت میں پہلے سے موجود اختلافات کھل کر سامنے آ جائیں گے۔ جس کی وجہ سے اتحاد خطرے سے دوچار ہو گا۔ ایسی صورت میں ماضی کی طرح یہ جماعتیں ایک دوسرے پر کچے دھاگے سے باندھا اعتماد کھو دیں گی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ حکومت ختم ہو جائے گی۔ اور ایک نیا سیاسی اتحاد تشکیل دیا جائے گا۔ جس میں پی ٹی آئی شامل ہو اور بقایا ڈھائی سال حکومت چلے

یہ بھی زیر غور ہو سکتا ہے کہ زرداری اور نواز شریف اس بات پر اتفاق کریں کہ ڈھائی سال نون لیگ کی حکومت ہو۔ اور ڈھائی سال بعد پیپلز پارٹی کی حکومت ہو۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا عمران خان ان کو ایسا کرنے دے گا۔ کیا عمران خان کے ہوتے ہوئے وہ چین اور آرام سے حکومت کریں گے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب مستقبل میں چھپا ہے۔ واللہ اعلم با الصواب

Facebook Comments HS