تحریک انصاف کو کیوں مطمئن ہونا چاہیے؟


انتخابی نتائج پر تبصروں اور شبہات کا سلسلہ جاری ہے حتی کہ جماعت اسلامی جیسی پارٹی جسے قومی اسمبلی کی ایک نشست بھی نہیں مل سکی، دعویٰ کر رہی ہے کہ اسے کراچی سے درجن بھر نشستوں پر جان بوجھ کر ہرایا گیا۔ کسی بھی ملک میں جب بداعتمادی کو سیاست اور مقبولیت حاصل کرنے کا واحد راستہ مان لیا جائے تو ایسی ہی صورت حال سے پالا پڑتا ہے۔ یوں تو مین اسٹریم میڈیا پر کام کرنے والے اینکر، صحافی اور مبصر بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں لیکن یوٹیوبرز، وہی لاگرز اور سوشل میڈیا سے عقل و دانش کی ڈگریاں حاصل کرنے والوں نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔

ہر محب وطن جانتا ہے کہ ملک اس وقت شدید مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ معاشی بحالی کا منصوبہ شروع کرنے کے لیے پاکستان کو قابل اعتبار، مستحکم اور طاقت ور حکومت کی ضرورت ہے جو بروقت مشکل فیصلے کرسکے اور ملک کو موجودہ بحران سے نکالا جا سکے۔ یوں تو انتخابات سے پہلے ہی افواہوں اور قیاس آرائیوں کا عجیب و غریب سلسلہ شروع ہو چکا تھا لیکن 8 فروری کو انتخابات منعقد ہونے کے بعد سے پرسکون انداز میں حالات کا جائزہ لے کر معاملات طے کرنے کی طرف پیش رفت کی بجائے، اس بات پر زیادہ زور دیا جا رہا ہے کہ انتخابی نتائج میں تاخیر کر کے درحقیقت انتخابات کے نتائج تبدیل کیے گئے تھے۔ چونکہ مسلم لیگ (ن) جان بوجھ کر یا مجبوراً اس تاثر کو زائل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی تھی کہ اسے اسٹبلشمنٹ کی پشت پناہی حاصل ہے، اس لیے یہ قیاس عام ہے کہ نتائج میں رد و بدل سے درحقیقت مسلم لیگ (ن) کی سیاسی قوت میں اضافہ کیا گیا ہے تاکہ وہ عسکری قیادت کی پالیسیوں کو آگے بڑھانے کے لیے حکومت بنائے۔

تاہم حیرت ہوتی ہے کہ اگر اسٹبلشمنٹ یا عسکری قیادت واقعی انتخابی نتائج میں تبدیلی کے ذریعے کسی ایک سیاسی پارٹی کی پارلیمانی طاقت میں اضافہ کرنا چاہتی تھی تو اس نے اپنے ہی کھڑے کیے ہوئے دیرینہ وفاداروں کی پارٹیوں جہانگیر ترین کی استحکام پاکستان پارٹی اور پرویز خٹک کی تحریک انصاف پارلیمنٹرینز کو مضبوط کرنے اور اس کے ناکام امیدواروں کو بھاری تعداد میں جتوا کر قومی اسمبلی میں اکثریت دلوانے کا اہتمام کیوں نہیں کیا۔ یا پھر اگر مسلم لیگ (ن) اس وقت فوج کو زیادہ ہی بھا گئی ہے تو اسے قومی اسمبلی تو دور کی بات ہے، پنجاب اسمبلی میں بھی اکثریت نہیں دلوائی جا سکی تاکہ وہ کسی کی محتاجی کے بغیر کم از کم ایک صوبے میں تو حکومت بنا لیتی۔ جیسے پیپلز پارٹی سندھ اور تحریک انصاف خیبر پختون خوا میں آسانی سے حکومت بنانے کی پوزیشن میں آ چکی ہیں۔

اگر الیکشن کمیشن واقعی عسکری قیادت کے حکم پر ہی نتائج تبدیل کرتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ اسٹبلشمنٹ کی ’چہیتی‘ پارٹی کو اپنے ہی صوبے میں بھی حکومت سازی کے لیے دوسری پارٹیوں کا منہ دیکھنے پر مجبور کر دیا گیا؟ اس قسم کے سوالات کے درجنوں ’مسکت‘ جواب نام نہاد ماہرین کے نوک زبان ہیں۔ البتہ اس موقع پر پھر یہ مان لینا چاہیے کہ پاکستان میں انتخابی مشق چونکہ ایک فضول کارروائی ہے اور پولنگ کے بعد صرف وہی نتیجے سامنے آسکتے ہیں جو فوجی قیادت کی مرضی و منشا کے مطابق ہوں، اس لیے سندھ میں پیپلز پارٹی اور خیبر پختون خوا میں تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد ارکان کو بھی اسٹبلشمنٹ یا فوج کی مرضی کے مطابق اکثریت دلوائی گئی ہے۔ اگر اس موقف کو تسلیم کرنا مشکل دکھائی دے تو دھاندلی اور جیتے ہوئے امیدواروں کو ہرانے اور ہارنے والوں کو جتوانے کے بارے میں لایعنی دعوؤں کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ اور انتخابی نتائج کو معروضی حالات، ملک کی ناقص انتظامی صلاحیت اور باقی شعبوں کی طرح انتخابات کے عمل میں ملوث عملے اور اہلکاروں کی سستی، نا اہلی اور بدعنوانی کے تناظر میں سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان بروقت نتائج کا اعلان کرنے میں ناکام ہوا۔ اس کی کچھ بھی وجوہات رہی ہوں لیکن چیف الیکشن کمشنر کو اس کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے اور الیکشن کمیشن کو خود ہی ان کوتاہیوں و کمزوریوں پر ایک وہائٹ پیپر شائع کرنا چاہیے جن کی وجہ سے انتخابات کے بعد نتائج مقررہ وقت کے مطابق سامنے نہیں آ سکے۔ اور جتنے منہ اتنی باتیں کے مصداق طرح طرح کی پیش گوئیاں اور تبصروں کے لیے غیر ضروری ماحول پیدا کیا گیا۔ الیکشن کمیشن کی یہ کوتاہی خاص طور سے اس لیے بھی ناقابل معافی ہے کہ ان انتخابات سے پہلے ملک میں سیاسی تقسیم خطرناک حد تک نمایاں تھی اور ایک پارٹی کو نشانہ بنا کر اسے اپنے انتخابی نشان پر انتخاب میں حصہ لینے سے بھی محروم کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ ملک میں استحکام اور معاشی بحالی کے لیے چونکہ ان انتخابات کو اہم سمجھا جا رہا تھا تاکہ ایک منتخب حکومت اقتدار سنبھال کر ان مسائل کا حل تلاش کرے جو ملکی معیشت کے لیے چیلنج بنے ہوئے اور اس بے عملی کا خاتمہ کرے جس کی وجہ سے مہنگائی، بیروزگاری اور بنیادی سہولتوں کی کمیابی کی وجہ سے عوام کی اکثریت بے بس و پریشان ہے۔ الیکشن کمیشن کی نا اہلی کی وجہ سے بدگمانی کا جو ماحول پیدا ہوا ہے، اس میں کوئی بھی پارٹی حکومت بنائے، اس پر جعلی اور غیر نمائندہ کا ٹھپا لگانے والوں کی کمی نہیں ہوگی۔

الیکشن کمیشن اگر خود انتخابی عمل کے دوران سامنے آنے والی خرابیوں کے بارے میں تفصیلی تحقیقاتی رپورٹ شائع کرنے میں ناکام رہتا ہے تو سپریم کورٹ وسیع تر قومی مفاد کے لیے اس اہم معاملہ کا نوٹس لے تاکہ افواہ سازی کا سلسلہ بند ہو۔ یا آئندہ چند ہفتوں کے دوران میں اسلام آباد میں قائم ہونے والی حکومت پہلی فرصت میں اعلیٰ سطحی عدالتی تحقیقات کا اعلان کرے تاکہ انتخابات کے بارے میں پائی جانے والی بدگمانیاں ایک بار پھر ملک کے وسیع تر مفادات کے لیے عفریت نہ بن جائیں۔

