وسیم قادر؛ کچھ یادیں کچھ باتیں


ٹی وی چینل میں رپورٹنگ کا آغاز کیا تو لوکل گورنمنٹ کی بیٹ ملی۔ لاہور میں بلدیاتی ادارے فعال ہو چکے تھے اور شہر کی بلدیہ مئیر لاہور اور ان کے نو ڈپٹی میئرز کے زیر انتظام چلتی تھی۔ لاہور کے نو زونز کے ڈپٹی میئرز میں اسے راوی زون کے ڈپٹی میئر وسیم قادر تھے۔ وسیم قادر کا زون میری ذمہ داری میں شامل تھا۔ یوں لاری اڈے بادامی باغ کے ساتھ موجود زون آفس آنا جانا شروع ہوا۔ شروع شروع میں نووارد رپورٹرز کی طرح وہاں موجود افراد سے خاص گرمجوشی محسوس نہیں ہوتی تھی۔ ساتھی رپورٹرز یہ اکثر کہتے ہوئے پائے جاتے کہ یہ ادارے صرف ڈمی ہیں اصل طاقت تو ان کے پاس نہیں ہے۔

ڈپٹی میئرز کا ذکر بھی ہنسی مذاق کے ساتھ ہوتا، لیکن راوی زون اور اس کے ناروے پلٹ ڈپٹی میئر کی کہانی الگ تھی۔ ہاں آئے روز اجلاس ہوتے، ڈپٹی میئر سے سب ڈرتے، ہر اجلاس میں واسا، صاف پانی کمپنی، پارکنگ کمپنی، ایل ڈبلیو ایم سی، ایل ڈی اے، لیسکو، پولیس، ضلعی انتظامیہ اور اس طرح کے دیگر طاقتور ترین اداروں کے بڑے بڑے افسران کو ڈائریاں اٹھا کر وہاں کھڑے ہر اجلاس میں پاتا۔ ان اجلاسوں میں زون کی مختلف یونین کونسلوں کے چیئرمین، حتیٰ کہ کونسلرز تک علاقے سے مسائل سے متعلق اپنی شکایات دھڑلے سے پیش کرتے اور متعلقہ اداروں کے افسران کی کھچائی سمیت، اوپر والوں کو فون بھی جاتے۔

اس دوران وسیم قادر کو وقفے وقفے سے ایک اہم فون آتا۔ جسے وہ مکمل سنجیدگی کے ساتھ، جی سر، رائٹ سر، اوکے سر، کے سابقے لاحقوں استعمال کرتے ہوئے، عوامی مسائل کے مختلف معاملوں پر پیش رفت دیتے ہوئے سنتے۔ اس فون کے بند ہوتے ہی وسیم قادر اور سختی سے احکامات دیتے اور احکامات لینے والوں کی باڈی لینگوئج میں بھی مزید انکسار آ جاتا۔ مجھے یاد ہے کہ مارے تجسس کے میں نے سب سے پہلے یہ معلوم کیا کہ ان کو یہ فون کس شخص کا آتا ہے؟ اس کا جواب تھا حمزہ شہباز۔ جس سے معلوم ہوا کہ یہ دفتر کم از کم ڈمی نہیں ہے۔

کچھ ہی دن گزرے ہوں گے، کہ ایک شام وسیم قادر کی کال موصول ہوئی۔ وہ شہر لاہور کے واحد سٹی چینل سے بے زار تھے اور ان کے حریف چینل سے ہونے اور بقول ان کے الگ شخصیت کے حامل ہونے کی بنا پر انہوں نے مجھے تعاون کی شفیق سی درخواست کی۔ یہ درخواست کم اور دوستی کی آفر تھی۔ جو خوب رہی۔ وہ شفقت سے پیش آتے اور خیال رکھتے۔ کوئی پروگرام ہو یا انٹرویو، ایک کال پر دستیاب ہوتے۔ وسیم قادر میری تنقیدی رپورٹس، سخت انٹرویوز اور مسائل کو اجاگر کرتی ہوئی رپورٹنگ کو مثبت انداز میں ریسپانڈ کرتے۔ ایکشن لیتے اور پھر خبر پر ایکشن کے عنوان کے تحت بدلی ہوئی صورتحال کو بھی ٹی وی پر نشر کرنے کی درخواست کرتے۔

وسیم قادر کا مزاج سیاسی بیوروکریٹس سا ہے۔ سیاسی اتھارٹی استعمال کرنے کا بیورو کریٹک سٹائل۔ میں نے نواز شریف کی وزارت عظمیٰ کے دوران بھی ان کے حلقہ میں پبلک سروسز فراہم کرنے والے اداروں پر عوامی شکایات کا ازالہ کرنے کے حوالے سے ایسی انتظامی گرفت نہ دیکھی جو حمزہ شہباز کی ایما پر وسیم قادر کی جانب سے روا رکھی جاتی۔

