الیکشن میں دھاندلی کیسے ہوتی ہے؟


مورخہ 8 فروری بروز جمعرات، الیکشن 2024 کے لئے یہ دن قرار پایا۔ اس دن کے آنے سے پہلے تک کئی آرا سامنے آئیں
الیکشن نہیں ہوں گے
الیکشن ہوں گے
الیکشن کے دوران سسٹم بیٹھ جائے گا
ابو سے بات ہو گئی ہے، فلاں فلاں حکومت بنے گی

عوام پر جوش بھی تھے اور پروپیگنڈا کے زیر اثر بھی۔ ہم میں سے اکثر سرکاری ملازمین الیکشن ٹریننگ لینے کے باوجود بھی اس بات پہ بضد رہے کہ الیکشن نہیں ہوں گے۔ بتانے کی ضرورت تو نہیں بہرحال ذکر کرنا ضروری ہے کہ اکثریت اس جماعت کی حامی تھی جس کا طرز سیاست محض پراپیگنڈہ ہے۔ تاہم۔ کچھ سر پھرے ہم جیسے تھے جنہیں یقین تھا کہ الیکشن ہوں گے اور اپنے وقت پہ ہوں۔ سسٹم ہر بار بیٹھتا ہے تو اس بار بھی بیٹھے گا۔

الیکشن کا دن قریب آ رہا تھا اور ہماری سانسیں سکڑ رہی تھیں۔ سرتاج، بھائی، بہنوئی اور بہنیں اور ہم خود، سب کی مختلف ڈیوٹیز تھیں۔ خدا خدا کر کے الیکشن کا دن آیا اور ہم۔ سب اپنے اپنے فرائض ادا کرنے مختلف مقامات کی طرف روانہ ہوئے۔ تمام پریزائیڈنگ اور سینئر پریزائیڈنگ ایک دن پہلے متعلقہ پولنگ پر بمعہ الیکشن ساز و سامان پہنچے اور رات بے سر و سامان مسجدوں میں گزاری۔

البتہ وہ خواتین جو قریبی پولنگ پر تعینات ہوئی تھیں انہیں صبح سویرے سات بجے پہنچنے کی رعایت دے دی گئی۔

صبح کی اذان کے وقت ہم خواتین اپنی مدد آپ کے تحت اپنی اپنی منزل کی طرف روانہ ہوئیں اور گوگل میپ کے سہارے سفر شروع کیا۔ بھلا ہو ڈیوٹی لسٹ ترتیب دینے والوں کا سب انجان انسانوں کو نئے تعلقات بنانے کا موقع فراہم کرتے ہوئے ایک ساتھ ڈیوٹی لگا دی۔ نئی جگہ، نئے لوگ، نئے ووٹرز اپنی پرانی جماعت کی شناختی علامت بد تمیزی کے ساتھ راستے میں کہیں کہیں موجود تھے۔

سفر شروع ہوا اور ہم بخیریت بغیر ناشتے اپنے سٹیشن پر پہنچے اور اپنے فرائض منصبی میں مصروف ہوئے اور ایسے مصروف ہوئے کہ دو سو خواتین کے ووٹ کاسٹ کرنے بعد ، جب ہاتھ، قلم، معدہ اور سر دہائی دینے لگے تو سر اٹھا کر دیکھا تو ہمارے سروں پہ کھڑی خواتین ابھی بھی دکھ سکھ سانجھے کرنے میں مصروف تھیں اور ساتھ کچھ خواتین ہمیں دیکھنے کی چاہ لیے دیکھے جاتی تھیں۔

دیہات کے لوگ کسی دور میں سادہ لوح رہے ہوں گے کہ اپنے ہاں آنے والوں کی خدمت کرتے ہوں گے۔ یہاں تو پانی بھی ہم ساتھ لے کر گئے تھے اور کھانے کے لئے فروٹ بھی، اگرچہ کھانے کا وقت نہیں ملا مگر آنے والی سادہ لوح خواتین اپنے اپنے بچوں کو ہمارے رکھے گئے فروٹ سے مستفید کرتی رہیں کہ یہ بھی حکومت نے شاید ان کے بچوں کے لئے بھیجے ہیں اور ہم قبضہ کیے بیٹھے ہیں۔

دیہات کی خواتین کو پولنگ کے عمل سے گزارنا بھی سٹاف کے ضبط کا کڑا امتحان تھا۔ ووٹر لسٹ سے لے کر بیلٹ پیپر کی جگہ پر انگوٹھا لگوانا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔ ہماری نظر ذرا چوکی اور خواتین کا انگوٹھا مخصوص امیدوار کے نشان پر۔ بمشکل ہاتھ پکڑ پکڑ کر درست جگہ پر انگوٹھے لگوائے اور مہر کیسے لگانی ہے اور کہاں لگانی ہے بتانے سے کے کر بیلٹ پیپر کیسے تہہ کرنا ہے بتاتے بتاتے ہمارا بلڈ پریشر آسمان کو چھو رہا تھا۔ پھر بھی کئی ووٹ اور ہماری محنت ایک ساتھ ضائع ہوئے جس کا افسوس رہے گا۔ انتخابی نشان الیکشن کمیشن نے ایسے بنائے تھے کہ شیر اور بکری میں فرق کرنا مشکل تھا۔ وٹکیں (وکٹ) بھی ایسی بنی ہوئی تھیں کہ زندگی میں پہلی بار دیکھیں۔

بزرگ خواتین، معذور افراد، مریض ہاتھ پہ کینولہ لگائے ہوئے، سیزیرین کروا کے آئی ہوئی خواتین، حاملہ خواتین اور نئی دلہنیں جن کا پہلا ووٹ تھا، کا ووٹ ان کے اپنے لئے ہی آزمائش تھا۔ لیکن بھلا ہو ایجنٹس کا پوری ایمان داری سے ان کو پولنگ کے لئے نکال لائے۔ کچھ ایسے عقیدت مند بھی تھے جو ووٹ بڑھانے کے لئے دو دو شادیاں کیے بیٹھے تھے کہ ان کا لیڈر ایسی مثالیں رکھتا تھا۔

دو سو خواتین کے ووٹ مکمل ہوئے اور ہمارا سر خالی ہوا تو ہاتھ جوڑ کر پندرہ منٹ بریک کی درخواست کی اس وعدے کے ساتھ کہ جتنے ووٹر پانچ بجے تک اندر ہوں گے سب کا ووٹ لیا جائے گا۔ پندرہ منٹ میں الٹا سیدھا کھایا کمال مہربانی یوتھ کی جنہوں نے اپنے لئے پکوائی گئی پھیکی بریانی ہمیں بھی کھلائی۔ ہمارا ناشتہ، دوپہر کا کھانا، رات کا کھانا سب وہی تھا۔ پولیس والے کے ہاتھ سے (تقریباً منہ سے) چائے کا کپ لیا اور حواس بحال ہوئے۔

چھوٹی سی بریک کے بعد کام دوبارہ شروع کیا اور پولنگ مکمل کروائی۔ پانچ بجے کے بعد دیکھا کہ ایجنٹس آپس میں تکرار کر رہے ہیں کہ کہیں کوئی ووٹر رہ نا گیا ہو۔ آخر ایک نے کہا کہ مردے باقی رہ گئے ہیں کہیں تو قبروں سے نکال کے لے آئیں؟ یوں ہی سرد و گرم میں پولنگ اختتام پذیر ہوئی اور ہم نے سکھ کا سانس لیا۔

آخری مرحلہ گنتی کا تھا ایجنٹس کی موجودگی میں بغیر کسی بد مزگی کے گنتی مکمل ہوئی اور ہمارے سٹیشن پہ نون لیگ فاتح قرار پائی۔ ہم نے اس کے بعد پریزائیڈنگ سے اجازت چاہی اور رسمی رزلٹ مردانہ سٹاف کے ذمّہ لگاتے ہوئے گھر کی راہ لی۔ سگنل نا ہونے کی وجہ سے جو خواری اٹھائی وہ الگ داستاں ہے مگر بھلا ہو فرحان بھائی کا جو اپنی بیوی کے لیے پانچ بجے سے باہر کھڑے تھے اور ہمیں بھی بخیریت اور با عزت طریقے سے گھر پہنچایا۔ یوں ایک تھکا دینے والا دن نئے دوست دے کر اپنے اختتام کو پہنچا۔

ہمارے سرتاج کی ڈیوٹی انتہائی حساس علاقے میں لگی تھی۔ جانے سے پہلے انہوں نے سارے پاس ورڈ ہمیں یاد کروائے اور رہی سہی کسر ہمارے ڈی ای او صاحب نے فائنانشل اسسٹینس والا لیٹر شیئر کر کے پوری کر دی تھی۔ ہم بس حساب لگاتے رہے کہ اگر ہم دونوں شہید ہو گئے تو بچوں کو کیا کیا ملے گا۔ اللہ کا کرم ہوا اور خیریت رہی ہم بخیریت گھر پہنچ گئے۔ سرتاج اور ان کے کولیگز کے تجربات کم و بیش ہمارے جیسے ہی رہے البتہ مردوں کے حصے میں ذلالت کچھ زیادہ آئی اور صبح کے وقت تک وہ بھی اپنے فرائض سے آزاد ہوئے۔

بہنوں، بھائی اور بہنوئی سب کے اپنے تجربات ہیں اور ملتے جلتے ہیں۔ اب اس سارے عمل میں سسٹم بیٹھے یا کھڑا رہے اس کا فیصلہ ہم آپ پہ چھوڑتے ہیں۔ لیکن الیکشن کمیشن سے گزارش ہے کہ اگلے الیکشن سے قبل پولنگ کا عمل ہی کچھ تبدیل کر کے کیونکہ تبدیلی کے دعویدار بھی ملک میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہیں لا سکے لیکن ہم میں مزید ذلیل ہونے کا حوصلہ نہیں ہے۔ باقی الیکشن میں دھاندلی کب اور کیسے ہوتی ہے؟ کہاں ہوتی ہے بخدا ہم اس کا کوئی علم نہیں رکھتے لیکن ایک پروپیگنڈا والی جماعت سے سنا ہے کہ عملہ ہاتھ پکڑ پکڑ کے خود اپنی مرضی کے ووٹ کاسٹ کروا رہا تھا۔ بیلٹ باکس پولیس چھین کے لے گئی تاکہ بے ایمانی کی جا سکے۔ ہم نے پوری ایمان داری سے اپنے وہ فرائض ادا کیے جو ہم پر زبردستی مسلط کیے گئے۔ آپ خود سمجھ جائیں کہ دھاندلی زیادہ ہوتی ہے یا پروپیگنڈا؟ اگلے الیکشن تک اللہ حافظ۔

Facebook Comments HS