البتہ عام لوگوں کو یہ جان لینا چاہیے کہ الیکشن کمیشن کے پاس انتخابات منعقد کروانے کے لیے اپنا عملہ نہیں ہوتا بلکہ وہ ملکی انتظامیہ سے اہلکار مستعار لے کر انہیں مختصر سے تربیت دے کر انتخابی عمل پورا کرنے کے کام پر متعین کرتا ہے۔ ان حالات میں اس انتخابی عملہ میں بھی وہ تمام خرابیاں یا ’خوبیاں‘ موجود ہوں گی جو ملکی انتظامی ڈھانچے کا خاصہ ہے۔ ان میں سست رو ملازمین بھی شامل ہیں جو سرکاری نوکری کو وظیفہ سمجھ کر اپنے فرائض منصبی ادا کرنا ضروری نہیں سمجھتے اور ایسے لوگ بھی ہوں گے جو کسی معمولی سفارش یا رشوت پر کوئی بھی ناجائز کام کرنے میں عار محسوس نہیں کرتے۔ پھر ریٹرننگ افسروں نے نتائج جمع کروانے کے حوالے سے جس بدانتظامی اور سست روی کی اطلاعات دی ہیں، ان کا تعلق بھی ملکی انتظام میں پائے جانے والے روایتی نقائص سے ہے۔ البتہ سیاسی مباحث اور الزام تراشی کے ماحول میں ان تفصیلات اور حقائق کو خاطر میں لانا ضروری نہیں سمجھا جاتا۔

ملکی سیاست میں اسٹبلشمنٹ یا فوج کے عمل دخل سے کسی کو انکار نہیں ہے لیکن یہ مان لینا ناقابل فہم ہے کہ عسکری قیادت الیکشن کمیشن کے ساتھ ساز باز کے ذریعے انتخابی نتائج تبدیل کرواتی ہے۔ اگر اس موقف کو درست مان لیا جائے تو کیا وجہ ہے کہ تحریک انصاف ’ہٹ لسٹ‘ پر ہونے کے باوجود انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی؟ انتخابی نتائج تبدیل کرنے کی ’صلاحیت‘ رکھنے والوں کے لیے کیا اس کے امیدواروں کو چن چن کر ہروانا ممکن نہیں تھا؟ یا مسلم لیگ (ن) کی طرح تحریک انصاف نے بھی کسی سطح پر اسٹبلشمنٹ سے ’ساز باز‘ کی ہوئی ہے؟ خاص طور سے خیبر پختون خوا میں تحریک انصاف کی غیر معمولی کارکردگی کو کس تناظر میں پرکھا جائے گا؟ کیا صرف کے پی کے ووٹر میں ایسا سیاسی شعور ہے جو عمران خان کی ’حقیقی آزادی‘ کا مفہوم سمجھ سکتا ہے اور باقی صوبوں کے لوگ اس سے بے بہرہ ہیں۔ یا خیبر پختون خوا میں تحریک انصاف کی سیاسی قیادت کا ارادہ کرنے والوں نے اسٹبلشمنٹ کو یقین دلایا ہے کہ وہ انتخابات کے بعد عمران خان سے کنارہ کشی اختیار کر لیں گے؟

2024 کے انتخابی نتائج پر نگاہ ڈالی جائے تو یہ 2018 کے نتائج سے زیادہ مختلف نہیں ہیں۔ یہ تاثر صریحاً غلط ہے کہ تحریک انصاف نے بڑی تعداد میں لوگوں کو گھروں سے نکل کر ووٹ دینے پر آمادہ کیا۔ پاکستان میں انتخابی عمل پر نگاہ رکھنے والے ادارے فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک ( فافن) کے اندازے کے مطابق اس بار 47 فیصد لوگوں نے ووٹ کا حق استعمال کیا ہے۔ یہ شرح 2018 کے مقابلے میں پانچ فیصد کم ہے۔ اس وقت ووٹ دینے والوں کی تعداد 52 فیصد تھی۔ یعنی انتخابات سے پہلے انتخابات اور انتخابی عمل کے بارے میں عوام میں جو مایوسی و پریشانی موجود تھی، اس کا اظہار ووٹ دینے کی شرح میں کمی سے ہو رہا ہے۔ حالانکہ اس بات دو کروڑ کے لگ بھگ نوجوانوں کو پہلی بار ووٹ ڈالنے کا موقع ملا تھا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس گروپ میں اکثریت عمران خان کی حامی ہے۔ اگر اس گروپ کے دو تہائی لوگ بھی ووٹ ڈالتے تو انتخابی نتائج میں حیران کن تبدیلی نوٹ کی جا سکتی تھی لیکن انتخابی نتائج اور ووٹروں کی شرح دیکھ کر قیاس کیا جا سکتا ہے کہ کوئی بھی پارٹی نوجوان ووٹر کو گھروں سے نکلنے پر آمادہ نہیں کر سکی۔ فافن کے مطابق اس بار 12 کروڑ 90 لاکھ رجسٹرڈ ووٹر تھے لیکن 8 فروری کو تقریباً 6 کروڑ لوگوں نے ووٹ کا حق استعمال کیا۔

پاکستان میں انتخابی حلقے بنتے ہیں اور اس حلقے میں اکثریت لینے والے کو خواہ ایک ہی ووٹ زیادہ ملا ہو، اسی کو کامیاب قرار دیا جاتا ہے۔ اس کا مدمقابل لاکھ سوا لاکھ ووٹ لے کر بھی ناکام رہتا ہے۔ اس لیے کسی پارٹی کی مقبولیت کا اندازہ محض جیتنے والی نشستوں سے نہیں لگانا چاہیے بلکہ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اسے کل کتنے ووٹ پڑے ہیں۔ اگر دیانت داری سے ان اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو کسی بھی پارٹی کی مقبولیت یا عوامی پذیرائی کا درست اندازہ لگانا مشکل نہیں ہوتا۔ ایک اندازے کے مطابق 2024 کے انتخابات میں تحریک انصاف کو ایک کروڑ 85 لاکھ، مسلم لیگ (ن) کو ایک کروڑ 35 لاکھ اور پیپلز پارٹی کو 77 لاکھ ووٹ ملے ہیں۔ 2018 کے انتخابات میں یہ تعداد بالترتیب ایک کروڑ 68 لاکھ، ایک کروڑ 28 لاکھ اور 69 لاکھ تھی۔ گویا ملک کی تینوں بڑی پارٹیوں کے ووٹروں کی تعداد میں کوئی قابل ذکر اضافہ نہیں ہوا اور ان کی مقبولیت کی شرح اسی سطح پر ہے جو 2018 میں تھی۔ تحریک انصاف بدستور سب سے بڑی پارٹی قرار پاتی ہے اور ووٹوں کی شرح کے اعتبار سے اس کے حمایت یافتہ ایک سو سے زیادہ ارکان قومی اسمبلی بھی منتخب ہو گئے ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) نے 75 اور پیپلز پارٹی نے 54 نشستیں حاصل کی ہیں۔ یہ تعداد ان پارٹیوں کو پڑنے والے ووٹوں سے مطابقت رکھتی ہے۔ اس لیے کسی بھی پارٹی کے پاس دھاندلی اور نتائج تبدیل کرنے کا الزام لگانے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

تحریک انصاف کو خوش و مطمئن ہونا چاہیے کہ تمام تر سیاسی ناکامیوں اور غلطیوں کے باوجود اس کا ووٹ بنک کم نہیں ہوا۔ تحریک انصاف یا اس کے حامیوں کو ان نتائج پر مطمئن ہو کر قومی تعمیر میں مثبت کردار ادا کرنے کا عزم کرنا چاہیے تاکہ ماضی کی غلطیوں کا تدارک ہو سکے۔ اگر ایک بار پھر پارٹی سیاسی طور سے ڈیلیور کرنے میں ناکام رہی تو نہ ملک کی اصلاح ہو سکے گی اور نہ تحریک انصاف اپنے حامیوں کے ساتھ انصاف کرپائے گی۔ تحریک انصاف کی طرف سے دو تہائی اکثریت لینے کے بے بنیاد دعوؤں کا کوئی جواز نہیں ہے۔ اس حقیقت کو جتنی جلد تسلیم کر لیا جائے ملک و قوم کے کے علاوہ خود پارٹی کے لیے اتنا ہی اچھا ہو گا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 2718 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments