انڈیا کے کسان ایک بار پھر سڑکوں پر: ’خاردار تاریں چین یا پاکستان کی سرحد پر نہیں بلکہ کسانوں کو روکنے کے لیے لگائی گئی ہیں‘


کسان احتجاج، انڈیا

انڈیا میں تین سال قبل متنازعہ زرعی اصلاحات کے خلاف ایک سال سے زیادہ عرصے تک جاری رہنے والے احتجاج میں کامیابی کے بعد ایک بار پھر سے کسانوں نے ’دلی چلو‘ کا نعرہ دیا ہے۔

دوسری جانب حکومت نے دلی کی سرحد کو تینوں جانب سے سیل کر رکھا ہے جبکہ پنجاب اور ہریانہ کی سرحد پر پولیس نے مارچ کرنے والوں پر آنسو گیس کا استعمال کیا ہے اور وہاں پر ماحول کشیدہ ہے۔

اس سے قبل حکومت کے ساتھ بات چیت میں ناکامی کے بعد کسانوں نے ہزاروں کی تعداد میں پنجاب کے مختلف علاقوں سے ہریانہ کے شمبھو بارڈر کی جانب منگل کی صبح اپنا مارچ شروع کیا۔

کسان تنظیموں کو مارچ سے روکنے کے لیے ریاستی دارالحکومت چنڈی گڑھ میں پیر دیر رات تک حکومتی اہلکاروں اور کسان رہنماؤں کے درمیان بات چیت ہوتی رہی لیکن وہ بار آور ثابت نہ ہو سکی۔

پنجاب کے علاقے فتح گڑھ صاحب میں بی بی سی ہندی کے نمائندے ابھینو گوئل نے ریلی میں شامل کسانوں سے بات کی تو انھوں نے کہا کہ اس بار پہلے سے زیادہ لوگ ان کے ساتھ ہیں اور اگر ٹریکٹر ہزاروں کی تعداد میں ہیں تو لوگ لاکھوں کی تعداد میں ہے۔

ایک کسان کو جب راہ میں حائل رکاوٹوں کی بابت بتایا گیا تو انھوں نے کہا کہ کسان ہر طرح کی رکاوٹ کو ہٹانا جانتے ہیں اور انھیں دلی جانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

ایک دوسرے کسان نے کہا کہ ’وہ یا تو اپنی مانگیں منوا کر آئیں گے یا پھر مودی حکومت کو گرا دیں گے کیونکہ انتخابات آنے والے ہیں۔‘

کسان احتجاج، انڈیا

کسانوں کے مطالبات کیا ہیں؟

سنہ 2020 میں کسانوں نے متنازع زرعی اصلاحات کے قانون کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے دلی کی سرحدوں پر ایک سال سے زیادہ عرصے تک ڈیرے ڈالے تھے۔

حکومت کی جانب سے قوانین کو منسوخ کرنے پر رضامندی کے بعد ایک سال تک جاری رہنے والا احتجاج، جس میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے، کو ختم کر دیا گیا۔

اب کسان ایک بار پھر سڑکوں پر نکل آئے ہیں کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ ان کے اہم مطالبات ابھی تک پورے نہیں ہوئے۔

کسانوں کے مطالبات ہیں کہ

  • ایم ایس پی (Minimum Support Price) پر فصلوں کی خریداری کی ضمانت دی جائے اور حکومت اس بابت نوٹیفکیشن جاری کریں۔
  • سوامی ناتھن کمیشن نے جو رپورٹ پیش کی، اسے نافذ کیا جائے۔
  • کسانوں کو فصل اگانے پر آنے والی لاگت پر 50 فیصد منافع دیا جائے۔
  • کسانوں کے قرضے معاف کیے جائیں۔
  • کسانوں کی تحریک کے دوران ان پر جو مقدمات درج ہوئے تھے وہ واپس لیے جائیں۔
  • حکومت کی جانب سے کام دینے کی سکیم منریگا کے تحت سال میں 200 دن کا کام فراہم کیا جائے اور یومیہ اجرت 700 روپے کی جائے۔
کسانوں کا احتجاج، انڈیا

مارچ روکنے کے حکومتی حربے

اس تحریک کو وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے لیے سب سے بڑے چیلنجز میں سے ایک کے طور پر دیکھا جا رہا تھا کیونکہ کسان یونین کے رہنماؤں اور وفاقی وزرا کے درمیان مذاکرات کے دو دور تعطل کو توڑنے میں ناکام رہے ہیں۔

دلی میں پولیس نے 2020 کی صورتحال سے بچنے کی کوشش میں شہر کے تین اطراف کی سرحدوں کو سیل کر دیا ہے۔

دریں اثنا کسانوں کے مارچ کو روکنے کے لیے جہاں رکاوٹیں لگائی جا رہی ہیں وہیں ہریانہ میں منگل کے روز انٹرنیٹ بھی بند کر دیا گيا۔

کسانوں پر سڑکوں پر ٹریفک جام کرنے کے الزامات کے جواب میں ایک شخص نے کہا کہ ’آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ہم ایک طرف کنارے سے جا رہے ہیں، جنھوں نے سڑک بند کی، الزام ان کے سر جاتا ہے، ہم سب اس سے بری الذمہ ہیں۔‘

تین برس پہلے کے احتجاج میں اگر پنجاب کی 32 کسان تنظیمیں شامل تھیں تو اس بار 50 سے زیادہ یونینز شامل ہیں اور ملک بھر سے 200 سے زیادہ تنظیمیں دہلی کی جانب مارچ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

کسانوں سے بات چیت کی ناکامی کے بعد وزیر زراعت ارجن منڈا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’کسان تنظیموں کے ساتھ بات چیت بہت سنجیدگی سے ہوئی تھی۔ حکومت ہمیشہ چاہتی ہے کہ ہر مسئلہ بات چیت سے حل ہو۔ اسی مقصد سے ہم یہاں آئے ہیں۔ ہم حکومت ہند کے نمائندے کے طور پر آئے تھے۔‘

یہ بھی پڑھیے

انھوں نے کہا کہ ’ایسے تمام موضوعات پر بات ہوئی جہاں ہم نے اتفاق کیا لیکن کچھ موضوعات ایسے تھے جن پر ہم نے کہا کہ اس طرح کے بہت سے متعلقہ مسائل ہیں جن کا عارضی حل تلاش کرنے کے لیے ہمیں ایک کمیٹی بنانے کی ضرورت ہے اور ہمیں اس میں اپنے خیالات پیش کر کے مستقل حل تلاش کرنا چاہیے۔۔۔ ہم اب بھی بات کرنے کے خواہاں ہیں۔‘

جبکہ یونائیٹڈ کسان مورچہ کے کنوینر جگجیت سنگھ دھالیوال نے کہا کہ یہ میٹنگ کافی دیر تک چلی اور ہر مطالبے پر بات کی گئی۔

انھوں نے کہا کہ ’میں واضح کر دوں کہ یہ مطالبات نہیں تھے۔ یہ وہ وعدے تھے جو مختلف ادوار میں حکومت نے ہم سے کیے تھے۔ حکومت ان پر اتفاق کرنے کی بجائے کہتی ہے کہ وہ اس پر ایک کمیٹی بنائے گی۔‘

https://twitter.com/indian_nagrik/status/1757130163110711607

سوشل میڈیا پر شور

انڈیا میں سوشل میڈیا پر کسانوں کا احتجاج 2024 ٹرینڈ کر رہا ہے اور صارفین ریلیوں اور ان کے راستے میں حائل رکاوٹوں کی تصاویر شیئر کر رہے ہیں۔

اترپردیش کے سابق وزیر اعلی اور سماج وادی پارٹی کے رہنما اکھلیش یادو نے دریا عبور کرتے ٹریکٹرز کی ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’بی جے پی حکومت کسانوں کی تحریک کے لیے کیلیں ٹھونک رہی ہے، سچ تو یہ ہے کہ بی جے پی حکومت اپنی کمیوں کو چھپا رہی ہے۔ پوری دنیا بی جے پی کی جابرانہ پالیسیوں کو دیکھ رہی ہے۔ بی جے پی نے ملک میں جمہوریت کا راستہ کھو دیا اور آزادی کی راہ میں بچھائی گئی خاردار تاروں نے پوری دنیا میں ملک کی شبیہ کو داغدار کیا۔‘

کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے نے شاعرانہ انداز میں ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’خاردار تاریں، ڈرون سے آنسو گیس، کیل اور بندوقیں۔۔۔ سب کا ہے انتظام، مودی حکومت کسانوں کی آواز پر لگا رہی ہے لگام۔‘

’دس سال میں مودی حکومت نے ملک کو خوراک فراہم کرنے والوں سے کیے گئے اپنے تین وعدوں کو توڑ دیا۔ اب 62 کروڑ کسانوں کی آواز اٹھانے کا وقت آ گیا ہے۔ کسان تحریک کو ہماری مکمل حمایت حاصل ہے۔۔۔ اتحاد کی آواز لوہے کے کیل پگھلا دے گی۔‘

بہت سے صارفین نے خاردار تاروں کی تصویر لگا کر لکھا کہ یہ کوئی چین یا پاکستان کے ساتھ ہماری سرحد نہیں بلکہ کسانوں کو دہلی جانے سے روکنے کے لیے لگائی گئی ہیں۔

لیکن اس سب تنقید کے دوران بہت سے لوگ اس مارچ میں شریک کسانوں کو ’امیر اور نقلی‘ کسان بتا رہے ہیں جبکہ بہت سے صارفین اس بات پر بھی ناراض ہیں کہ ان کی وجہ سے عام شہریوں کو دشواریاں ہو رہی ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 32026 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments