استاد نے عزت رکھ لی بابو پھر بھی باز نہ آیا
حالیہ قومی اور صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں سیاسی طور پر جو کچھ ہوا وہ عوامی توقعات کے مطابق نہیں ہے۔ پاکستان میں سیاست اب اصولوں اور منشور پر نہیں چند شخصیات کو بنیاد بنا کر کی جاتی ہے۔ بھٹو، نواز شریف، عمران خان، فضل الرحمن اور چند دیگر لوگ ہی ہمارے سیاست کا محور ہیں۔ عوام کو اس سے کوئی غرض نہیں ہے کہ پاکستان کے سیاسی جماعتوں کا منشور کیا ہے، ان سیاسی جماعتوں نے ماضی میں کیا خدمات سر انجام دی ہیں۔
کیا یہ سیاست میں حمایت کے اہل ہیں؟ کیا ان کو ووٹ دے کر عوام یہ توقع رکھتی ہے کہ یہ پاکستان کی ترقی اور بہبود کے لیے کچھ کرسکیں گے؟ ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ پاکستانی قوم شخصیت پرستی کا شکار ہے۔ اب لوگ نظریہ نہیں دیکھتے۔ اب اس ملک میں شخصیت ہی اہم ہے اور جو لوگ سیاست کر رہے ہیں وہ شخصیات کے چھتری تلے جمع ہو جاتے ہیں۔ پھر اس ملک کے مقتدرہ بھی ہر الیکشن میں اپنے لیے کچھ شخصیات کو چنتی ہے اور کچھ کو رگڑا دیتی ہے۔
اس ملک کی بیوروکریسی اس عمل میں سہولت کاری کرتی ہے۔ پاکستان میں ہونے والے تمام الیکشنوں میں ہارنے والوں نے الیکشن چرانے کا الزام لگایا ہے۔ گزشتہ انتخابات میں یہ شکایت رہتی تھی کہ پولنگ کے دن دھندلی ہوئی کسی کو جعلی ووٹ ڈالے گئے، انتخابی عملے نے کسی امیدوار کی طرف داری کی اور اس کو جتوایا۔ مگر اس بار ایسا کوئی الزام سننے کو نہیں ملا۔ بلکہ اس بار ہر امیدوار نے یہ دعوی کیا ہے کہ فارم 45 ٹھیک ہے اور فارم 47 میں گڑ بڑ ہوئی ہے جس کے نتیجے میں ان کو شکست ہوئی ہے اور ان کے مخالف جیت گئے ہیں۔
اس سے پہلے کبھی شد و مد سے ان فارموں کا تذکرہ نہیں کیا گیا۔ الیکشن کمیشن سے دستیاب معلومات کی روشنی میں فارم 45 جسے عام طور پر ”گنتی کا نتیجہ“ کہا جاتا ہے۔ فارم 45 پولنگ سٹیشن کے بارے میں ضروری معلومات پر مشتمل ہے، بشمول پولنگ سٹیشن نمبر، حلقے کا نام، کل رجسٹرڈ ووٹرز، ڈالے گئے کل ووٹ، اور ہر امیدوار کو موصول ہونے والے ووٹوں کی تفصیل۔ امیدوار آزادانہ طور پر فارم 45 کے ذریعے اپنے حاصل کردہ ووٹوں کی تصدیق کر سکتے ہیں۔
فارم 46 یہ فارم پولنگ اسٹیشن پر موصول ہونے والے بیلٹ پیپرز کی تعداد، بیلٹ بکس سے جاری کیے گئے بیلٹ پیپرز کی تعداد، اور چیلنج شدہ، غلط اور منسوخ شدہ بیلٹ پیپرز کی تعداد کے بارے میں تفصیلات فراہم کرتا ہے۔ مزید برآں، فارم 46 میں ووٹنگ کے عمل میں کسی بھی بے ضابطگی کے بارے میں معلومات درج کی جاتی ہیں۔ فارم 47 میں مسترد شدہ ووٹوں کی تعداد اور انتخابی حلقے کے غیر سرکاری نتائج کے بارے میں ہر امیدوار کے ووٹوں کی تقسیم درج کی جاتی ہے ہے اور یہ کام ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر کرتا ہے۔
انتخابی نتائج کی تیاری میں فارم 48 اہم ہے کیونکہ اس میں ایک مخصوص حلقے میں ہر امیدوار کے لیے ڈالے گئے ووٹوں کی کل تعداد درج کی جاتی ہے۔ فارم 49، جسے گزیٹڈ فارم بھی کہا جاتا ہے، انتخابات کے حتمی اور سرکاری نتائج پر مشتمل ہے۔ اس میں امیدواروں کے نام، ان سے منسلک سیاسی جماعتیں اور انتخابی حلقے میں حاصل ہونے والے کل ووٹ شامل ہیں۔ الیکشن کا انعقاد الیکشن کمیشن اف پاکستان کرتی ہے۔ الیکشن کے عمل میں انتظامیہ اور اساتذہ دنوں شریک ہوتے ہیں۔
انتظامیہ سیکیورٹی اور سہولیات فراہم کرتی ہے اور اساتذہ پولنگ سٹیشنوں پر لوگوں کو اپنا ووٹ ڈالنے میں سہولت کاری کرتی ہے اور ووٹ گننے کے بعد اس کا نتیجہ امیدواروں کے نمائندوں کے موجودگی میں فارم 45 میں بھر کر اس پر سب سے دستخط لے کر الیکشن انتظامیہ اور امیدواروں کے نمائندوں کے حوالے کرتی ہے۔ اس ڈیوٹی میں جو اساتذہ شریک ہوتے ہیں ان کو یہ کام لازمی سرکاری ڈیوٹی کے طور پر دیا جاتا ہے اور ان کو بنیادی معاونت اور سہولتیں بھی فراہم نہیں کی جاتیں، یعنی ڈیوٹی پر مامور اساتذہ کو ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر جو ڈپٹی کمشنر ہوتا ہے اپنے ماتحتوں کے پاس بلاتا ہے، ان کو سامان دے کر رخصت کیا جاتا ہے پھر الیکشن کے بعد یہ اساتذہ یہ سارا سامان سر پر اٹھا کر دوبارہ رات گئے تک ان دفتروں میں واپس پہنچاتے ہیں۔
اس سارے عمل میں ان اساتذہ کرام کی عزت نفس کئی بار مجروح ہوتی ہے۔ مگر وہ یہ ساری ذلت برداشت کر کے اپنا کام پورا کرتے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر صاحب جو گریڈ میں ان اساتذہ سے کم ہوتا ہے، وائسرائے کی طرح اپنے دفتر میں بیٹھا ہوتا ہے۔ اس کا عملاً جس کو تمام تر سہولیات اور مراعات جو دنیا میں ہو سکتی ہیں وہ حاصل ہوتی ہیں اور پھر وہ انتخابی نتائج کا اعلان کرتے ہیں۔ گزشتہ انتخابات میں یہ ذمہ داری عدالتی عملے کی ہوتی تھی۔
مگر اس بار یہ کام ضلعی انتظامیہ کو دیا گیا۔ اب کے بار کے انتخابات میں اساتذہ نے اپنا کام انتہائی ایمانداری سے سر انجام دیا ہے جس کا برملا اظہار غیر جانبدار مبصرین نے بھی کیا ہے جو ان انتخابات کی نگرانی کر رہے تھے۔ مگر اس وقت ملک میں جو جو انتخابات ہارے ہیں وہ کسی بھی طور فارم 47 کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ان سب کا مطالبہ ہے کہ استاد کا بنایا ہوا فارم 45 ٹھیک ہے اس کے مطابق فارم 47 میں درست اندراج کر کے حقیقی نتیجہ دیا جائے۔
مطالبہ کرنے والوں سرفہرست تحریک انصاف کے حامی آزاد امیدوار ہیں۔ جب تحریک انصاف کی حکومت تھی تو سب سے زیادہ ظلم اساتذہ پر کیا گیا۔ ان کے بنیادی حقوق سلب کیے گئے۔ ان کی مراعات ختم کردی گئیں، ان کے پرامن احتجاج پر لاٹھی چارج کیا گیا، ان اساتذہ کو سڑکوں پر گھسیٹا گیا۔ ان کی مسلسل بے عزتی کی گئی۔ جبکہ تحریک انصاف کی ہی حکومت نے بیوروکریسی کو تاریخ میں ایسا نوازا کہ اس کی مثال نہیں ملتی، بیورو کریسی کے مراعات میں سینکڑوں گنا اضافہ کیا، ان کو نیب کی گرفت سے بچایا، آج وہ شکوہ کر رہے ہیں کہ جن کو انہوں نے نوازا ہے وہ ان کے خلاف ہو گئے ہیں اور ان کو ذرا برابر بھی شرم محسوس نہیں ہوتی کہ جن کو اپنے دور حکومت میں انہوں نے مسلسل تنگ کیا، جن کے روزی روٹی میں کمی کی، جن کو سڑکوں پر مہینوں احتجاج اور مار کھانے پر مجبور کیا۔ ان اساتذہ نے ان کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہونے دی۔ ان کو انتخابات کے دن بہترین اور یکساں ماحول فراہم کیا اور نہایت دیانت داری کے ساتھ ان کے حاصل کردہ ووٹوں کی تصدیق شدہ فارم فہرست فارم 45 ان کے ہاتھ میں تھما دیا۔
یہ ہے استاد کا منصب۔ مگر سیاست کرنے والے اس کا احساس نہیں کریں گے۔ وہ جب اقتدار میں آئیں گے وہ پھر ان کا استحصال کریں گے اور ان کو نوازیں گے جنہوں نے اپنے منصب کا درست استعمال نہیں کیا۔ اس ملک میں جب بھی مشقت کی کوئی ڈیوٹی ہوتی ہے تو وہ اساتذہ کے حوالے کی جاتی ہے، مردم شماری، انتخابات وغیرہ مگر اس کام کے لیے جو اربوں روپے مختص ہوتے ہیں وہ بابو کھا جاتے ہیں۔
ان انتخابات میں مردوں کے شانہ بشانہ خواتین اساتذہ نے بھی ڈیوٹی کی ہے اور ان دشوار گزار علاقوں میں ڈیوٹی کی ہے جہاں سرکاری بابو دن کی روشنی میں جانے کا تصور بھی نہیں کر سکتے اور جب کبھی ان علاقوں کا وہ رخ کرتے ہیں تو ان کی حفاظت اور پروٹوکول کے لیے سینکڑوں حفاظتی اہلکاروں کی ڈیوٹی لگائی جاتی ہے۔ مگر یہ مرد و خواتین اساتذہ بغیر کسی پروٹوکول، سہولت اور سیکیورٹی کے ان علاقوں میں دو دن تک رہے۔ کچھ علاقوں میں شدید سردی تھی اور ان اساتذہ کو سردی سے بچاؤ کے لیے کوئی سہولت فراہم نہیں کی گئی تھی مگراس کے باوجود ان سب نے اپنا کام ایمانداری اور الیکشن مینول میں درج اصولوں کے عین مطابق انتخابات کا انعقاد ممکن بنایا۔
اس ملک میں جب تک اساتذہ کو ان کا حقیقی مقام نہیں دیا جاتا یہ ملک ترقی نہیں کرے گا۔ دنیا میں جن ممالک میں استادوں کی عزت کی جاتی ہے اور ان کو ان کا جائز مقام دیا جاتا ہے وہاں ترقی اور خوشحالی آتی ہے اور جن معاشروں میں استاد کو ذلیل کیا جاتا ہے ان معاشروں پر غنڈے، چور، بدمعاش، سمگلر اور نا اہل لوگ مسلط ہوتے ہیں۔ اس ملک میں جو سیاست کا یہ چلن شروع ہوا ہے کہ ایک شخصیت کے پیچھے لاکھوں کروڑوں لوگ جمع ہو رہے ہیں یہ بذات خود انتہائی غیر جمہوری ہے۔ وہ قومیں جو اپنے حال میں مستقبل کے لیے اہداف کا تعین نہیں کرتیں وہ مستقبل میں دوسرے قوموں سے بہت پیچھے رہ جاتی ہیں۔


