لیگی کارکنوں کے تحفظات اور مولانا کا اعلان تحریک
مسلم لیگ نون کے کارکن کی جذباتی وابستگی صرف اور صرف نواز شریف سے ہے مسلم لیگ نون کا وجود بھی نواز شریف کے دم سے ہی ہے اس حقیقت کو کوئی جھٹلا نہیں سکتا۔ نواز شریف ملکی سیاست میں بھی ایک حقیقت ہے جس کا ادراک اسٹیبلشمنٹ کو بھی بخوبی ہو چکا ہے۔ مسلم لیگ نون کا کارکن نواز شریف کے چوتھی بار وزیراعظم نہ بننے پر مایوسی کا شکار ہے جبکہ مسلم لیگ نون کا ایک بڑا حلقہ بھی اس فیصلے سے افسردہ ہے۔ مسلم لیگ نون کے کارکن کی خواہش تھی کہ وہ اپنے قائد کو چوتھی بار وزیراعظم بنتا دیکھیں۔
موجودہ سیاسی حالات میں نواز شریف با آسانی وزیراعظم بن سکتے تھے جب پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم وزارت عظمی کے لیے مسلم لیگ نون کو مکمل سپورٹ کرنے کا اعلان کر چکے تھے۔ اب بظاہر نواز شریف کے وزیراعظم بننے میں کوئی سیاسی اور قانونی رکاوٹ نہیں رہی تھی لیکن نواز شریف نے پھر بھی خود وزیراعظم بننے کا فیصلہ کیوں نہیں کیا؟ اس کی بڑی دو وجوہات ہیں۔ ایک تو نواز شریف موجودہ سیاسی تناؤ میں وزیراعظم نہیں بننا چاہتے اور جو ملک کی معاشی صورتحال ہے وہ بھی بہت گمبھیر ہو چکی ہے۔
نواز شریف کو لگتا ہے کہ جب وہ وزیراعظم تھے تو ملک میں مہنگائی بھی نہیں تھی اور معیشت بھی مستحکم ہو رہی تھی۔ آج عمران خان کی وجہ سے پاکستان میں سیاسی تناؤ بڑا اور معیشت کا کباڑا ہوا جبکہ نواز شریف سیاسی تناؤ کو ختم کرنے اور معیشت ٹھیک کرنے کا بار بار ذمہ کیوں لیں۔ دوسری بڑی وجہ پیپلز پارٹی کے ووٹوں سے وزیراعظم بننا ہے اگر پیپلز پارٹی آنے والے دنوں میں مہنگائی کا عوامی رد عمل برداشت نہ کر سکی اور انہوں نے حکومت سے الگ ہونے کا فیصلہ کر لیا تو نواز شریف حکومت ایک سال میں ہی ختم ہو سکتی ہے کیونکہ پیپلز پارٹی کے لوگ پہلے ہی دو دن سے یہ اشارے دے چکے ہیں۔
اس لیے نواز شریف اب موجودہ ملکی حالات میں وزارت عظمی کا منصب سنبھالنے کے لیے ذہنی طور پر خود بھی تیار نہیں تھے۔ شہباز شریف کی آل ریڈی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ انڈرسٹینڈنگ بھی بن چکی ہے اور وہ مشکل معاشی صورتحال میں کام بھی کر چکے ہیں۔ اس لیے نواز شریف نے مناسب سمجھا ہے کہ شہباز شریف کو ہی وزیراعظم بننا چاہیے اور مریم نواز کا وزیراعلی پنجاب بننا بھی نواز شریف کے لیے ہی فائدہ مند ہے۔ اب نواز شریف ایک ہی وقت میں وفاق اور پنجاب میں فیصلہ سازی کا مرکزی رول ادا کریں گے۔
ایسا ہرگز نہیں ہے کہ شہباز شریف اور مریم نواز اپنی منشا کے مطابق سسٹم کو چلائیں گے ان دونوں کو بھی سسٹم کو چلانے کے لیے نواز شریف کی ہی ضرورت پڑے گی اور نواز شریف ان کو گائیڈ لائن دیتے رہیں گے۔ شہباز شریف کے لیے وزارت عظمی کا منصب لینا بھی جان جوکھوں میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ شہباز شریف کا سب سے بڑا پلس پوائنٹ یہ ہے کہ وہ تلخ مزاج نہیں ہے بلکہ مصلحت پسندی پر یقین رکھتے ہیں وہ اپنی پریس کانفرنس میں بھی ایک بار پھر میثاق معیشت کی آفر کر چکے ہیں۔
یہ آفر بھی انہوں نے نواز شریف کے کہنے پر ہی کی ہے۔ اب تحریک انصاف کو فیصلہ کرنا ہے کہ اس نے باقاعدہ سسٹم کا حصہ بننا ہے یا یتیم اپوزیشن کا ہاؤس میں کردار ادا کرنا ہے۔ مسلم لیگ نون کے کارکنوں کی جہاں تک بات ہے تو مجھے ان سے دلی ہمدردی ہے ہر کارکن کی اپنے مرکزی لیڈر سے ہی وابستگی ہوتی ہے اگر ان کا مرکزی لیڈر ہی سیاست میں رول ادا نہ کرے تو کارکن مایوسی کا ہی شکار ہوتے ہیں۔ جبکہ مولانا فضل الرحمن نے انتخابی نتائج مسترد کرتے ہوئے ملک بھر میں تحریک چلانے کے اعلان نے طاقتور حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔
مقتدروں نے بڑی مشکل سے پہلے تحریک لبیک پھر تحریک انصاف کو احتجاج اور دھرنوں کی سیاست سے رام کیا اب مولانا فضل الرحمن کا اعلان تحریک ان کے لیے بڑا چیلنج بننے جا رہا ہے۔ لیگی کارکنوں کے تحفظات اور مولانا کی تحریک کا بوجھ بھی مقتدروں کے کندھوں پر ہو گا کیونکہ مشکل وقت میں سب سے زیادہ مقتدروں کو سپورٹ بھی انہی دو حلقوں کی جانب سے کی گئی تھی۔


