پی ٹی آئی کا توڑ اور نئی حکومت
سیاسی تجزیہ درپیش ہے لیکن ہمیں اندر کی خبر تک رسائی نہیں۔ نواز و زرداری کے دل میں کیا ہے اس کی خبر کہاں سے آئے گی۔ تاہم، کچھ اصول ہیں جو سامنے ہیں، اور کچھ کامن سینس کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہوں جس کی بنیاد پر چلتے تجزیوں میں ایک چھوٹی سے رائے کا اظہار ہے۔ جسے ادنی بالکل نہیں سمجھتا۔
الیکشن ہو گئے۔ پی ٹی آئی نے اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری تھی لیکن عوام نے ہر صحیح غلط کو پس پشت ڈال کر اپنی رائے سامنے رکھ دی ہے۔ یہاں عوام سے مراد پی ٹی آئی کے سپورٹر ہیں۔ کیا اس کو انقلاب گردانا جائے؟ بارے اس کے بیان ہے کہ اگر پی ٹی آئی کو لاکھ ووٹ پڑا ہے تو نوے نون لیگ یا دیگر جماعتوں کو بھی پڑا ہے لہذا اس کو انقلاب پر قیاس مت ہی کریں۔ بس دیگر جماعتیں پروپیگنڈہ میں ذرا پیچھے ہیں۔ دوسرا ان کے لیڈر اور سپورٹر بوڑھے ہو چکے ہیں اور کم ہینڈسم ہیں۔
اب آتے ہیں معاملے کی جانب، حکومت کس کو بنانی ہے۔ پی ڈی ایم خاص طور پر نواز لیگ نے جب عدم اعتماد لا کر مرتے ہاتھی میں جان ڈالی تھی تو معیشت و ملک بچانے سمیت وجوہات کی ایک لمبی فہرست پیش کی تھی۔ تب اپنا ووٹ بینک ختم ہونے پر اسے قربانی قرار دیا تھا۔ اور ہلکے سروں میں اسے فیض اور دس سالہ پلان کا راستہ روکنے کی کوشش بھی قرار دیا تھا۔
درج بالا میں سے وجہ کچھ بھی ہو آپ نے جو حاصل کرنا تھا کر لیا۔ فیض اب رہا نہیں۔ دس سالہ پلان بھی نہیں رہا۔ اور قربانی کا گوشت آپ نے چکھ ہی لیا ہے۔ مہنگائی میں آپ حصہ دار تھے۔ اب آپ کے پاس ایک اور موقع ہے اپنی عزت بچائیے حکومت انہیں کرنے دیں۔ پلیٹ میں رکھ کے دیں۔ وہ جانیں مہنگائی جانے، اسٹیبلشمنٹ جانے، آپ کو جہاں کہیں اکثریت ملی ہے وہاں اپنی حکومت بنائیں اور ہاتھ تاپیں۔ اور ہمیں اس ہیجان سے نجات دیں۔
حکومت بنانا ان کا حق ہے تو انہیں دینا چاہیے۔ اب یہ معاملہ آئین، قانون یا اخلاق کے ساتھ ساتھ اب سماجی بھی بن چکا ہے۔ مسئلہ یہاں یہ ہے کہ پی ٹی آئی کا سپورٹر خود کو اور اپنے لیڈر کو حقانیت کی جس سطح پر تصور کرتا ہے وہاں سے دوسرے کی مسلمانی چیک کرنے زیر جامہ تک میں گھس سکتا کے لیکن خود پر اعتراض کو ذاتی مسئلہ گردانتا ہے۔ پروپیگنڈہ کو پھیلانا جہاد سمجھتا ہے۔ جھوٹ پر قناعت کرتا ہے۔ جس کا توڑ کرنا ضروری ہے اور ایسا انہیں فی الوقت سسٹم سے باہر رکھ کرنا ممکن نہیں۔
اس کی وجہ ہے پی ٹی آئی مقبولیت پسند جماعت ہونا، ان کا المیہ یہ ہے کہ یہ گھر سے جیت کر ہی نکلتے ہیں، یہ ایمان رکھتے ہیں کہ حق اور سچ انہیں ودیعت کر دیا گیا ہے، جیت ان کے لیے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے لکھ دی گئی ہے۔ اور پارسائی ان کے یہاں پانی بھرتی ہے۔ لہذا آپ ان کے سامنے گرم توے پر بھی بیٹھ کر قسم کھائیں تب بھی آپ کی بات کا یقین نہیں کریں گے۔ تصویری مثال کے لیے کے پی اور دیگر صوبوں میں الیکشن پر ان کی رائے لے کر دیکھ لیں۔
مزید برآں، مقبولیت پسند پارٹی اپوزیشن میں ہو تو مقبول ترین ہوتی ہے، اسے حکومت دیں، اور وقت دیں یہ اپنے پاؤں میں گولی خود ماریں گے۔ کچھ بہتر کر جائیں تو ہر دو صورتوں میں ملک کا بھلا۔ ہاں محض حصول اقتدار آپ کے پیش نظر ہے تو شوق سے کاٹھی ڈالیے ، گھوڑا بھی ہے میدان بھی ہے۔ لیکن چند مہینوں میں کہتے نظر آئیں گے کہ ہم تو حکومت لینا ہی نہیں چاہتے تھے بس لوگوں نے مجبور کر دیا۔