وسیم قادر نون لیگ کے حمزہ گروپ سے تھے، اپنے حلقے میں حمزہ شہباز کے معتمد خاص۔ 2015 کے بلدیاتی انتخابات کے نتیجے میں 2017 میں قائم ہونے والی بلدیاتی حکومت کے حوالے سے صحافتی حلقوں میں یہ عام تھا وسیم قادر لاہور کے میئر ہوں گے۔ تاہم ایسا نہ ہوا اور راتوں رات مخصوص نشست پر آئے ہوئے مریم نواز گروپ کے کرنل ر مبشر جاوید کو لارڈ میئر لاہور نامزد کر دیا گیا اور پھر وہی میئر بنے اور وسیم قادر کو راوی زون بطور ڈپٹی میئر سونپا گیا۔

وہ اس پر خوش نہ تھے، لیکن معاملات چلاتے رہے۔ لیکن کبھی اوپر سے ہدایات کے تحت یا کبھی اپنی اڑیل طبعیت سے مجبور ہو کر وہ اپنے ہی میئر کے خلاف صف آرا بھی نظر آئے۔ اس حوالے سے ایک واقعہ جو میری دلچسپ یادوں کا حصہ ہے کہ اک روز راوی زون دفتر کی بجلی اور ٹیلی فون بل کی عدم ادائیگی کی وجہ سے کاٹ دی گئی۔ بل بلدیہ عظمیٰ یعنی میئر آفس نے ادا کرنا تھا۔ وسیم قادر کے سٹاف کی مجھے کال موصول ہوئی کہ ڈپٹی میئر صاحب انٹرویو دینا چاہتے ہیں۔

میں خبر کی تلاش میں مارا مارا وہاں پہنچا، وسیم قادر نے کڑکتا دھڑکتا انٹرویو دے ڈالا اور میئر لاہور کا کچھ نہ چھوڑا۔ انٹرویو آن ائر ہوا تو لاہور کی بلدیاتی دنیا میں نئی بحث چھڑ گئی، میئر لاہور نے جوابی انٹرویو دے ڈالا اور بات بقول شخصے بڑھ گئی جسے ہائی کمانڈ نے جلد ختم کرانے کی سعی کی۔ اسی طرح ایک بار شہباز شریف کے پسندیدہ افسران میں سے ایک ڈپٹی کمشنر لاہور سمیر احمد سید کے ساتھ ڈی سی آفس نادر ہال میں صاف پانی کے منصوبے آئی پور کے اجلاس کی صدارتی کرسی پر براجمان ہونے کی جنگ اصول کے مطابق بھرپور لڑی اور اپنا آپ منوایا۔

بلدیاتی عہدہ اور حمزہ شہباز کے حلقہ میں انتظامی چارج ہونے کے باوجود وسیم قادر صورتحال سے بے زار تھے۔ اس سب کے دوران وہ گاہے گاہے اپنی شکایات کا کھل کر اظہار کرتے رہے۔ تاہم شاید وہ اب اس صورتحال سے انخلا ہی چاہتے تھے۔

یہ سنہ 2018 کے عام انتخابات سے چند ماہ پہلے کی بات ہے۔ نون لیگ شدید طور پر زیر عتاب ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ملکی تقدیر سے متعلق سیاسی فیصلہ کرچکی ہے۔ اور اس فیصلے کے خلاف نون لیگ مزاحم ہے۔ اسی سلسلے میں بھاٹی گیٹ گراؤنڈ میں ایک جلسے کا اہتمام ہے جہاں انتظامیہ نے پانی چھوڑ دیا ہے اور اس کی بروقت نکاسی اور جلسے کو ممکن بنانے کے لئے لاہور کے ڈپٹی میئر اور حمزہ شہباز کے ’مسٹر ٹو‘ وسیم قادر اپنی ٹیم کے ہمراہ وہاں موجود ہیں۔

ان کے ساتھ حمزہ شہباز کے پولیٹکل سیکریٹری کبیر تاج بھی موجود ہیں۔ چونکہ این اے 118 میں الیکشن سے متعلق ذمہ داریاں مجھے دی گئیں تھیں میں وہاں پر اسی حوالے سے موجود تھا۔ وسیم قادر نے مجھے کہا کہ یہ احمدی مسئلے پر قانونی ترمیم کے بعد اب نون لیگ اللہ کی پکڑ میں ہے۔ یہ معاملات یوں نہیں چلیں گے۔ یہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔

جلسہ ہوا اور میں واپس آیا۔ تاہم مجھے یہ واضح تھا کہ وسیم قادر نون لیگ سے نکلنے کا فیصلہ کر چکے ہیں اب وجہ وہ جو بھی بتائیں۔ پھر حمزہ سے ان کی بوتل لڑائی کی خبر سامنے آئی جس میں حمزہ شہباز نے انہیں اور انہوں نے جوابی کارروائی میں حمزہ کو بوتل دے ماری۔ جس کے بعد وہ پارٹی چھوڑ گئے۔

اس سیاق و سباق میں ان کی نون لیگ میں مریم گروپ کے ہمراہ واپسی میرے لیے حیران کن نہیں۔
یہ بھی یاد رہے کہ وسیم قادر کے آبائی جڑیں پیپلز پارٹی میں ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments