میاں صاحب کو حکومت سازی کی جلدی کیوں ہے؟


انتخابات سے ایک ہی روز بعد نواز شریف نے مسلم لیگ (ن) کی واضح اکثریت کے بغیر اپنی پارٹی کی کامیابی کا اعلان کر کے گویا یہ بتا دیا تھا کہ آئندہ وزیر اعظم ان ہی کی مرضی اور پارٹی سے منتخب ہو گا۔ البتہ اس اعلان میں دو کمزوریاں عیاں تھیں۔ ایک تو مسلم لیگ (ن) کو قومی اسمبلی میں پہلی نہیں، دوسری پوزیشن حاصل ہوئی تھی اور دوسرے پوری انتخابی مہم کے دوران میں مسلم لیگ (ن) پر اسٹیبلشمنٹ سے ساز باز کا الزام لگایا جاتا رہا تھا۔ مسلم لیگ (ن) بوجوہ اس الزام کی نہ تو تردید کر سکی اور نہ ہی اس سے جان چھڑائی جا سکی۔

اب دیکھا جاسکتا ہے کہ نواز شریف کی ہدایت پر شہباز شریف جس پیپلز پارٹی کے ساتھ مخلوط حکومت بنانے کی کوششیں کر رہے ہیں، اس کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پوری انتخابی مہم میں مسلم لیگ (ن) کو سرکاری پارٹی قرار دے کر پیپلز پارٹی کے لیے ووٹ مانگتے رہے تھے۔ جمہوری ممالک میں اکثر مخلوط حکومتیں قائم ہوتی ہیں لیکن ایک تو انتخابات سے پہلے ہی یہ واضح کیا جاتا ہے کہ جیتنے کے بعد کون سی پارٹی، کس پارٹی یا پارٹیوں کے ساتھ مل کر اتحادی حکومت قائم کرے گی۔ ان پارٹیوں کو اگر انتخابات کے بعد پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل ہو جائے تو بعد از انتخابات وہ مل بیٹھ کر کسی ایسے سیاسی پلیٹ فارم کے لیے مذاکرات کرتی ہیں جس کی بنیاد پر وہ حکومت سازی میں شامل ہوں گی۔ کسی بھی جمہوری ملک میں سیاسی پارٹیاں محض حکومت کا حصہ بننے اور حکومت میں زیادہ سے زیادہ وزارتیں اور عہدے لینے کے لیے شامل نہیں ہوتیں۔

اس کے علاوہ مخلوط حکومت سازی کے لیے دو یا اس سے زیادہ جماعتوں میں یہ قدر مشترک ہوتی ہے کہ وہ بعض سیاسی امور پر اصولی طور سے متفق ہوتی ہیں البتہ عمل درآمد کے معاملہ پر اختلاف ہو سکتا ہے۔ مثلاً عام طور سے قدامت پسند پارٹیاں حکومت سنبھالنے کے بعد امیر طبقات کو ٹیکس و محاصل میں مراعات دینے پر متفق ہوتی ہیں لیکن ان میں یہ اختلاف ہو سکتا ہے کہ اس رعایت کو کیسے ملکی معاشی ضرورتوں کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے۔ اسی طرح عام طور سے سوشلسٹ بلاک میں شامل جماعتوں کا اس اصول پر اتفاق ہوتا ہے کہ اقتدار میں آنے کے بعد امرا پر ٹیکس میں اضافہ کیا جائے گا لیکن عام شہریوں کی دی جانے والی سہولتیں بڑھائی جائیں گی۔ اگر ایسا کوئی بلاک پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کر لیتا ہے تو ان میں اصولی ہم آہنگی تو موجود ہوتی ہے البتہ اس اصول پر عمل درآمد کے سلسلہ میں حکومت میں شامل ہونے سے پہلے حکومتی سیاسی حکمت عملی کے نام سے تیار ہونے والی دستاویز میں اتفاق کیا جاتا ہے۔ اور ہر پارٹی اپنے منشور کی روشنی میں کچھ رعایت حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ اتفاق رائے ہونے کے بعد وزارتوں کی تقسیم کے سوال پر تبادلہ خیال ہوتا ہے۔ عام طور سے ہر پارٹی کو اس کے پارلیمانی حجم کے مطابق حصہ مل جاتا ہے اور اس پر کوئی اختلاف بھی دیکھنے میں نہیں آتا۔

پاکستان میں حالیہ انتخابات کے بعد جو تین بڑی پارٹیاں قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہیں، ان میں نہ تو کوئی سیاسی ہم آہنگی ہے اور نہ ہی وہ قومی مسائل کے بارے میں کسی ایک نکتہ پر اتفاق رائے رکھتی ہیں۔ نظریاتی طور سے بھی ان تینوں میں بعد المشرقین ہے۔ ان تینوں میں سے کسی ایک نے انتخابات سے پہلے ایک دوسرے سے کسی قسم کے سیاسی تعاون کا اعلان بھی نہیں کیا تھا۔ بلکہ تحریک انصاف، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی ایک دوسرے کی پالیسیوں کو غلط اور ناجائز کہہ کر انتخابی مہم چلاتی رہی تھیں۔ مسلم لیگ (ن) اب پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے ساتھ مل کر حکومت سازی کے لیے سرگرم ہے۔ لیکن پیپلز پارٹی کے ساتھ اس کے سیاسی نظریاتی اختلافات واضح ہیں۔ پیپلز پارٹی غریب طبقوں کی سیاست کرتی ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) قدامت پسندانہ سیاسی رجحان کے تحت سرمایہ دار طبقے کو سہولت دے کر معاشی و سیاسی مقاصد حاصل کرنے پر یقین رکھتی ہے۔

تاریخی طور سے بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ نواز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ درحقیقت ملک میں پیپلز پارٹی کی عوام دوست سیاست کا زور توڑنے کے لیے مستحکم کی گئی تھی اور 90 کے عشرے میں وہ ایک دوسرے کے خلاف سرگرم عمل رہی تھیں۔ ملکی سیاست میں ذاتی حملے کرنے اور کردار کشی کا جو الزام اس وقت عمران خان اور تحریک انصاف پر عائد ہوتا ہے، اس کا آغاز درحقیقت مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی سیاسی مسابقت کے دوران میں ہی ہوا تھا۔ اگرچہ پرویز مشرف کی آمریت سے مقابلے میں ان دونوں پارٹیوں نے مشترکہ اصولی جد و جہد کے لئے 2006 میثاق جمہوریت پر اتفاق کیا تھا۔

پرویز مشرف کے زوال کے بعد شروع ہونے والے جمہوری دور میں دونوں پارٹیاں برسر اقتدار رہیں لیکن اس میثاق پر عمل درآمد کی نوبت نہیں آ سکی۔ البتہ جب تحریک انصاف نے ان دونوں کو پچھاڑ کر 2018 کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی، اور عمران خان کی حکومت نے شریف و زرداری خاندان کو ’چور لٹیرے‘ قرار دیتے ہوئے، ان کے خلاف ریاستی مشینری کو انتقامی کارروائی کے لئے استعمال کیا تو یہ ان دونوں نے دیگر چھوٹی پارٹیوں کے ساتھ مل کر پاکستان جمہوری تحریک کے نام سے ایک سیاسی اتحاد قائم کیا۔ تاہم پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) میں اصولی سیاسی اختلافات اتنے شدید تھے کہ عمران خان کی شدید مخالفت کے باوجود یہ دونوں پارٹیاں زیادہ دیر تک پی ڈی ایم میں مل کر نہیں چل سکیں اور پیپلز پارٹی نے اپنا راستہ علیحدہ کر لیا۔

مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان 2022 کے شروع میں اس وقت راہ و رسم میں اضافہ ہوا جب اسٹیبلشمنٹ تحریک انصاف کی حکومت سے عاجز آ چکی تھی اور عمران خان کی حکومت گرانے کے لیے بالواسطہ تائید فراہم کرنے پر آمادہ تھی۔ اسی بنیاد پر پی ڈی ایم، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے اتحادیوں کے ساتھ مل کر عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں کامیاب ہوئی اور شہباز شریف کی سربراہی میں باقی پارلیمانی مدت کے لیے کثیر الجماعتی اتحادی حکومت قائم ہو گئی۔ تاہم دونوں بڑی پارٹیوں میں یہ سیاسی اشتراک حکومت کے ساتھ ہی اختتام پذیر ہو گیا کیوں کہ سیاسی طور سے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی میں کوئی اصولی اتفاق رائے موجود نہیں ہے۔

8 فروری کو منعقد ہونے والے انتخابات کے بعد غیرمتوقع طور پر تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد ارکان کو اکثریت حاصل ہوئی ہے۔ پارلیمانی اصول کے تحت اس گروپ کو سب سے پہلے حکومت سازی کا موقع ملنا چاہیے۔ بعض افسوسناک وجوہات کی بنا پر تحریک انصاف سے انتخابی نشان واپس لے لیا گیا تھا لیکن تحریک انصاف بطور سیاسی جماعت موجود ہے۔ لاہور سے تحریک انصاف کے امیدوار سلمان اکرم راجہ نے اس معاملہ پر سپریم کورٹ میں اپیل بھی دائر کی ہے جس میں یہ استدعا کی گئی ہے کہ پارٹی سے انتخابی نشان واپس لینے کا حکم دیا گیا تھا لیکن تحریک انصاف کے امیدواروں کو ’آزاد‘ کہنے کی بجائے، انہیں پی ٹی آئی کا امیدوار سمجھا جائے۔ انتخابات سے پہلے تو اس پٹیشن پر فیصلہ نہیں ہوسکا۔ لیکن سپریم کورٹ کامیاب ارکان اسمبلی کا نوٹی فکیشن جاری ہونے سے پہلے اس اصولی موقف کی تائید کر سکتی ہے۔

اس اصول کو مان لیا جائے تو عمران خان کے نام سے انتخاب جیتنے والے ارکان قانونی طور سے تحریک انصاف کے امیدوار سمجھیں جائیں گے۔ اس طرح انہیں خواتین اور اقلیتوں کے لیے مختص نشستوں میں سے اپنی تعداد کے حساب سے حصہ مل سکتا ہے۔ سپریم کورٹ کو ملک میں جمہوری روایت کو مستحکم کرنے کے لیے جلد از جلد اس اصولی معاملہ پر کوئی واضح حکم جاری کرنا چاہیے۔ اسی طرح مسلم لیگ (ن) اور دیگر پارٹیاں بھی اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ آزاد حیثیت میں انتخاب لڑنے والے تحریک انصاف کے امیدوار تھے۔ اس لیے الیکشن کمیشن اور پی ٹی آئی کی قانونی لڑائی سے قطع نظر، کامیاب ہونے والے ایسے ارکان کو پارٹی سے متعلق سمجھا جائے۔ اور مخصوص نشستوں پر ان کا حق تسلیم کیا جائے۔ سیاسی پارٹیوں کے ایسے اصولی موقف کی وجہ سے ملک میں سیاسی تصادم کی کیفیت میں کمی آ سکتی ہے اور مستقبل قریب میں وسیع تر سیاسی مواصلت و مفاہمت کا راستہ ہموار ہو سکتا ہے۔

اس کے برعکس میاں نواز شریف ’ہم خیال‘ پارٹیوں کے ساتھ مل کر حکومت بنانے میں پرجوش دکھائی دیتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے تحریک انصاف کے ’آزاد‘ ارکان کو ورغلانے اور اپنی پارٹی میں شامل کرنے کی کوششوں کا آغاز کیا گیا ہے۔ پارٹی لیڈر سوشل میڈیا پر بیانات میں بڑے فخر سے ایسے بھگوڑوں کی مسلم لیگ میں شمولیت کا اعلان کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی پارٹی کے ہمدرد میاں نواز شریف کی طرف سے حکومت سازی کی کوششوں کو ’قومی ذمہ داری‘ پوری کرنے کا نام دے رہے ہیں۔ لیکن یہ کیسی قومی ذمہ داری ہے جس میں کسی بنیادی جمہوری، پارلیمانی، اخلاقی یا سیاسی اصول کی پاسداری کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی جا رہی۔

اپریل 2022 میں عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کے بعد مسلم لیگ (ن) نے اتحادی حکومت کی قیادت کر کے دراصل سیاسی خود کشی کا اہتمام کیا تھا۔ انتخابی مہم کے دوران میاں نواز شریف کو احساس ہو گیا ہو گا کہ ’ووٹ کو عزت دو‘ کے سلوگن نے انہیں جو مقبولیت اور سیاسی طاقت عطا کی تھی، شہباز شریف کی قیادت میں سولہ ماہ کی حکومت نے اس پر پانی پھیر دیا۔ شہباز شریف اسے ملکی معیشت کے لیے دی گئی سیاسی قربانی قرار دیتے ہیں لیکن ان کے کریڈٹ میں کوئی ایسا بڑا معاشی اقدام نہیں ہے جس سے عوام کو سہولت ملی ہو یا قومی معیشت مستحکم ہوئی ہو۔ نواز شریف اگر اب عمران خان کی ذاتی مقبولیت کی بنیاد پر کامیاب ہونے والی تحریک انصاف کے حق حکومت کے راستے کا پتھر بننے کی کوشش کریں گے، تو وہ اس میں بھلے کامیاب ہوجائیں لیکن اس سے ان کی سیاسی ساکھ اور پارٹی کا اعتبار خاک میں مل جائے گا۔ قومی اسمبلی میں واضح اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) جراتمندانہ فیصلے نہیں کرسکے گی۔ اسے ایک طرف اسٹیبلشمنٹ کا دست نگر رہنا ہو گا تو دوسری طرف اتحادی پارٹیاں اسے دباؤ میں رکھیں گی۔

ان حالات میں میاں نواز شریف کی حکومت سازی کے بارے میں گرمجوشی نہ صرف یہ کہ قبل از وقت ہے بلکہ اس سے ملک و قوم کو بھی کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ بہتر ہو گا کہ تحریک انصاف کو قومی اسمبلی کی سب سے بڑی پارٹی کے طور پر حکومت بنانے کا موقع دیا جائے تاکہ پی ٹی آئی کی قیادت کو بھی علم ہو سکے کہ اسٹیبلشمنٹ کے تعاون کے بغیر دوسری سیاسی پارٹیوں کے ساتھ تعاون حاصل کرنے کے لیے کیسے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 2720 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments